Urdu with Bilal Hashmi

Urdu with Bilal Hashmi

Share

I love to read, tell and animate stories from Urdu and English literature

18/06/2026

تحقیق بتاتی ہے کہ نئے الفاظ سکھانے اور یاد کروانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں حقیقی زندگی کے استعمال کے ساتھ پیش کیا جائے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ذریعے سمجھانا غلط ہے۔ بعض اوقات یہی طریقہ سب سے مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

آج کے بہت سے بچے اردو کے عمدہ اور معیاری الفاظ سے واقف نہیں ہیں۔ ایسے میں ایک اچھے اردو استاد کی ذمہ داری صرف الفاظ پڑھانا نہیں بلکہ ان کے معنی طلبہ تک مؤثر انداز میں پہنچانا بھی ہے۔ اگر کسی موقع پر انگریزی الفاظ کے ذریعے اردو کا مفہوم واضح کرنا پڑے تو یہ کمزوری نہیں بلکہ تدریس کا ایک فن ہے۔

مقصد زبان کی دیواریں کھڑی کرنا نہیں، بلکہ فہم کے دروازے کھولنا ہے۔



15/06/2026

📚✨ A more profound and meaningful Urdu learning journey is about to begin, InshaAllah.

If you truly love the Urdu language and wish to enhance your skills, this is a journey you won't want to miss.

Coming soon, InshaAllah! 🌟

07/06/2026

"انجیر پروجیکٹ" کی بے مثال کامیابی کے بعد۔۔۔۔
اب پیش خدمت ہے عام لوگوں کے لیے کچھ خاص آم پروجیکٹ۔

30/05/2026

کچھ دن قبل میرے ایک دوست، جو اپنے بچوں کو Homeschooling کروا رہے ہیں، نے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے پالتو جانوروں کے ذریعے بچوں کی تعلیم و تربیت کا مشورہ دیا تھا۔

ان کی اس بات نے مجھے تقریباً 35 سال پیچھے، اپنے بچپن کے دنوں میں پہنچا دیا، جب ایک ننھے سے بلال ہاشمی کو اس کے شفیق والد چوزے لا کر دیا کرتے تھے۔

انہی دنوں مجھے اور میرے بڑے بھائی کو ایک گلابی چوزی پالنے کا اتفاق ہوا۔ ہم نے اس کا نام "گلابو" رکھا۔ گلابو جتنی خوبصورت تھی، اس سے کہیں زیادہ اس کی ادائیں دل موہ لینے والی تھیں۔ جب ہم اسے آواز دیتے تو وہ دوڑتی ہوئی آتی اور ہمارے ہاتھوں پر آ بیٹھتی۔

مگر والد صاحب نے ہمیں سمجھایا تھا کہ چوزوں کو زیادہ ہاتھ میں لینے سے وہ بیمار ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہماری گلابو بھی بیمار پڑ گئی۔ ہم نے اپنی ننھی سی عقل کے مطابق اس کے آرام اور علاج کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہاں تک کہ اس کے پنجرے میں تنکوں اور روئی کا نرم بستر بھی بنا دیا، مگر تقدیر کو کچھ اور منظور تھا۔

آخرکار گلابو ہمیں سوگوار چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئی۔

بوجھل دلوں کے ساتھ ہم نے اپنے اپارٹمنٹس کے قریب اس کی قبر بنائی۔ قبلے کا رخ معلوم کرنے کے لیے اپنے پڑوسی "میجر ولیم" کی مدد لی، پھر اس ننھی سی چوزی کو دفن کیا اور فاتحہ خوانی بھی کی۔

آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان چوزوں نے مجھے وہ سبق سکھائے جو شاید کوئی کلاس، کوئی استاد اور کوئی کتاب نہ سکھا سکتی۔ میں نے پہلی بار کسی سے گہرا لگاؤ پیدا کرنا اور پھر اس کی جدائی کا دکھ برداشت کرنا یہیں سے سیکھا۔ میں نے یہ بھی جانا کہ موت ایک ایسی بے رحم حقیقت ہے جو بغیر اطلاع کے ہنستے بستے گھر میں آتی ہے، کسی ایک آنگن کو ویران کرتی ہے اور پھر آگے بڑھ جاتی ہے۔

زندگی کا نام ہی شاید اسی حقیقت کو قبول کرنے اور اس کے ساتھ جینا سیکھنے کا ہے۔

🌹 بعض اوقات ایک ننھا سا پالتو جانور بچوں کو محبت، ذمہ داری، ہمدردی اور زندگی کی حقیقتوں کے وہ سبق سکھا دیتا ہے جو نصابی کتابوں میں نہیں ملتے۔

26/05/2026

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ جتنا گہرا انسان سوچے گا اتنا ہی زیادہ کامیاب ہوگا، لیکن ہر پروفیشن کی اپنی ایک “ذہنی حد” ہوتی ہے۔

کچھ فیلڈز میں زیادہ سوچنا طاقت بنتا ہے، جبکہ کچھ میں یہی چیز بیزاری پیدا کر دیتی ہے۔

میرا ایک دوست O/A Level Maths پڑھاتا تھا حالانکہ اس کی زیادہ تر کوالیفیکیشنز بڑی بزنس یونیورسٹیز سے تھیں۔ اس نے کہا:
“مجھے food for thought چاہیے تھا، معاشیات مجھے ذہنی تشفی نہیں دیتا تھا۔”

اس نے تدریس میں اپنی پوری محنت لگائی، ایجوکیشن اسٹڈیز بھی کیں، مگر پھر بھی career struggle ختم نہ ہوئی۔

مجھے احساس ہوا کہ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ تدریس کے قابل نہیں تھا…
بلکہ اس کا دماغ اس میدان سے "بڑا" تھا۔

میں نے اسے data science کی طرف جانے کا مشورہ دیا۔

حیرت انگیز طور پر اس نے بہت جلد فیصلہ کیا، تیزی سے grow کیا، ماسٹرز تک شروع کر دیا، اور آج نامی گرامی کمپنیوں میں data پر کام کر رہا ہے۔

زندگی نے ایک سبق دیا:

ہر ناکامی incompetence نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی انسان صرف غلط جگہ کھڑا ہوتا ہے۔

اگر آپ مسلسل mentally underutilized، creatively suffocated یا professionally frustrated محسوس کرتے ہیں تو شاید مسئلہ آپ کی capability نہیں…
بلکہ وہ تنگ ڈبہ ہے جس میں آپ خود کو فٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنی صلاحیت پہچانیے۔
مخلص لوگوں سے مشورہ لیجیے۔
Calculated risks لیجیے۔

صحیح دماغ جب صحیح جگہ پہنچتا ہے تو قسمت بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ ✨

21/05/2026

سر عامر وحید قمر کیمبرج اردو کے ایک مایہ ناز استاد اور کہنہ مشق مصنف ہیں۔ آپ کی مختلف نصابوں پر لکھی گئی کچھ کتب آج بھی بے مثال مانی جاتی ہیں۔ "صریر خامہ" سے تو شاید ہی کوئی اردو استاد ناآشنا ہوگا۔
کچھ برس قبل سر عامر ہی کی اردو 3248 کی ایک کتاب نے مجھے نہ صرف یہ نصاب اچھی طرح سمجھنے میں مدد دی تھی، بلکہ اس کے لیے مواد تیار کرنے میں بھی خصوصی معاون ثابت ہوئی تھی۔
سر اپنی کتب اساتذہ کو ہدیتا بھیجنے کے عادی ہیں اور اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے مجھے اردو 3247 کی اپنی نئی کتاب بھیجی۔ امید ہے کہ سر کی دیگر کتب کی طرح یہ بھی اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے مفید ہوگی۔


16/05/2026

آج بائیک کے لیے ایک جگہ سے آئل لیا۔ حالیہ مہنگائی کے باوجود آئل کی قیمت بہت کم لگی۔
جب ڈبہ دیکھا تو اس پر تیل کے نشان تھے۔۔۔۔۔۔
نئے ڈبے پر تیل کا نشان؟؟؟
پھر ڈبے کا ڈھکنا دیکھا تو مشین کا بند کیا ہوا نہیں لگا۔
اب شک قوی ہو گیا۔
بالآخر اس کا سکریچ کوڈ جب سرچ کیا تو ڈبے کے غیر معیاری ہونے کی تصدیق ہو گئی۔
فورا نمائندے کو کال کی، جس نے دکان دار سے بات کی اور ڈبہ واپس ہوگیا۔
یاد رکھیے! مہنگائی اور غربت کے طوفان میں چور بازاری، ڈاکہ زنی اور دھوکہ دہی کا بڑھنا بالکل بدیہی ہے۔
شک کو نظر انداز نہ کیجیے۔ تحقیق کر کے چیز لیجیے۔ کہیں یہ نہ ہو کہ "اعتماد" اور "بھروسے" کی آڑ میں آپ ہی ساری بے ایمانی جھیلنے پر مجبور ہو جائیں۔

15/05/2026

تعلیم صرف کتابی مواد پڑھانے کا نام نہیں، بلکہ طلبہ کے لیے اسے دلچسپ، قابلِ فہم اور زندگی سے جڑا ہوا بنانا بھی ایک استاد کی اہم ذمہ داری ہے۔
میرا ہمیشہ یہ ماننا ہے کہ جب سبق کو حقیقی زندگی کے مسائل اور تجربات سے جوڑ دیا جائے تو بچے نہ صرف اسے بہتر سمجھتے ہیں بلکہ بھرپور دلچسپی بھی لیتے ہیں۔

اسی سوچ کے تحت آج اردو کے بحثی مضمون کی مشق کے لیے طلبہ کو “بجلی والی” اور “پیٹرول والی” بائک کے حامی گروہوں میں تقسیم کر کے باقاعدہ مباحثہ کروایا گیا۔
طلبہ نے حیرت انگیز جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا، مضبوط دلائل پیش کیے، اور کئی ایسے نکات سامنے آئے جو مزید تحقیق اور غور و فکر کے دروازے کھول سکتے ہیں۔

14/05/2026

فلپّو برونیلیسکی (Filippo Brunelleschi) صرف ایک عظیم معمار نہیں تھا…
وہ انسانی نفسیات، اثر و رسوخ (influence) اور حکمت عملی (strategy) کو بھی خوب سمجھتا تھا۔
فلورنس کے مشہور چرچ Santa Maria del Fiore کے عظیم گنبد پر کام چل رہا تھا۔
یہ اُس زمانے کا تقریباً ناممکن سمجھا جانے والا منصوبہ تھا۔
اصل دماغ اور vision برونیلیسکی کے پاس تھا۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اُس کے ساتھ لورینزو غیبرتی (Lorenzo Ghiberti) کو بھی “برابر کا شریک” بنا دیا گیا۔
غیبرتی کے تعلقات مضبوط تھے، شہرت بھی تھی… مگر اس مخصوص کام کی حقیقی مہارت برونیلیسکی کے پاس تھی۔
برونیلیسکی نے شور نہیں مچایا۔
نہ سیاسی لڑائی کی۔
نہ لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کی۔
بلکہ اس نے ایک عجیب حکمت عملی اختیار کی۔
کام کے ایک اہم مرحلے پر وہ اچانک “بیمار” ہو گیا اور پیچھے ہٹ گیا۔
لیکن جاتے ہوئے ایک بات بہت سکون سے کہہ گیا:
“چونکہ غیبرتی میرے برابر کا شریک ہے، اس لیے وہ اکیلا بھی کام سنبھال سکتا ہے۔”
پھر وہی ہوا جو برونیلیسکی پہلے سے جانتا تھا۔
کام سست پڑ گیا۔
کشمکش بڑھنے لگی۔
لوگوں کو سمجھ آنے لگا کہ اصل صلاحیت اصل سمجھ بوجھ اور اصل leadership کس کے پاس ہے۔
آخرکار حکام دوبارہ برونیلیسکی کے پاس آئے اور درخواست کی کہ وہ واپس آ کر منصوبہ سنبھال لے۔
روایت کے مطابق اس نے فوراً ہاں بھی نہیں کی… بلکہ معاملہ اتنا واضح ہونے دیا کہ سب خود حقیقت مان لیں۔
کچھ عرصے بعد غیبرتی کو عملاً کنارے کر دیا گیا…
اور دلچسپ بات؟
برونیلیسکی بھی “صحت یاب” ہو گیا۔ 🙂
اس واقعے میں ایک بہت بڑا سبق چھپا ہوا ہے:
ہر جنگ دلیل، شور یا ٹکراؤسے نہیں جیتی جاتی۔
کبھی کبھی اپنی قیمت اتنی واضح کر دو کہ لوگوں کو خود احساس ہو جائے کہ:
“اصل ضرورت کس کی ہے۔”
جو لوگ واقعی indispensable بن جاتے ہیں،
انہیں خود کو بار بار ثابت نہیں کرنا پڑتا۔ 🔥

(Robert Greene - 48 Laws of Power)

10/05/2026

اصل سیکھنا حقیقت میں ایسے ہوتا ہے…

کچھ دن پہلے ہمارے گھر کی پانی چڑھانے والی موٹر — المعروف “Donkey Pump” — اچانک بند ہو گیا۔
ظاہر ہے پہلا خیال یہی آیا:

«“وائنڈنگ جل گئی ہوگی!”»

الیکٹریشن کو بلانے کی کوشش کی… مگر ہمارے ہاں وقت پر نہ آنا شاید اس شعبے کی بنیادی کوالیفیکیشن ہے۔ 😄

میں کوئی بہت بڑا ٹیکنیکل آدمی نہیں ہوں، مگر اس بار میں نے فوراً مسئلہ outsource کرنے کے بجائے خود سمجھنے کی کوشش کی۔

پہلے تاریں، سوئچ بورڈ، پلگ اور آئل چیک کیا۔
بریکر پھر بھی ٹرپ ہو رہا تھا۔

پھر نئی موٹرز کی قیمتیں دیکھیں۔
پھر دماغ میں سوال آیا:

«“کیا وائنڈنگ کے علاوہ بھی کوئی وجہ ہو سکتی ہے؟”»

یہاں سے اصل learning شروع ہوئی۔

کبھی پرانے زمانے میں پنکھے کا capacitor بدلا تھا، تو خیال آیا شاید مسئلہ capacitor میں ہو۔
اسے نکال کر مختلف دکانوں پر چیک کروایا۔
کسی نے کہا ٹھیک ہے، کسی نے کہا خراب ہے۔

چونکہ مہنگا نہیں تھا، نیا لے لیا۔
لگایا…
اور نتیجہ؟

وہی بریکر ٹرپ

آخرکار میں کافی دور نئی موٹر لینے گیا۔ تقریباً خرید ہی چکا تھا کہ اچانک ایک خیال آیا:

«“کہیں مسئلہ وائنڈنگ کے قریب تاروں ہی میں تو نہیں؟”»

موٹر مزید کھولی…
اور دیکھا کہ گرمی کی وجہ سے دو تاریں آپس میں پگھل کر جڑ گئی تھیں۔

میں نے انہیں الگ کیا، insulation دی، موٹر آن کی…

…اور موٹر بالکل صحیح چل پڑی۔ ⚡

اس ایک فیصلے نے — یعنی جلدی outsource نہ کرنے نے — مجھے کئی فائدے دیے:

✅ نئی موٹر کے خرچے اور جھنجھٹ سے بچ گیا
✅ مارکیٹ اور اس کے رویے سمجھ آئے
✅ موٹر وائرنگ کی بینادی شد بد حاصل ہوئی
✅ ڈنکی پمپ کا mechanism سمجھ آیا
✅ گھر کے پانی کی پائپ لائن کی بھی سمجھ بہتر ہوئی

اور سب سے اہم بات…

زندگی میں پہلی بار capacitor واقعی سمجھ آیا۔ 😄

کیونکہ ایک charged capacitor نے مجھے جھٹکا مار کر ایسا “عملی لیکچر” دیا کہ ہمیشہ یاد رہے گا۔
کتابوں میں تو سالوں پہلے پڑھا تھا کہ capacitor charge store کرتا ہے…
مگر اس دن پہلی بار اسے محسوس کیا۔

اصل learning یہی ہوتی ہے۔

آج دنیا اسے بڑے پر تکلف نام PBL — Project Based Learning سے موسوم کرتی ہے۔

حقیقی سیکھنا چند صفحات رٹ لینے سے نہیں آتا۔
یہ آہستہ آہستہ پنپتا اور پروان چڑھتا ہے…
جب دماغ ایک تصور کو absorb، process اور connect کرتا ہے، پھر اگلے مرحلے کی طرف بڑھتا ہے۔

اسی لیے طلبہ کو صرف ایک دوسرے سے منقطع لیکچرز اور کتابوں میں دھکیلنے کے بجائے "مسائل کے بامقصد حل" کروانے چاہئیں۔

کیونکہ جب مقصد واضح ہو تو:

✨ تجسس زندہ رہتا ہے
✨ سیکھنا یاد گار بن جاتا ہے
✨ اور معلومات ذہن میں بیٹھ جاتی ہیں

اور ہاں ایسے موقع پر کسی سہولت کار یعنی facilitator کا ہونا مفید ہے…
جو اس پورے عمل میں خوش قسمتی سے Usama Ahmed تھے۔ 🙌



Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

House IH 55, Street 6, AFOHS New Malir (Opposite To Cantt. Check Post 5)
Karachi
75070

Opening Hours

Monday 19:45 - 20:45
Tuesday 19:45 - 20:45
Wednesday 19:45 - 20:45
Thursday 19:45 - 20:45
Friday 19:45 - 20:45
Saturday 00:00 - 23:45
Sunday 00:00 - 23:45