The Vision Developers

The Vision Developers

Share

The purpose of this page is the provision of information of teachers training motivational speaches

09/06/2026

کمپنی کا ایک ملازم اپنے دفتر پہنچا تو اسکی نگاہ دفتر کے گیٹ پر لگے ہوئے ایک نوٹس پر پڑی جس پر لکھا تھا:
"جو شخص کمپنی میں آپ کی ترقی اور بہتری میں رکاوٹ تھا اس کا انتقال ہوگیا۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کے لئے کانفرنس ہال میں تشریف لے آئیں جہاں پر اسکی میت رکھی ہوئی ہے"
یہ پڑھتے ہی وہ اداس ہو گیا کہ اسکا کوئی ساتھی ہمیشہ کے لئے اس سے جدا ہو گیا لیکن چند لمحوں بعد اس پر تجسس غالب آ گیا کہ آخر وہ شخص کون تھا جو اسکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ اس تجسس کو سانئے وہ جلدی سے کانفرنس ہال میں پہنچا تو وہاں اس کے دفتر کے باقی سارے ساتھی بھی اسی نوٹس کو پڑھ کر آئے ہوئے تھے اور سب حیران تھے کہ آخر یہ شخص کون تھا۔
کانفرنس ہال کے باہر میت کو دیکھنے کے لئے لوگوں کا اس قدر ہجوم ہو گیا کہ سکیورٹی گارڈ کو یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ سب لوگ ایک ایک کر کے اندر جائیں اور میت کا چہرہ دیکھیں۔
سب ملازمین ایک ایک کر کے اندر جانے لگے جو بھی اندر جاتا اور میت کے چہرے سے کفن ہٹا کر اس کا چہرہ دیکھتا تو ایک لمحے کے لئے حیرت زدہ اور گنگ ہو کر رہ جاتا اور اسکی زبان تالوسے چپک جاتی یوں لگتا کہ گویا کسی نے اسکے دل پر بڑی ضرب لگائی ہو۔ باری آئی تو وہ شخص بھی اندر گیا اور میت کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو اس کا حال بھی دوسروں جیسا ہی ہوا، کفن کے اندر ایک بڑا سا آئینہ رکھا ہوا تھا اور اسکے ایک کونے پر لکھا تھا:
"دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو آپ کی صلاحیتوں کو محدود کر کے آپ کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں"
یاد رکھئے! آپ کی زندگی میں تبدیلی آپ کی کمپنی تبدیل ہونے سے، آپ کا لباس تبدیل ہونے سے، آپ کے دوست احباب تبدیل ہونے سے نہیں آتی، آپ کی زندگی میں تبدیلی تب آتی ہے جب آپ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں، ناممکن کو ممکن اور مشکلات کو چیلنج سمجھتے ہیں، اپنا تجزیہ کریں، اپنے آپ کو آزمائیں، مشکلات، نقصانات اور ناکامیوں سے گھبرانا چھوڑ دیں اور ایک فاتح کی طرح جئیں۔
یعنی ہم اپنے آپ کو خود سنوارنے کی کوشش کریں گے تو جلدی سنور جائیں گے۔

06/06/2026

پاکستانی والدین اکثر تعلیم کو اس قدر ترجیح دیتے ہیں کہ وہ بچوں کی دوستیوں، سماجی سرگرمیوں اور باہر جانے پر پابندیاں لگا دیتے ہیں۔ یہ نیت تو اچھی ہوتی ہے، مگر اس طرزِ پرورش کے نتیجے میں بچے ضروری سماجی صلاحیتیں اور خود اعتمادی حاصل نہیں کر پاتے۔ ایسے بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو اکثر اندرونی کیفیت میں گم، کم گو اور دوسروں سے تعلق بنانے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ محدود ماحول انہیں بعد کی زندگی میں تعلقات نبھانے اور معاشرتی حالات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتا ہے

05/06/2026
05/06/2026

. *کـوئـی کـوشــش تـو کــرے*

ہمارے محلے میں ایک شیخ صاحب کرائے دار ہو کر آئے۔ وہ ملتان کے علاقے سے تھے اور نمک کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ بڑے نفیس، متوازن اور شائستہ انسان تھے۔

“میرے عزیز” ان کا مخصوص تکیۂ کلام تھا۔

اکثر مارننگ واک کے دوران ان سے ملاقات ہو جاتی۔ وہ بھی میری طرح خاموشی سے واک کرنے کے عادی تھے، کیونکہ وہ واک کے دوران تسبیحات پڑھتے تھے۔

میں تین چار دن واک پر نہ جا سکا۔ پانچویں چھٹے دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے خلافِ معمول تسبیح لپیٹ کر جیب میں رکھی اور مسکراتے ہوئے بولے:

“میرے عزیز! آج میرے ساتھ چلیں، اپنے ہاتھ سے چائے پلاتا ہوں۔”

میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ جب ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو حیرت ہوئی؛ وہ ڈرائنگ روم کم اور لائبریری زیادہ لگ رہا تھا۔ دیواروں پر قیمتی، تاریخی اور قدیم کتب سجی تھیں، گویا علم کا ایک خاموش خزانہ ہو۔

وہ مجھے وہاں چھوڑ کر کچن میں چلے گئے۔ میں نے کتب پر نگاہ ڈالنا شروع کی۔ واقعی نایاب اور قیمتی ذخیرہ تھا۔ مطالعہ کے میز پر تصوف سے متعلق چند کتابیں کھلی پڑی تھیں، ساتھ ایک نوٹ بک اور اس کے بیچ میں پنسل رکھی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ابھی ابھی نوٹس لکھتے ہوئے اٹھے ہوں۔

اتنی دیر میں شیخ صاحب ایک ٹرے لے کر آ گئے، جس میں چائے کے دو کپ، نمکین بسکٹ، چند کھجوریں اور دو السی کے لڈو تھے۔

گفتگو کا آغاز ہوا تو ان کی علمیت، سادگی اور گہرائی کا اندازہ ہوتا چلا گیا۔ سوال و جواب، دین اور زندگی کے موضوعات پر بات چلتی رہی۔ پھر اچانک وہ کہنے لگے:

“میرے عزیز! زندگی میں ایک سوال ایسا تھا جس کا جواب میں نے ان کتابوں میں بہت تلاش کیا۔ جواب ملے بھی، مگر دل کو وہ سکون نہ ملا۔ ایک دن ملازم چھٹی پر تھا، میں خود بیکری کا سامان لینے مارکیٹ چلا گیا۔ پیدل جا رہا تھا کہ ایک چھ سات سال کا بچہ میرے آگے آگے چل رہا تھا۔ غور کیا تو اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میں نے آواز دے کر اسے روکا۔”

وہ میرے پاس آیا۔ میں نے پوچھا:

“بیٹا، تمہارے جوتے کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟”

اس کے جواب نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔

وہ بس اتنا بولا:

“میرے ابو جی فوت ہو گئے ہیں…”

اور خاموش ہو گیا۔

میں چند لمحے مبہوت رہا، پھر اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:

“چلو بیٹا، میں تمہیں جوتے لے دیتا ہوں۔”

میں اسے جوتوں کی دکان پر لے گیا، دکاندار سے کہا:

“اس بچے کو سب سے اچھے جوتے پہنا دو۔”

بچہ جوتے پہن کر خوشی سے کھل اٹھا۔ میں نے اسے کچھ نقد رقم دی اور خدا حافظ کہہ کر چل دیا۔

چند لمحوں بعد وہ بچہ دوڑتا ہوا میرے پیچھے آیا، میری ٹانگوں سے لپٹ گیا اور پوچھنے لگا:

“آپ اللہ ہو؟”

میں نے اسے اٹھا کر پیار سے کہا:

“نہیں بیٹے، میں تو عام انسان ہوں۔”

وہ بولا:

“اچھا… تو پھر آپ اللہ کے دوست ہو۔ میں نے رات دعا مانگی تھی۔ ابو کہتے تھے جو اللہ سے مانگو، اللہ دے دیتا ہے۔ میں نے کہا تھا:

اللہ جی! میرے جوتے ٹوٹ گئے ہیں، مجھے نئے جوتے دے دو۔”

یہ سن کر میں شدتِ جذبات سے کانپ اٹھا۔ آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔

شیخ صاحب رُک گئے۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ بولے:

“اس دن مجھے سمجھ آیا کہ اللہ کا دوست بننا کوئی مشکل کام نہیں۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دو، کسی بیوہ کی مدد کر دو، کسی محتاج کی ضرورت پوری کر دو۔ بس… یہی دوستی ہے۔”

وہ بار بار دہرا رہے تھے:

“میرے عزیز! اللہ کا دوست بننا بہت آسان ہے، بس کوئی کوشش تو کرے۔”

اللہ تک پہنچنے کے لیے لمبے سفر نہیں کرنے پڑتے، بس کسی ضرورت مند کا سہارا بن جائیے، اللہ خود قریب آ جاتا ہے.

29/05/2026

*📘 (سبق آموز واقعہ)*

ایک شخص نے بہلول سے پوچھا:

“بہلول! اس کم آمدنی میں تمہاری زندگی کیسے چلتی ہے؟”

بہلول نے مسکرا کر کہا:
*“الحمدللہ! تھوڑے میں گزارہ ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ خود رزق کا انتظام فرما دیتا ہے۔”*

اس نے کہا:
*“اب تو ہم واقعی تنہا ہو گئے ہیں، کوئی مدد بھی نہیں کرتا!”*

بہلول نے جواب دیا:
*“نہیں، میں قناعت کرتا ہوں۔ کبھی کوئی چھوٹا موٹا کام بھی کر لیتا ہوں۔ اللہ بڑا ہے، وہ کبھی مجھے خالی ہاتھ نہیں چھوڑتا۔”*

وہ شخص بولا:
“سچ سچ بتاؤ، اصل بات کیا ہے؟”

بہلول نے کہا:
*“جب کبھی تنگی آتی ہے تو کسی نہ کسی ذریعے سے ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ اللہ رزاق ہے، وہی سب کچھ پہنچاتا ہے…”*

اس نے پھر اصرار کیا:
*“آخر حقیقت کیا ہے؟”*

تب بہلول نے کہا:
*“اچھا! ایک تاجر ہے بازار میں، وہ ہر مہینے میری کچھ مالی مدد کر دیتا ہے۔”*

یہ سن کر وہ شخص بولا:
“دیکھا! آخر بات یہ ہی تھی…”

بہلول نے افسوس سے کہا:
*“افسوس! میں نے تین بار کہا کہ اللہ رزق دیتا ہے تو تم نے یقین نہیں کیا، لیکن جیسے ہی ایک انسان کا نام آیا، فوراً مان لیا۔”*

پھر فرمایا:
*“کیا تمہارے نزدیک اللہ کی قدرت ایک انسان سے بھی کم ہے؟”*

*ہم زبان سے تو اللہ کو مانتے ہیں، مگر دل سے اس پر مکمل بھروسہ نہیں رکھتے۔*
*حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان کا یقین پختہ نہ ہو، وہ ہر چیز کو سہارا سمجھ لیتا ہے، مگر اللہ پر کامل بھروسہ نہیں کرتا۔*

📌 سبق:
*اصل توکل یہی ہے کہ انسان اسباب سے آگے بڑھ کر صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ کرے، کیونکہ وہی حقیقی رزاق ہے۔*

29/05/2026

لو بھائی ویپنگ کرنے والے نوجوانو متوجہ ہو جاؤ اور والدین بھی اس تحریر کو دھیان سے پڑھیں اور شئیر کریں
👇👇

ویپنگ کو سگریٹ سے کم نقصان دہ کہا جاتا ہے، مگر نئی تحقیق نے کینسر کے خطرات پر تشویش بڑھا دی

ویپنگ کو اکثر سگریٹ کے مقابلے میں ایک “محفوظ” متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن “کم نقصان دہ” ہونے کا مطلب “محفوظ” ہونا نہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق نکوٹین والے ای سگریٹ بعض اقسام کے کینسر کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

یہ تحقیق جریدے Carcinogenesis میں شائع ہوئی، جس میں مختلف سائنسی مطالعات کا جائزہ لیا گیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ویپنگ جسم کے خلیوں اور ٹشوز پر کیا اثر ڈالتی ہے۔

تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

یہ کوئی ایک تجربہ نہیں تھا بلکہ مختلف لیبارٹری، حیوانی، انسانی اور وبائیاتی مطالعات کا مجموعی جائزہ تھا۔

تحقیق کے مطابق ویپنگ سے پیدا ہونے والا aerosol (بخاراتی دھواں)؛
DNA کو نقصان پہنچا سکتا ہے
جسم میں دائمی سوزش پیدا کر سکتا ہے
ایسے کیمیکلز رکھتا ہے جو کینسر سے جڑے ہوئے ہیں
ان میں شامل ہیں؛
Formaldehyde
Acetaldehyde
Nickel
Chromium
Lead
یہ دھاتیں اکثر ویپ ڈیوائس کے heating elements سے نکلتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ویپنگ کا تعلق ممکنہ طور پر؛
پھیپھڑوں کے کینسر
منہ کے کینسر
مثانے کے کینسر
سے ہو سکتا ہے۔

البتہ محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ ای سگریٹ نسبتاً نئی چیز ہیں، جبکہ کینسر کو پیدا ہونے میں اکثر کئی دہائیاں لگتی ہیں۔ اس لیے ابھی طویل المدتی انسانی ڈیٹا محدود ہے۔

اگر تمباکو جلتا نہیں تو نقصان کیسے ہوتا ہے؟

ڈاکٹر لیانا وین کے مطابق بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ویپنگ میں تمباکو نہیں جلتا، اس لیے یہ تقریباً بے ضرر ہے۔

یہ درست ہے کہ ویپنگ روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کم زہریلے مادوں سے واسطہ ڈالتی ہے، مگر “کم نقصان” کا مطلب “بے ضرر” نہیں۔

ویپنگ میں استعمال ہونے والے مائع میں اکثر شامل ہوتے ہیں؛
نکوٹین
ذائقہ بڑھانے والے کیمیکلز
Propylene glycol
Vegetable glycerin
جب یہ مادے گرم ہوتے ہیں تو ایسے مرکبات میں تبدیل ہو سکتے ہیں جو خلیوں اور DNA کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

جو لوگ ویپ کرتے ہیں انہیں کیا کرنا چاہیے؟

ڈاکٹر وین کے مطابق؛

اگر کوئی سگریٹ نہیں پیتا تو اسے ویپنگ شروع نہیں کرنی چاہیے۔
جو لوگ ویپ کرتے ہیں انہیں استعمال کم کرنے اور آخرکار چھوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر کسی نے سگریٹ چھوڑ کر مکمل طور پر ویپنگ اختیار کی ہے تو یہ نسبتاً بہتر ہے، لیکن آخری مقصد نکوٹین کی لت سے مکمل آزادی ہونا چاہیے۔

نوجوانوں کے لیے خطرات

تحقیق کے مطابق نکوٹین نوجوان دماغ پر خاص اثر ڈال سکتی ہے، خصوصاً:
توجہ
سیکھنے کی صلاحیت
impulse control
سے متعلق حصوں پر۔

امریکہ میں 2024 کے دوران تقریباً 16 لاکھ اسکول کے طلبہ نے ای سگریٹ استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔

بہت سے نوجوان یہ اندازہ ہی نہیں لگا پاتے کہ وہ کتنی زیادہ نکوٹین لے رہے ہیں، کیونکہ کئی ویپ مصنوعات میں نکوٹین کی مقدار انتہائی زیادہ ہوتی ہے۔

تحقیق میں یہ خدشات بھی سامنے آئے:
سانس کی بیماریوں کا خطرہ
ڈپریشن جیسے ذہنی مسائل سے تعلق
مستقبل میں سگریٹ یا دیگر نشہ آور اشیا کی طرف رجحان

والدین بچوں سے کیا کہیں؟

ڈاکٹر وین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں سے ویپنگ پر کھل کر اور بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے بات کریں۔
بہت سے نوجوان دوستوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ویپنگ سے متعارف ہوتے ہیں۔

اہم بات یہ سمجھانا ہے کہ ویپنگ صرف “خوشبودار پانی کی بھاپ” نہیں بلکہ اس میں:
شدید لت پیدا کرنے والی نکوٹین
اور ایسے کیمیکلز
ہو سکتے ہیں جو پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائیں اور وقت کے ساتھ کینسر کے خطرات بڑھا دیں۔

Note:
یہ تحقیق جریدے Carcinogenesis میں شائع ہوئی، جس میں مختلف سائنسی مطالعات کا جائزہ لیا گیا

Disclaimer: this is shared here for news, information and education purpose.

18/05/2026

اللہ اکبر : ایک انگریز نے سنت نبویؐ پر عمل کر تے ہوئے ۔۔۔۔ دوردراز کے کسی دیس سے اس گورے نے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بھٹے پر کام کرنیوالی ایک مزدور فیملی جو کہ قرض میں پھنسی تھی اسکا سارا قرض ادا کرکے رہائی دلوا دی ۔۔۔ یہ فیملی پابند تھی کہ اگلے کئی سال اس بھٹے پر مزدوری کرے گی اور انہیں صرف کھانے کے پیسے ملیں گے اور کچھ نہیں ۔۔ نہ جانے کیسے اس انگریز اور اسکی بیوی نے معلومات لیں ، پاکستان آئے، 7 لاکھ روپے کی رقم بھٹہ مالکان کو ادا کی جو اس فیملی نے ان سے ایڈوانس یا قرض لی تھی. اس خاندان کی بزرگ خاتون فرط جذبات سے اپنے غیر مسلم مسیحا کے سینے سے لگ گئی ۔ اور اس رحم دل شخص نے ماں جی کا سر چوم کر محبت لوٹا دی ۔۔۔یوں یہ غیر مسلم میاں بیوی ایک غریب محنت کش خاندان کو غلامی سے نجات دلا کر چلے گئے ۔۔۔۔۔۔ سلام ہے ایسے لوگوں پر اور انکی سوچ پر

“This is an AI -generated visuals,
created for awareness and inspiration purposes.Image is used for reference only “.

04/05/2026

I got over 150 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

27/04/2026

کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ پاکستانی صالح آصف اپنے اے آئی کوڈنگ اسٹارٹ اپ “Cursor” کی مالیت 29.3 ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد ارب پتی بن گئے ہیں۔

صالح آصف، جو ماضی میں ریاضی کے بین الاقوامی اولمپیاڈ میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور ایم آئی ٹی سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں، اس وقت کمپنی Anysphere میں چیف پروڈکٹ آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اسی کمپنی نے AI پر مبنی کوڈنگ پلیٹ فارم Cursor تیار کیا ہے، جو عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پلیٹ فارم صارفین اور آمدنی کے لحاظ سے غیر معمولی تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جبکہ اسے اوپن اے آئی فنڈ، اینڈریسن ہورووٹز اور گوگل جیسے بڑے سرمایہ کاروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

یہ کامیابی پاکستان کی ٹیکنالوجی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے.

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Gulsha-e-Iqbal
Karachi
75800