20/06/2026
مفتی محمد نعیم صاحب رحمہ اللہ کو ہم سے بچھڑے چھ برس مکمل ہوئے
منجانب
مولانا غلام رسول ایڈمنسٹریٹر، جامعہ بنوریہ عالمیہ
بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے، لیکن کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت بھی نہیں بھر پاتا۔ آج ۲۰ جون ۲۰۲۶ء کو ہمارے استاد، اور محسنِ حضرت مفتی محمد نعیم صاحب رحمہ اللہ کو ہم سے بچھڑے چھ برس بیت چکے ہیں۔ چھ سال کا یہ عرصہ ان کی یادوں، ان کے اصولوں اور ان کی شفقتوں کے سائے میں گزرا، لیکن ان کی کمی کا احساس آج بھی پہلے دن کی طرح تازہ ہے۔
جب میں ماضی کے جھروکوں میں جھانکتا ہوں، تو میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ مجھے وہ دور یاد ہے جب آج کا یہ عظیم الشان جامعہ بنوریہ عالمیہ اس طرح نہیں تھا۔ یہ تو صرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا میں اس دور کے ان اولین شاگردوں میں سے ہوں جنہوں نے اس تپش اور سختی میں اپنے استاد کے عزم کو دیکھا۔ مفتی صاحب رحمہ اللہ کے پاس کوئی بڑی بساط نہ تھی مگر ان کے پاس ایک مخلص دل اور الٰہی عزم تھا۔ میں نے ان کے ساتھ علم بھی حاصل کیا اور اسی کچے کمرے سے اس عالمی ادارے کی بنیاد بنتے بھی دیکھا۔
حضرت مفتی صاحب رحم اللہ کا مجھ پر جو اعتماد اور شفقت تھی، وہ میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ تھا جامعہ کا کوئی بھی کام ہوتا، وہ فرماتے: "غلام رسول، یہ کام آپ نے کرنا ہے"۔ وہ اپنے بیشتر تنظیمی، تعلیمی اور انتظامی امور کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دیتے اور میں ان کے سائے میں رہ کر خود کو خوش قسمت تصور کرتا۔
ان کا مجھ پر یہ اعتماد صرف ادارے تک محدود نہ تھا، بلکہ جب ملک بھر سے لوگ اپنے ذاتی، خاندانی یا شرعی مسائل لے کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے، تو حضرت بڑے پیار اور مان سے ان کی طرف اشارہ کر کے فرماتے: "آپ غلام رسول کے پاس چلے جائیں، یہ آپ کا مسئلہ حل کر دیں گے"۔ استاد کا اپنے شاگرد پر یہ مان، یہ یقین میری زندگی کا کل سرمایہ تھا۔ آج میں جامعہ بنوریہ کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے جو بھی خدمات سرانجام دے رہا ہوں، یہ اسی کچے کمرے کی تربیت اور حضرت کی دعاؤں کا ثمر ہے۔
آج چھ سال بعد بھی جامعہ کا ایک ایک گوشہ، یہاں کا ہر طالب علم اور ہر در و دیوار ان کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ وہ دنیا سے چلے گئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا چمن چھوڑ گئے جس کی آبیاری کرنا اب ہماری ذمہ داری ہے۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ حضرت استادِ محترم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس ادارے کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
رخصت ہوا وہ سایۂ دیوارِ عاطفت...
چھ سال بیت گئے، مگر آپ کی یادیں، آپ کا مشن اور آپ کا نام ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
17/06/2026
فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ
تیغ و تقویٰ کا حسین امتزاج
یکم محرم... محرابِ مسجدِ نبوی سے اٹھنے والی وہ آہ جو آج بھی مدینہ کی فضاؤں میں گونجتی ہے۔ وہ آہ جو بتاتی ہے کہ 26 ہجری کو فجر کی اذان کے ساتھ عدل کا آفتاب غروب ہو گیا تھا۔
شجاعت ایسی کہ باطل کے ایوان لرز جائیں
مکہ کی وادی میں جب توحید کا کلمہ سرگوشیوں میں پڑھا جاتا تھا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر وقت کی نبض تھام لی۔ للکار کر کہا: "میں عمر، لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرتا ہوں۔ جسے اپنی ماؤں کو رُلانا ہے، وہ وادی کے اس پار آ جائے"۔
خاموشی چھا گئی۔ اس دن کفر کی ہیبت ٹوٹ گئی اور بیت اللہ میں تکبیر کی صدا پہلی بار گونجی۔ رسولِ رحمت ﷺ نے مسکراتے ہوئے لقب عطا کیا: *فاروق*... حق اور باطل میں حدِ فاصل کھینچ دینے والا۔
استقامت ایسی کہ تخت و تاج بھی نہ بدل سکے
بائیس لاکھ مربع میل کے فرمانروا، مگر قمیص پر چودہ پیوند۔ روم و فارس کے سونے چاندی سے بیت المال بھرا پڑا ہے، اور امیر المومنین کا وظیفہ مدینہ کے ایک مزدور کے برابر۔
ایران کا ایلچی آیا۔ پوچھا: "شاہِ عرب کا محل کدھر ہے؟" انگلی اٹھی: "وہ دیکھو، کھجور کے سائے میں، سر کے نیچے اینٹ رکھے سو رہا ہے"۔
ایلچی دم بخود رہ گیا۔ لبوں سے بے اختیار نکلا: *عدلتَ فأمِنتَ فنِمت*... اے عمر! تو نے عدل کیا، بے خوف ہو گیا، سو بے فکر سو گیا۔
بہادری ایسی کہ لشکر بھی رشک کریں
بدر کا میدان ہو یا احد کی گھاٹی، خیبر کا قلعہ ہو یا یرموک کا معرکہ، عمر کی تلوار جہاں پڑی، باطل کا سر قلم ہوا۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ گواہی دیتے ہیں: "ہم تلوار چلاتے تھے، مگر دشمن عمر کے نام سے کانپتا تھا"۔ اس کے باوجود جب فتح مکہ کا دن آیا تو سر جھکائے، آنکھیں نم کیے داخل ہوئے۔ فرمایا: "آج انتقام کا دن نہیں، رحم کا دن ہے"۔
نرمی ایسی کہ پتھر بھی موم ہو جائیں
آدھی رات کا پہر۔ مدینہ کی سنسان گلی۔ ایک خیمے سے بچوں کے بلکنے کی آواز۔ اندر ایک ماں ہانڈی میں پتھر ابال رہی ہے کہ بچے بہل جائیں۔
عمر کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ بیت المال سے آٹے کی بوری خود پیٹھ پر لادی۔ خادم نے عرض کیا: "مولا میں اٹھا لوں؟" گرج کر بولے: "قیامت کے دن میرا بوجھ تو نہیں اٹھائے گا؟"
خود آگ جلائی، خود ہانڈی پکائی، خود بچوں کو نوالے کھلائے۔ جب بچے کھیلتے کھیلتے سو گئے، تو مسکراتے ہوئے پلٹے: "میں روتے ہوئے آیا تھا، ہنستے ہوئے جا رہا ہوں"۔
یہ تھے عمر
جن کی شجاعت سے کفر کے بت پاش پاش ہوئے۔
جن کی استقامت سے تخت ہل گئے مگر کردار نہ ڈگمگایا۔
جن کی بہادری سے قیصر و کسریٰ کے تاج اچھالے گئے۔
جن کی نرمی سے بیوہ کی دعا عرش ہلا دیتی تھی۔
یکم محرم کو جب ابو لؤلؤ فیروز کا خنجر پیٹ میں اترا، تو لبوں پر شکوہ نہ تھا، شکر تھا: "الحمد للہ کہ کسی مسلمان کے ہاتھ سے نہیں مر رہا"۔
اے فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ
تیرا عدل اب بھی عدالتوں کا نصاب ہے۔
تیری ہیبت اب بھی ظالم کے خواب میں آتی ہے۔
تیری نرمی اب بھی یتیم کے سر کا سایہ ہے۔
سلام اس ذات پر جس کے جنازے کو اٹھاتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:
کاش میرا نامۂ اعمال عمر کے نامۂ اعمال جیسا ہوتا
چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن شیخ غلام رسول ایڈمنسٹریٹر جامعہ بنوریہ عالمیہ
07/06/2026
بلوچستان جلسے نے تاریخ رقم کردی
جب میڈیا کے کیمرے بند تھے، جب چینلز نے آنکھیں پھیر لیں، تب بلوچستان نے تاریخ لکھ دی۔
مولانا فضل الرحمن صاحب کا بلوچستان میں وہ جلسہ جسے "بلیک آؤٹ" کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی دراصل عوامی طاقت کا سب سے روشن ثبوت بن گیا۔
کیا منظر تھا نہ لائیو کوریج، نہ بریکنگ نیوز کی پٹیاں، نہ تجزیہ نگاروں کے تبصرے۔ لیکن میدان کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہزاروں ٹوپیاں، لاکھوں نعرے، اور ایک آواز — "اسلام زندہ باد"۔
یہ وہ اجتماع تھا جہاں کرسیاں کم پڑ گئیں اور جذبے بڑھ گئے۔ یہ وہ پاور شو تھا جسے دکھانے کے لیے اسکرین کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ وہ دلوں میں اتر گیا۔
میڈیا گریس کرے یا کور نہ کرے، زمینی حقیقت نہیں بدلتی۔ بلوچستان نے بتا دیا کہ عوامی رابطہ سیٹلائٹ سے نہیں، دلوں کے سگنل سے جڑتا ہے۔
جو طوفان عوام کے دلوں میں اٹھتا ہے، اسے کوئی چینل روک نہیں سکتا۔ مولانا فضل الرحمن صاحب نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ سیاست ایوانوں میں نہیں، میدانوں میں ہوتی ہے۔ اور بلوچستان کا میدان آج گواہ ہے۔
خاموشی کے شور سے زیادہ طاقتور کوئی آواز نہیں ہوتی۔
چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن شیخ غلام رسول ایڈمنسٹریٹر جامعہ بنوریہ عالمیہ
#بلوچستان
05/06/2026
*الحمدللہ رب العالمین*
آج بروز جمعہ جامع مسجد بلال، کورنگی غوث پاک روڈ میں نمازِ عصر ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
اللہ کے فضل سے آج جامع مسجد بلال کی چھت بھرائی کا کام ہوا ہے۔ ابھی تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوا، مزید مراحل باقی ہیں۔
افسوس کہ کچھ لوگوں نے اس نیک کام کو رکوانے کی بہت کوشش کی، رکاوٹیں کھڑی کیں۔ مگر اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے یہ کام رکا نہیں اور ان شاء اللہ اپنے انجام تک پہنچ کر ہی رہے گا۔ کیونکہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور اللہ اپنے گھر کی حفاظت خود فرماتا ہے۔
اس موقع پر چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن شیخ غلام رسول ایڈمنسٹریٹر جامعہ بنوریہ عالمیہ نے مسجد کی جلد تکمیل، خیر و برکت اور آبادکاری کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں۔
ہم ان تمام حضرات کے لیے بھی دل سے دعا گو ہیں جو اللہ کے اس گھر کی تعمیر میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ پاک ان کی محنت قبول فرمائے، حاسدوں کے شر سے محفوظ رکھے اور اس مسجد کو جلد پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین
چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن
شیخ غلام رسول ایڈ منسٹریٹر جامعہ بنوریہ عالمیہ
#کورنگی #الحمدللہ
03/06/2026
*حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ — حیا، سخاوت اور قرآن کا پیکر*
آج اگر حیا کا کوئی چہرہ دیکھنا ہو، سخاوت کی کوئی مثال ڈھونڈنی ہو، یا قرآن سے محبت کا کوئی عملی نمونہ دیکھنا ہو… تو نگاہیں خودبخود مدینہ کے اس گلی کوچے کی طرف اٹھ جاتی ہیں جہاں "ذوالنورین" کا گھر آباد تھا۔
*1. حیا کے پیکر*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میری امت میں سب سے زیادہ باحیا عثمان ہے"۔
حتیٰ کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے۔ وہ خلیفہ وقت ہو کر بھی ایسے سادہ تھے کہ بازار سے خود سودا اٹھا کر گھر لے جاتے۔
*2. غنی… اور پھر بھی غنی*
"غنی" لقب دولت کی وجہ سے نہیں، دل کی وسعت کی وجہ سے ملا۔
- *غزوہ تبوک*: جب لشکر کے لیے سامان کم پڑا تو اکیلے عثمانؓ نے 1000 اونٹ، 70 گھوڑے اور 1000 دینار پیش کر دیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "آج کے بعد عثمان جو بھی کرے، اس پر کوئی گرفت نہیں"۔
- *بئرِ رومہ*: مدینہ میں پانی کی قلت تھی۔ ایک یہودی کا کنواں تھا جو مہنگا پانی بیچتا۔ عثمانؓ نے 20 ہزار درہم میں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔ آج بھی وہ کنواں سعودی حکومت کے زیرِ انتظام "وقف عثمان" کے نام سے چل رہا ہے۔
*3. قرآن سے عشق*
آپؓ کی سب سے بڑی خدمت: قرآن کو ایک مصحف پر جمع کرنا۔ آج دنیا کے کونے کونے میں جو قرآن پڑھا جاتا ہے، وہ "مصحفِ عثمانی" کی ترتیب پر ہے۔
خود راتوں کو اتنا قیام کرتے کہ ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کر دیتے۔ اور شہادت بھی اس حال میں ہوئی کہ گود میں قرآن تھا، اور خون کا قطرہ "فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللّٰهُ" پر گرا۔
*4. شہادت — مظلوم خلیفہ*
18 ذوالحجہ 35 ہجری۔ 82 سال کی عمر، 40 دن کا محاصرہ، پانی بند۔ روزے کی حالت۔ لیکن باغیوں کے خلاف تلوار نہ اٹھائی کہ "میں وہ پہلا شخص نہیں بننا چاہتا جو محمد ﷺ کی امت پر تلوار اٹھائے"۔
جمعہ کا دن، قرآن کی تلاوت، اور شہادت…
*آج کے دن ہم کیا سیکھیں؟*
1. *حیا*: عہدہ ملے تو اکڑ نہیں، عاجزی آئے۔
2. *سخاوت*: مال اللہ کی امانت ہے، ضرورت کے وقت روک کر نہ رکھو۔
3. *قرآن سے تعلق*: مصروفیت کے بہانے چھوڑو، اسے سینے سے لگاؤ۔
4. *برداشت*: ظلم کے جواب میں بھی امت کو جوڑنا، توڑنا نہیں۔
*دعا:*
اے اللہ! ہمیں حضرت عثمانؓ جیسی حیا، ان جیسا دل، اور قرآن سے ان جیسی محبت عطا فرما۔ ان کے صدقے ہماری مغفرت فرما۔ آمین
*ذوالنورین… نام ہی کافی ہے۔*
دو نور والے — کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی دو بیٹیاں آپ کے نکاح میں آئیں۔ اور آپ نے دونوں نوروں کا حق ادا کر دیا۔
چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن شیخ غلام رسول جامعہ بنوریہ عالمیہ
01/06/2026
جامع مسجد بلال کورنگی غوث پاک روڈ
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے علاقے میں *جامع مسجد بلال* کی تعمیر میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ دعوت اسلامی کے کچھ بھائیوں کی طرف سے اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔
سوال صرف اتنا ہے: *کیا اللہ کے گھر کی تعمیر بھی اب اجازت کی محتاج ہے؟*
_وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ_
"اس سے بڑا ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکے"
ہم سب کا کلمہ ایک، قرآن ایک، کعبہ ایک ہے۔ مسلکی اختلاف اپنی جگہ، لیکن مسجد تو سب کی ہے۔ کل قبر میں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ "بریلوی تھے یا دیوبندی؟" وہاں پوچھا جائے گا کہ "اللہ کے گھر سے روکا تھا یا آباد کیا تھا؟"
*ہماری اپیل:*
1. دعوت اسلامی کے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔
2. علاقے کے علماء اور معززین مل بیٹھ کر بات کریں۔
3. انتظامیہ سے درخواست ہے کہ اللہ کے گھر کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور کرے۔
ہم لڑنے نہیں، جوڑنے آئے ہیں۔ جامع مسجد بلال کسی فرقے کی نہیں، پورے علاقے کے مسلمانوں کی مسجد ہے۔ آئیں اسے سیاست کی نذر ہونے سے بچائیں
چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن شیخ غلام رسول جامعہ بنوریہ عالمیہ
21/05/2026
قربانی کا جانور ذبح کرنے کی دعا!
20/05/2026
اللہ پاک ہے پاک چیز ہی قبول کرتا ہے اس لئے اپنی حلال کمائی سے ، حلال جانور اللہ کی راہ میں قربان کریں