Zhob - News

Zhob - News

Share

Zhob is an amazing and beautiful city situated in Balochistan

27/09/2024

ژوب/شیرانی جرگہ میں گورنر بلوچستان، وزیراعلی' بلوچستان، وزیرداخلہ،چیف سیکرٹری، کورکمانڈر بلوچستان، آئی جی ایف سی، آئی جی پولیس و دیگر ارکان اسمبلی کی شرکت !
جرگے میں ژوب و شیرانی قوم کے قبائلی اور سیاسی مشران نے بھی شرکت کی اور خطاب کیا. جن میں سردار محمد ایوب خان مندوخیل، حاجی امان اللہ حریفال، حاجی حسن شیرانی چیرمین داود شیرانی اور دیگر شامل تھے.

نے اپنے خطاب میں سب سے پہلے گورنر وزیراعلی' اور باقی لوگوں کو ژوب آنے پر خوش آمدید کہا، اور پھر بعد میں اپنے خطاب میں کچھ مخصوص پوانٹس شامل کئے.
(1) سردار محمد ایوب نے اپنے خطاب میں کہا تھا. کہ 30 مئی 2024 کو میری سربراہی میں ژوب و شیرانی کا ایک امن جلسہ منعقد ہوا. جو کہ امن کے لئے تھا. لیکن بعد میں سیکورٹی اور خفیہ اداروں نے ژوب و شیرانی کے سیاسی اور قبائلی مشران پر ایف آئی آر کاٹا. اور وہ پیشیاں ابھی تک عدالتوں میں ہورہی ہیں. ہم نے امن اور اپنے علاقے کی خاطر جرگہ کیا تھا. تو پھر اداروں نے وہ ایف آئی آر کیوں چاک کیا تھا.
(2)دوسری اور سب سے اہم بات یہ ہے. کہ آج ہمارے قوم پرست سیاسی نمائندے کیوں نہیں بلائے گئے. کچھ دن پہلے جب ہمارے ایم پی اے نے مجھے فون کیا تھا. اور مجھ سے جرگے کے لئے قبائلی اور سیاسی نمائندوں کا پوچھا تھا. تو میں نے اُن سے کہا تھا. کہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں.کہ کن کن کو بُلانا ہے؟ میں آپ سے یہ کہتا ہوں. کہ ژوب و شیرانی کے سب سیاسی اور قبائلئ مشران کو بُلانا ہے. لیکن آج پشتون خواہ میپ، پشتون خواہ نیپ، پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی کا کوئی سیاسی مشر موجود نہیں ہے. ایسا کیوں کیا ہے؟.
(3)تیسری بات ہماری قوم مندوخیل کے قاتل جو کہ افغان پاؤندے ہیں اور ہماری زمین پر زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے. اور وہ قبضہ بھی ایف سی کے زیر سرپرستی کیا ہے. اِن لوگوں کو کیوں بُلایا ہے؟ اِس موقع پر ایک ایف سی اہلکار نے سردار محمد ایوب خان سے مائیک لیا تھا. اور کہا تھا کہ آپ لوگ اِس طرح باتیں نہیں کر سکتے. سردار محمد ایوب نے اُس ایف سی والے سے کہا ہے کہ پھر جرگہ میں بُلایا کیوں ہے؟جب ایسی باتیں نہیں کرسکتے. اُنہی لوگوں کو بُلاتے.جو تمہاری مرضی کے مطابق چلتے ہیں.
اور احتجاجاً جرگے سے واک آؤٹ کیا تھا. لیکن پھر گورنر، وزیراعلی' اور سٹیج پر بیٹھے باقی نمائندوں نے روکا. اور وزیر اعلی' نے کہا تھا کہ سردار صاحب ہم آپ کو دوبارہ مائیک دیتے ہیں. آپ اپنی بات مکمل کر لیں. کوئی آپ کو نہیں روکے گا. سردار محمد ایوب خان کے ساتھ مندوخیل قبیلے اور لوؤن قبیلے کے قبائلی مشران نے بھی واک آؤٹ کیا تھا.
لیکن دوبارہ مائیک ملنے کے بعد واک آوٹ ختم کیا تھا. اور اپنی تقریر میں کہا تھا. کہ وزیراعلی'صاحب غصے میں اب کیا باتیں ہو سکتی ہیں؟ جو میں بولنا چا رہا تھا. وہ تسلسل روک دی ہے. اور اِس کے بعد آگے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا تھا. کہ جب تک ہمارے علاقے میں افغان پاؤندے قابض رہیں گے اور سیکورٹی و جاسوسی ادارے اُن کو سپورٹ کریں گے. تب تک امن قائم نہیں ہوسکتا. ہر شکل میں لوگ یہاں پر آئیں گے اور ہمارے علاقے کی امن و امان خراب کریں گے. ہماری پدری زمین پر افغان پاؤندوں کو آباد کرایا ہے. اب بھی اگر یہ لوگ (سیکورٹی اور جاسوسی ادارے باز نہیں آئیں گے) تو پاکستان کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں.
شیرانی قوم کے ایک مشر نے اپنی تقریر میں یہ کہا تھا. کہ کچھ دن پہلے ایک تیز آندھی آئی تھی. اُس آندھی میں جسے طالب کا نام دیا گیا ہے. اُس کی داڑھی اُڑ گئی تھی. یعنی اُس بندے نے شیو کیا تھا. اور نقلی داڑھی لگائی تھی. کورکمانڈر نے اِس بات پر اُس قبائلی مشر سے کہا تھا. کہ اِس کا ہم نوٹس لیں گے. شیرانی مشر نے کہا تھا. کہ یہ لوگ زبردستی ہم سے روٹی وغیرہ مانگتے ہیں. ہم مجبوراً روٹی دیتے ہیں. کیونکہ ان کے پاس کلاشینکوف اور گرنیٹ وغیرہوتے ہیں. سرفراز بگٹی نے اُسے جواب میں کہا تھا. کہ روٹی دیا کرو. اگر میرے گھر میں آجائے. تو میں بھی ڈر کی وجہ سے روٹی دونگا.
ایک اور شیرانی مشر نے اپنی تقریر میں یہ بات کہی تھی. کہ جو لوگ طالب کی شکل میں آئے ہیں. یہ بنجارے ہیں. جو ہمارے علاقے میں پہلے چیزیں بیچتے تھے. اب اپنا حلیہ تبدیل کیا ہے.اور یہاں پر طالب کی شکل میں آئے ہیں.
حاجی امان اللہ حریفال، حاجی حسن شیرانی داؤد شیرانی اور باقی رہنماوں نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا تھا. کہ ہم قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کریں گے.
جرگے کے بعد سردار محمد ایوب خان مندوخیل، حاجی امان اللہ حریفال ؛ حاجی حسن شیرانی ، ایڈوکیٹ داؤد خان شیرانی اور باقی رہنماوں کو قبائلی و قوم پرست سیاسی پارٹیوں کے رہنماوں نے زبردست داد دی تھی اور آفرین کہا تھا. کہ آپ لوگوں نے قوم و علاقے کی خوب نمائندگی کی ہے. اور علاقے کی آواز ہر ادارے کے سربراہ تک پہنچائی ہے.
یہ باتیں میں نے اِس لئے آپ لوگوں کے لئے لکھی. کیونکہ جرگے میں سوشل میڈیا وغیرہ پر پابندی تھی. اور جن لوگوں نے جرگے کی تقاریر لکھ کر شئیر کی ہیں. انہوں نے گورنر، وزیراعلی' اداروں کے سربراہان اور منتخب نمائندوں کی باتیں شئیر کی ہیں. اِس لئے میں نے سوچا. کہ میں آپ کو قبائلی مشران اور سیاسی مشران کے موقف سے آگاہ کروں. اور بھی قبائلی اور سیاسی مشران نے تقاریر کی ہیں. ہر ایک نے زبردست انداز میں اپنا موقف پیش کیا ہے.
❣️

.

30/04/2024

زیتون کی کاشت .زیتون کا باغ لگائیں .ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک مرتبہ زیتون
کا باغ لگا لیں تو وہ کم از کم ایک ہزار سال تک پھل دیتا رہے گا.
زیتون کن کن اضلاع میں لگایا جاسکتا ہے؟ زیتون کے باغات پنجاب سمیت پاکستان کے تمام علاقوں میں کامیابی سے لگائے جا سکتے ہیں. خیبر پختونخوا سے گلگت بلتستان سے لیکر سندھ ۔ سندھ سے لیکر بلوچستان حتی کہ چولستان میں بھی زیتون کی کاشت ہو سکتی ہے..

نوٹ جن علاقوں میں جنگلی زیتون۔ کہو۔ سینزلہ۔ عتمہ۔ تنگ برگہ۔ گونیر۔ خونہ۔ کاؤ ۔ خت ۔خن۔ سرسینگ۔ شیجور۔ سینجور۔ شون ۔۔ پایا جاتا ہے اس سے آٹھ سے دس پرسنٹ تیل نکالا جا سکتا ہے جو کھانے پینے میں قابل استعمال ہے پاکستان میں نو کڑوڑ جنگلی زیتون کے درخت پائے جاتے ہیں
نوٹ
گندم کی کاشت کے علاقوں میں کھیتوں کی بجائے کھیتوں کے کناروں رکھوں ڈیروں سکول کالجز مسجد مدرسوں پارکوں میں زیتون کے پودے لگائیں

زیتون کس طرح کی زمین میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کا پودا ہر طرح کی زمینوں مثلاََ ریتلی، کچی، پکی، پتھریلی، صحرائی زمینوں میں کامیابی سے لگایا جا سکتا ہے. صرف کلر والی زمین یا ایسی زمینیں جہاں پانی کھڑا رہے، زیتون کے لئے موزوں نہیں ہیں.

زیتون کو کتنے پانی کی ضرورت ہے؟
زیتون کے پودے کو شروع شروع میں تقریبا دس دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے. یا بلحاظ موسم پانی کی ترتیب اپ بڑھا گھٹا سکتے ہیں یعنی جبھ پودے کو پانی کی ضرورت ہو تبھ لگائیں تاکہ پھل اچھا آئے جیسے جیسے پودا بڑا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی پانی کی ضرورت بھی کم ہوتی جاتی ہے. دو سال کے بعد زیتون کے پودے کو 20 سے 25 دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے.

زیتون کے پودے کب لگائے جا سکتے ہیں؟
زیتون کے پودے موسمِ بہار یعنی فروری، مارچ , اپریل یا پھر مون سون کے موسم یعنی اگست، ستمبر ، اکتوبر میں لگائے جا سکتے ہیں. زیتون کے پودے لگانے کا طریقہ کار کیا ہے؟ زیتون کا باغ لگاتے ہوئے پودوں کا درمیانی فاصلہ کم از کم 18*18 فٹ ہونا ضروری ہے. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریبا 150 پودے لگائے جا سکتے ہیں. یہ بھی دھیان رہے کہ زیتون کے پودے باغ کی بیرونی حدود سے تقریباََ 8 تا 10 فٹ کھیت کے اندر ہونے چاہیئں

پودے کیسے لگانے چاہئیں؟؟
پودے لگانے کے لئے دو فٹ گہرا اور دو فٹ ہی چوڑا گڑھا کھودیں. تین لئرز میں گڑھے کے چاروں کونوں پر فینائل کی گولیاں رکھیں تاکہ پودے دیمک سے محفوظ رہیں یا بائر جرمنی کی دیمک کش دوائ استعمال کریں اس کے بعد زرخیز مٹی اور بھل سے گڑھوں کی بھرائی کر دیں. پہلے مرحلے میں اپکے گھڑے میں پانی اچھی طرح ہونا چاہئے تاکہ پودے کی نمی ارد گرد کی مٹی چوس نا لے یا پودا لگانے سے ایک ہفتہ پہلے تیار شدہ گھڑوں کو اچھی طرح پانی لگائیں اب زیتون کا پودا لگانے کے لئے آپ کی زمین تیار ہے. پودے کو احتیاط سے شاپر سے نکالیں یا صرف شاپر کا نچلا حصہ کاٹ کر گاچی کو مٹی میں دبائیں تاکہ گاچی ٹوٹ کر جڑوں کو ہوا نا لگے . گڑھے کی مٹی کھود کر پودا لگائیں اور اس کے بعد پودے کے چاروں طرف مٹی کو پاؤں کی مدد سے دبا دیں تاکہ پودا مستحکم ہو جائے. چھوٹے پودے کا تنا ذرا نازک ہوتا ہے اس لئے پودے کو پلاسٹک کے پائپ سے سہارا دے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے. سہارے کے لئے لکڑی کا استعمال نہ کریں کیونکہ لکڑی کو دیمک لگ سکتی ہے جو بعد میں پودے پر بھی حملہ آور ہو سکتی ہے

زیتون کی کون کون سی اقسام کاشت کی جا سکتی ہیں؟
نمبر 1. لسینو نمبر 2. گیملک نمبر 3. پینڈولینو نمبر 4. نبالی نمبر 5. آربو سانا نمبر 6. کورونیکی نمبر 7. آربیقوینہ

پنجاب اور سندھ کے گرم علاقوں سمیت دیگر گرم علاقوں کے لئے درج ذیل اقسام کاشت کرنی چاہئیں. نمبر 1. آربو سانا نمبر 2. کورونیکی نمبر 3. آربیقوینہ

بلوچستان کے لیے منظور شدہ اقسام

1.,Frantouo
2.Arbiquina
3.Arbasona
4.,Koronoki
5.Leceno
6.Hamdi
7.Ojabalanka
8.,Otobartica
9.Coratina
10.Jerboi.

یاد رکھیں زیتون کا باغ لگاتے وقت کم از کم دو یا دو سے زائد اقسام لگانی چاہئیں اس طرح بہتر بارآوری کی بدولت پیداوار اچھی ہوتی ہے.
زیتون کے باغ کو کھادیں کتنی اور کون کونسی ڈالنی چاہئیں؟ کھاد دوسرے سال کے پودے کو ڈالیں. دوسرے سال کے پودے کے لئے: گوبر کی کھاد . . . . 5 کلوگرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 5 کلو گرام کا اضافہ کریں نائٹروجن کھاد . . . . 200 گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 100 گرام کا اضافہ کریں فاسفورس کھاد . . . . 100گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں پوٹاش کھاد . . . . . . 50 گرام فی پودا ڈالیں . . . . .. اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں
زیتون کے پودے کو پھل کتنے سال بعد لگتا ہے؟ عام طور پر 3 سال میں زیتون کے پودے پر پھل آنا شروع ہو جاتا ہے. زیتون کے پودے پر پھل پہلے سبز اور پھر جامنی ہو جاتا ہے۔ سبز پھل اچار اور جامنی تیل نکالنے کے لئے استعمال ہوتا ہے

زیتون کے باغ سے فی ایکڑ کتنی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے؟
زیتون کے ایک پودے سے پیداوار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ نے پودے کی دیکھ بھال کس طرح سے کی ہے. اچھی دیکھ بھال کی بدولت ایک پودے سے 60 کلوگرام یا اس سے بھی زیادہ زیتون کا پھل با آسانی حاصل ہو سکتا ہے. لیکن اگردیکھ بھال درمیانی سی کی گئی تو 40 کلوگرام فی پودا پھل حاصل ہو سکتا ہے. انتہائی کم دیکھ بھال سے پودے کی پیداوار 25 سے 30 کلوگرام فی پودا تک بھی گر سکتی ہے. لہذا ماہرین زیتون کے باغات کی فی ایکڑ پیداوار کا حساب لگانے کے لئے بھرپور 50 کلو گرام فی پودا پیداوار کو سامنے رکھتے ہیں. اس طرح ایک ایکڑ سے 7500 کلوگرام زیتون کا پھل حاصل ہو سکتا ہے

ایک ایکڑ کے پھل سے کتنا تیل نکل آتا ہے؟
بہتر یہ ہے کہ زیتون کے کاشتکار پھل کو بیچنے کی بجائے اس کا تیل نکلوائیں اور پھر اس تیل کو مارکیٹ میں فروخت کریں. زیتون کے پھل سے 20 سے 30 فی صد کے حساب سے تیل نکل آتا ہے. 20 سے تیس فیصد کے حساب سے ایک ایکڑ زیتون کے پھل 7500 کلوگرام ) سے تقریبا 1500 کلو گرام تیل نکل آتا ہے۔۔
(پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجیے شکریہ )

,,,,,,,,,, ,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
,,,, ,,,,,,,,,,, /////////////////////////////////////

جنت کا مبارک درخت ( مکمل مضمون)
پاکستان میں زیتون ”شجرة مبارکہ“ کی کاشت
۔السلام علیکم دوستو۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ زیتون کا تیل سالن کے طور پر استعمال کرو اور اسے ( سر اور بدن میں ) لگاؤ ۔ یہ مبارک درخت سے حاصل ہوتا ہے ۔ صحیح ابن ماجہ
پاکستان اپنی ضرورت کا صرف تیس سے پینتیس فیصد کھانے کا تیل پیدا کرتا ہے باقی تمام تیل باہر سے منگواتا ہے۔۔ اور ہر پاکستانی سالانہ اوسط چوبیس لٹیر تیل استعمال کرتا ہے جو عالمی معیار کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔ ہندوستان میں یہ شرع انیس لیٹر ہے۔پاکستان ہر سال تین سے چار سو ارب روبے کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے بدقسمتی یہ ہے یہ تمام کھایا جانے والا تیل غیر معیاری اور نچلے درجے کا ہے۔

کیا زیتون کا تیل کھانا پکانے میں تلنے میں استعمال ہو سکتا ہے؟
یہ فیصلہ کرنے میں کہ کون سا تیل کھانا پکانے کے لیے استعمال کرنا ہے یا نہی ، تیل کا استحکام۔۔ "سموک" یعنی جلنے کے نقطہ سے زیادہ اہم ہے۔ زیتون کا تیل اولیک ایسڈ اور دوسرے مرکبات سے بھرپور ہوتا ہے جو انہیں بہت مستحکم بناتا ہے۔ ایکسٹرا ورجن زیتون کے تیل میں پولیفینول اور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو تیل کے ٹوٹنے اور فری ریڈیکلز کی تشکیل سے لڑتے ہیں۔ اس کی وجہ سے، اضافی ورجن زیتون کا تیل سب سے زیادہ مستحکم کھانا پکانے کا تیل پایا گیا ہے۔ اسکا سموک لیول مختلف ھالتوں میں 370 f سے 410 فارن ھائیٹ تک ہے۔۔۔ جو کہ بہت بلند ہے۔۔۔

۔۔زیتون کا زکر قرآن مجید میں چھے جگہ آیا ہے اللہ رب کعبہ نے قران عزیز میں اسے "مبارک درخت" قرار دیا ہے۔ اور اسکے تیل کے نور کو اپنے نور سے تتشبیح دیا ہے
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ[35]

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد] اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے، جس میں ایک چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا چمکتا ہوا تارا ہے، وہ (چراغ) ایک مبارک درخت زیتون سے روشن کیا جاتا ہے، جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔ نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ [35]
اور قرآن عظیم میں دوسری جگہ اسکی قسم بھی کھائ ہے
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ. وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ (1)
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی
اور تیسری جگہ فرمایا
ِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَ تَنۡۢبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ

"اور (اسی پانی سے) طور سینا سے ایک درخت(زیتون ) اُگتا ہے جو روغن لئے اُگتا ہے اور کھانے والوں کو سالن کا
اسکے بارے میں جناب رسول کریم ﷺ کے ارشاد گرامی کی تعداد چالیس سے اوپر بتائ جاتی ہے
(سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیتون کا تیل لگاو اور اس کا سالن بناو، کیونکہ وہ بابرکت ہے۔“ قال الشيخ الالباني: صحيح)
دنیا میں زیتون کا نوے فیصد استعمال تیل کے لیے کیا جاتا باقی دس فیصد مربے اچار بنانے کے کام آتا ہے ویسے تو زیتون کے تیل کے بے شمار فائدے ہیں لیکن کچھ درج زیل ہیں
بیڈ کولیسٹرول سے نجات
بلڈ پریشر سے نجات
پیٹ کی چربی سے نجات
کینسر کے خلاف زبردست قوت مدافعت
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور
آنتوں کی صحت میں بہتری
سوزش کو کم کرنے والی خصوصیات
اسٹروک کے خطرات میں کمی
دل کی بیماریوں سے بچاؤ
ہڈیوں کی صحت میں بہتری
دماغی امراض کے خطرات میں کمی
زیتون کے درخت پر خزاں نہی آتی یہ سدا بہار ہے۔ انتہائ گرم و سرد موسم کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے دنیا میں سپین اور اٹلی اسکے سب سے بڑے سپلائر ہیں۔ غیر ملکی ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس اس کی کاشت کا رقبہ سپین اور اٹلی کے مقابل ڈبل سے بھی کافی زیادہ ہے
شجر کاری کی اہمیت دین اسلام میں مسلمہ ہے اپ اس کی اہمیت کا اندازہ اس قول رسول کریم ﷺ سے بخوبی لگا سکتے ہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں سبز ٹہنی ہو اور وہ اس بات پر قادر ہو کہ قیامت قائم ہونے سے پہلے وہ اسے لگا لے گا تو ضرور لگائے ۔ (مسند احمد)
ارشادِ نبویؐ ہے :’’اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اسے لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو۔(مسند احمد )
ہماری تحریک کے اولین مقاصد میں ہے کہ ہم عوام کو موٹیویٹ کریں کہ وہ پاکستان کے طول و عرض کو زیتون کے پودوں سے بھر دیں جس سے پاکستان کا امپورٹ بل برائے خوردنی تیل صفر ہو جائے اور پاکستان کی عوام کو دنیا کا سب سے اعلی معیاری پراڈکٹ استعمال کو ملے۔۔۔
دوستو۔۔۔غذائ بحران کے اس دور میں ہمیں نمائشی پودوں کی بجائے ذیادہ سے ذیادہ پھل دار پودے لگانے کی ضرورت ہے۔۔دوستو پھل دار درخت لگانے کی اہمیت کا اندازہ اپ رسول اقدس ﷺ کے اس مبارک قول سے لگا سکتے ہیں
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی بھی مسلمان ( جو ) درخت لگاتا ہے ، اس میں سے جو بھی کھایا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ، اور اس میں سے جو چوری کیا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جنگلی جانور اس میں سے جو کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جو پرندے کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور کوئی اس میں ( کسی طرح کی ) کمی نہیں کرتا مگر وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ۔‘‘ صحیح مسلم
۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس مسلمان نے کوئی درخت لگایا اور اس کا پھل آدمیوں اور جانوروں نے کھایا تو اس لگانے والے کے لیے صدقہ کا ہے۔“
(صحیح بخاری)
۔ اپنی زمینوں رقبوں گھروں پارکوں گلی محلوں سکولوں کالجوں وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ زیتون کے پھل دار درخت لگائیں تاکہ اپکو سایہ بھی ملے اور پھل بھی اور ملک کو کثیر زرمبادلہ
تمام دوست ایک اہم بات زہن میں رکھیں منظور شدہ نرسریوں سے زیتون کی منظور شدہ اقسام کے پودے خریدیں ورنہ لوکل پودوں پر پھل نہی لگے گا
۔ آئیے مل کر پاکستان کی جنگ لڑیں پاکستان کو سر سبز شاداب اور مضبوط بنائیں
Copied ❤️

10/04/2024

Javed Amirkhail جاوید امیرخېل

Send a message to learn more

12/08/2023

ﺍﮔﺴﺖ 1948 ﮐﻮ ﺑﺎﺑﮍﮦ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ
ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ 700 ﭘﺨﺘﻮﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﮨﺮﺍﺳﺖ ﮔﻮﻟﯿﻮﮞ ﺳﮯ
ﭼﻠﻨﯽ ﮐﺮ ﺩﺋﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﯿﻠﺌﮯ
ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﭽﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺳﺐ
ﺷﺮﯾﮏ ﺗﮭﮯ. ﻟﯿﮑﻦ ﻗﯿﻮﻡ ﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﮐﮯ
ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺷﺎﺭ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ
ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺳﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﺎﺩﮬﻨﺪ
ﻓﺎﺋﺮﻧﮓ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ .
ﺍﯾﮏ ﻣﺆﺭﺥ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ
ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺎ
ﻭﺍﺳﻄﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺑﺲ ﮐﺮﻭ ﻟﯿﮑﻦ
ﻓﻮﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺑﺨﺸﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ
ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﺋﮯ. ﭘﮭﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ
ﮔﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﮐﺮ ﮨﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ
ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﺘﻨﮯ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﺧﺮﭺ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺍﭖ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﮍﯾﻨﮕﮯ. ﺍﻭﺭ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﺗﯿﻞ ﺧﺮﭺ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﭘﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﮍﯾﻨﮕﮯ. ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﭘﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﻨﮕﮯ ﺟﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ
ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻗﺒﺮ ﮐﮭﻮﺩﮮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ
ﺟﻮ ﮐﻔﻦ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﺯﺧﻤﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻋﻼﺝ ﺑﻨﺪ
ﮐﺮ ﺩﯾﺎ .ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ
ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .
ﺍﺗﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻇﻠﻢ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮯ
ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﻣﯿﺮﮮ
ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ. ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﺍﺏ ﺗﮏ
ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﺨﺘﻮﻧﻮﮞ ﭘﺮ
ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ .
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺳﮯ
ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻣﺤﺐ ﻭﻃﻦ ﮐﺎ ﺳﺮﭨﯿﻔﮑﯿﭧ ﻣﺎﻧﮓ
ﺭﮨﺎ ﮨﮯ.ﺍﺏ ﮨﻢ ﮐﺲ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ
ﺯﻧﺪﮦ ﺑﺎﺩ ﮐﺎ ﻧﻌﺮﮦ ﻟﮕﺎﺋﮯ؟؟؟
ﺷﻔﯿﺮ ﭘﺸﺘﯿﻦ

Photos from Zhob - News's post 14/03/2023
24/12/2022

آئس ٹافی (ICE Toffees) ہیروئن سے بھی ہزار گنا زیادہ
خطرناک اور تباہ کن نشہ ہے.
اس کا اصل نام؛ (میتھرمتیامین) ہے اور اگر یہ جمی ہوئی برف کے چھوٹے ٹکڑوں کی طرح ہو تو اسے کرسٹل میتھ یا آئس (ICE) کہتے ہیں اگر پاؤڈر کی شکل میں ہو تو اسے سپیڈ (Speed) کہتے ہیں. شر پسند لوگوں اسکو ایک اور شکل یعنی (آئس ٹافی) کی صورت میں مارکیٹ لے آئے ہیں اس بدبخت نشے کو استعمال کرنے والا شخص پہلے دن سے ہی اس کا عادی ہو جاتا ہے ایک دفعہ استعمال کرنے کا اثر 12 گھنٹے تک رہتا ہے اور استعمال کرنے والا نشئی تین سے چار دن تک جاگ سکتا ہے.
آئس (ICE) کا نشہ استعمال کرنے والے شخص کی بقیہ عمر چھ مہینے سے ایک سال تک ہی رہ جاتی ہے.
یہ بہت ہی خطرناک مہلک اور جان لیوا نشہ ہے اپنے پیاروں اور گردونواح میں نظر رکھیں. کیونکہ عادت ہوجانے کے بعد ایک ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔
اللہ پاک ھم سب کے حال پر رحم فرمائے
آمین ثمہ آمین یا رب العالمین

برائے مہربانی اسے زیادہ سے زیادہ ضرور فارورڈ کیجئے ۔ ۔
اس سے پہلے کے یہ موت کی ٹافیاں آپ کی قوم کے آپ کے اردگرد دل کے کسی نوجوان کی جان لے لے

12/12/2022

08/12/2022

Let Afghan girls for Education

Want your school to be the top-listed School/college in London?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

London