Awarness by Rising Life Pakistan

Awarness by Rising Life Pakistan

Share

At Rising Life Autism Center, we believe every child is full of potential waiting to shine.

SERVICES
Applied Behavior Analysis (ABA) Therapy,
Speech and Language Therapy,
Occupational Therapy,
Social Skills Training
Diagnostic and Development Assessments

13/06/2026

کیا واقعی تھراپی سے بچوں میں مثبت تبدیلی ممکن ہے؟
بچپن کی عمر ذہنی، جسمانی اور رفتاری نشوونما (Developmental Milestones) کے لیے انتہائی نازک ہوتی ہے۔ کلینیکل ریسرچ اور نفسیاتی مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر کسی بچے کو جذباتی، سماجی، بول چال یا رفتاری چیلنجز کا سامنا ہو، تو بروقت اور ماہرانہ تھراپی نہ صرف بچے کی موجودہ حالت کو بہتر بناتی ہے بلکہ اس کے مستقبل کو بھی محفوظ کرتی ہے۔
جدید سائنس اور کلینیکل پریکٹس کے مطابق تھراپی درج ذیل وجوہات کی بنا پر بچوں کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہوتی ہے:
1۔ نیوروپلاسٹی سٹی (Neuroplasticity) اور ابتدائی مداخلت
کم عمری میں انسانی دماغ میں سیکھنے اور ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت (Neuroplasticity) عروج پر ہوتی ہے۔ ابتدائی مداخلت (Early Intervention) کے ذریعے دی جانے والی تھراپی بچے کے دماغی خلیات کو مثبت سمت میں متحرک کرتی ہے، جس سے سیکھنے کا عمل تیز اور پائیدار ہو جاتا ہے۔
2۔ کثیر الجہتی طریقہ علاج (Multidisciplinary Approach)
تھراپی کسی ایک مخصوص تکنیک کا نام نہیں، بلکہ یہ ہر بچے کی انفرادی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کی جاتی ہے:
بیہیویرل تھرپی (Behavior Modification): غصہ، چڑچڑاپن، ضد، اور جارحانہ رویوں کو کم کر کے تعمیری عادات کو فروغ دیتی ہے۔
اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپی: ایسے بچے جو بولنے، ہکلاہٹ یا اپنی بات سمجھانے میں دشواری کا شکار ہوں، ان کی کمیونیکیشن اسکلز کو بہتر بناتی ہے۔
آکیوپیشنل تھراپی (OT): بچوں کے فائن اور گراس موٹر اسکلز، توجہ (Focus) اور روزمرہ کے بنیادی کاموں (سیلف ہیلپ اسکلز) کو بہتر کرتی ہے۔
3۔ سماجی اور جذباتی مہارتیں (Social-Emotional Skills)
تھراپی کے ذریعے بچے اپنے جذبات (جیسے خوف، اضطراب یا فرسٹریشن) کو مینیج کرنا سیکھتے ہیں۔ یہ عمل ان میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے اور پبلک پلیسز یا اسکول میں دوسرے بچوں کے ساتھ گھلنے ملنے (Socialization) میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
4۔ والدین کی مشاورت (Parental Guidance)
سائیکو تھراپی کا ایک لازمی حصہ ہوم پلان (Home Plan) اور والدین کی کونسلنگ ہے۔ جب ماہرین کی نگرانی میں والدین گھر کے ماحول کو بچے کی ضروریات کے مطابق ڈھالتے ہیں، تو تھراپی کے نتائج دوگنا تیزی سے سامنے آتے ہیں۔
تھراپی کوئی جادوئی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک بتدریج سیکھنے کا نام ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار مستقلیت (Consistency)، صبر اور ماہرِ نفسیات و والدین کے باہمی تعاون پر ہے۔ جتنا جلدی بچے کے چیلنجز کو شناخت کر کے تھراپی کا آغاز کیا جائے، نتائج اتنے ہی مثالی ہوتے ہیں۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
رابطہ اور اپوائنٹمنٹ کے لیے:
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز / رائزنگ لائف آٹزم سینٹر
موبائل نمبرز:
0300.7609681/ 0346.7757166

13/06/2026

I’M NOT IGNORING YOU — I’M OVERWHELMED
An autistic child becoming quiet is often a sign of sensory overload, not defiance.
Early Warning Signs • Suddenly withdrawing or going quiet
• Changes in stimming behaviors
• Covering ears or eyes
• Emotional flatness or fatigue
The “Freeze” Response A child may become still, quiet, or nonverbal when their nervous system is overwhelmed.
How to Help ✓ Offer a quiet space
✓ Reduce sensory input
✓ Stay calm and patient
✓ Validate their feelings
It’s not misbehavior. It’s overwhelm.
Rising Life Clinical & Counseling Services
📞 0300-7609681 | 0346-7757166
📍 Faisalabad
Early Recognition • Better Support • Better Outcomes

13/06/2026
12/06/2026

بچے کا ایک جگہ ٹک کر نہ بیٹھنا، مسلسل متحرک رہنا یا کسی ایک سرگرمی پر توجہ برقرار نہ رکھ پانا والدین کے لیے ایک اہم اور قابلِ توجہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ کلینیکل اور تعلیمی ماہرِ نفسیات کے علمی و تشخیصی نقطۂ نظر سے اس رویے کے پیچھے متعدد حیاتیاتی، اعصابی اور ماحولیاتی وجوہات کارفرما ہو سکتی ہیں، جنہیں آسان مثالوں کے ساتھ درج ذیل اہم نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:
1. اعصابی اور ترقیاتی وجوہات (Neurodevelopmental Factors)
ADHD (توجہ کی کمی اور ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر): یہ ایک اعصابی کیفیت ہے جس میں بچے کے دماغ کا وہ حصہ جو خود پر قابو پانے (Impulse Control) اور سکون سے بیٹھنے کو مینیج کرتا ہے، عام بچوں سے مختلف رفتار پر کام کرتا ہے۔ ایسا بچہ بغیر تھکے مسلسل بھاگتا دوڑتا ہے، اونچی جگہوں پر چڑھتا ہے اور اپنی باری کا انتظار نہیں کر پاتا۔
آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD): بعض اوقات آٹزم کے حامل بچے بھی ایک جگہ ساکت نہیں بیٹھتے۔ تاہم، ان کی یہ حرکت کسی مقصد کے تحت نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے اعصابی نظام کو پُرسکون کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں، جسے "سیلف سٹیمولیٹنگ بیہیویر" (Self-Stimulating Behavior) کہا جاتا ہے۔ جیسے ایک ہی دائرے میں گول گھومنا یا جسم کو آگے پیچھے ہلانا (Body Rocking)۔

2. حسیاتی پروسیسنگ کے مسائل (Sensory Processing Issues)
حسیاتی طلب (Sensory Seeking): ہر انسان کا دماغ ماحول سے حسیات (دیکھنا، سننا، چھونا، حرکت) وصول کرتا ہے۔ کچھ بچوں کا اعصابی نظام ماحول سے زیادہ جسمانی دباؤ اور حرکت کا تقاضا کرتا ہے۔

مثال: ایسے بچے کو اپنے جوڑوں اور پٹھوں کو متوازن رکھنے کے لیے عام بچوں سے زیادہ جسمانی حرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ کرسی پر بیٹھ کر بھی مسلسل اپنے پاؤں ہلاتا ہے، نشست پر پہلو بدلتا ہے یا اچھلتا کودتا رہتا ہے تاکہ اس کا دماغ بیدار اور پُرسکون رہ سکے۔

3. ماحولیاتی اور طرزِ زندگی کے عوامل (Environmental & Lifestyle Factors)
ڈیجیٹل اسکرین کا بے جا استعمال: موبائل، ٹیبلٹ یا ٹی وی کا ضرورت سے زیادہ استعمال بچے کے دماغ کو ہر وقت ایک تیز رفتار، رنگ بدلتی اور کلک پر مبنی دنیا کا عادی بنا دیتا ہے۔ جب اسکرین بند کی جائے تو حقیقی زندگی کی سست رفتاری میں بچہ شدید بے چینی اور چڑچڑاہٹ کا شکار ہو کر ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔

جسمانی توانائی کے اخراج کا نہ ہونا: عصرِ حاضر کے شہری ماحول میں کھلی جگہوں، پارکوں اور میدانی کھیلوں کی کمی کی وجہ سے بچوں کی قدرتی جسمانی توانائی (Physical Energy) اندر ہی دبی رہ جاتی ہے، جو گھر کی چار دیواری میں بے جا اچھل کود اور ہائپر ایکٹیویٹی کی صورت میں باہر نکلتی ہے۔

4. نفسیاتی اور جذباتی وجوہات (Psychological Factors)
اندرونی اضطراب اور بے چینی (Anxiety): بعض اوقات بچے اپنے اندرونی خوف، کسی ذہنی دباؤ یا پریشانی کو زبان سے بیان نہیں کر پاتے، جس کا اظہار ان کی جسمانی بے چینی اور مسلسل حرکت کی صورت میں ہوتا ہے۔

منفی انداز میں توجہ حاصل کرنا (Attention Seeking): اگر بچے کو محسوس ہو کہ جب وہ سکون سے بیٹھتا ہے تو کوئی اس پر دھیان نہیں دیتا، لیکن جب وہ ادھر ادھر بھاگتا ہے یا چیزیں گراتا ہے تو والدین فوراً متوجہ ہوتے ہیں، تو وہ لاشعوری طور پر اس رویے کو بار بار دہراتا ہے۔

والدین کے لیے کلینیکل لائحہ عمل (Clinical Action Plan)
💡 اہم پیشہ ورانہ مشورہ:
اگر بچے کا یہ رویہ اس کے سیکھنے کے عمل، اسکول کی کارکردگی، خاندانی لائف اسٹائل اور روزمرہ کے بنیادی کاموں کو مستقل طور پر متاثر کر رہا ہو، تو اسے محض "شرارت" سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے درج ذیل اقدامات کی طرف بڑھنا چاہیے:

اسکرین ٹائم کا فوری خاتمہ: موبائل اور ٹیبلٹ کا استعمال مکمل طور پر بند یا انتہائی محدود کریں۔

مستقل مزاج روٹین کی تشکیل: بچے کے سونے، جاگنے، کھانے اور کھیلنے کا وقت بالکل مقرر کریں، کیونکہ منظم روٹین بچوں کے اعصابی نظام کو ذہنی سکون دیتی ہے۔

توانائی کا مثبت استعمال: بچے کو روزانہ پارک لے کر جائیں، اچھلنے کودنے، دوڑنے یا سائیکل چلانے جیسے کھیلوں میں مصروف کریں تاکہ اس کی اضافی جسمانی توانائی مثبت طریقے سے خارج ہو سکے۔
پیشہ ورانہ اسیسمنٹ (Professional Assessment): کسی مستند چائلڈ سائیکالوجسٹ، بیہیویرل تھراپسٹ یا اوکیوپیشنل تھراپسٹ سے بچے کی باقاعدہ اسیسمنٹ کروائیں تاکہ اصل وجہ کا بروقت تعین کر کے بیہیویرل تھراپی (ABA) یا اوکیوپیشنل تھراپی (OT) کی مدد سے بچے کی توجہ کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف آٹزم سینٹر، فیصل آباد
رابطہ نمبر: 0346.7609681 | 0300.7609681











11/06/2026

تعلیم و تربیت اور نفسیات کی دنیا میں ایک مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ "ہر بچہ اپنی ذات میں ایک مکمل کائنات ہوتا ہے۔" جب ہم کہتے ہیں کہ بچہ تو بچہ ہوتا ہے، تو اس کا مطلب صرف ان کی شرارتیں یا نادانیاں نہیں، بلکہ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ بچوں کو بڑوں کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔
ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے بچوں کی نفسیات کو سمجھنا اور انہیں ان کی انفرادیت کے ساتھ قبول کرنا ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل تین بنیادی پہلو انتہائی اہمیت کے حامل ہیں:
۱. ہر بچے کی اپنی رفتار (Unique Learning Pace)
نفسیاتی اصولوں کے مطابق، ہر بچے کے سیکھنے، سمجھنے، بولنے اور ردِعمل دینے کی رفتار دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ بچے چیزوں کو جلدی اپناتے ہیں، جبکہ کچھ کو وقت اور مسلسل رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی بچے کو "سست" یا "کمزور" سمجھنے کے بجائے، اس کے سیکھنے کے منفرد انداز (Learning Style) کو سمجھنا ایک ماہرِ تعلیم اور والدین کا سب سے پہلا فرض ہے۔
۲. موازنے کا خاتمہ اور قبولیت (Acceptance vs Comparison)
بچوں کا آپس میں موازنہ کرنا ان کی خود اعتمادی (Self-Esteem) کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ چاہے کوئی بچہ عام رفتار سے بڑھ رہا ہو یا اسے کسی بھی قسم کی خصوصی توجہ اور تعلیمی معاونت (Special Educational Needs) کی ضرورت ہو— وہ سب سے پہلے ایک بچہ ہے۔ اس کی معصومیت، اس کی کوششیں اور اس کا وجود کسی بھی شرط کے بغیر توجہ اور محبت کا مستحق ہے۔
۳. سزا کے بجائے مثبت رہنمائی (Positive Behavior Support)
بچے غلطیوں سے ہی سیکھتے ہیں۔ ان کی ضد، چڑچڑاپن یا شرارتیں اکثر کسی اندرونی الجھن یا توجہ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار ہوتی ہیں۔ ان کے رویوں کو سختی یا سزا سے دبانے کے بجائے، پیار، ہمدردی اور درست نفسیاتی حکمتِ عملی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
بچوں کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرنے کے بجائے، انہیں ایک ایسا محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کھل کر سامنے آ سکیں۔ ان کی معصومیت کا احترام کریں، کیونکہ بچہ تو بچہ ہوتا ہے، اور ہمارا کل ان ہی کے آج سے جڑا ہے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ

10/06/2026

جب آٹزم اور اسپیچ پرابلم میں مبتلا بچہ بات نہ مانے، اور مصروفیت کی وجہ سے آپ کے پاس وقت بھی نہ ہو... تو بطور والدین اپنے غصے پر کیسے قابو پائیں اور بچے کی مدد کیسے کریں؟
آج کے تیز رفتار دور میں جہاں والدین گوناگوں مصروفیات کا شکار ہیں، وہاں آٹزم اور بولنے کے مسائل سے دوچار بچوں کی تربیت ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اکثر والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ وقت کی کمی کی وجہ سے وہ بچے کو پورا وقت نہیں دے پاتے، اور جب بچہ ان کی بات نہیں سمجھتا یا نہیں مانتا، تو وہ غصے میں آکر اسے ڈانٹ دیتے ہیں۔
بطور ماہرِ نفسیات، ہمارا یہ مشورہ ہے کہ ڈانٹ ڈپٹ اور غصہ اس مسئلے کا حل نہیں، بلکہ نقصان کا باعث ہے۔ ایسے حالات میں والدین کو درج ذیل عملی اور نفسیاتی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:
1۔ بچے کے رویے کو سمجھیں (وہ جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہا)
والدین کو سب سے پہلے یہ ذہن نشین کرنا ہوگا کہ آٹزم اور اسپیچ ڈیلے کا شکار بچہ جان بوجھ کر ضد یا نافرمانی نہیں کرتا۔ چونکہ وہ اپنی بات الفاظ میں بیان نہیں کر پاتا (Communication Gap)، اس لیے وہ رو کر، چیخ کر یا بات نہ مان کر اپنی مایوسی (Frustration) کا اظہار کرتا ہے۔ بچے کو "ضدی" سمجھنے کے بجائے "مجبور" سمجھیں، آپ کا غصہ خود ہی کم ہو جائے گا۔
2۔ کوالٹی ٹائم (Quality Time) دیں، کوانٹٹی (Quantity) نہیں
اگر آپ کے پاس پورا دن نہیں ہے، تو پریشان نہ ہوں۔ اہم بات یہ نہیں کہ آپ بچے کے ساتھ کتنے گھنٹے بیٹھتے ہیں، بلکہ اہم یہ ہے کہ جو وقت آپ دے رہے ہیں وہ کتنا پُرثمر ہے۔
روزانہ صرف 15 سے 20 منٹ ایسے نکالیں جس میں موبائل، ٹی وی اور تمام مصروفیات کو سائیڈ پر رکھ دیں۔
اس دوران بچے کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر اس کی سطح پر آئیں، اس کے پسندیدہ کھلونوں سے کھیلیں اور اس سے بات چیت کرنے کی کوشش کریں۔
3۔ غصے کے ردِعمل پر قابو پائیں (The 5-Second Rule)
جب بچہ بات نہ مانے اور آپ کو شدید غصہ آئے، تو فوراً بولنے یا ڈانٹنے کے بجائے 5 سیکنڈ کا وقفہ لیں۔ ایک گہرا سانس لیں اور خود سے کہیں: "میرا بچہ بیمار یا پریشان ہے، وہ مجھے تنگ نہیں کر رہا بلکہ وہ خود تکلیف میں ہے"۔ آپ کا پرسکون لہجہ بچے کے ہیجان کو کم کرنے میں جادوئی اثر رکھتا ہے۔
4۔ بات چیت کے انداز کو سادہ اور واضح بنائیں
اسپیچ پرابلم والے بچوں کو لمبے جملے یا پیچیدہ ہدایات سمجھ نہیں آتیں (مثلاً: "جاؤ جا کر الماری سے نیلی قمیض لے کر آؤ")۔ ان کے لیے:
جملے چھوٹے اور سادہ رکھیں (مثلاً: "قمیض لاؤ")۔
بولتے وقت اشاروں (Gestures) اور تصویروں کا استعمال کریں۔ آٹزم کے بچے دیکھ کر زیادہ جلدی سیکھتے ہیں۔
جب بچہ کوئی اچھا کام کرے، تو فوراً تالی بجا کر یا اسے گلے لگا کر اس کی حوصلہ افزائی کریں۔
5۔ اسکرین ٹائم کا متبادل تلاش کریں
اکثر والدین وقت نہ ہونے کی وجہ سے بچے کے ہاتھ میں موبائل یا ٹیبلیٹ دے دیتے ہیں۔ یہ عمل آٹزم اور اسپیچ کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ موبائل چھین کر اسے گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں اپنے ساتھ شامل کریں (جیسے چیزیں سمیٹنا، پودوں کو پانی دینا)۔
والدین کے لیے ایک اہم پیغام:
"آپ کا بچہ آپ سے پرفیکٹ (Perfect) وقت نہیں مانگتا، وہ صرف آپ کا پرسکون اور محبت بھرا انداز مانگتا ہے۔ آپ کا صبر ہی اس کے علاج کی پہلی اور سب سے مضبوط سیڑھی ہے۔"

اگر آپ کا بچہ آٹزم، اسپیچ ڈیلے، یا کسی بھی قسم کے رویاتی مسائل کا شکار ہے، تو پریشان ہونے کے بجائے آج ہی ہمارے ماہرین سے مشاورت کے لیے رابطہ کریں۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف آٹزم سینٹر، فیصل آباد
📞 رابطہ نمبرز:

0300-7609681
0346-7757166

#آٹزم
#

Photos from Awarness by Rising Life Pakistan's post 07/06/2026

کیا آٹزم کے حامل بچے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں خود سرانجام دے سکتے ہیں؟
جی ہاں، بالکل! مناسب رہنمائی، محبت اور تھراپی کے ساتھ آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (
کے میں مبتلا بچے بھی اپنی روزمرہ کی زندگی کے کام (Daily Living Activities) آزادانہ طور پر کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ چونکہ آٹزم ایک "سپیکٹرم" ہے، اس لیے ہر بچے کی سیکھنے کی رفتار اور صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔
بچوں کو خود مختار بنانے کے 4 آسان اور مؤثر طریقے:
1️⃣ وزیول شیڈول (Visual Schedules): آٹزم کے حامل بچے تصویروں کو جلدی سمجھتے ہیں۔ روزمرہ کے کاموں (جیسے برش کرنا، ہاتھ دھونا) کی مرحلہ وار تصاویر واش روم یا کمرے میں لگائیں۔
2️⃣ ٹاسک اینالیسس (Task Analysis): کسی بھی بڑے کام کو چھوٹے چھوٹے اور آسان مراحل میں تقسیم کر کے سکھائیں۔
3️⃣ مستقل مزاجی اور روٹین (Routine): روزانہ ایک ہی وقت اور ایک ہی مقررہ طریقے سے کام کروانے سے بچے جلدی سیکھتے ہیں۔
4️⃣ اوکیوپیشنل تھراپی (Occupational Therapy): ماہر تھراپسٹ بچوں کی فائن موٹر سکنز (جیسے بٹن بند کرنا، چمچ پکڑنا، زپ لگانا) کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں۔
یاد رکھیں: بروقت تشخیص، بیہیویرل تھراپی (
ABA
)، اور آپ کا صبر و مستقل مزاجی ہی بچے کو ایک خود مختار اور کامیاب زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
رائزنگ لائف آٹزم سینٹر، فیصل آباد
بچوں کی بہترین ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لیے آج ہی رابطہ کریں!
📞 فون نمبر: 0300-7609681 | 0346-7757166

07/06/2026

کیا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کے ساتھ بچے اپنی روز مرہ کی ایکٹیویٹی سر انجام دے سکتے ہیں ؟
جی ہاں، آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) کے ساتھ بچے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں (Daily Living Activities) بالکل سرانجام دے سکتے ہیں، لیکن ان کی صلاحیت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ بچہ سپیکٹرم میں کس سطح (Level) پر ہے اور اسے کس قسم کی سپورٹ حاصل ہے۔
کیونکہ آٹزم ایک "سپیکٹرم" ہے، اس لیے ہر بچے کی کہانی اور مہارتیں دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔
سپیکٹرم کے لحاظ سے مہارتیں
ہائی فنکشننگ آٹزم (Level 1): اس سطح پر بچے عام طور پر اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں (جیسے خود کھانا کھانا، کپڑے بدلنا، اور واش روم جانا) معمولی رہنمائی یا بغیر کسی مدد کے آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں۔ انہیں صرف سماجی رابطوں یا اچانک تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
درمیانی اور شدید آٹزم (Level 2 & 3): ان بچوں کو روزمرہ کے بنیادی کام سیکھنے اور کرنے کے لیے مسلسل نگرانی، مرحلہ وار (Step-by-step) رہنمائی اور خصوصی تھراپی کی ضرورت ہوتی ہے۔
وہ طریقے جو بچوں کو خود مختار بنانے میں مدد دیتے ہیں
بچوں کو روزمرہ کے کاموں (جیسے دانت برش کرنا، نہانا، یا سکول کے لیے تیار ہونا) میں خود کفیل بنانے کے لیے درج ذیل طریقے انتہائی معاون ثابت ہوتے ہیں:
وزیول شیڈول (Visual Schedules):
آٹزم کے حامل بچے تصویری چیزوں کو جلدی سمجھتے ہیں۔ اگر واش روم میں یا کمرے میں کاموں کی ترتیب کی تصاویر (جیسے: پہلے برش پکڑیں ➡️ پیسٹ لگائیں ➡️ دانت صاف کریں) لگا دی جائیں، تو وہ اسے دیکھ کر خود کام کرنا سیکھ جاتے ہیں۔
ٹاسک اینالیسس (Task Analysis):
کسی بھی بڑے کام کو چھوٹے چھوٹے اور آسان مراحل میں تقسیم کر دینا۔ مثال کے طور پر، "ہاتھ دھونے" کو 5 آسان سٹیپس میں توڑ کر سکھانا۔
مستقل مزاجی اور روٹین (Routine):
ان بچوں کے لیے ایک ہی وقت اور ایک ہی طریقے سے روزانہ کام کرنا آسان ہوتا ہے۔ روٹین میں اچانک تبدیلی انہیں پریشان کر سکتی ہے۔
پیشہ ورانہ تھراپی (Occupational Therapy):
اوکیوپیشنل تھراپسٹ (OT) خصوصی طور پر بچوں کی فائن موٹر سکیلو (جیسے بٹن بند کرنا، چمچ پکڑنا، زپ لگانا) اور روزمرہ کی زندگی کے کاموں کو بہتر بنانے پر کام کرتے ہیں۔
آٹزم کے شکار بچے سیکھنے اور اپنی سرگرمیاں کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ابتدائی مداخلت (Early Intervention)، بیہیویرل تھراپی (ABA)، اور صبر و مستقل مزاجی سے ان کی روزمرہ کی کارکردگی اور خود مختاری کو نمایاں حد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف آٹزم سینٹر فیصل آباد
0300.7609681.03467757166

06/06/2026

آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (Autism Spectrum Disorder - ASD) کو آسان الفاظ میں سمجھیں تو یہ کوئی بیماری نہیں ہے، بلکہ دماغی نشوونما کا ایک ایسا مختلف انداز ہے جو بچے کے بات چیت کرنے، دوسروں کو سمجھنے اور دنیا کو دیکھنے کے طریقے کو متاثر کرتا ہے۔
اسے آسان مثالوں اور اہم نکات کے ساتھ اس طرح سمجھا جا سکتا ہے:
1۔ لفظ "سپیکٹرم" (Spectrum) کا کیا مطلب ہے؟
سپیکٹرم کا مطلب ہے ایک وسیع رینج یا دائرہ۔ آٹزم سے متاثر ہر بچہ دوسرے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔
کچھ بچے بہت ذہین ہوتے ہیں اور عام اسکولوں میں پڑھ سکتے ہیں، لیکن انہیں دوست بنانے میں مشکل ہوتی ہے۔
کچھ بچوں کو بولنے میں شدید تاخیر ہوتی ہے اور انہیں روزمرہ کے کاموں کے لیے بہت زیادہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی لیے ماہرین کہتے ہیں: "اگر آپ نے آٹزم کے شکار ایک بچے کو دیکھا ہے، تو آپ نے صرف ایک ہی بچے کو دیکھا ہے (سب ایک جیسے نہیں ہوتے)"۔
2۔ آٹزم کی بنیادی علامات (مثالوں کے ساتھ)
آٹزم کی علامات کو عام طور پر تین بڑے حصوں میں دیکھا جاتا ہے:
الف) سماجی میل جول اور بات چیت میں مشکل (Social & Communication Challenges)
آئی کانٹیکٹ (Eye Contact) نہ کرنا: بچہ بات کرتے ہوئے یا دیکھتے ہوئے نظریں نہیں ملاتا۔
نام پر ردعمل نہ دینا: بچہ اپنے نام کی پکار پر اس طرح لاتعلق رہتا ہے جیسے اسے سنائی نہ دے رہا ہو (اگرچہ اس کے سننے کی صلاحیت بالکل ٹھیک ہوتی ہے)۔
اشاروں کو نہ سمجھنا: دوسروں کے چہرے کے تاثرات (خوشی، غصہ) یا بائے بائے (Bye-Bye) جیسے اشاروں کو سمجھنے یا دہرانے میں مشکل ہونا۔
اکیلے رہنا پسند کرنا: دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کے بجائے اپنے ہی کھلونوں کے ساتھ اکیلے مگن رہنا۔
ب) مخصوص اور دہرائے جانے والے رویے (Repetitive Behaviors)
جسمانی حرکات کو دہرانا: خوشی یا جوش کی حالت میں ہاتھوں کو بار بار پھڑپھڑانا (Hand Flapping)، گول گول گھومنا، یا پاؤں کی انگلیوں پر چلنا (Toe Walking)۔
کھلونوں کو ترتیب سے لگانا: کھلونوں سے کھیلنے کے بجائے انہیں ایک لمبی لائن میں ترتیب دینا، اور اگر کوئی اس ترتیب کو خراب کرے تو شدید غصہ یا پریشانی کا اظہار کرنا۔
تبدیلی پسند نہ کرنا: روزمرہ کے معمولات میں ذرا سی تبدیلی (جیسے اسکول کا راستہ بدل جانا یا کھانے کا وقت بدلنا) سے شدید پریشان ہو جانا۔
ج) حسیاتی حساسیت (Sensory Sensitivity)
آٹزم کے شکار بچوں کے حسیات (دیکھنا، سننا، چکھنا) بہت زیادہ تیز یا بہت کمزور ہو سکتے ہیں۔
مثال: مکسر گرائنڈر، ویکیوم کلینر، یا ہارن کی آواز پر کانوں کو زور سے بند کر لینا، یا کپڑے کے ٹیگ (Tag) اور مخصوص کھانوں کی بناوٹ سے شدید چڑچڑاہٹ محسوس کرنا۔
3۔ اہم وضاحت: کیا یہ قابلِ علاج ہے؟
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، آٹزم کوئی بیماری نہیں ہے جسے دوائی سے "ٹھیک" کیا جا سکے، بلکہ یہ ایک مستقل اعصابی کیفیت ہے۔ لیکن صحیح وقت پر علاج اور تھراپی سے آٹزم کے شکار بچوں کی زندگی کو بہترین اور خودمختار بنایا جا سکتا ہے۔
ارلی انٹروینشن (Early Intervention): اگر ابتدائی عمر (پہلے 3 سے 5 سال) میں علامات کو پہچان لیا جائے تو تھراپیز کے ذریعے بہت شاندار نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
مفید تھراپیز:
اسپیچ تھراپی (Speech Therapy): بولنے اور اپنی بات سمجھانے کی صلاحیت کو بہتر کرنے کے لیے۔
اوکیوپیشنل تھراپی (Occupational Therapy): روزمرہ کے کام (جیسے بٹن بند کرنا، چمچ پکڑنا) اور حسیاتی مسائل (Sensory Issues) کو مینیج کرنے کے لیے۔
بیہیویرل تھراپی (Behavioral Therapy - ABA): بچے کے غصے اور ضدی رویوں کو کم کر کے مثبت رویے سکھانے کے لیے۔
والدین کے لیے پیغام: آٹزم کا شکار بچہ معذور نہیں بلکہ "ڈیفرینٹلی ایبلڈ" (Differently Abled) ہوتا ہے، یعنی اس کے سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ مناسب تھراپی، محبت اور صبر کے ساتھ یہ بچے معاشرے کا ایک بہترین اور کامیاب حصہ بن سکتے ہیں۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف آٹزم سینٹر فیصل آباد
برائے رابطہ
0300.7609681/0346.7757166

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Faisalabad
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00