05/03/2017
Tary Ghum Mari Shairi
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tary Ghum Mari Shairi, Lahore.
05/03/2017
ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺮ ﺭﺍﮦ ﻣﻠﮯ
ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﻠﺘﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭﮞ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﮔﺮﺩ ﺷﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ
ﺍﺳﯽ ﺍﮎ ﻟﻤﺤﮯ ﭘﮧ ﺭﮐﯽ ﺭﮨﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺗﮑﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺬﺏ ﺳﮯ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻋﺸﻖ ﺳﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺣﺼﺎﺭ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ
ﻧﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﮯ ، ﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﻮﮞ
ﺗﻮ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﻮﮞ
ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ﻧﺎ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﻮ ﺟﻮ ﻧﺎ ﻣﻠﮯ
ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﻠﺘﺎ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭﮞ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﮧ
ﺗﯿﺮﯼ ﺩﻭﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﺎﺭ ﺩﻭﮞ
ﺗﻮ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﻮﻥ
ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ، ﻧﺎ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ
کوئی امّید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ھے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبعیت ادھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
داغِ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا..
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا..
ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پُوچھا کیے،
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا..
اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں،
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا..
کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر،
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا..
تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں.؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا..
بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے،
تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا..
ہم اور رسمِ بندگی.؟ آشفتگی.؟ اُفتادگی.؟
احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسنِ بے پروا تیرا..
دو اشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے،
الطاف کی بارش تیری، اکرام کا دریا تیرا..
اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں.؟
ہم کو تِری وحشت سہی ، ہم کو سہی سودا تیرا..
ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگُزر،
رستہ کبھی روکا تیرا، دامن کبھی تھاما تیرا..
ہاں ہاں تیری صورت حسیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں،
اس شخص کے اشعار سے شعر ہوا کیا کیا تیرا..
بے درد، سُنتی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل،
عاشق تیرا.. رُسوا تیرا.. شاعر تیرا.. اِنشا تیرا..!!!
”ابھی وہ درد باقی ھے“
اگرچہ ، وقت مرھم ھے
مگر ، کچھ وقت تو لگتا ھے
کسی کو بُھول جانے میں
دوبارہ دل بسانے میں
میں کیسے نئی اُلفت میں
اپنی ذات کو گُم کرلوں ؟؟
کہ میرے جسم و وجداں میں
ابھی وہ فرد باقی ھے
ابھی اُس شخص کی مجھ پر
نگاہِ سرد باقی ھے
ابھی تو عشق کے راستوں کی
مجھ پر گرد باقی ھے
”ابھی وہ درد باقی ھے“.
Khati Ti K Tum Ko Apna Bna Kar Choro Gi......
....... Pir Howa B Kuch Asy Hi.......
....... Us Ny Apna B Bnaya Or Chor B Dya......
" فیصل عجمی" کتاب " سمندر"
کچھ پرندے ہیں نہیں پیڑ کے عادی وہ بھی،
چھوڑ جائیں گے کسی روز یہ وادی وہ بھی۔
خواب میں کچھ در و دیوار بنا رکھے ہیں،
جانے کیا سوچ کے تعمیر گِرا دی وہ بھی۔
میرے گھر میں نئی تصویر تھی اس چہرے کی،
رنگ دیوار کا بدلا تو ہٹا دی وہ بھی۔
میں نے کچھ پھول بناے تھے مِٹا ڈالے ہیں،
ایک تتلی بھی بنای تھی اڑا دی وہ بھی۔
مجھ کو جادو نہیں آتا تھا پری سے سیکھا،
بن گیا آپ بھی ... پتھر کی بنا دی وہ بھی۔
میں نے اِک راہ نِکالی تھی زمانے سے الگ،
تو نے آتے ہی زمانے سے مِلا دی وہ بھی۔۔۔!!!
میرے مرنے پہ روئیں گے لاکھوں
میرے رونے پہ مرتا نہیں کوئی
09/11/2016
Click here to claim your Sponsored Listing.