QUAID
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from QUAID, Karachi.
30/05/2026
The Dose That Changed Cancer Diagnosis Forever.
In oncology, some breakthroughs do not come from a surgical instrument or a chemotherapy drug.
Sometimes, they come from a tiny diagnostic dose.
18F-FDG, a radiopharmaceutical used in PET/CT imaging, is one of the most powerful examples of how nuclear pharmacy transformed cancer diagnosis.
Before FDG-PET/CT, cancer detection relied mainly on structural imaging such as X-rays, CT scans, MRI, ultrasound, mammography, endoscopy and tissue biopsy. These methods showed what a tumor looked like, where it was located, and how it affected surrounding anatomy.
But FDG changed the question.
Instead of only asking:
Can we see a mass?
Clinicians could now ask:
Can we see active disease?
FDG behaves like glucose in the body. Since many cancer cells consume glucose at a much higher rate than normal cells, FDG-PET/CT allows physicians to visualize metabolically active lesions that may be small, hidden or unclear on conventional imaging.
This helped oncology move from anatomy-based diagnosis to biology-based diagnosis.
FDG-PET/CT has become a major tool in cancer care by helping clinicians:
🔬 Detect metabolically active tumors
🔬 Identify hidden metastases
🔬 Stage disease more accurately
🔬 Monitor response to treatment
🔬 Distinguish active cancer from post-treatment scar tissue
🔬 Support more precise treatment planning
For me, nuclear pharmacy is fascinating because it shows that pharmaceuticals are not only used to treat disease.
Sometimes, they help us find it.
A carefully prepared radiopharmaceutical dose can reveal what the body is trying to hide.
That is the power of FDG.
That is the impact of nuclear pharmacy.
That is the future of precision oncology.
وہ خوراک جس نے سرطان کی تشخیص کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا
سرطان کے علاج اور تشخیص کی دنیا میں کچھ بڑی کامیابیاں جراحی کے آلات یا کیموتھراپی کی ادویات سے نہیں آئیں۔
کبھی کبھی یہ کامیابیاں ایک نہایت چھوٹی تشخیصی خوراک سے آتی ہیں۔
فلورو ڈی آکسی گلوکوز (FDG) ایک تابکار دوا ہے جو پوزیٹرون اخراجی مقطعی عکس بندی اور کمپیوٹرائزڈ مقطعی عکس بندی میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی ایک بہترین مثال ہے کہ جوہری دواسازی نے سرطان کی تشخیص کو کس طرح بدل دیا ہے۔
اس طریقۂ عکس بندی سے پہلے سرطان کی تشخیص زیادہ تر ساختی عکس بندی پر منحصر تھی، جیسے ایکس رے، کمپیوٹرائزڈ مقطعی عکس بندی، مقناطیسی گونج عکس بندی، صوتی لہروں کی عکس بندی، چھاتی کا خصوصی ایکس رے، اندرونی اعضاء کا معائنہ۔ یہ طریقے یہ بتاتے تھے کہ رسولی کیسی نظر آتی ہے، کہاں موجود ہے، اور اردگرد کی جسمانی ساخت کو کس طرح متاثر کر رہی ہے۔
لیکن فلورو ڈی آکسی گلوکوز نے سوال ہی بدل دیا۔
اب صرف یہ نہیں پوچھا جاتا:
کیا ہمیں کوئی رسولی نظر آ رہی ہے؟
بلکہ معالجین یہ پوچھتے ہیں:
کیا ہمیں فعال بیماری نظر آ رہی ہے؟
فلورو ڈی آکسی گلوکوز جسم میں گلوکوز کی طرح کام کرتا ہے۔ چونکہ سرطان کے بہت سے خلیات عام خلیات کے مقابلے میں گلوکوز زیادہ استعمال کرتے ہیں، اس لیے یہ عکس بندی معالجین کو ایسی فعال بیماری دکھانے میں مدد دیتی ہے جو چھوٹی، پوشیدہ، یا روایتی عکس بندی میں غیر واضح ہو سکتی ہے۔
اس نے سرطان کی تشخیص کو صرف جسمانی ساخت پر مبنی تشخیص سے حیاتیاتی عمل پر مبنی تشخیص کی طرف منتقل کیا۔
آج یہ طریقہ سرطان کی دیکھ بھال میں ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، کیونکہ یہ معالجین کی مدد کرتا ہے:
🔬 فعال سرطان زدہ رسولیوں کی شناخت میں
🔬 پوشیدہ پھیلاؤ معلوم کرنے میں
🔬 بیماری کے مرحلے کو زیادہ درست انداز میں جانچنے میں
🔬 علاج کے اثرات کی نگرانی کرنے میں
🔬 فعال سرطان اور علاج کے بعد بننے والے داغی بافتے میں فرق کرنے میں
🔬 زیادہ درست علاج کی منصوبہ بندی میں
میرے لیے جوہری دواسازی اس لیے نہایت دلچسپ ہے کہ یہ ہمیں دکھاتی ہے کہ ادویات صرف بیماری کے علاج کے لیے استعمال نہیں ہوتیں۔
کبھی کبھی ادویات بیماری کو تلاش کرنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
ایک احتیاط سے تیار کی گئی تابکار دوا کی چھوٹی سی خوراک وہ بات ظاہر کر سکتی ہے جسے جسم چھپانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
یہی فلورو ڈی آکسی گلوکوز کی طاقت ہے۔
یہی جوہری دواسازی کا اثر ہے۔
اور یہی درست اور انفرادی بنیاد پر سرطان کی تشخیص و علاج کا مستقبل ہے۔
30/05/2026
Antibiotics are life-saving medicines — but only when they are truly needed.
As a pharmacist, I feel it is important to raise awareness about the responsible use of antibiotics. Many common illnesses, especially viral infections like cold, flu, mild sore throat, or seasonal cough, do not require antibiotics. In such cases, supportive care, rest, fluids, steam inhalation, saline gargles, and proper nutrition can often help the body recover naturally.
The real danger of unnecessary antibiotic use is not always visible today — but it can become life-threatening tomorrow.
When antibiotics are used without need, bacteria can become resistant. This means that the same antibiotics may no longer work when we actually need them for serious infections such as pneumonia, sepsis, complicated urinary tract infections, wound infections, or post-surgical infections.
And then the question becomes very serious:
What will we do when a patient has a severe bacterial infection, but the usual antibiotics no longer work?
This is why antibiotic resistance is not just a future problem. It is a growing healthcare challenge that affects patients, families, doctors, pharmacists, and the entire community.
Unnecessary antibiotic use can also cause side effects, disturb healthy gut bacteria, increase the risk of severe diarrhea, cause allergic reactions, interact with other medicines, and add extra financial burden.
This does not mean antibiotics are bad. Antibiotics are essential, powerful, and life-saving when prescribed correctly. The problem is misuse, overuse, and self-medication.
Let’s do our part:
Consult a qualified healthcare professional when needed.
Do not self-medicate with antibiotics.
Do not pressure doctors or pharmacists for antibiotics.
Complete the prescribed course when antibiotics are truly required.
Avoid using leftover antibiotics from previous illnesses.
Let’s protect antibiotics for future generations.
اینٹی بایوٹکس زندگی بچانے والی ادویات ہیں — لیکن صرف اس وقت جب ان کی واقعی ضرورت ہو۔
ایک فارماسسٹ کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اینٹی بایوٹکس کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔ بہت سی عام بیماریاں، خاص طور پر وائرل انفیکشنز جیسے نزلہ، زکام، ہلکا گلا خراب ہونا یا موسمی کھانسی، اینٹی بایوٹکس سے ٹھیک نہیں ہوتیں۔ ایسے حالات میں آرام، پانی اور مشروبات کا مناسب استعمال، بھاپ، نمک والے پانی کے غرارے، اچھی غذا اور سادہ احتیاطی تدابیر اکثر جسم کو قدرتی طور پر صحت یاب ہونے میں مدد دیتی ہیں۔
غیر ضروری اینٹی بایوٹکس کے استعمال کا اصل نقصان آج فوراً نظر نہیں آتا — لیکن کل یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
جب اینٹی بایوٹکس بلا ضرورت استعمال کی جاتی ہیں تو بیکٹیریا ان کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہمیں واقعی کسی شدید انفیکشن میں اینٹی بایوٹکس کی ضرورت ہو، جیسے نمونیا، سیپسس، پیچیدہ پیشاب کا انفیکشن، زخم کا انفیکشن یا آپریشن کے بعد ہونے والا انفیکشن، تو وہی اینٹی بایوٹکس اثر کرنا چھوڑ سکتی ہیں۔
اور پھر سوال بہت سنجیدہ ہو جاتا ہے:
اگر کسی مریض کو شدید بیکٹیریل انفیکشن ہو اور عام اینٹی بایوٹکس کام نہ کریں، تو ہم کیا کریں گے؟
یہی وجہ ہے کہ اینٹی بایوٹک ریزسٹنس صرف مستقبل کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک بڑھتا ہوا صحتِ عامہ کا چیلنج ہے جو مریضوں، خاندانوں، ڈاکٹروں، فارماسسٹس اور پوری کمیونٹی کو متاثر کرتا ہے۔
غیر ضروری اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہو سکتے ہیں، آنتوں کے مفید بیکٹیریا متاثر ہو سکتے ہیں، شدید دست کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، الرجی ہو سکتی ہے، دوسری ادویات کے ساتھ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اور علاج کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اینٹی بایوٹکس بری ہیں۔ اینٹی بایوٹکس ضروری، طاقتور اور زندگی بچانے والی ادویات ہیں، جب انہیں درست طریقے سے تجویز کیا جائے۔ اصل مسئلہ ان کا غلط استعمال، ضرورت سے زیادہ استعمال اور خود سے دوا لینا ہے۔
آئیے اپنا کردار ادا کریں:
✅ ضرورت پڑنے پر مستند ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں
✅ خود سے اینٹی بایوٹکس استعمال نہ کریں
✅ ڈاکٹر یا فارماسسٹ پر اینٹی بایوٹکس دینے کے لیے دباؤ نہ ڈالیں
✅ جب اینٹی بایوٹکس واقعی ضروری ہوں تو مکمل کورس کریں
✅ پچھلی بیماری کی بچی ہوئی اینٹی بایوٹکس استعمال نہ کریں
آئیے آنے والی نسلوں کے لیے اینٹی بایوٹکس کو محفوظ بنائیں۔
27/05/2026
GLP-1 medicines can support weight loss — but they are not the whole strategy.
Medicines like Ozempic and Wegovy have changed the way we discuss obesity and weight management. They can help reduce appetite, improve satiety, and support weight loss in many patients.
But long-term success does not depend on the pen alone.
One important counselling point is this:
When treatment is stopped, weight regain can occur if patients have not built sustainable habits around the medication.
That is why every GLP-1 prescription should come with proper patient education and follow-up.
Patients should be guided to:
✅ Prioritise protein at every meal
✅ Include strength training at least twice weekly
✅ Discuss duration of treatment and follow-up early
✅ Monitor sleep, stress, cravings, and eating patterns
✅ Understand that medication is a tool, not a shortcut
The goal should not only be weight loss.
The goal should be better metabolic health, preserved muscle mass, improved habits, and long-term maintenance.
As healthcare professionals, our responsibility goes beyond access to treatment. We must ensure patients receive realistic counselling, safe monitoring, and practical lifestyle support.
The pen can begin the change — but sustainable habits protect the outcome.
جی ایل پی-۱ ادویات وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں — لیکن یہ مکمل حکمتِ عملی نہیں ہے
اوزمپک اور ویگووی جیسی ادویات نے موٹاپے اور وزن
کے انتظام کے بارے میں ہماری گفتگو کا انداز بدل دیا ہے۔ یہ بھوک کم کرنے، جلد پیٹ بھرنے کا احساس دینے، اور بہت سے مریضوں میں وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
لیکن طویل مدتی کامیابی صرف دوا یا انجیکشن پر منحصر نہیں ہوتی۔
ایک اہم مشاورتی نکتہ یہ ہے:
اگر مریض دوا کے ساتھ پائیدار عادات نہ اپنائیں تو علاج بند ہونے کے بعد وزن دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے ہر جی ایل پی-۱ نسخے کے ساتھ مناسب مریض آگاہی اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
مریضوں کو یہ رہنمائی دی جانی چاہیے:
✅ ہر کھانے میں پروٹین کو ترجیح دیں
✅ ہفتے میں کم از کم دو بار طاقت بڑھانے والی ورزش شامل کریں
✅ علاج کی مدت اور مسلسل نگرانی پر شروع میں ہی بات کریں
✅ نیند، ذہنی دباؤ، کھانے کی شدید خواہش، اور کھانے کی عادات کو مانیٹر کریں
✅ یہ سمجھیں کہ دوا ایک مددگار ذریعہ ہے، کوئی شارٹ کٹ نہیں
مقصد صرف وزن کم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔
اصل مقصد بہتر جسمانی میٹابولک صحت، پٹھوں کو محفوظ رکھنا، اچھی عادات اپنانا، اور طویل مدتی نتائج برقرار رکھنا ہے۔
بطور طبی ماہرین، ہماری ذمہ داری صرف علاج فراہم کرنے تک محدود نہیں۔ ہمیں یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ مریضوں کو حقیقت پسندانہ رہنمائی، محفوظ نگرانی، اور صحت مند طرزِ زندگی میں معاونت ملے۔
دوا تبدیلی کا آغاز کر سکتی ہے — لیکن پائیدار عادات ہی نتائج کو برقرار رکھتی ہیں۔
17/05/2026
Light up your moments with US along with a fresh aroma around your sorroundings ✨
Click here to claim your Sponsored Listing.