25/06/2026
Official Fan Page of Syed Sabihuddin Rehmani |
https://heylink.me/syedsabihuddinrehmani/ He is a also an authority on Naat. http://www.sabih-rehmani.com/
Syed Sabihuddin Rehmani is a renowned name in the field of Naat recitation, poetry and research. A melodious voice, deep understanding of poetry and the true love for the Prophet Muhammad (Sallallahu 'Alaiahi wa aalihi wa sallam), when combined, is what makes a successful Naat Khwan. Syed Sabihuddin Rehmani is one such blessed soul who is loved and admired by Naat listeners all over the world and
25/06/2026
Dil Ro Raha Hai Jis Pe Wo Zikar e Imam hai Manqabat| Syed Sabihuddin Rehmani
فلک نہ دیکھے یہ منظر حُسَیْنُ پیاسے ہیں🫀
آیا نہ ہوگا اِس طرح حسن و شباب ریت پر
گلشنِ فاطمہ کے تھے سارے گلاب ریت پر
21/06/2026
صبیح رحمانی __ نعت کا شجر الاشجار*
__________________________________________
ڈاکٹر ریاض مجید
نرسریوں میں ہزاروں تازہ تازہ پودے موسم بہ موسم لگائے جاتے ہیں اپنے اپنے وقت پر وہ وہاں سے دوسری جگہوں پر منتقل ہوتے رہتے ہیں کوئی ایک پودا بوجوہ وقت کے ساتھ ساتھ اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ وہ اس نباتاتی ذخیرہ میں ایک تن آور اور کہن سال درخت بن جاتا ہے پھر اس کا وہاں سے منتقل ہونا نا ممکن ہو جاتا ہے اور وہ برگد نما درخت اس ذخیرے کی شناخت اور پہچان بن جاتا ہے وہ اس علاقے میں رو بہ عمل تمام کارکردگی کا شاہد ہوتا ہے اور ہرطرح کی روئیدگی کا سب سے پرانا اور بڑا گواہ___اگر اس لفظ /ترکیب ’شجرالاشجار‘ کو اس کے تلازماتی بہاو? اور اس کی استعاراتی وسعتوں میں جا کر دیکھیں (یہاں میں مارٹن لنگز کے تصور سے بہت مختلف ہورہا ہے ترکیب انہی کی ہے مگی خدماتِ نعت کے لئے استعمال کرنے کے لئے کوشاں ہوں)تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ’شجر الاشجار‘وقت کے ساتھ ساتھ ایک اہم حوالے، اعتبار، شناخت اور منفرد مقام و مرتبہ کا حامل ہو گیا ہے۔یہاں ہم سابقہ تمہیدی گفتگو کی اصطلاحی پابندی سے نکل رہے ہیں اور اس کے استعاراتی اور تلازماتی مفہوم کے دائرے ہیں داخل ہو رہے ہیں۔
اردو نعت کا معاصر بیانیہ جس کا پھیلاؤ…گزشتہ صدی کے آخری ربع سے روزافزوں ہے سے زیادہ دیکھتا ہوں اب تک اپنے سفر کی قریباً ساڑھے چار دہائیاں مکمل کر چکا ہے نعت کی تخلیق، ترتیب، تحقیق و تنقید اور نشرواشاعت کا جتنا کام ان سالوں میں ہُوا اردو شعر و ادب کی تاریخ میں پہلے نہیں ہوا۔ اس پھیلے ہوئے کام کے جائزے یا اس سفر کی ادبی حیثیت، اہمیت اور صنفی خدوخال مرتب کرنے میں جن نعت کاروں (نعت نگاروں، نعت کے ناقدوں، محقّقوں، مرتّبوں، مدیروں، مبصّروں، اینکرپرسنوں اور دیگر کارکنوں)نے ان گزشتہ عشروں میں بہ حیثیت مجموعی اپنی سعیٔ جمیلہ کا شائستگی سے اظہار کیا ہے ان میں نمایاں نام سید صبیح رحمانی کا ہے انہیں یہ منصب ان کی دیگر خدمات نعت کے علاوہ ’نعت رنگ‘ کی رجحان ساز ادارت نے عطا کیا ہے۔ رجحان ساز اس حوالے سے کہ حال ہی میں ’دبستان نعت‘(بھارت) اور ’جہانِ حمد و نعت‘(مقبوضہ کشمیر، بھارت)جیسے نعت کے جریدے بھی ’نعت رنگ‘ ہی کے طرز و اسلوب کا عکس لئے ہوئے ہیں۔
یوں آج کی نعت کا شجر الاشجار ___صبیح رحمانی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاؔحیت، جذبہ، محنت، کارکردگی، وژن او ر خدمت کا منفرد ذوق بخشا ہے کہ آج اردو نعت ’موضوع محض‘ کے عمومی اظہار سے آگے بڑھ کر ایک باقاعدہ ادبی صنف اور پختہ ہنرکاری کے درجہ پر فائز ہو کر اب ایک مستقل تخلیقی و فنی روائت کے راستے پر گامزن ہو چکی ہے___ایک ایسی روائت جس کا آغاز اردوئے قدیم کے نعتیہ نمونوں سے شروع ہوتا ہوا محسن کاکوروی، امیر مینائی، احمد رضا خاں بریلوی، ظفر علی خاں، علامہ اقبال اور دوسرے بیسوؤں محسنین نعت کے ذریعے اپنی فنّی تشکیل و تکمیل کے لئے گزشتہ صدی کے آخری ربع تک پہنچا۔اب ایک مستقل اور جداگانہ صنفِ سخن کے طور پر اپنی جگہ اور شناخت بنا چکی ہے۔اس کی ایک ہلکی سی جھلک ان ہزاروں نعتیہ مجموعوں انتخابوں، گلدستوں اور ان ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعروں کے رپورٹوں میں دیکھی جا سکتی ہے جو گزشتہ دہائیوں میں سامنے آئے۔
صبیح رحمانی کی ادبی و شعری کارکردگی کا دوسرااظہار جو دراصل اُن کا پہلا اظہار ہے ان کی نعت گوئی ہے نعت خوانی اِس صلاحیت کا ذیلی اور ضمنی پہلو ہے انہوں نے اوّل اوّل نعت کو اپنی عقیدت نگاری کے لئے منتخب کیا اپنی نعتیں اپنے پُرتاثیر لحن میں پڑھیں تو نعتیہ حلقوں میں ان کا تعارف ایک ایسے جدید نعت گو کے طور پر ہوا جنہیں قدرت نے مؤثر طرز ادا سے بھی نوازا ہے___بعد میں انہیں ’’حالات و واقعات‘‘ نے ایک ایسے گراں قدر کام کی طرف راغب کر دیا جو اس سے پہلے عربی، فارسی، اردو اور دوسری زبانوں میں کسی کو آج تک نصیب نہیں ہوا وہ کام ان کی بہ حیثیت مدیرِ’نعت رنگ‘ کارکردگی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
حالات و واقعات سے مراد وہ ماحول ہے جو گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں نعت کو درپیش تھا گو اس وقت اردوئے قدیم کے چھوٹے چھوٹے نعتیہ نمونوں سے کئی مستقل نعتیہ دیوان بھی مرتب ہو چکے تھے اور محسن کاکوری، امیر مینائی اور احمد رضا بریلوی جیسے فنّی طور پر پختہ شاعروں کے ذریعے یہ صنف کامیابی سے اپنے تشکیلی دور سے گزر چکی تھی لیکن ادبی حلقوں کی طرف سے اس کی جداگانہ حیثیت کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا جا رہا تھا۔مجھے اکادمی ادبیات کی ایک کمیٹی کے اجلاس کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے یہ میٹنگ ایک انعامی مقابلے کے حوالے سے تھی محترمی حفیظ تائب کے نعتیہ مجموعے پر ادبی انعام کا مسئلہ تھا کچھ شرکاء کا خیال تھا کہ یہ نعت کی کتاب ہے اس کے لئے وزارت مذہبی امور کے جداگانہ انعامات ہوتے ہیں اسے ادبی کتابوں میں شامل نہ کیا جائے جب کہ ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب اور مَیں اس بات پر بضد تھے کہ نعت، شاعری کی ایک صنف ہے شاعری کے کچھ فنّی تقاضے ہیں اگر کوئی نعتیہ مجموعہ شعر وادب کے فنّی تقاضوں پر بہ کمال وخوبی پورا اُترتا ہے تو اسے ادبی انعام ملنا چاہیے___ مجھے ڈاکٹر جمیل جالبی کی یہ بات یاد آ رہی ہے کہ:
’’ آج اگر محسن کارکوری کی کتاب ہمارے سامنے ہوتی تو کیا اسے نعت کی کتاب سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا جبکہ کسی بھی ادبی حوالے سے دیکھیں محسن کاکوری کا کلام فنّی پختگی اور محاسن شعری کا اعلیٰ نمونہ ہے‘‘۔
یوں شرکائے اجلاس کو قائل کر کے متفقہ طور پر اس سال کے ادبی انعامات میں حفیظ تائب صاحب کے نعتیہ مجموعہ کو شامل کیا گیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اکادمی کے ادبی انعامات کو اس مجموعہ کے ذریعے شرف اور اعتبار بخشا گیا یوں ہم نے اس کتاب کو انعام بدر ہونے سے بلکہ اپنے آپ کو غیر ذمہ داری کے مرتکب ہونے سے بچایا۔اس سال کے بعد نعتیہ مجموعوں کا شمول بھی ادبی کتابوں میں رواج پذیر ہوا۔ورنہ اس سے قبل عقیدت نگاری (حمد، نعت، منقبت وغیرہ) کی کتابوں کو ادبی مقابلہ جات بلکہ سرکاری سطح پر ملنے والے اعزازات میں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اب خدا کا شکر ہے نعت خوانوں کے ساتھ نعت نگاروں کی ادبی اور تخلیقی کارکردگی کو بھی لائق اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ سال سرکاری سطح پر صبیح رحمانی کی ادبی خدمات پر ان کی پذیرائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
آج سے تین چار عشرے قبل ہمارے ادبی منظر نامے کی یہی صورت حال تھی یہ وہ حالات و واقعات ہیں جن میں صبیح رحمانی کے دل میں نعت رنگ کے اجراء کا خیال آیا وہ رفقاء خوش نصیب ہیں جو آغاز کا رہی میں اُن کے ساتھ صلاح و مشاورت میں شامل رہے اور ’نعت رنگ‘ کے بارے میں اِس اساسی نکتے پر متفق ہوئے کہ نعت کی صنف فنّی مدارج سے گزر کر ہی ’ادب یاب‘ قدر و منزلت حاصل کر سکتی ہے اللہ تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے اظہار کی بے شمار شکلیں ہیں ہر ارادت مند اپنی عادت، مزاج، طبیعت، ماحول اور میلان و رجحان کے مطابق اس محبت کا اظہار کر سکتا ہے، کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا اور اس کی اخلاص کی نسبت کے مطابق اللہ کریم اس کو اِس اظہار ِعقیدت کا اجر دے گا___نعت کا درجہ اگر ادب کی صنف کے حوالے سے مطلوب ہے تو وہ اظہار ادبی معیارت کی پاسداری کا بھی تقاضا کرتا ہے یعنی ایسا اظہار جس میں لفظ سے پیش کش تک کے ہر مرحلے پر صف ادب (شعریات) کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے ایسا اظہار جو ’اظہارِ محض‘ نہ ہو شعری خصوصیات کا حامل بھی ہو یعنی اظہار برائے اظہار کی بجائے نعتیہ مضامین و موضوعات کا اظہار شاعری کی فنی نزاکتوں، مہارتوں قرینوں اور دوسرے جملہ تقاضوں سے عبارت ہو اور یہ تقاضے طرز احساس سے طرز اظہار کی اُن تمام خصوصیات اور محاسن کے حصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے پورے کئے جارہے ہوں جو کسی بھی عہد___علاقے اور زبان کی اعلیٰ شاعری کے لازمے کی حیثیت رکھتے ہیں اور جو تحقیق و تنقید کے جملہ معیارات پر پورے اترتے ہوں۔
نعت کو مسلّمہ فنی لوازمات کی روشنی میں زِیر مطالعہ لانا۔’نعت رنگ‘کا فقیدالمثال کارنامہ ہے جزوی طور پر ایسا کام پہلے بھی ہو رہا تھا اور فن شاعری کے بین الاقوامی معیارات کی روشنی میں نعت پر تحقیق و تنقید کا کام کرنے والے اپنے اپنے طور پر ایسے مطالعے اور محاکمے کر بھی رہے تھے مگر کم کم رک رک کر،اپنے اپنے انداز میں، جیسے پگڈنڈیوں کے مسافر ہوتے ہیں نعت رنگ نے مطالعہ ومحاکمہ کی نعتیہ روایت کو ایک وسیع، منضبط، قابل اعتماد تناظر عطا کیا اور ان پگڈنڈیوں کو شاہراہ آشنا کیا ___اب غیر محسوس طور پر گزشتہ تین دہائیوں کی نعت رنگی روایت کے سبب نعتیہ مطالعات کو ایک مبسوط رنگ و آہنگ،تنقیدی نظام اور مطالعاتی روّیہ عطا کیا ہے آج کی نعت شعر و فن کے تقاضوں سے کس طرح عہدہ برآء ہو رہی ہے؟ شعریات کے عالمی قوانین و ضوابط کی روشنی میں نعتیہ مضامین وموضوعات کا اظہار کیادرجہ رکھتا ہے؟ہمارے ناقدین نعت ان سوالات اور اُمور و مسائل کی روشنی میں نعتیہ تخلیقات کا جائزہ لے رہے ہیں نعت رنگ کا اب تک کا سفر، نعت کے حالیہ بیانیے کے مختلف مرحلوں کا شاید ہے اور اس کے اب تک شائع ہونے والے شمارے اس بیانیہ کے حوالے سے ایک واضح اور ’جہت یاب‘انفرادیت کے گواہ ہیں۔
جہت کا لفظ اپنے تلازماتی مفاہیم میں کثیرالجہات اور بیسوؤں معروف انگریزی الفاظ اور اصطلاحات
Target, course, passage, road, pay, progression, movement, type, advance, track, channel, evolution, process, trend, sequence, orbit, growth, manner, merit, line procedure, system, form, method, rut, rule,duct, trajectory, policy, current, circuit, space, age, era, aim, direction, pattern, model, architype, standard, paradigm, methology
وغیرہ۔ اس کی بیسوؤں معنوی اشکال ہیں جو اپنے استعمالات ہی سے واضح ہوتی ہیں بقول شاعر:
نو بہ نو روحِ معانی لفظ کو شعروں نے دی
گھٹ کے زندانِ ُلغت میں لفظ بے جاں ہو گیا
سو نعت نگاری کے مقصد، اسلوب، طریق کار، حصول، منزل تک رسائی کے طور طریقے، اسالیب و انداز، طرزو روش، نمونے، امثال اور دوسرے کئی استعمالات اس لفظ(جہت) کے معنوی تناظرات میں جھلکتے ہیں ’نعت رنگ‘ کے مضامین نگاروں نے گزشتہ دہائیوں میں نعت کے فکری و فنّی امورومسائل کو ایک ادبی جہت عطا کرنے کی جو کوشش کی ہے اس سے یہ صنف ادبیات عالیہ کے فنّی معیارات سے آشنا ہوئی ہے جو ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے۔اب نعت نگاروں کا کام بلکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ ان معیارات کی روشنی میں اپنی تخلیقی کارکردگی کے خدوخال کو نکھاریں اور سنواریں اپنے تخلیق سفر کو اعلیٰ فکری و فنّی تقاضوں سے ہم آہنگ کریں اور رکھیں __مضامین کی ادائیگی میں ندرت، جدّت اور ادبیات عالیہ کے اظہاری قرینوں کوپیش نظر رکھیں ___نوع انسانی کے سب سے بڑے رسولؐ اور سب سے بڑے انسان کی بابت گفتگو کرتے ہوئے ممکن حد تک ادب و احترام، شائستگیٔ فن اور خوش سلیقگی فکر کاخیال نعت نگار کی اوّلین ذمہ داری ہے۔
صبیح رحمانی کا یہ بڑا کارنامہ ہے انہوں نے استقامت سے گزشتہ عشروں میں اس ’جہت یابی‘ کے لئے شبانہ روز محنت کی اس محنت کا ثمر نعت رنگ کے پہلے شمارے سے آخری شمارے کے فرق میں دیکھا جا سکتا ہے شمارہ بہ شمارہ مضامین کی فراہمی سے پیشکش تک کے مراحل میں خوشگوار تبدیلیاں سامنے آئی ہیں ۵۹۹۱ء سے اب تک قریباً تیس سالوں میں نعت تحقیق، تنقید، ترتیب اور تخلیق کے جس روز افزوں گراف کی طرف مائل ہے اس کے مختلف پہلو اور مدارج نعت رنگ کی سابقہ اشاعتوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
’نعت رنگ‘ کے مرتب اور اس سارے پروگرام کے میزبان (Host) کے طور پہ صبیح رحمانی جس انہماک، تن دہی سے اس (کارِ ادارت) سے وابستہ اور مصروف رہے اس کا فرق ان کی نعت گوئی یہ بھی پڑا۔ تخلیق نعت سے اُن کی دوری ایک بڑے کام اور مشن کے لئے تھی لہٰذا انہوں نے ایک بڑے مقصد کے حصول کے لئے یہ دوری بھی قبول کی اس کا انہیں بھی احساس ہے اور ہم لوگوں کو بھی ___تاہم ان کا دستیاب سرمایہ نعت بھی مقدار اور معیار دونوں حوالوں سے لائق مطالعہ اور قابل تحسین ہے۔
معاصر نعت میں صبیح رحمانی نے عمدہ کارکردگی سے اپنا نام بنایا انہوں نے اپنے نعتیہ کلام میں ادب و احترام کے جن تقاضوں کو ملحوظ رکھا ہے وہ لحاظ اور پاسداری ان کی نعت گوئی کا نمایاں پہلو ہے صبیح کے حوالے سے ان کی نعت گوئی کے اس وصف کے پہلے زیر جائزہ لانے کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ وہ ایک کامیاب نعت خواں بھی ہیں ___عام طور پر اگر نعت خواں، نعت نگار بھی ہو تو اس کا فن کبھی کبھار اعتدال و توازن کے درجے سے تھوڑا سا ہٹ جاتا ہے نعتیہ مجالس میں سامعین کی داد اور زیادہ حوصلہ افزائی کا اظہار جن شعروں پر ہوتا ہے وہ عوامی ذوق کے مطا بق ہوتے ہیں اور ان میں نعت کی صنف کاادب و احترام کبھی کبھار ملحوظ نہیں رہتا آپ کسی نعتیہ مجلس میں چلے جائیں اکثر نعت نگار سامعین کے جذبے و جوش کے مطابق نعتیں پڑھتے ہوئے پائیں گے بعض اوقات ان کا کلام معروف فلمی گانوں کی طرزوں میں اور عوامی لب ولہجہ جس میں نعت کے شرعی تقاضے مجروح ہوتے نظر آتے ہیں علا مہ اقبال کے الفاظ:
کھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات میں
محفل گداز! گرمیٔ محفل نہ کر قبول
کے برعکس ہمارے نعت خواں ’گرمیٔ محفل‘ قبول کرتے ہوئے عوامی داود ودہش کے سیل میں بہہ جاتے ہیں اور محفل گداز بننے کی بجائے سامعین کے جذبات کی رو میں شامل ہو جاتے ہیں۔
صبیح رحمانی کی نعت گوئی کا رنگ ایسے مجلسی انداز نعت سے مختلف ہے ان کی نعت میں ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے ان کی نعت گوئی شرعی تقاضوں کی پاسداری کے ساتھ فنّی تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھتی ہے انہوں نے نعت کا اعلیٰ ذوق رکھنے والے دلوں کی ترجمانی کی ہے مگر مجلسی اور عوامی لب ولہجہ استعمال نہیں کیا ان کی نعتیں دلپذیری کے ساتھ غوروفکر کا مواد بھی فراہم کرتی ہیں ان کی معروف نعت (جو اُن کی وجہۂ شہرت ٹھہر ی اور جس) کا مطلع ہے:
کوئی مثل مصطفیٰؐ کا کبھی تھا‘ نہ ہے‘ نہ ہو گا
کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا‘ نہ ہے‘ نہ ہو گا
کتنے سیدھے اندازمیں بلیغ نعتیہ فکر کا ترجمان ہے اس کی بحر کا دو مساوی حصوں میں تقسیم ہونا، مصرع اولیٰ اورثانی میں تینوں زمانوں ماضی، حال اور مستقبل کو جمع کرنا اس نعت میں سادہ قافیہ اور طویل ردیف کا استعمال اور ہر شعر میں نعتیہ مضامین و موضوعات کا ایک منفرد پہلو پیش کرنا ان کی تخلیقی مہارت کا ثبوت ہے انہوں نے کتنی سہولت سے اس نعت میں فکر اور طرز ادا کے کئی خصائص جمع کر دئیے ہیں یہ پوری نعت سادگی و پُرکاری کا خوبصورت نمونہ پیش کرتی ہے اس میں ردیف جس قرینے کی متقاضی تھی صبیح نے اس کا خوش سلیقگی سے استعمال کیا ہے۔
نعت کے مضامین جس احتیاط اور ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں صبیح رحمانی کی نعت میں ان کا لحاظ موجود ہے۔ شعریات میں جس پہلے ناقد (First Critic)کا ذکر کیا ہے صبیح رحمانی کا وہ ناقد نہ صرف مضبوط ہے بلکہ ادا شناس بھی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے نعتیہ اشعار میں صنف نعت کے تقاضو ں اور اعلیٰ فن کے مطلوب قرینوں کی پاسداری نظر آتی ہے اس کے داخلی ناقد کی تربیت میں لا شعوری طور پر ’نعت رنگ‘ کے مضامین و مقالہ جات کے مطالعہ کے اثرات کار فرما ہیں انہوں نے ’نعت رنگ‘ کی ادارت میں موصول ہونے والا مود اور مکاتیب جانے کتنی بار پڑھے ہوں گے گزشتہ تین دہائیوں کے مطالعے نے انہیں فن نعت کی جن باریکیوں سے روشناس کرایا ہے اور ان کا داخلی ناقد نعت کے امور و مسائل سے جس طور منسلک رہا ہے اس کے اثرات بلکہ ثمرات ان کی نعتوں میں نمایاں ہیں۔
میں مختلف مثالوں سے ان کی خدمات نعت کے حوالے سے لکھے گئے اس بیانیہ کوزیادہ طول نہیں دینا چاہتا تاہم یہ چند اشعار ضرور آپ کے گوش گزار کرتا چاہتا ہوں۔
ان کی نسبتوں سے دعائوں کا شجر سبز ہوا
ورنہ ٹلتا ہی نہ تھا بے ثمری کا موسم
______
ان کی نسبتوں سے دعائوں کا شجر سبز ہوا
ورنہ ٹلتا ہی نہ تھا بے ثمری کا موسم
______
آپ کا ذکر کبھی کم نہیں ہوگا آقا
آپ کے ذکر کو اللہ نے رفعت دی ہے
تلخ لہجوں کو جس شائستہ بنا دیتی ہے
آپ نے آکے وہ تعلیمِ محبّت دی ہے
______
شہر نبی کی کرلی زیارت الحمدللہ الحمدللہ
باقی نہیں دل میں اب کوئی حسرت الحمدللہ الحمدللہ
نظروں میں روضے کا نور آگیا ہے، ذرّے کے دامن میں طور آگیا ہے
دل سے ہوئی دُور ہر ایک ظلمت الحمدللہ الحمدللہ
______
یہ تو چلتا ہے پتا شہرِ مدینہ جاکر
کیسے انسان کوئی تا بہ فلک جاتا ہے
______
صبیح ارضِ وطن پہ ہو نور کی بارشیں
صدائے نعت سے ہوں ساری بستیاں روشن
______
درود پڑھتی ہوئی ساعتوں کے جھرمٹ میں
سلام پڑھتا ہوا میں بھی تھا مواجہ پر
______
تھا شبِ اسریٰ بھی ان کو تنہا اُمت کا خیال
میرے آقا آگئے عرشِ معلی چھوڑ کر
______
فرشتوں نے مری لوحِ عمل پر روشنی رکھ دی
ثنا خوانِ محمد لکھ دیا اوّل سے آخر تک
ان کی نعت گوئی کے بارے میں مَیں نے کچھ سال پہلے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
’’نعت گوئی کے لوازمات میں ذوق اور قرینہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ذوق اچھی شاعری کا جو، شعری خصائص اور فنّی خوبیوں کا ضامن ہوتا ہے اور قرینۂ اظہار کے باب میں کہ یہ ترسیل جذبات و احساسات کا وہ ذریعہ اور حوالہ ہے جو اچھی شاعری خصوصاً نعتیہ شاعری کی جان ہے۔ مبارک باد کے مستحق ہیں وہ شاعر جنہیں نعت رسالت مآبؐ کا قرینہ ودیعت ہوا ہے۔ صبیح رحمانی اردو کے جواں سال نعت نگاروں کی صف میں اس حوالے سے منفرد حیثیت اور شناخت رکھتے ہیں کہ وہ شاعری کے عمدہ ذوق کے ساتھ ساتھ نعت گوئی کے قرینے سے آشنا ہیں ان کی نعتیہ شاعری کی عمر ابھی زیادہ نہیں مگر مختصر سے عرصہ ہی میں ان کی نعت گوئی نے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے نعت کے باب میں وہ جدید لب و لہجہ کے ساتھ ساتھ سیرت رسولِ اکرم صلی ا? علیہ وسلم کا شعور رکھتے ہیں اور ذاتِ رسالت مآب کے منصب، پیغام، سیرت و کردار اور اوصاف و فضائل کی بات کرتے ہوئے احترام کے ان جملہ تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں جو نعت گوئی کے لئے ضروری ہے۔صبیح کی نعت گوئی اپنے اندر وسیع امکانات لئے ہوئے ہے زمینوں کے انتخاب سے لے کے بات کہنے کے انداز تک میں ان کے ہاں تازگی اور شائستگی جھلکتی ہے لحن کی نادرہ کاری کے ساتھ ساتھ اظہار و بیان کی خوش سلیقگی ان کی نعت گوئی کو نہ صرف اپنے ہمعصروں میں ممتاز گردانتی ہے۔ بلکہ کئی سینئر نعت گو شاعروں سے بھی نمایاں اور منفرد مقام کی حامل ٹھہراتی ہے۔‘‘
ان کی دیگر خدماتِ نعت کے ساتھ ساتھ ان کی نعت نگاری بھی جاری ہے اگر وہ’نعت رنگ‘کی ادارت میں مصروف نہ ہوتے تو شاید وہ اپنی نعت نگاری پر اورزیادہ توجہ دیتے ___مگر یہ کیسے ممکن تھا؟___ان کے ذمہ قدرت نے ایک تاریخ ساز کام لگایا تھا جسے وہ عمدگی سے کر رہے ہیں ___نعت نگار تو اور بھی بہت سے ہیں اور ہر آتے زمانے میں سینکڑوں آتے رہیں گے مگر صبیح رحمانی تو ایک ہے___ ’نعت رنگ‘ کا مدیر صبیح رحمانی ___اللہ تعالیٰ خدمات نعت کے حوالے سے اسے توفیقات مزید سے نوازے (آمین)
صبیح رحمانی ہمارے گلشنِ نعت کا شجرالاشجار ہے ___معاصر نعتیہ بیانیے کا زندہ شہید __ نعتیہ مضامین و مقالہ جات کی جمع آوری پر مامور ایک شائستہ مدیر___ جس نے گزشتہ تین دہائیوں میں نعت کی صنف کو ادبیاتِ عالیہ کے درجہ و مقام پر فائز کرنے کے لئے جو کام کیا وہ آ ج تک کسی ادارے نے نہیں کیا۔اگرچہ ادب میں کوئی دعویٰ بے کار کی بات لگتا ہے تاہم اگر کسی فرد نے ایسا کام کیا ہے تو میںاس کا نام جاننے کا آرزو مند ہوں۔
مَیں اپنے تاثرات اس رباعی پر ختم کرتا ہوں
ہے نعت کے باب میں دُرِ تابندہ
خدماتِ نعت اُس کی ہیں رخشندہ
لاریب‘ صبیح اس دبستان اندر
ہے آج کی نعت کا شہیدِ زندہ
_____________________________________________
* شجرالاشجار (Tree of trees)کی اصطلاح معروف مغربی مسلم سکالر مارٹن لنگز (Martin Lings - 1909-2005) جن کا اسلامی نام ابو ابکر سراج الدین ہے کی کتاب What is Sufismکے اردو ترجمہ تصوف کیا ہے؟ سے مستعار لی گئی ہے یہ ترجمہ آج سے تیس پنتیس سال قبل ہمارے محترم دوست چوہدری صفدر علی ایڈوکیٹ مرحوم نے کیا تھا (Tree of trees)کا ترجمہ شجرالاشجار کیا تھا۔(رم)
20/06/2026
جانِ بتول کے سوا کوئی نہیں کھلا سکا
قطرہٴ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر
19/06/2026
https://youtu.be/xb2BLFKWfCY?si=awUmvs8RPNYSnFdc
Bujhty Rahy Chirag magar Roshani Rahi | Manqabat | Syed Sabihuddin Rehmani Bujhty Rahy Chirag magar Roshani Rahi | Manqabat | Syed Sabihuddin ...
19/06/2026