ZB collection

ZB collection

Share

Tired of bags that sacrifice practicality for looks?

Our collection blends timeless design with smart engineering to keep you organized and stylish—whether you’re commuting, traveling, or conquering your day.

25/05/2026

*اے اللہ!*
جو ہمارے مقدر میں نہیں لکھا، اُس کی کوشش اور تمنا میں ہمیں مبتلا نہ کرنا۔ اور جو ہماری تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے، اُسے ہمارے لیے آسان کر دینا۔
*آمین، یا ربّ العالمین!*🤲 ❤️

25/05/2026

قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا درس ہے۔ ❤️🕋
اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانی، عبادات اور نیک نیتوں کو قبول فرمائے۔ آمین 🤲

---

Hashtags

#قربانی















---

Facebook Tags / Mentions Ideas

آپ یہ ٹیگ بھی لگا سکتی ہیں:

Pages
Community
Quotes

24/05/2026

*قربانی دکھاوا نہیں، عبادت ہے*
خدارا اپنے قربانی کے جانوروں کی تصویریں اور ویڈیوز ہر جگہ، ہر وقت شیئر کرنے سے گریز کریں خاص طور پر اسٹیٹس، اسٹوریز اور پوسٹس پر
*یاد رکھیں!*
*قربانی کا مقصد ریاکاری یا فخر نہیں، بلکہ تقویٰ، خلوص اور سنتِ ابراہیمیؑ کی پیروی ہے۔*

16/05/2026

🕋 *بِسۡـــمِ اللّٰہِ الرَّحۡمَـٰـــنِ الرَّحِـــیمِ* 🕋

🕋 *نمازِ نبوی کورس*

✨ *لیکچر نمبر: 06*

🏷️ *سُترے کے احکام و مسائل*

نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ:
جب نماز پڑھنے لگیں تو سُترے کا اہتمام ضرور کریں تا کہ حالتِ نماز میں کوئی آپکے آگے سے گزر کر گناہ کا مرتکب نہ ہو.
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر چالیس تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا۔ ابوالنضر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہا یا مہینہ یا سال۔ (مسندِ بزار میں چالیس سال کے الفاظ ہیں). (بخاری: 510، مسلم: 1132)

نمازی کے آگے سُترہ نہ ہو تو کتنے فاصلے سے گزرنا جائز ہے؟
ایک ضعیف حدیث (بوداؤد: 704) میں ہے کہ پتھر پھینکنے کے فاصلے کے بقدر جگہ چھوڑ کر نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے. بعض علماء نے کہا ہے کہ تین صف کے بقدر فاصلے سے نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ اتنے فاصلے سے گزرنا جائز ہے کہ جہاں عام طور پر نمازی کی نظر نہ پڑے لیکن اس حد بندی سے متعلق کوئی بھی صحیح اور واضح حدیث موجود نہیں ہے. رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے (بغیر سُترے کے) نمازی کے آگے سے گزرنے سے منع فرمایا ہے اور گزرنے والے کے لیے سخت وعید فرمائی ہے تو اتباعِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تقاضا یہی ہے کہ بغیر سُترے کے نمازی کے آگے سے کسی بھی صُورت میں نہ گُزرا جائے. واللّٰہ اعلم

شیطانی حملوں اور وسوسوں سے بچنے کے لیے شریعت نے نمازی کو اپنے سامنے سُترہ رکھنے کا حکم دیا ہے.
نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی آڑ میں نماز پڑھے تو چاہیئے کہ اس کے نزدیک رہے تاکہ شیطان اس کی نماز توڑ نہ سکے ۔ (ابوداؤد: 695)
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نماز پڑھے تو سُترے کے قریب کھڑا ہو کیونکہ شیطان (نماز میں خلل ڈالنے کے لیے) نمازی اور سُترے کے درمیان سے گزرتا ہے. (صحیح ابنِ حبان: 2375)

سُترہ لاٹھی، برچھی، دیوار، ستون اور درخت سمیت کسی بھی آڑ بننے والی چیز کو بنایا جا سکتا ہے.
رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو گی تو وہ اسے سُترہ مہیا کرے گی. (مسلم: 1137)

سُترہ لمبائی میں ہونا چاہیے چوڑائی میں نہیں.
امام ابنِ حبان رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ: "سُترہ لمبائی میں ہونا چاہیے نہ کہ چوڑائی میں". (ابنِ حبان، قبل الحدیث: 2377)

سُترہ رکھنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے.
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی سُترے کے بغیر نماز نہ پڑھو. (ابنِ خزیمہ: 775، ابنِ حبان: 2362)

نماز ہمیشہ سُترے کے پیچھے ادا کرنی چاہیے لیکن اگر کسی وجہ سے سُترے کا اہتمام نہ کیا جا سکے تو نماز ہو جائے گی.
سیدنا ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ میں اور بنو ہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر سوار ہو کر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے ہیں، ہم گدھے سے اُترے اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو گئے. ایک شخص نے پوچھا: "کیا آپ کے سامنے نیزہ تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں." (مسندِ ابی یعلی: 2417)

سُترے کے اندر سے گزرنے والے کو حالتِ نماز میں روکنا چاہیے.
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی ایسی چیز کو سامنے رکھ کر نماز پڑھے جو اسے لوگوں سے بچائے (یعنی کہ سُترہ). پھر بھی اگر کوئی سامنے سے (اُسکے اور سُترے کے درمیان سے) گزرے تو اسے روک دینا چاہیے۔ اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑائی کرے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (بخاری:509، مسلم: 1128)
سُترہ کے پیچھے سے کسی کے گزرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا. (مسلم: 1111)

سُترے کی مقدار:
رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز (بطورِ سُترہ) رکھ لے تو نماز پڑھتا رہے اور اس سے آگے سے گزرنے والے کی پروا نہ کرے ۔ (مسلم: 1111)
عطاء رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ: پالان کی پچھلی لکڑی ایک ہاتھ کی یا اس سے کچھ بڑی ہوتی ہے۔ (یعنی ایک ہاتھ کے برابر سُترہ کافی ہے). (ابوداؤد: 686)

بیٹھے یا لیٹے شخص کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے اور اسکی حرکت سے کوئی فرق نہیں پڑتا...!
سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا، میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے سو جایا کرتی تھی۔ میرے پاؤں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے (پھیلے ہوئے) ہوتے۔ جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو پاؤں کو ہلکے سے دبا دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی پھر جب قیام فرماتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اس زمانہ میں گھروں کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔ (معلوم ہوا کہ ایسا کرنا بھی جائز ہے)۔
(بخاری: 513، مسلم: 1145)

بعض جانوروں کو بھی سُترہ بنانا جائز یے.
نبی اکرم ﷺ (بوقتِ ضرورت) اپنی سواری کو سامنے کر کے (بٹھا لیتے اور) اس کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھ لیتے. (مسلم: 1117)

جن روایات (ابنِ ماجہ: 943، ابوداؤد: 689) میں آتا ہے کہ اگر سُترے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے تو سامنے خط کھینچ لیا جائے یہ دونوں روایات *ضعیف* ہیں لہٰذا نماز پڑھنے کے لئے نمازی اپنے آگے بطورِ سُترہ کوئی چیز ہی رکھے گا سُترہ کی جگہ خط کھینچنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے.

سترہ کتنے فاصلے پر ہونا چاہیے؟
سُترہ سجدہ والی جگہ کے بالکل قریب ہونا چاہیے.
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللّٰہ ﷺ کے سجدے کی جگہ اور دیوار کی درمیان بکری گزرنے کے برابر فاصلہ تھا۔ (بخاری: 496، مسلم: 1134)

کیا مسجد میں سُترے کی ضرورت ہے؟
مسجد میں بھی سُترے کا اہتمام ضرور کرنا چاہیے کیونکہ سُترے کا تعلق نماز سے ہے وہ چاہے صحرا میں ہو یا مسجد میں.
سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ عنہ ہمیشہ مسجد میں ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھتے تھے. ان سے کہا گیا کہ اے ابومسلم! آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاص طور سے اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری: 502، مسلم: 1136)
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب عید کے دن (مدینہ سے) باہر تشریف لے جاتے تو چھوٹے نیزہ (برچھا) کو گاڑنے کا حکم دیتے وہ جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے آگے گاڑ دیا جاتا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے۔ یہی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سفر میں بھی کیا کرتے تھے۔ (مسلمانوں کے) خلفاء نے اسی وجہ سے برچھا ساتھ رکھنے کی عادت بنا لی ہے۔ (بخاری: 494، مسلم: 1115)

بعض لوگ سُترے کو بالکل اہمیت نہیں دیتے کوشش کریں کہ گھر یا کمرے میں یا مسجد میں جب نماز پڑھیں تو کسی کونے میں یا آگے دیوار کے قریب نماز پڑھیں کیونکہ اس صورت میں دیوار سُترہ بن جائے گی. اگر کسی وجہ سے کہیں پیچھے نماز ادا کرنی ہو تو سُترے کا اہتمام ضرور کریں.

حالتِ نماز میں امام کا سُترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے.
امام بخاری رحمہ اللّٰہ نے ایک باب قائم کیا ہے. "امام کا سُترہ مقتدیوں کا سُترہ یے".(بخاری: 493 قبل الحدیث). اس میں وہ چند احادیث لے کر آئے ہیں.
اگر امام کے سامنے سُترہ ہے تو امام اور مقتدیوں کے سامنے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہے مقتدیوں کے آگے سُترہ نہ ہو.
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بطحاء میں نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے عنزہ (ڈنڈا جس کے نیچے پھل لگا ہوا ہو) گاڑ دیا گیا تھا۔ (چونکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسافر تھے اس( لیے) ظہر کی دو رکعت اور عصر کی دو رکعت ادا کیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ (بخاری: 495، مسلم: 1120)

اگر امام کے سامنے سُترہ ہے تو بعض صف کے آگے سے گزرنا جائز ہے.
سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ اس زمانہ میں بالغ ہونے والا تھا۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ لیکن دیوار آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے نہ تھی۔ میں صف کے بعض حصے سے گزر کر سواری سے اترا اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا۔ پس کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔ (بخاری: 493، مسلم: 1124)

قاری عبدالحمید فاروقی

10/10/2025

بے شک، نماز ہی بہترین ساتھی ہے، دنیا سے قبر تک، قبر سے حشر تک، اور حشر سے جنت تک۔ ❤️

08/09/2025
10/08/2025

*اے اللہ!*
جو شخص یہ پوسٹ پڑھ رہا ہے، اس کی زندگی میں اپنی رحمت سے ایسی خوشیاں بھر دے جو کبھی ختم نہ ہوں، اس کے ہر خواب کو حقیقت میں بدل دے، ہر مایوسی کو امید سے بدل دے، اور اسے ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھ۔
*آمین، یا ربّ العالمین!*🤲 ❤️

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Karachi
75530

Opening Hours

Monday 22:00 - 08:00
Tuesday 22:00 - 08:00
Wednesday 22:00 - 08:00
Thursday 22:00 - 08:00
Friday 23:00 - 20:00