آج کل ایک لفظ بہت اِن ہے:
" اورا"
کہا جاتا ہے جس کا اورا مضبوط ہو، اس کے کام سنور جاتے ہیں، بات میں وزن آ جاتا ہے، عزت خود چل کر آتی ہے، راستے بنتے چلے جاتے ہیں۔
غرض دنیا میں ہر طرح سے کامیابی قدم چومتی ہے
اور جس کا اورا کمزور ہو، وہ بندہ درست بھی ہو تو غلط سمجھا جاتا ہے، نیت صاف ہو پھر بھی شک اس کے حصے میں آتا ہے، ہر کام میں رکاوٹ، ہر موڑ پر دیوار۔
جتنا مرضی لاحق فائق ہو کامیاب نہیں ہو سکتا
اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کہ جادو نظر بد حسد ارادے کی کمزوری وغیرہ وغیرہ
یہ بات سننے میں بڑی پرکشش لگتی ہے، اس لیے لوگ اورا مضبوط کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کر رہے۔
کوئی عجیب و غریب ایکسرسائز بتا رہا ہے، کوئی سانسوں کی مشقیں، کوئی آنکھیں بند کر کے خیالی دائرے بنانے کو کہتا ہے، اور اب تو جدید حلیے میں “بابے” بھی آ گئے ہیں جو مہنگی سروسز بیچ رہے ہیں:
آؤ، ایک دفعہ اورا ٹھیک کروا لو، زندگی بدل جائے گی۔
شرعی حیثیت ایک الگ بحث ہے، مگر ذرا حقیقت پر غور کریں۔
آپ ایک دفعہ اورا “ٹھیک” کروا بھی لیں، تو کچھ دن بعد وہ پھر کسی نہ کسی وجہ سے “خراب” ہو جائے گا۔
بھئی جادو کرنے والے نظر بد لگانے والے تو اپ کے ساتھ ساتھ ہی ہیں نا وہ پھر کر دیں گے کچھ نہ کچھ
پھر دوبارہ جانا پڑے گا، پھر پیسے، پھر وعدے، پھر وقتی تسلی۔
بالکل وہی پرانا سائیکل جو نسلوں سے بابوں، تعویذوں اور عاملوں کے گرد گھومتا آ رہا ہے، بس نام بدل گئے ہیں، پیکج اپڈیٹ ہو گیا ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں دو نوروں کی خوشخبری دی تھی،
لیکن ہم نے یا تو انہیں بھلا دیا
یا اپنی سستی کو مصروفیت کا نام دے دیا۔
ہم کہتے ہیں وقت نہیں ہے۔
ہم کہتے ہیں روٹین بہت مصروف ہے۔
اورا انرجی بوسٹ کرنے والی ایکسرسائزز پر ہم گھنٹہ گھنٹہ لگا سکتے ہیں،
مگر قرآن پڑھنے کے لیے دس منٹ بھی مشکل لگتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قرآن پڑھو، یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا،
خاص طور پر سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران۔
یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے بادل یا سایہ،
یا پرندوں کے دو غول، اور اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔”
ایک اور حدیث میں فرمایا:
“سورۃ البقرہ پڑھا کرو، اس کا پڑھنا برکت ہے،
اس کو چھوڑ دینا حسرت ہے،
اور باطل قوتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔”
اب ذرا سادہ زبان میں سمجھیں۔
جسے آج لوگ “اورا” کہتے ہیں،
قرآن اسے نور، سکینت، وقار اور حفاظت کہتا ہے۔
سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران: دل کے اندر خوف کو کم کرتی ہیں
سوچ کو سیدھا کرتی ہیں
غلط اثرات، حسد، نظر اور منفی دباؤ کے خلاف ڈھال بنتی ہیں
انسان کے رویے میں ٹھہراؤ اور بات میں وزن پیدا کرتی ہیں
جب اندر نور آتا ہے تو باہر کی فریکوئنسی خود ٹھیک ہو جاتی ہے۔
لوگ بلاوجہ آپ سے الجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
فیصلے آسان ہوتے ہیں۔
اور راستے وہاں سے کھلتے ہیں جہاں آپ نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔
یہ معجزات کرتی ہیں زندگی میں بس تھامنے کی دیر ہے
یہ مسلسل نور ہے۔
وہ نور جو خراب نہیں ہوتا،
جو بار بار “ریچارج” کروانے کے لیے کسی کے پاس لے کر نہیں جانا پڑتا۔
اب سوال یہ ہے کہ
اگر روزانہ مکمل سورۃ البقرہ اور آل عمران پڑھنا مشکل لگے تو کیا کریں؟
حل بالکل سادہ ہے۔
آپ ان دونوں سورتوں کو 7 دن یا 10 دن میں تقسیم کر لیں۔
روزانہ ایک معقول حصہ، جتنا سکون سے پڑھ سکیں۔
نیت یہ ہو کہ میں نور جمع کر رہی ہوں،
اور اگر بالکل ہی مصروف دن ہو تو کم از کم: سورۃ البقرہ کی آیت الکرسی اور آخری دو آیات
اور سورۃ آل عمران کا ابتدائی حصہ یا آخری رکوع
یہ بھی مستقل مزاجی سے پڑھنا بہت بڑا فرق ڈال دیتا ہے۔
اب سب سے اہم بات ۔۔۔۔بچوں کی۔
اگر آپ کے بچے ناظرہ قرآن پڑھ سکتے ہیں،
تو بچپن سے ہی ان میں یہ عادت ڈالیں کہ
روزانہ سورۃ البقرہ یا آل عمران کے چند صفحات پڑھیں۔
ایک ربع، آدھا پارہ، جتنی ان کی عمر اور توجہ اجازت دے۔
یہ بچے: کم عمری میں ہی ذہنی مضبوطی سیکھتے ہیں
ان کا دل جلدی بہکنے والا نہیں ہوتا
ان کی آنکھ درست ہونا شروع ہو جاتی ہے
وہ حق اور باطل میں فرق پہچاننا سیکھتے ہیں
یہی اصل “اورا ڈیولپمنٹ” ہے۔
جو دنیا میں بھی کام آتی ہے
اور آخرت میں بھی سرخرو کرتی ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہے ہم وقتی چمک کے پیچھے دوڑنا چاہتے ہیں یا مستقل نور کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔قرآن کے نور کا کوئی نعم البدل نہیں۔نہ کوئی ایکسرسائز، نہ کوئی سروس،
نہ کوئی پرانا بابا نہ جدید بابا۔
بس قرآن،اور اس کے ساتھ جڑی مستقل مزاجی۔
Epic trent art
There is multiple task in which textile work, graphic, logo design work
16/07/2025
25/02/2025
Designer life
تئیس سالہ مصطفٰی عامر BBA کے لاسٹ سمسٹر کا اسٹوڈنٹ تھا باپ اس کا کسٹم آفیسر ہے اور ماں باپ کی طرف سے اسے ہر طرح کی آزادی ملی ہوئی تھی۔ اسی مصطفٰی کا ڈیفنس کے رہائشی تیس سالہ ارمغان نے انتہائی بےرحمی سے تشدد کے بعد قتل کر دیا۔ پہلے اسے گھر بلایا پھر لوہے کے روڈ مار مار کر اس کے جسم کی ساری ہڈیاں توڑ ڈالی پھر اس کے Male Ge***al کو کاٹ ڈالا اس پہ بھی بس نہیں کی اس ادھ موئے کو اس کی گاڑی کی ڈگی میں ڈالا اور بلوچستان کے علاقے حب لے جا کر ایک سنسان جگہ پہ پٹرول چھڑک کر گاڑی سمیت اسے آگ لگا دی جہاں آس پاس کوئی تھا بھی نہیں کہ گاڑی کی آگ بجھا دیتا بہت دیر تک جلنے کے بعد خود ہی آگ بجھ گئی۔
آج کل سوشل میڈیا پہ اس واقعے نے بہت دھوم مچا رکھی ہے قتل کی وجہ کیا تھی یہ سب انفارمیشن آپ کو سوشل میڈیا پہ سرچ کرنے سے مل جائے گی اس لئے میں اس کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گی کہ پوسٹ بہت طویل ہو جائے گی۔
اب آتے ہیں اس مدعا کی جانب جس کی وجہ سے مجھے جوان اولاد کے والدین کی اس طرف توجہ دلانے اور ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے اس پہ قلم کشائی کرنی پڑی۔
مصطفیٰ عامر کی جلی ہوئی راکھ کی صورت بغیر سر، بازوؤں اور ٹانگوں کی 39 دن بعد گھر والوں کو لاش ملی۔ مقامی لوگوں کی طرف سے ایدھی والوں نے اطلاع ملنے پہ جلی ہوئی گاڑی برآمد کی اور چار دن بعد لاوراث سمجھ کر لاش دفنا دی تھی،
پھر جب قاتل پکڑے گئے تو قبر کشائی کر کے جلی ہوئی لاش میں سے سیمپل لے کر ڈی این اے کیا گیا تو ڈی این اے ٹیسٹ ماں سے میچ کر گیا۔
اب مصطفیٰ کی ماں وجیہہ صاحبہ اپنے بیٹے کا بہیمانہ طریقے سے قتل کا انصاف لینے کے لئے بہت سرگرم ہیں جو کہ ان کا حق بھی ہے کہ کوئی بھی انسان چاہے وہ جتنا بھی برا ہو کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہے کہ تشدد کر کے بےرحمی سے اس کی جان ہی لے لے۔
مرنے والے کے عیوب نہیں گنوانے چاہیے لیکن معذرت کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے مجھے دل پہ پتھر رکھ کے اس بارے میں لکھنا پڑ رہا ہے کہ شاید جوان بچوں کے ماں باپ کی توجہ میں اس جانب دلا سکوں جو اپنی جوان اولاد کی طرف سے غفلت برتتے ہیں تاکہ کوئی دوسرا مصطفیٰ اس بےرحمی کی موت مرنے سے بچ جائے۔
مصطفیٰ کے پاس مارک ایکس کار تھی سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک کسٹم آفیسر کے بیٹے نے اتنی مہنگی کار کیسے لی ؟ اور مصطفیٰ NCP Cars اپنے استعمال میں رکھتا تھا یعنی جن کے نمبر پلیٹس ہی نہیں ہوتے تھے۔ مصطفیٰ کی ماں خود مان رہی میرے بیٹا چار سال سے ایک لڑکی مارتھا سے ریلیشن شپ میں تھا یعنی ان کے علم میں تھا کہ انیس سال کی عمر سے ان کا بیٹا ایک حرام تعلق میں تھا اور ساتھ یہ کہا کہ میرے بیٹے کی ہر عمر کے لوگوں سے دوستی تھی عمر کی کوئی قید نہیں تھی۔ اور یہی سب سے بڑی غلطی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو ہم عمر کے لوگوں سے دوستیاں کرنے کے بجائے انہیں اپنی عمر سے بڑی عمر کے لوگوں سے دوستیاں کرنے دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے واقعات سامنے آتے ہیں کیونکہ ایک بچہ نہیں جانتا اس سے دس بارہ سال بڑی عمر والے دوست کے ذہن میں اس کے لئے کیا گند چل رہا ہے یا وہ کس لئے اپنے سے چھوٹی عمر کے لڑکے دوستی کے لئے ڈھونڈھتے ہیں ؟
تو حقیقت یہ ہے کہ مصطفٰی اتنی چھوٹی عمر سے ہی ناصرف ڈرگ ایڈکٹ تھا بلکہ آئس کی اسمگلنگ بھی کرتا تھا اور کتنی ہی معصوم جانوں کی زندگی اس نے نشے میں لگا کر تباہ کی ہوگی۔ ابھی کچھ ٹائم پہلے ہی وہ اینٹی نارکوٹکس فورس کی کسٹڈی سے سزا بھگت کر باہر آیا تھا۔ اور ارمغان اس سے آئس خریدتا تھا ان کی لڑکیوں کے ساتھ مشترکہ پارٹیز چلتیں تھیں اور یہی وجوہات مصطفیٰ کے بہیمانہ قتل کی وجہ بھی بنی۔
اس کے باوجود مصطفیٰ کے ساتھ جو ہوا بہت ظلم ہوا ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن میرا صرف اتنا کنسرن ہے کہ مصطفٰی کے ماں باپ اس وقت کہاں تھے اتنا پیسہ اس کے پاس آ رہا تھا اس سارے ٹائم پہ اپنے بچے پہ والدین نے نظر کیوں نہ رکھی ؟
اب پریس کانفرنس کرنے سے بھی کیا حاصل ؟
ارمغان اور اس کا بچپن کا دوست شیراز جو اس ساری کاروائی میں ملوث بتائے جا رہے اگر انہیں سزا ہو بھی جاتی ہے اور انہیں انصاف مل بھی جاتا ہے تو کیا انہیں اپنا بیٹا واپس مل جائے گا یا انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت اور اس کے معاملے میں غفلت برتی اس بابت ان سے آخرت میں باز پرس نہیں کی جائے گی ؟
اولاد والدین کے پاس اللہ کی طرف سے سخت آزمائش اور ایک امتحان ہے کہ وہ اس امتحان میں اپنی پرفارمنس کیسی دکھاتے ہیں ان سب پہ کڑی باز پرس کی جائے گی۔ وہ اولاد دے کر بھی آزماتا ہے اور نہ دیکھ کر بھی آزماتا ہے اور دے کر واپس لے کر بھی آزماتا ہے اور بےشک کامیاب وہی ہوئے جو اس آزمائش اور امتحان میں پورا اترتے ہیں۔
دوسری طرف تیس سالہ ارمغان جس نے ڈیفنس کے پوش علاقے میں ایک بڑا بنگلہ لے رکھا تھا جس کے ایک فلور پہ آفس بنا کے غیر قانونی سوفٹ ویئر ہاؤس اور کال سینٹر چلاتا تھا۔ گرفتاری کے وقت وہاں سے ساٹھ پینسٹھ سے زائد تو لیپ ٹاپ ملے، چار گھنٹے پولیس سے مقابلہ کر کے ارمغان نے فائرنگ بھی کی اور اس دوران سارا ڈیٹا اس نے ڈیلیٹ کر دیا جہاں پہ وہ انٹرنیشنل لیول پہ لوگوں کے اکاؤنٹس وغیرہ ہیک کرتا تھا۔ جن فیمیلز کو اپنے آفس میں ساتھ رکھا ہوا ان سے ہراسمنٹ کر کے غلط کام بھی کرواتا رہا ہے اور کچھ بعید نہیں ان کی برہنہ وڈیوز ڈارک ویب پہ بھی ڈالیں گئیں ہوں۔ دوسرے فلور پہ ڈسکو بنا رکھا تھا جہاں شراب، آئس اور ہر قسم کے نشے میں ناچ گانا چلتا تھا اور تیسرے فلور پہ اس نے اپنی رہائش رکھی ہوئی تھی اور وہیں مصطفیٰ کو بلا کر اس پہ تشدد کیا گیا تھا۔
اس سارے واقعے کے بعد اب ارمغان کا باپ کامران قریشی تامل فلموں کے کسی ولن کی طرح چنگھاڑتا ہوا کبھی عدالت، جیل تو کبھی پولیس اسٹیشن کے باہر اور کبھی کسی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتا ہوا نظر آ رہا ہے جہاں اپنی US نیشنلٹی، پیسے اور طاقت کا رعب جھاڑنے کے سوا اس کے پاس کچھ اور بات کرنے کو نہیں۔ بیٹا فراڈیا، بدمعاش، زانی، نشئی اور قاتل اور باپ کی اکڑ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ذرا ندامت کا کوئی ایک لفظ جو اس شخص کے منہ سے ادا ہوا ہو یا پھر ذرا بھی ملامت کوئی اس کے چہرے پہ دِکھی ہو۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہماری عدالتوں میں انصاف بکتا ہے اور اسے یقین ہے کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی پیسہ اور طاقت جیت جائے گی۔
اس واقعے میں ہم سب والدین کے لئے لمحۂِ فکریہ ہے کہ اولاد کو پیدا کر کے انہیں دو وقت کی روٹی کھلا دینا، یا مہنگے تعلیمی اداروں میں انہیں تعلیم دلوا دینا یا پھر ان کی تمام جائز ناجائز ضروریات پوری کر دینا صرف یہیں تک ہماری ذمےداری نہیں ہے۔ تعلیم کے ساتھ اولاد کی تربیت کرنا بھی بےحد ضروری ہے جوان اولاد باہر کس سے ملتی ہے، کس قسم کے دوست بنا رکھے، اگر ان کے پاس ماں باپ کے دیئے ہوئے کے علاوہ بھی پیسہ ہے تو وہ پیسہ کہاں سے آ رہا ؟
ان سب پہ والدین کی کڑی نظر ہونا بھی بےحد ضروری ہے ورنہ پھر مصطفیٰ اور ارمغان کا یہ واقعہ تو سب کے سامنے ہی ہے کہ بری صحبت کا انجام بھی برا ہی ہوتا ان کی نہ دوستی بھلی نہ دشمنی، بلکہ بری صحبت کی مثال کوئلے جیسی ہے جو جلتا ہے تو ہاتھ جلا دیتا اور بجھا ہوا ہاتھ کالے کر دیتا۔
اللہ ہماری اولادوں کو اس پر فتن دور میں ہر بری بلا اور ہر شر سے محفوظ رکھے، انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور کلیجے کا سکون بنا کر رکھے، آخرت میں ان کی بابت ہم سے کڑا حساب نہ لیا جائے اور اولاد کی ہر طرح کی آزمائش سے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین
05/08/2024
" شام کا کینوس "
فطرت کی کارگری اور ہنر کسقدر مکمل اور
پھر پور ہے۔انسان رنگوں کو یکجا کر کے قرطاس پہ مختلف رنگوں کے انتخاب سے کوئی من پسند عکس مکمل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے جبکہ قدرت شام کے کینوس پہ ڈوبتے سورج کی سنہری اور زرد شعاعوں سے پھوٹتی ہوئی اداسی کا ایک رنگ آسمان پہ انڈیل لیتی تو فوری بادل وہ رنگ اچک لیتے ہیں اور کہیں دھانی کہیں اودھے اور کہیں نیلے اور گلابی رنگوں سے خود کو
بھگو کر دھنک سے نچڑنے لگتے ہیں ۔شام ایسا منظر کشید کرتی ہے کہ دبے پاؤں آنے والی رات کی سیاہی بھی رک جاتی ہے کہ یہ رنگوں کی بہار اس کی آمیزش سے ایک سیاہی میں تبدیل ہونے میں کچھ تو تاخیر ہو۔
ادھر انسان رنگوں کی بازی کو سجانے کے لیے ذہن کے پردے پہ احساس اور فکر کی لکیریں کھینچتا ہے اور یہاں فطرت جیسے کسی جادوئی طاقت سے رنگوں کو ترتیب دے کر اپنا ہنر مکمل کر لیتی ہے۔
ہے نا؟
یعقوب .......
05/07/2024
For my inner soul .....
30/04/2024
عزمِ مُسلسل.
پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی۔
اس کا نام مانیا سکلوڈو وسکا تھا۔
وہ ٹیویشن پڑھا کے گزر بسر کرتی تھی۔
19 برس کی عمر میں وہ ایک امیر خاندان کی دس سال کی بچی کو پڑھاتی تھی۔
بچی کا بڑا بھائی اس میں دلچسپی لینے لگا۔ وہ بھی اس کی طرف مائل ہوگئی، چنانچہ دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
جب لڑکے کی ماں کو اس معاملے کا پتہ چلا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اس نے مانیا کو کان سے پکڑا اور پورچ میں لا کھڑا کیا۔ اس نے آواز دے کے سارے نوکر جمع کئے اور چلا کر کہا، دیکھو!
یہ لڑکی جس کے پاس پہننے کیلئے صرف ایک فراک ہے۔ جس کے جوتوں کے تلووں میں سوراخ ہیں۔ اور جسے 24 گھنٹے میں صرف ایک بار اچھا کھانا نصیب ہوتا ہے، اور وہ بھی ہمارے گھر سے۔
یہ لڑکی میرے بیٹے کی بیوی بننا چاہتی ہے۔
یہ میری بہو کہلانے کی خواہش پال رہی ہے۔ تمام نوکروں نے قہقہہ لگایا اور خاتون دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی۔ مانیا کو یوں محسوس ہوا، جیسے کسی نے اس کے اوپر تیزاب کی بالٹی الٹ دی ہو۔ وہ توہین کے شدید احساس میں گرفتار ہوگئی۔ اور اس نے اسی پورچ میں کھڑے کھڑے فیصلہ کیا، وہ زندگی میں اتنی عزت، اتنی شہرت کمائے گی، کہ پورا پولینڈ اس کے نام سے پہچانا جائے گا۔
یہ سن 1891ء تھا۔ وہ پولینڈ سے پیرس آئی۔ اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا، اور فزکس پڑھنا شروع کردی۔
وہ دن میں 20 گھنٹے پڑھتی تھی۔ اس کے پاس پیسہ دھیلا تھا نہیں، جو کچھ جمع پونجی تھی، وہ اسی میں گزر بسر کرتی تھی۔ وہ روز صرف ایک شلنگ خرچ کرتی تھی ( یعنی چند پیسے ) اس کے کمرے میں بجلی، گیس اور کوئلوں کی انگیٹھی تک نہیں تھی۔ وہ برفیلے موسموں کی راتیں کپکپا کر گزارتی تھی۔ جب سردی برداشت سے باہر ہو جاتی تھی، تو وہ اپنے سارے کپڑے نکالتی تھی۔ آدھے بستر پر بچھاتی تھی، اور آدھے اپنے اوپر اوڑھ کے لیٹ جاتی تھی۔ پھر بھی گزارہ نہ ہوتا، تو وہ اپنی ساری کتابیں حتیٰ کہ اپنی کرسی تک اپنے اوپر گرا لیتی تھی۔
پورے پانچ برس اس نے ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑوں اور مکھن کے سوا کچھ نہ کھایا۔
نقاہت کا یہ عالم ہوتا تھا وہ بستر پر بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتی تھی، لیکن جب ہوش آتا تھا، تو وہ اپنی بے ہوشی کو نیند قرار دے کر خود کو تسلی دے لیتی تھی۔
وہ ایک روز کلاس میں بے ہوش ہوگئی، ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا، آپ کو دواء کی بجائے دودھ کے ایک گلاس
۔ کی ضرورت ہے۔
اس نے یونیورسٹی ہی میں پائری نام کے ایک سائنس دان سے شادی کر لی تھی۔
وہ سائنس دان بھی اسی کی طرح مفلوک الحال تھا۔
شادی کے وقت دونوں کا کل اثاثہ دو سائیکل تھے۔ وہ غربت کے اسی عالم کے دوران پی ایچ ڈی تک پہنچ گئی۔
مانیا نے پی ایچ ڈی کیلئے بڑا دلچسپ موضوع چنا تھا۔
اس نے فیصلہ کیا وہ دنیا کو بتائے گی یورینیم سے روشنی کیوں نکلتی ہے۔ یہ ایک مشکل بلکہ ناممکن کام تھا۔ لیکن وہ اس پر جت گئی۔
تجربات کے دوران اس نے ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا، جو یورینیم کے مقابلے میں 20 لاکھ گنا زیادہ روشنی پیدا کرتا ہے۔ اور اس کی شعاعیں لکڑی، پتھر، تانبے اور لوہے غرض دنیا کی ہر چیز سے گزر جاتی ہیں، اس نے اس کا نام ریڈیم رکھا۔
یہ سائنس کی دنیا میں ایک بہت بڑا دھماکہ تھا۔
لوگوں نے ریڈیم کا ثبوت مانگا، مانیا اور پائری نے ایک خستہ حال احاطہ لیا، جس کی چھت سلامت تھی اور نہ ہی فرش۔
اور وہ چار برس تک اس احاطے میں لوہا پگھلاتے رہے۔
انہوں نے تن و تنہا 8 ٹن لوہا پگھلایا۔ اور اس میں سے مٹر کے دانے کے برابر ریڈیم حاصل کی۔
یہ چار سال ان لوگوں نے گرمیاں ہوں یا سردیاں اپنے اپنے جسموں پر جھیلیں۔
بھٹی کے زہریلے دھوئیں نے مانیا کے پھیپھڑوں میں سوراخ کر دیئے۔ لیکن وہ کام میں جتی رہی، اور اس نے ہار نہ مانی۔
یہاں تک کہ پوری سائنس اس کے قدموں میں جھک گئی۔
یہ ریڈیم کینسر کے لاکھوں کروڑوں مریضوں کیلئے زندگی کا پیغام لے کر آئی۔
ہم آج جسے شعاعوں کا علاج کہتے ہیں، یہ مانیا ہی کی ایجاد تھی۔
اگر وہ لڑکی چار سال تک لوہا نہ پگھلاتی، تو آج کیسنر کے تمام مریض مر جاتے۔
یہ لڑکی دنیا کی واحد سائنس دان تھی جسے زندگی میں دوبار نوبل پرائز ملا۔
جس کی زندگی پر 30 فلمیں اور سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں۔
اور جس کی وجہ سے آج سائنس کے طالب علم پولینڈ کا نام آنے پہ سر سے ٹوپی اتار اس ملک کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
جب دنیا نے مادام کیوری کو اس ایجاد کے بدلے اربوں ڈالر کی پیش کش کی، تو اس نے پتہ ہے کیا کہا؟
اس نے کہا۔ میں یہ دریافت صرف اس کمپنی کو دوں گی، جو پولینڈ کی ایک بوڑھی عورت کا مفت علاج کرے گی۔
جی ہاں! وہ امیر پولش عورت جس نے کبھی کیوری کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا تھا۔ وہ عورت کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکی تھی اور وہ اس وقت بستر مرگ پر پڑی تھی۔
17/04/2024
سیاہ گلاب کے متعلق چھوٹی سی میری ریسرچ ڈوکومینٹری۔۔۔
🖤🖤🖤
میں سیاہ گلاب کی چاہت ترک کر دوں گی
مجھ کو اس سا حسین پھول تھما دے کوئی ۔۔
History :
سیاہ گلاب کی ارتقاء کا مرکز وسطی ایشیاء اور جنوبی یورپ کو مانا جاتا ہے ۔ قدیم یونانی اور روم کی تاریخوں میں بھی اس کا ذکر پایا جاتا ہے جہاں اسے طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔۔
Black rose presence:
موجودہ دور میں قدرتی سیاہ گلاب ترکیہ کے ایک گاؤں ہلفیٹی(halfeti) میں اگایا جاتا ہے ۔۔۔۔
سیاہ گلاب کے مختلف ناموں میں black magic, black black velvet،beauty, black baccara , barkarole شامل ہیں
Taxonomy :
سیاہ گلاب کا
scientific name : rosa halfeti.
Botanical name:Aeonium arboreum
ہے جبکہ یہ گلابوں کی فیملی rosacea سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔۔
Climatic and soil conditions :
سیاہ گلاب عموما گرم علاقوں میں اگایا جاتا ہے جہاں کا درجہ حرارت 20سے 30 سینٹی گریڈ ہو ۔
مٹی کا pH 6-7
اور loam soil جس میں معدنیات کی مقدار اور نمی اچھی خاصی موجود ہو ۔
سیاہ گلاب عمومی طور پر مارچ-اپریل اور اکتوبر - نومبر کے ماہ میں کھلتے ہیں ۔۔
سیاہ گلاب کا رنگ سیاہ anthocyanins pigments کی زیادتی کی بدولت ہوتا ہے۔ یہ pigment سرخ گلاب میں کم مقدار میں پایا جاتا ہے اور اس کی زیادتی گلاب میں مختلف رنگوں کا باعث بنتی ہے جن میں جامنی purple ، مرون maroon، گہرا سرخ dark red اور سیاہ black شامل ہیں ۔
سیاہ گلاب کو مختلف dyes کی مدد سے رنگ کر کے بھی بنایا جاتا ہے جن میں spray painting اور water dye ہیں۔۔
Symbolism :
سیاہ گلاب پر اسراریت ، طاقت ، love till death ، لاحاصل محبت ، مایوسی میں امید کی کرن ،ارتقاء،بقا کی علامت سمجھے جاتے ہیں ۔
قدیم کہانیوں میں ان کا ذکر اکثر جادو اور جنات کی علامات کےساتھ بھی آیا ہے۔۔۔
مختلف فکشن کی کتابوں میں سیاہ گلاب کا ذکر جا بجا کیا گیا ہے زیادہ تر پراسرار کہانیوں ہی میں ان کا ذکر کیا گیا ہے مگر کئی داستانیں اب بھخ سیاہ گلاب کی پراسراریت لیے دفن ہیں۔۔۔
🖤🖤🖤
مگر جو بھی سیاہ گلاب گلابوں کی دنیا کا سب سے خوبصورت اور قیمتی اثاثہ ہیں ۔۔۔۔
A post from a girl deeply engraved in love of black Rose's.. .
Click here to claim your Sponsored Listing.