Sight Group Of Institutions
A place of human dignity
It is not an educational institution but an Islamic training center.
Summer Camp indoor Activities
The Sight School
A project of SGI
خلافتِ فاروقی کا تزویراتی تجزیہ ؛ادارتی انقلاب، ساسانی زوال اور مقتدرہِ مدینہ کے خلاف بین الاقوامی سازش :
تحقیق و تحریر: عاصم ریاض نظامی
PHD candidate
Peace Ambassador
Voice of World -UK
سیدنا عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت (13ھ تا 24ھ) نہ صرف اسلامی تاریخ بلکہ عالمی سیاسیات اور پبلک ایڈمنسٹریشن کا ایک سنہری اور انقلابی باب ہے۔ تاریخِ عمر فرماں روائی کا مطالعہ محض فتوحات کی گنتی سے نہیں، بلکہ ان کے ساختیاتی ادارہ جاتی ماڈل (Institutional Model)، تزویراتی فتوحات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جیو پولیٹیکل ردِعمل، اور ان کی شہادت کے پیچھے کارفرما ایک باقاعدہ منظم ریاستی بین الاقوامی سازش کے تنقیدی تجزیے کا تقاضا کرتا ہے۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات (13ھ) کے وقت مسلم ریاست ایک نازک عبوری دور سے گزر رہی تھی۔ مرتدین کی جنگیں (Ridda Wars) ابھی ختم ہوئی تھیں اور سلطنت کی سرحدیں قیصر و کسریٰ کی عظیم سلطنتوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ پولیٹیکل سائنسدان ولیم منٹگمری واٹ (W. Montgomery Watt) اپنی کتاب "Islamic Political Thought" میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ نے خلافت کی منتقلی کے لیے ایک نیا اور اچھوتا آئینی راستہ اختیار کیا جسے "وصیت" یا نامزدگی (Nomination) کہا جاتا ہے۔ آپؓ نے مدینہ کے جید مہاجرین وانصار (بشمول حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف) سے انفرادی مشاورت کے بعد حضرت عمرؓ کا نام بطور خلیفہ تجویز کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس نامزدگی کو زبردستی نافذ نہیں کیا، بلکہ اپنی وفات سے قبل مجمعِ عام کے سامنے خطبہ دیا اور پوچھا، "کیا تم اس شخص پر راضی ہو جسے میں نے تمہارا امیر مقرر کیا ہے؟" عوام نے یک زبان ہو کر اثبات میں جواب دیا۔ یہیں سے مابعد جدید پولیٹیکل فلاسفر جین جیک روسو (Jean-Jacques Rousseau) کے "سوشل کانٹریکٹ" (Social Contract) کا عملی نمونہ نظر آتا ہے، جہاں عوام اپنی مرضی سے ایک سخت گیر مگر عادل منتظم (عمر فاروق) کو اپنے حقوق کا امین تسلیم کرتے ہیں۔
پال کینیڈی (Paul Kennedy) کے اصولوں کے مطابق، قومیں تب تک عالمی طاقت (Global Power) نہیں بن سکتیں جب تک ان کے پاس ایک ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ (Institutional Infrastructure) نہ ہو جو ان کی عسکری فتوحات کو سنبھال سکے۔ حضرت عمرؓ نے دس سالوں میں مدینہ کو ایک روایتی قبیلے سے نکال کر دنیا کی جدید ترین "ادارتی فلاحی ریاست" (Institutional Welfare State) میں بدل دیا۔
دیوان اور پبلک ٹریژری (The Creation of Diwan):
حضرت عمرؓ نے پہلی بار "دیوان" کا نظام قائم کیا، جس کے تحت سلطنت کے ہر شہری (خواہ وہ مرد ہو، عورت ہو، بچہ ہو، یا نومولود) کا نام سرکاری رجسٹر میں درج کیا گیا اور بیت المال سے ان کا ماہانہ وظیفہ مقرر کیا گیا۔ نوبل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات امرتیا سین (Amartya Sen) اپنی کتاب "Development as Freedom" میں لکھتے ہیں کہ "حقیقی ترقی انسانی صلاحیتوں کو نکھارنے اور سماجی تحفظ (Social Security) دینے کا نام ہے"۔ عمر فاروقؓ کا وظائف کا یہ نظام دنیا کی تاریخ کا پہلا لبرل سوشل ویلفیئر ماڈل تھا۔
عدلیہ کی آزادی (Separation of Powers):
مابعد جدید فرانسیسی فلاسفر مونٹیسکیو (Montesquieu) نے اپنی کتاب "The Spirit of the Laws" میں "اختیارات کی علیحدگی" (Separation of Powers) کا جو نظریہ پیش کیا، حضرت عمرؓ اسے چودہ سو سال پہلے نافذ کر چکے تھے۔ آپؓ نے تاریخ میں پہلی بار قضا (عدلیہ) کو انتظامیہ (گورنروں اور خلیفہ) سے بالکل الگ کیا اور ابو الدرداءؓ کو مدینہ، شریحؓ کو کوفہ اور ابو موسیٰ اشعریؓ کو بصرہ کا آزاد قاضی مقرر کیا، جنہیں خلیفہ کے خلاف بھی فیصلہ دینے کا قانونی اختیار حاصل تھا۔
عسکری نوکر شاہی (Military Bureaucracy):
آپؓ نے فوج کو باقاعدہ تنخواہ دار ملازم بنایا، چھاؤنیاں (مثلاً کوفہ، بصرہ، فسطاط) قائم کیں، اور جنگجوؤں کے خاندانوں کے لیے مستقل الاؤنسز مقرر کیے تاکہ وہ بغیر کسی معاشی فکر کے سرحدوں کا دفاع کر سکیں۔
فتوحات کا تزویراتی جال اور جیو پولیٹیکل ردِعمل :
برطانوی مؤرخ ولیم میور (William Muir) اپنی مایہ ناز کتاب "The Caliphate: Its Rise, Decline, and Fall" میں لکھتا ہے کہ اعظمِ فاروقی کا اصل کمال یہ تھا کہ انہوں نے چند سالوں میں تاریخ کی دو سپر پاورز' رومن امپائر (Byzantine) اور فارس کی ساسانی سلطنت (Sassanid)کو بیک وقت شکست دی، شام، مصر، عراق اور پورا ایران اسلامی قلمرو میں شامل ہو گیا۔لیکن اس تزویراتی پھیلاؤ (Strategic Expansion) نے ایک بہت بڑا جیو پولیٹیکل ردِعمل (Backlash) پیدا کیا ۔
رومن امپائر تو مصر اور شام ہارنے کے بعد قسطنطنیہ کے پیچھے بچ گئی، لیکن فارس کی ساسانی امپائر معرکۂ قادسیہ (15ھ) اور معرکۂ نہاوند (21ھ) کے بعد ہمیشہ کے لیے زمین کے نقشے سے مٹ گئی اور ان کا آخری بادشاہ یزدگرد جلاوطن ہو کر بھاگتا پھرا۔ ہزاروں سال پرانی تہذیب، جو خود کو دنیا کی سب سے مہذب اور طاقتور قوم سمجھتی تھی، اس کا عرب کے "بددوں" کے ہاتھوں مٹ جانا فارسی اشرافیہ کے لیے ایک ایسا فکری اور مابعد الطبیعاتی صدمہ تھا جسے وہ ہضم نہ کر سکے۔
ایران کی اس اشرافیہ، ان کے مذہبی رہنماؤں (موبدانِ مجوس) اور شہزادوں کے دلوں میں خلیفۂ وقت ، سیدنا عمر فاروقؓ کے خلاف انتقام اور نفرت کا ایک ایسا لاوا پکنے لگا جو عسکری میدان میں مقابلہ نہ کر پانے کی وجہ سے اب "خفیہ گوریلا اور انٹیلیجنس نیٹ ورک" کی شکل اختیار کر گیا۔
شہادتِ فاروقِ اعظمؓ کے پسِ پردہ "خفیہ بین الاقوامی سازش" :
عوامی تاریخ میں یہ بات مشہور ہے کہ ابولؤلؤ فیروز (ایک ایرانی غلام) نے اپنے مالک مغیرہ بن شعبہ کے مقرر کردہ روزانہ کے ٹیکس (محصول) کی زیادتی کا گلہ خلیفہ سے کیا، اور خلیفہ کی طرف سے فوری ریلیف نہ ملنے پر اس نے غصے میں آ کر وار کر دیا۔ ایک با شعور کی غیر جانبدارانہ سوچ اس سطحی کہانی کو یکسر مسترد کرتی ہے۔امام ابنِ جریر طبری اپنی کتاب "تاریخ الامم والملوک" میں اور ابنِ کثیر "البدایہ والنہایہ" میں ان پوشیدہ کڑیوں کو واضح کرتے ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ محض ایک انفرادی غصہ نہیں بلکہ مدینہ کی مقتدرہ (State Structure) کے خلاف ایک بین الاقوامی سیاسی سازش (International Political Conspiracy) تھی۔
مدینہ کے اندر "خفیہ انٹیلیجنس سیل" کا ابھارسازش کے تین مرکزی کردار تھے جو اس وقت مدینہ میں موجود تھے۔
ہرمزان (Hormizan):
یہ خوزستان (ایران) کا سابق امپیریل گورنر اور ساسانی فوج کا مایہ ناز جنرل تھا، جسے جنگ میں قید کر کے مدینہ لایا گیا تھا۔ اس نے بظاہر جان بچانے کے لیے اسلام قبول کر لیا تھا اور مدینہ میں رہ کر خلیفہ کا مشیر بن چکا تھا، مگر اندرونی طور پر وہ ساسانی زوال کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔
جفینہ (Jafina):
یہ حیرہ (عراق) کا ایک عیسائی نیسٹورین (Nestorian) اسکالر اور پولیٹیکل مائنڈ تھا، جس کے تعلقات رومن اور ساسانی دونوں اشرافیہ سے تھے۔
ابو لؤلؤ فیروز (Abu Lu'lu'a):
یہ ایک انتہائی ماہر کاریگر (Metallurgist) تھا جو لوہے، چھریاں، اور پن چکیاں بنانے کا ماہر تھا اور مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا۔ اسے سازش کے لیے "ہتھیار" (The Executioner) کے طور پر منتخب کیا گیا۔
عبدالرحمن بن ابوبکرؓ کی چشم دید گواہی :
شہادت کے فوراً بعد، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بیٹے، حضرت عبدالرحمنؓ نے مدینہ کی عدالت میں ایک ہولناک گواہی دی۔ انہوں نے بیان کیا: "خنجر زنی کے واقعے سے ایک دن پہلے، میں نے مدینہ کی ایک گلی میں ہرمزان، جفینہ اور ابولؤلؤ فیروز کو آپس میں سرگوشیاں کرتے دیکھا۔ جیسے ہی میں ان کے قریب پہنچا، وہ گھبرا گئے اور ان کے ہاتھ سے ایک دو دھاری خنجر (Double-edged Dagger) نیچے گر گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ خنجر بالکل اسی ساخت کا تھا جس کا دستہ درمیان میں تھا اور اس کے دو پھل تھے"۔ یہ وہی خنجر تھا جس سے اگلے دن عمر فاروقؓ پر وار کیا گیا۔ یہ گواہی ثابت کرتی ہے کہ قتل کا پلان پہلے سے تیار تھا اور یہ تینوں اس پراجیکٹ کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
ابو لؤلؤ فیروز نے ایک خاص خنجر تیار کیا جسے کئی دنوں تک زہر کے اندر ڈبو کر رکھا گیا تھا۔ 26 ذوالحجہ 23ھ کی صبح، جب امیر المومنین مسجدِ نبوی میں نمازِ فجر کے لیے مصلے پر کھڑے ہوئے اور صفیں سیدھی کر کے جیسے ہی تکبیرِ تحریمہ کہی، تو اگلی صف میں چھپے اس گوریلا دہشت گرد نے خلیفہ پر مسلسل چھ وار کیے، جن میں سے ایک وار ناف کے نیچے لگا جو جان لیوا ثابت ہوا۔آپؓ کو بچانے کے لیے جب دیگر صحابہ آگے بڑھے، تو ابولؤلؤ نے اندھا دھند خنجر چلاتے ہوئے مزید 13 صحابہ کو زخمی کیا جن میں سے 7 شہید ہو گئے، اور بالآخر جب اسے محسوس ہوا کہ وہ پکڑا جائے گا، تو اس نے اسی زہر آلود خنجر سے خودکشی کر لی تاکہ سازش کے اصل تانے بانے (ہرمزان اور جفینہ) تک کوئی نہ پہنچ سکے۔ سیدنا عمر فاروقؓ تین دن تک شدید زخمی حالت میں رہنے کے بعد یکم محرم الحرام 24ھ کو جامِ شہادت نوش فرما گئے۔
عمرانیات کے بانی ابنِ خلدون لکھتے ہیں کہ عمر فاروقؓ کی شہادت دراصل اس مادی حقیقت کا اظہار تھی کہ جب کوئی نئی تہذیب (اسلام) پرانی قائم شدہ تہذیبوں (فارس) کو جڑ سے اکھاڑتی ہے، تو مفتوحہ قومیں شکست کھا کر عسکری میدان سے ہٹ جاتی ہیں مگر وہ "مخفی اور تخریبی کارروائیوں" (Subversive Activities) کا سہرا لیتی ہیں۔ ابنِ خلدون کے مطابق، عمرؓ کا قتل کوئی داخلی بحران نہیں تھا، بلکہ یہ ایک بیرونی جیو پولیٹیکل سازش تھی جس کا مقصد اسلامی ریاست کے مقتدرہ (Center of Gravity) کو ختم کرنا تھا تاکہ فتوحات کے تسلسل کو روکا جا سکے۔
مغربی مفکر ایڈورڈ گبن (Edward Gibbon) اپنی شہرہ آفاق کتاب "The History of the Decline and Fall of the Roman Empire" میں لکھتا ہے کہ "عمر کی شخصیت کلاسیکی رومن امپائرز (جیسے اگسٹس یا جولیس سیزر) سے کہیں زیادہ بلند تھی، کیونکہ وہ اتنی بڑی سلطنت کا مالک ہونے کے باوجود پیوند لگے کپڑے پہنتا تھا اور مٹی پر سوتا تھا"۔فرانسیسی فلسفی وولٹیئر (Voltaire) نے اپنے مقالات میں لکھا کہ عمر کا قتل دراصل اس "سیاسی صدمے" کا نتیجہ تھا جو انہوں نے دنیا کی قدیم ترین شاہی سلطنتوں کو دیا تھا۔ مغرب کے محققین اس بات پر متفق ہیں کہ عمر فاروقؓ اتنے طاقتور اور بااثر حکمران بن چکے تھے کہ بین الاقوامی انٹیلیجنس نیٹ ورکس کے پاس ان کا کوئی سیاسی متبادل موجود نہیں تھا، اس لیے انہیں مسجد کے اندر نماز کی حالت میں شہید کرنا ہی دشمنوں کا آخری حربہ تھا، کیونکہ اوپن فیلڈ میں ان کے سیکیورٹی اسٹرکچر کو توڑنا ناممکن تھا۔
شیعہ تاریخ دان اور مفسرین (جیسے علامہ باقر مجلسی اپنی کتب میں) اس پورے واقعے کو ایک بالکل الگ کلامی (Theological) اینگل سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک، ہرمزان پر سازش کا الزام لگانا بعد کے اموی مروّج راویوں کی من گھڑت کہانی ہے تاکہ عبید اللہ بن عمر (عمرؓ کے بیٹے) کے اس اقدام کو جائز ثابت کیا جا سکے جس کے تحت انہوں نے بغیر کسی عدالتی ٹرائل کے، جوشِ غصہ میں ہرمزان، جفینہ اور ابولؤلؤ کی چھوٹی بیٹی کو قتل کر دیا تھا۔ شیعہ مکتبِ فکر عثمانؓ کے اس پہلے سیاسی فیصلے پر سخت تنقید کرتا ہے جس کے تحت انہوں نے عبید اللہ بن عمر کو قصاص کے قانون سے مستثنیٰ قرار دے کر معاف کر دیا تھا، جسے وہ خلافتِ راشدہ میں "قانون کی حاکمیت کا پہلا انحراف" سمجھتے ہیں۔
سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت تاریخِ انسانی کا وہ موڑ ہے جہاں سے خلافتِ راشدہ کا وہ آہنی اور مثالی توازن (Administrative Equilibrium) مستقل طور پر ہل گیا جو انہوں نے اپنے دس سالہ دور میں قائم کیا تھا۔ پولیٹیکل سائنس کے نظریات کے مطابق، یہ واقعہ دنیا کا پہلا سب سے بڑا "ریاستی فالس فلیگ یا خفیہ سیاسی قتل" (Political Assassination) تھا، جس کا مقصد کسی شخص کو نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی کائناتی فلاحی ریاست کے مقتدرہ (Sovereignty) کو مفلوج کرنا تھا۔عمر فاروقؓ کی طاقت ان کے محافظوں یا محلات میں نہیں تھی، بلکہ ان کے قائم کردہ "عدلِ اجتماعی" (Social Justice) اور محکموں کی مضبوطی میں تھی، یہی وجہ تھی کہ وہ بغیر کسی پروٹوکول کے مسجد میں عام شہریوں کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے، اور دشمنوں نے ان کی اسی سادگی اور عوامی رسائی (Public Accessibility) کا فائدہ اٹھا کر انہیں مصلے پر شہید کیا۔ آپؓ کی شہادت نے ثابت کیا کہ جب تک بیرونی فتوحات کے ساتھ ساتھ داخلی انٹیلیجنس اور کاؤنٹر اسپائی نیٹ ورکس (Counter-espionage) مضبوط نہ ہوں، دنیا کی عادل ترین اور طاقتور ترین ریاست بھی بین الاقوامی سازشوں کا شکار ہو سکتی ہے، جس کا خمیازہ بعد میں امتِ مسلمہ کو فتنۂ کبریٰ کی خانہ جنگی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
Knowledge Hub
The Sight School
A project of SGI
محرم الحرام کا فکری و مابعد الطبیعاتی تناظر: قربانیِ اسلاف، ساختیاتی زوال اور شعورِ نو کا ارتقاء
تحقیق و تحریر: عاصم ریاض نظامی
(ماہر تعلیم و تجزیہ کار )
PHD candidate
Peace Ambassador
Voice of World -UK
تمہید:
فلسفۂ زمان اور محرم الحرام کی مابعد الطبیعاتاسلامی فکر میں وقت (Time) محض سیکنڈوں اور منٹوں کا مادی مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ مابعد الطبیعاتی (Metaphysical) فضیلت کا حامل ہے۔ قرآنِ کریم نے سورہ التوبہ (آیت 36) میں جن چار "اشہرِ حرم" (حرمت والے مہینوں) کا ذکر فرمایا ہے، محرم الحرام ان کا تاج ہے۔ مشہور جرمن فلاسفر مارٹن ہائیڈیگر (Martin Heidegger) نے اپنی کتاب "Being and Time" میں لکھا تھا کہ "زمانے کی اصل حقیقت ان واقعات سے طے ہوتی ہے جو انسانی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیں"۔ محرم الحرام اسلامی تاریخ کا وہ کائناتی کینوس ہے جہاں ایک طرف تو تاریخِ انبیاء کے معجزات کا ظہور ہوا، اور دوسری طرف خلافتِ راشدہ کے فکری بانیوں اور اہل بیتِ رسولؐ نے اپنے خون سے ملوکیت اور فاشزم کے خلاف ابدی احتجاج ریکارڈ کروایا۔
محرم الحرام کی الٰہیاتی و تاریخی فضیلت :
تاریخِ انبیاء کے تناظر میں یہ مہینہ فتح اور نجات کا استعارہ ہے۔ صحیح بخاری کی روایات کے مطابق، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ یہودی 10 محرم کا روزہ رکھتے ہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہ تاریخی دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون کے ظلم سے نجات دی تھی اور فرعون کو بحرِ قلزم میں غرق کیا تھا۔
فرانسیسی فلسفی فرینز فینن (Frantz Fanon) نے اپنی کتاب "The Wretched of the Earth" میں لکھا ہے کہ مظلوم کی ظالم پر فتح کائنات کا حتمی سچ ہے۔ 10 محرم کا الٰہیاتی پسِ منظر انسانیت کو یہ امید دلاتا ہے کہ مادی طور پر جتنا بھی طاقتور جابر (جیسے فرعون) کیوں نہ ہو، الٰہیاتی انصاف (Divine Justice) کے ترازو میں فتح ہمیشہ مظلوم کی ہی ہوتی ہے۔
یکم محرم الحرام: شہادتِ فاروقِ اعظمؓ :
نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی دور کے پولیٹیکل سائنسدانوں کے نزدیک، ایک مثالی فلاحی ریاست کا جو ماڈل حضرت عمر فاروقؓ نے قائم کیا، دنیا اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔ یکم محرم الحرام 24ھ کو آپؓ کی شہادت تاریخِ اسلام کا پہلا تزویراتی (Strategic) دھچکا تھا۔ایران کے مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے نمازِ فجر کے وقت سیدنا عمرؓ پر زہر آلود خنجر سے وار کیے۔ یہ کوئی انفرادی دشمنی نہیں تھی، بلکہ یہ اس وقت کی شکست خوردہ ایرانی ساسانی سلطنت کی باقیات کی طرف سے اسلامی ریاست کے "مرکزی فیصلہ ساز" (Decision-making Center) پر ایک منظم "دہشت گردانہ حملہ" تھا۔
برطانوی مؤرخ پال کینیڈی کے اصولوں کے مطابق، عمر فاروقؓ وہ حکمران تھے جنہوں نے طاقت کو اداروں (Institutions) میں تبدیل کیا۔ آپؓ نے بیت المال، عدلیہ، پولیس، اور فوج کا مستقل نظام بنایا۔ آپؓ کی شہادت کے بعد خلافتِ راشدہ کا وہ آہنی انتظامی توازن (Administrative Equilibrium) ہل گیا، جس نے بعد میں فتنۂ کبریٰ کے لیے زمین ہموار کی۔ ولیم میور (William Muir) اپنی کتاب "The Caliphate: Its Rise, Decline, and Fall" میں اعتراف کرتا ہے کہ "عمر کا جانا اسلام کے اس سنہری دور کا خاتمہ تھا جہاں عدل اپنی مطلق شکل میں نافذ تھا"۔
10 محرم الحرام 61ھ ،سانحۂ کربلا اور ملوکیت کے خلاف مقدس انکار:
محرم الحرام کا ذکر سیدنا امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار اہل بیت کی لازوال قربانی کے بغیر ادھورا ہے۔ صلحِ امام حسنؑ (41ھ) کے بعد جب یزید نے خلافت کو خاندانی شہنشاہیت (Dynastic Monarchy) میں بدلا، تو امام حسینؓ نے اس مادی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔
پولیٹیکل فلاسفر تھامس کارلائل (Thomas Carlyle) نے اپنے خطبات "On Heroes, Hero-Worship, and The Heroic in History" میں امام حسینؓ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "کربلا کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے دلوں میں خدا پر ایسا کامل یقین تھا جس نے یہ ثابت کر دیا کہ مادی ناہمواری (72 بمقابلہ لاکھوں کی فوج) حق اور سچ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی"۔ امام حسینؓ نے مکہ سے نکلتے وقت اپنے خطبے میں واضح فرمایا تھا، "میں کسی فتنہ انگیزی یا اقتدار کی ہوس کے لیے نہیں نکل رہا، بلکہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے) کے لیے نکل رہا ہوں"۔ آپؑ نے اپنی، اپنے بھائیوں (حضرت عباسؑ)، اپنے بیٹوں (حضرت علی اکبرؑ، علی اصغرؑ) اور خانوادے کی قربانی دے کر ملوکیت کے اس شرعی جواز (Religious Legitimacy) کو قیامت تک کے لیے باطل کر دیا جسے یزید حاصل کرنا چاہتا تھا۔
مفسرِ اعظم حافظ ابنِ کثیر اپنی کتاب "البدایہ والنہایہ" میں لکھتے ہیں کہ محرم الحرام غمی کا مہینہ نہیں بلکہ "عزم اور استقامت" کا مہینہ ہے۔ اہل سنت کے نزدیک عمر فاروقؓ کی عادلانہ شہادت اور امام حسینؓ کی مظلومانہ شہادت امت کے لیے دو ایسے مینارِ نور ہیں جو سکھاتے ہیں کہ ایک طرف ریاست کو کیسا ہونا چاہیے (عمر فاروق کا ماڈل) اور دوسری طرف اگر ریاست بگڑ جائے تو اس کے سامنے کیسے کھڑا ہونا چاہیے (امام حسین کا ماڈل)۔ وہ ان واقعات کو المیہ مانتے ہیں مگر انفرادی ماتم کے بجائے اس کے فکری پیغام پر عمل کو اصل دین سمجھتے ہیں۔
شیعہ الہیات کے مطابق، محرم الحرام روح کی نوحہ خوانی اور بیعتِ حق کی تجدید کا نام ہے۔ علامہ امینی "الغدیر" میں لکھتے ہیں کہ محرم کا مہینہ کائنات کے اس داخلی تضاد کو واضح کرتا ہے جہاں ایک طرف نورِ اہل بیت ہے اور دوسری طرف ظلمِ اموی۔ شیعہ مفسرین کے نزدیک، محرم میں عزاداری اور ماتم محض ایک رسم نہیں، بلکہ یہ اس "مظلومیت کے فلسفے" (Philosophy of Martyrdom) کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے جس کے بغیر اسلام کا انقلابی چہرہ مادی طاقتوں کے نیچے دب جاتا۔
مغرب نے جمہوریت اور شہری حقوق کے تصورات فرانسیسی انقلاب یا میگنا کارٹا سے سیکھے، لیکن وہ ان حقوق کو مابعد الطبیعاتی تقدس نہ دے سکا۔ محرم الحرام ہمیں سکھاتا ہے کہ جب قانون کی حاکمیت خطرے میں ہو، تو ریاست کے سربراہ (عمرؓ) سے لے کر نواسۂ رسولؐ (حسینؑ) تک، سب کا خون اس کائناتی سچائی کے تحفظ کے لیے بہنے کو تیار رہتا ہے۔ یہ مہینہ ہم سے روایتی فرقہ واریت کا نہیں، بلکہ اس فکری شعورِ نو (Awakening) کا تقاضا کرتا ہے جس کے ذریعے ہم اپنے معاشرے سے ظلم، جہالت اور عصبیت کا خاتمہ کر کے ایک عادلانہ فلاحی نظام قائم کر سکیں۔یہ مہینہ ہمیں "ادارتی انصاف" (عمر فاروقؓ) اور "انفرادی و خاندانی قربانی" (امام حسینؑ) کا ایک کامل امتزاج فراہم کرتا ہے۔
The Sight School
A project of SGI
Summer Camp Activities are going on
The Sight School
A project of SGI
Summer Camp Tree Plantation Activity
As part of our Summer Camp activities, our students enthusiastically participated in a tree plantation campaign and learned about the importance of trees in our lives. Trees provide clean air, protect the environment, and help create a healthier and greener future for everyone.
Let us all work together to plant more trees and contribute to a sustainable and beautiful world.
"One Child, One Tree – Growing a Greener Future."
The Sight School
A project of SGI
The Sight School
A project of SGI
Our Little Artists at Work
Today, our wonderful children explored their creativity through a fun and engaging art activity. Every color, brushstroke, and design reflects their imagination, individuality, and joy of learning.
Art is more than just an activity ,it helps children develop confidence, creativity, fine motor skills, and self-expression. Through artistic experiences, children learn to think independently, communicate their ideas, and appreciate the beauty of the world around them.
We are incredibly proud of our little artists for their enthusiasm, effort, and beautiful creations.
Every child is an artist, and every piece of artwork tells a unique story.
03/02/2026
الحمد اللّه
For every thing
الحمدلله
For every thing
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
54000