Afzaal Yousufi

Afzaal Yousufi

Share

I read books related to personal and business development.

بزرگانِ دین کی زندگیاں عقائد کی پختگی اور اعمال کی درستگی کا عملی نمونہ ہیں۔ ایک طالبِ علم کی حیثیت سے میری کوشش ہے کہ ان کی مقدس تعلیمات اور روشن مثالوں کو عام کیا جائے۔

21/01/2026

یوسف مصر محبت میں لکھا ہے کہ قبلہ باباجی سرکار نگینہ علیہ الرحمہ کی عادت شریفہ تھی کہ آپ جب حضرت میاں غلام اللہ صاحب علیہ الرحمہ کی زیارت کیلئے شرقپور شریف تشریف لے جاتے تو پہلے شیرِ ربانی حضرت میاں شیر محمد صاحب علیہ الرحمہ کے مزارِ پُر انوار مرکزِ تجلیات پر حاضری دیتے۔ حضرت قبلہ باباجی سرکار نگینہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اُن کو حضرت ثانی صاحب علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہوئے پندرہ سال گزر گئے تھے۔ اِس عرصہ میں میاں صاحب علیہ الرحمہ باباجی سرکار نگینہ علیہ الرحمہ سے کبھی مسکرا کر نہ ملے۔ وہی آنا جانا اور دال روٹی، لنگر شریف کھانا اور زیارت سے مشرف ہوکر واپس چلے جانا۔
قبلہ باباجی نگینہ سرکار علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب میں شرقپور شریف گیا تو پہلے سیدھا دربارِ اعلیٰ حضرت شرقپوری علیہ الرحمہ پر حاضری دی (آپ فرمایا کرتے تھے کہ بزرگوں کے آستانوں پر حاضری کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے صاحب مزار کے پاس حاضری دی جائے پھر گدی نشین کی زیارت کی جائے)۔ آپ فرماتے ہیں کہ دل ہی دل میں قبلہ ثانی صاحب علیہ الرحمہ کے بارے میں اعلی حضرت شرقپوری علیہ الرحمہ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت ثانی صاحب علیہ الرحمہ مجھ سے کبھی ہنس کر نہیں ملے پھر یہ بھی عرض کردیا کہ ہمیشہ دال روٹی کی دعوت فرماتے ہیں۔
قبلہ باباجی سرکار نگینہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جب میں حضرت قبلہ ثانی صاحب علیہ الرحمہ کے پاس پہنچا تو آپ اُسی بیٹھک میں تشریف فرماتھے جس میں اعلیٰ حضرت شیر ربانی شرقپوری علیہ الرحمہ تشریف فرماہواکرتے تھے۔ حضرت قبلہ ثانی صاحب علیہ الرحمہ نے میرے سامنے قِسم قِسم کے کھانے رکھ دئیے اور میں دیکھتے ہی سوچ میں پڑ گیاپھر حضرت نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔ کھاتے کیوں نہیں؟کھاؤ! تم میرے بھائی جان سے دربار شریف پر اِنہی کھانوں کے بارے میں کہہ رہے تھے اور ہاں مسکرانے کے متعلق بھی سن لو کہ جس دن سے میرے برادرِ بزرگروار نے دنیا سے پردہ فرمایا ہے میری ساری مسکراہٹیں وہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ یہ فرماکر آپ رونے لگے اور میں بھی بے اختیار رونے لگا اور یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ صاحب مزار مرشد کامل دلوں کی خبریں رکھتے ہیں اور گدی نشین کا صاحبِ مزار سے رابطہ ہوتا ہے ۔
قبلہ پیرو مرشد باباجی سرکار منیر اسلام علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میں نے یہ واقعہ قبلہ پیر و مرشد بابا جی سرکار نگینہ علیہ الرحمہ کی زبانی سنا۔ آپ اِس واقعہ کو سنانے کے بعد فرمایا کرتے تھے مجھے کون کہتا ہے کہ صاحبِ مزار کو کچھ خبر نہیں ہوتی یا صاحب مزار کا گدی نشین سے تعلق نہیں ہوتا۔
(یوسف مصر محبت حصہ دوم)

20/01/2026

یوسف مصرِ محبت میں لکھا ہے کہ (قبلہ باباجی سرکار نگینہ علیہ الرحمہ کی)قطبِ زمان میاں غلام اللہ ثانی صاحب علیہ الرحمہ سے ملاقات کا واقعہ بڑا باکرامت اور عجیب ہے ۔ قبلہ باباجی سرکار نگینہ علیہ الرحمہ کا چچا بیمار ہوگیا، اُسے سخت بے ہوشی کی شکایت تھی۔ آپ کے گاؤں میں ایک شخص بابا اسمٰعیل‘ شیر ربانی اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد صاحب علیہ الرحمہ کا معتقد تھا۔ اُس نے کہا کہ اِس بیمار کو شرقپور شریف لے جاؤ اور وہاں سے دم کروا لاؤ۔ اُس وقت قطب زماں میاں غلام اللہ صاحب علیہ الرحمہ سجادہ نشین تھے۔ جب مریض کو شرقپور شریف کی طرف لے کر چلے تو راستے میں اُسے شدید تکلیف ہوگئی اور گھر واپس لے آئے۔ اگلے دن پھر تیاری کی اور اللہ اللہ کر کے شرقپور شریف پہنچ گئے۔حضرت قبلہ ثانی صاحب علیہ الرحمہ فرمانے لگے کہ تم لوگ تو کل آنے والے تھے پھر راستے ہی سے واپس کیوں ہوگئے؟ آنے والوں نے جب یہ ارشاد سنا تو بڑے حیران ہوئے کہ حضرت کو کیسے پتا چل گیا کہ ہم کل آتے آتے واپس ہوگئے۔
خیر! حضرت قبلہ ثانی صاحب علیہ الرحمہ نے پانی کی بوتل دَم کردی اور فرمایا ‘نماز پنجگانہ باقاعدگی سے ادا کرو اور داڑھی رکھ لو بفضلہ تعالیٰ بحرمۃ سید الابرار ﷺ خیر ہوجائے گی۔واپسی پر یہ سارا واقعہ سنایا گیا کہ عجیب پیر دیکھا ہے ، نماز بھی پڑھتا ہے اور شریعت کا بھی پابند ہے اور دوسروں سے بھی شریعت کی پابندی کیلئے کہتا ہے اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ اُس پیر نے تو ہمیں کل کی گزری ہوئی بات بھی بتادی کہ کل تم آنے لگے تھے تو پھر واپس چلے گئے۔ حضرت قبلہ بابا جی سرکار نگینہ علیہ الرحمہ فرماتے تھے کہ جب میں نے یہ باتیں سنیں تو میرے دل میں اشتیاق پیدا ہوا کہ بزرگوں کی ضرور زیارت کرنی چاہئے۔
بعد ازاں آپ کے وہی عزیز چچا محمد شفیق تندرست ہوئے تو شرقپور شریف جا کر حضرت قبلہ ثانی صاحب علیہ الرحمہ کے مرید ہوگئے۔ پھر شیر ربانی حضرت میاں شیر محمد صاحب علیہ الرحمہ کے عرس کے موقع پر آپ کے چچا صاحب آپ کو بھی اپنے ساتھ شرقپور شریف لے گئے۔ آپ اس وقت ابھی نعتیں پڑھا کرتے تھے جو کہ حضرت کو بہت پسند آئیں ۔ پھر اُس وقت حضرت قبلہ ثانی صاحب علیہ الرحمہ فرمانے لگے ۔ یوسف بچوں کو نعتیں لکھوادو۔ آپ نے بچوں کو آٹھ آٹھ دس دس نعتیں لکھوادیں۔ اسی دوران حضرت قبلہ ثانی صاحب علیہ الرحمہ تین مرتبہ دیکھنے کیلئے آئے اور دن کے گیارہ بج گئے۔ پھر آخری مرتبہ آپ تشریف لائے اور فرمانے لگے یوسف یہیں بیٹھے رہنا ہے؟ تو میں نے آپ سے عرض کیا حضور!
وہ اور ہی ہونگے تیری محفل سے نکلنے والے
حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے
(یوسف مصر محبت حصہ دوم)

15/01/2026

یوسف مصر محبت میں لکھا ہےکہ قبلہ بابا جی نگینہ سرکار علیہ الرحمہ کو حضرت قبلہ پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی سرکار علیہ الرحمہ کی زیارت کی بڑی تڑپ رہتی تھی۔آپ نے علی پور شریف پیدل سفر کرنے کا ارادہ فرمایا تو پروگرام یہ مرتب فرمایا کہ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ سفر اختیار کیا جائے۔ جب آپ روڈالا روڈاسٹیشن سے گزرنے لگے تو ہندو اسٹیشن ماسٹر نے آپ کو روک کر ٹکٹ مانگا۔ آپ کے پاس ٹکٹ تو نہیں تھا کیونکہ آپ گاڑی پر سفر کرنے کے ارادے سے اسٹیشن پر تشریف نہیں لائے تھے بلکہ اسٹیشن کو محض ابتدائے سفر کا نشان بنانا تھا۔ آپ نے اُسے اپنے علی پور شریف کی طرف جانے کے بارے میں بتایا مگر اُس نے ایک نہ سنی اور آپ کو پکڑ لیا۔ پھر جب شام کا وقت ہوا تو پنڈت کہنے لگا اب آپ کے بھاگنے کا وقت آگیا ہے، آپ نے فرمایا‘اگرچہ تم نے مجھے ناجائز پکڑا ہے لیکن جب تک تم مجھے خود نہیں چھوڑوگے میں ہر گز نہیں جاؤنگا۔
آپ نمازوں کے اوقات میں نمازیں ادا فرماتے رہےاور رات کو پچھلے وقت نماز تہجد ادا فرمائی۔ پنڈت آپ کا نمازیں پڑھنا، ذکر کرنا اور نوافل کی ادائیگی سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ صبح جب لاہور کیلئے گاڑی چلنے لگی تو اسٹیشن ماسٹر (پنڈت)نے گاڑی کے گارڈ کے کان میں کوئی بات کہی اور پھر اونچی آواز سے کہا اِ ن کو لاہور لے جا کر قید کردینا۔ آپ فرماتے تھے جب میں نے لاہور کا نام سنا تو میں نے شکر کیا کہ چلو لاہور تو پہنچ جائیں گے۔ خیر! جب شاہدرہ کا اسٹیشن آیا تو گارڈ نے آپ کو گاڑی سے اُتار دیا۔
پنڈت آپ کی باتوں کو سن کر سمجھ گیا تھا کہ شوقِ زیارت آپ کو اتنی دُور پیدل لئے جارہا ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ آپ کو کہیں نہ کہیں پہنچا دیا جائے۔ اُس کی سختی یا خفگی ظاہری تھی۔
شوقِ دیدار اور پیدل ہی سفر طے ہورہا تھا۔ جب آپ رامداس پہنچے تو پتا چلا کہ حضرت قبلہ پیر سید جماعت علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ اِس دارِ فانی سے سفر کرگئے ہیں۔ اِس خبر سے آپ کے دل کو زبردست دھچکا لگا اور دَردوفراق سے تڑپنے اور رونے لگے۔ پھر جب آپ علی پور شریف پہنچے تو آپ فرماتے ہیں کہ میں مزار پر انوار پر جاکر بیٹھ گیا۔ سلام عرض کیا اور مراقبہ کیا جب رات کا وقت ہوا تو وہاں بیٹھے بیٹھے اُونگھ آگئی اور میری طلب صادق رنگ لائی اور حضرت قبلہ عالم پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی صاحب علیہ الرحمہ کی زیارت ہوئی اور فرمایا:’’بیٹا یوسف میں ویسے ہی زندہ ہوں جیسے پہلے تھا‘‘۔ تم کسی قسم کا فکر نہ کرو۔ یہ پردہ تو لوگوں کی نظروں سے ہے۔ تم مجھے ویسے ہی سمجھو جیسے پہلے سمجھتے تھے۔ آپ فرماتے تھے ، اِس ارشاد سے میری ڈھارس بندھ گئی۔
یوسف مصر محبت (حصہ دوم)

14/01/2026

یوسف مصر محبت میں لکھا ہے کہ (قبلہ بابا جی نگینہ سرکار علیہ الرحمہ) چھوٹی سی عمر میں ہی غوثوں، قطبوں، ابدالوں، سالکوں اور مجذوبوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ حضرت صاحب کرمانوالے سید محمد اسماعیل شاہ صاحب، حضرت میاں غلام اللہ المعروف ثانی صاحب، حضرت سید علی اکبر شاہ صاحب، حضرت پیر سید جماعت علی صاحب محدث علی پوری امیرِ ملت رحمہم اللہ تعالیٰ اور حضرت قبلہ بابا حسن صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ( یہ آپ کے علاقہ شریف کے قطب تھے)۔آپ جن بزرگوں سے بھی ملتے وہ بھی نہایت محبت اور پیار سے خصوصی توجہ فرماتے اور اِ ن بزرگوں کے مریدین یہی سمجھتے کہ یہ ہمارے پیر صاحب کے مرید ہیں۔ ویسے تو آپ کا پیر خانہ علی پور شریف ہے ، لیکن آپ چونکہ نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ کے عشق میں ڈوبے ہوئے تھے اِس لئے ہر بزرگ ، شیخ اور پیر فقیر سے حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ کی محبت کا جام نوش فرماتے۔ آپ نے اسی نسبت سے ایک شعر لکھا ہے:
اِک تیرا جلوہ ویکھن لئی میں سوسو منتاں منیاں نیں
تھاں تھاں نذرانے ڈھوئے نیں نئیں چھڈیا پیر فقیر کوئی
مزید لکھا ہے کہ آپ کو خواہش ہوئی کہ شمس المشائخ حضرت قبلہ پیر سید جماعت علی شاہ صاحب المعروف لاثانی صاحب علیہ الرحمہ کے دست حق پر بیعت کی جائے۔آپ خود فرماتے تھے انہیں دنوں ہمارے گاؤں میں قبلہ لاثانی صاحب علیہ الرحمہ کے پوتے سلطان العارفین حضرت پیر سید علی اصغر شاہ صاحب علی پوری علیہ الرحمہ تشریف لائے ہوئے تھے تو ہماری مسجد واقع پیلے گوجراں(شریف) کے امام و خطیب سید محمد شاہ صاحب مرحوم نے فرمایا یہ حضرت قبلہ قطب عالم لاثانی صاحب علیہ الرحمہ کی اولاد ہیں اور بہت بڑے بزرگ ہیں اِ نہی کے مرید ہوجاؤ۔ چنانچہ محترم شاہ صاحب نے اِنہی کا مرید کروادیا۔آپ فرماتے ہیں:
سید سخی لاثانی دا جگر پارا
میرا پیر لاثانی اے علی اصغر
۔۔۔
میری بیعت اے اوہناں دے ہتھ اُتے
میرا قبلہ روحانی اے علی اصغر
یوسف مصر محبت (حصہ دوم)

14/01/2026

شبِ معراج کی وہ بابرکت رات... 🌙✨
حضور نبی کریم ﷺ کو معراج کے سفر میں دکھایا گیا کہ فرشتے ایک شخص کے منہ کو چیر رہے تھے۔
حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کیا:
یا رسول اللہ ﷺ! یہ اس شخص کی سزا ہے جو دنیا میں بہت بڑے جھوٹ بولتا تھا۔ اس کے جھوٹ کی وجہ سے وہ جھوٹ پوری دنیا میں پھیل جاتا تھا۔
یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جھوٹ کتنا بھاری گناہ ہے!
ایک چھوٹی سی جھوٹی بات بھی آخرت میں ایسی عذاب کا سبب بن سکتی ہے جس کا تصور بھی لرزہ خیز ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
"سچ بولو، کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف... اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف۔" (صحیح بخاری و مسلم)
اللہ رب العزت ہمیں سب کو جھوٹ سے پاک رکھے اور سچائی کی توفیق عطا فرمائے۔ 🤲
آمین یا رب العالمین!

12/01/2026

یوسف مصر محبت میں لکھا ہے کہ (قبلہ بابا جی نگینہ سرکار علیہ الرحمہ نے )حضر ت شیخ سعدی علیہ الرحمہ کے ترجمہ والا قرآن مجید 7 سال کی محنت کے بعد حاصل کیا۔ اگلے ہی روز ایک شخص نے وہ نسخہ آپ کے پاس دیکھ کر اُس کے حصول کا اظہار کیا۔ آپ سرکار علیہ الرحمہ نے بلا توقف وہ نسخہ اُس سائل کو عطا فرمادیا اور اُس نسخہ کی جدائی میں 13 روز بیمار رہے۔
لکھا ہے کہ پیدائشی طور پر قبلہ بابا جی نگینہ سرکار علیہ الرحمہ کی طبیعت اچھائی کی طرف راغب تھی۔ ابھی آپ چوتھی جماعت میں تھے کہ باقاعدگی سے نماز تہجد پڑھتے تھے ۔ رجوع اِلی اللہ، عشق مصطفی ﷺ ، محبت دین کا اس قدر غلبہ تھا کہ سکول کی تعلیم مڈل سے آگے جاری نہ رہ سکی۔بچپن سے ہی نعت خوانی کا شوق تھا۔ ہر وقت باوضو رہتے۔ ایک نعت شریف آپ اکثر پڑھا کرتے تھےجس کا ایک شعر یہ ہے:
مجھ کو ہے تیری جستجو مجھ کو تیری تلاش ہے
جانِ جہاں کہاں ہے تو مجھ کو تیری تلاش ہے
اوائل کی بات ہے ایک دفعہ آپ نے ’’جگنی‘‘ کی طرز پر چند اشعار پڑھے۔ اِس واقعہ کے بعد ایک موقعہ پر آپ پیر روشن ضمیر حضرت سیّد محمد اسماعیل شاہ صاحب المعروف کرماں والی سرکار علیہ الرحمہ کے حضور پہنچے‘ سلام دُعا ہوئی۔ بعد ازیں حضرت صاحب کرمانوالہ علیہ الرحمہ نے بڑی محبت اور پیار بھرے انداز میں اپنی دائیں طرف بٹھاتے ہوئے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ مجھے حضور ﷺ نے آپ کیلئے پیغام دیا ہے کہ جب (حضرت)محمد یوسف علی نگینہ (صاحب) آپ کے پاس تشریف لائیں تو اُنہیں آپ فرمادیجئے گا کہ ’’ جس منہ سے آپ میری نعتیں پڑھتے ہیں، اُس منہ سے ’’جگنی‘‘ نہ پڑھا کریں آپ کی نعتیں میں (ﷺ) خود سنتا ہوں‘‘۔ سبحان اللہ! یہ سن کر آپ علیہ الرحمہ پر عجیب رقت طاری ہوئی۔سرکارِ کائنات ﷺ کی اِس عنایت کا آپ اکثر مواقع پر ذکر بھی فرمایا کرتے تھے۔
یوسف مصر محبت (حصہ دوم)

01/01/2026

یوسف مصر محبت میں،بحوالہ پیرزادہ اقبال احمد فاروقی صاحب،لکھا ہے کہ حضرت مولانا محمد یوسف علیہ الرحمہ مسجد نبویہ بیرون دہلی دروازہ میں قیام کرتے، نعت سناتے، مطالعہ کرتے اور کئی کئی دن قیام کرتے تھے وہ ایک حجرے میں بیٹھ کر کتابوں کا مطالعہ کرتے۔ فاروقی صاحب فرماتے ہیں ،کہ کئی بار میں نے دیکھا کہ ساری ساری رات مطالعہ میں گزار دیتے اور میں انہیں ’’سلطنت مطالعہ کا شہنشاہ‘‘ کہا کرتا تھا۔اُن دنوں مولانا محمد نبی بخش حلوائی علیہ الرحمہ کی لائبریری میں مصر کی چھپی ہوئی بڑی بڑی علمی کتابیں موجود تھیں۔ حضرت نگینہ علیہ الرحمہ اُن عربی کتابوں کا مطالعہ کرتے تو مجھے بعض مقامات کے مطالب بیان فرماتے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ یاد نہیں کہ آپ نے ابتدائی کتابیں کس عالم دین سے پڑھیں مگر اُن کے ذوقِ مطالعہ نے اُنہیں ایک عالم دین بنادیا تھا۔1960 کی دہائی میں جناح کالونی میں ہجویری مسجد میں حضرت مولانا حاجی محمد یوسف علی نگینہ علیہ الرحمہ نماز جمعہ سے پہلے خطاب فرماتے چونکہ آپ نعت خواں تھے، خوش آواز تھے اور راسخ العقیدہ عالم دین تھے اُن کی تقریر نے دھوم مچادی اور اکثر لوگ آپ کی تقریر سننے کے لیے دور دور سے آتے اور مسجد کے اِرد گرد نمازیوں کے ٹھٹھ لگ جاتے۔
فاروقی صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ پیر طریقت مولانا محمد یوسف علی نگینہ علیہ الرحمہ جامعہ رضویہ میں باقاعدہ زیر تعلیم تھے یا ’’سماعی‘‘ طالب علم کی حیثیت سے حاضری دیتے۔ مگر اُن کے علم میں ترقی ہوتی رہی۔ پھر ایک وقت آیا کہ انہیں سند تعلیم و تدریس ملی اور ہم نے اُن کے اعزاز میں ایک محفل برپا کی ۔اُ ن کی نعتیں زبانِ زدعام ہوئیں، بعض بڑی مشہور ہوئی:
دن دسواں تے رات یارویں سی
لے یارہویں والے دا ناں تے ڈبی ہوئی تر جائیں گی
بچہ بچہ پڑھتا تھا
مزید فرماتے ہیں کہ آپ جب جلسہ عام میں تقریر کرتے تو سامعین پر وجد طاری ہوجاتا۔ دیہاتی علاقوں میں تو نگینہ نگینہ کے نعرے بلند ہوتے ۔فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے نگینہ علیہ الرحمہ کو سادگی کا نمونہ پایااور ایک روحانی پیر طریقت کی حیثیت سے دیکھا تو اُن کے حلقئہ مریدین کو مؤدب پایا۔
یوسف مصر محبت حصہ دوم

31/12/2025

یوسف مصر محبت میں ،بحوالہ حضرت عبدالتواب صدیقی صاحب، لکھا ہے کہ حضرت قبلہ یوسف علی نگینہ صاحب علیہ الرحمہ اگرچہ علی پور شریف مرید تھے مگر تمام بزرگوں کا ادب و احترام کرتے تھےاور ساتھ ساتھ خدمت بھی کرتے تھے اور جس بزرگ کے پاس بھی وہ جاتے وہ بزرگ اُن سے خوش ہی ہوتے تھے۔ شرقپور شریف میں میاں غلام اللہ ثانی لاثانی علیہ الرحمہ سالانہ عرس کے موقع پر آپ کو سٹیج اُس وقت دیتے تھے جب کوئی مقرر بولنے کو تیار نہیں ہوتا تھا یعنی رات 1/2 بجے کے بعد۔ صدیقی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے مولانا محمد یوسف علی نگینہ صاحب علیہ الرحمہ نے خود بتایا کہ میں نے سندھ میں ایک پیر صاحب کے دربار پر بیٹھ کر حاضری دی اور کافی دیر تک میں دوزانو بیٹھا رہا جبکہ عام لوگ اتنی دیر دوزانو نہیں بیٹھ سکتے۔ دربار کے سجادہ نشین مجھے اتنی دیر دوزانو بیٹھا دیکھنے کے بعد ملاقات کے لیے آئے اور کہا کہ یہ میاں صاحب شیر محمد شرقپوری علیہ الرحمہ کا فیض ہے کہ آپ اتنی دیر تک بیٹھے ہیں۔
حضرت عبد التواب صدیقی صاحب مزید فرماتے ہیں کہ والد صاحب(حضرت مولانا محمد عمر اچھروی علیہ الرحمہ )کے ساتھ بھی اُن (حاجی محمد یوسف علی نگینہ علیہ الرحمہ )کی بڑی عقیدت اور محبت تھی اور والدِگرامی کی محبت کی وجہ سے ہم سے بھی محبت کرتے تھے اور ان کی نسبت کی وجہ سے میرا بھی احترام کرتے تھے ، میرے ہاتھ چومتے تھے کہ اُن کا بیٹا ہے ، وہ نیچے بیٹھ کر میری تقریر سنتے تھے اور ہم بھی اِس لیے اُن پر خوش تھے کہ اُن میں تکبر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی ۔صدیقی صاحب فرماتے ہیں کہ حاجی صاحب میرے والدِگرامی کی خدمت میں آج سے چالیس پینتالیس سال پہلے جب حاضر ہوا کرتے تھے تو آپ اُس وقت بالکل جوان تھے اور تہجد اُس وقت بھی آپ نے کبھی نہیں چھوڑی تھی۔وہ فرماتے ہیں کہ والدِ گرامی فرمایا کرتے تھے جو حوالہ کسی کتاب سے کسی کو نہ ملتا ہو تو حاجی محمد یوسف علی نگینہ صاحب کی ڈیوٹی لگادیں تو حاجی یوسف صاحب وہ حوالہ نکال لیں گے اور حاجی صاحب پہلی جلد کی بسم اللہ سے عبارت اپنے ذہن میں رکھ کر ورق گردانی شروع کردیتے گو حوالہ دسویں جلد میں ملتا تو دس کی دس جلدیں اسی طرح تلاش کرتے اور حوالہ نکال لیتے تھے۔ صدیقی صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے کتب خانہ میں جو کتابیں ہیں اُن پر حاجی صاحب کے قلم سے حوالہ جات لکھے ہوئے ابھی تک موجود ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ اتنے انہماک سے مطالعہ کے باوجود نماز یا نفل نہیں چھوڑتے تھے۔
یوسف مصر محبت حصہ دوم

30/12/2025

یوسف مصر محبت میں ،بحوالہ پیر محمد فضل شاہ صاحب ، لکھا ہے کہ خالقِ کائنات کی رحمت کو اُس کے بندوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا ہی خلافتِ الٰہیہ کا تقاضا ہے۔اگر ایسا نہ کیا جائے تو معاشرہ روحانی و مادی دونوں طرح کی مفلسی اور افراتفری کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ اِس کی بدترین مثال ہے۔
مزید لکھا ہے کہ قاضی محمد مظفر اقبال مصطفوی رضوی فرماتے ہیں کہ ایک دن یہ خبر ملی کہ شاہی مسجد میں حضرت محمد یوسف علی نگینہ صاحب (رحمہ اللہ تعالیٰ) آرہے ہیں، شوقِ دیدار میں میں بھی پہنچا۔ ایک دوست نے بتایا کہ وہ ہیں نگینہ صاحب(رحمہ اللہ تعالیٰ)‘سرخ چہرے پر حسین داڑھی کا ہار‘چمکدار آنکھیں‘معصوم سی مسکراہٹ ‘یہ سادگی ہی اُن کا حسن تھا۔جلسہ میں آپ کے نعت پڑھنے کا اعلان ہوا،حضرت نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور اُس کے پیارے محبوب ﷺ کی بارگاہ میں صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد ’’شفا شریف‘‘ سے ایک عبارت سنائی اور پھر اپنی مسحور کن آواز میں اشعار کے نگینے جابجا جڑنے شروع ہوئے۔ وجد و جذب کی حسین محفل کا ایک سماں بندھ گیا‘ہر طرف سے واہ واہ سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہونے لگیں‘محدثِ اعظم پاکستان بھی محظوظ ہوکر دادِ تحسین دینے لگے۔اُن کے چند بول آج بھی میرے کانوں میں رس گھول رہے ہیں:
سورت احزاب کڈھ ذرا‘ بائیویں سپارے نظر ٹکا
پڑھن فرشتے تے خدا صلی علی نبینا
حضرت قاضی صاحب فرماتے ہیں پھر اللہ کے اِس بندے پر ایک وقت آیا کہ وہ مقبول بارگاہِ الٰہی ہوگیا۔ ایک نعت خواں‘علمی مدارج طے کر کے‘دیکھتے ہی دیکھتے نامور علماء کی صف میں شامل ہوگیا اور لوگوں کا مرجع بن گیا۔ انعاماتِ الٰہی کا سلسلہ اور آگے بڑھا اور مسندِ رشد و ہدایت پر جلوہ گر ہوکر علمی و روحانی سوغات لٹاتے لٹاتے بڑے بانکپن سے اُس جہاں کو سدھار گئے۔ کہاں یہ تعارف ہوتا تھا کہ نعت خواں محمد یوسف نگینہ (رحمہ اللہ تعالیٰ) اور کہاں اب یہ اعزاز کہ عالم باعمل فاضل اکمل صوفی باصفاء عامل بے ریا حضرت مولانا محمد یوسف صاحب نگینہ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ وسعہ
این سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
جب تک عطا کرنے والا خدا کسی کو کوئی مرتبہ، صلاحیت اور عزت نہ عطا کرے کسی شخص کے بازو کی طاقت سے وہ رتبہ یا وہ صلاحیت و عزت حاصل نہیں ہوتی ہے
(یوسف مصر محبت حصہ دوم)

29/12/2025

یوسف مصر محبت میں بحوالہ ، مولانا محمد اصغر صاحب، لکھا ہے کہ ایک مرتبہ محدث پاکستان علیہ الرحمہ کی خدمت میں چند احباب آئے‘ عرض کیا کہ ہمیں محقق عالم دین ‘میلاد رسول ﷺ میں درکار ہے تاکہ اگر اغیار کوئی سوال کریں تو اُن کا محققانہ انداز میں جواب دے سکے۔ حضرت نے فرمایا کہ یہ ہمارے حاجی محمد یوسف علی نگینہ علیہ الرحمہ بہت بڑے محقق ہیں۔ انہیں دعوت دے دو۔ کسی نے کہا یہ حاجی صاحب امّی ہیں۔ جواباً محدث اعظم علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اُمّی کا یہ معنی نہیں جو آپ سمجھتے ہیں، ہمارے حاجی صاحب نبی الامی ﷺ سے علم لدّنی سے مالا مال ہیں۔مزید لکھا ہے کہ سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنی کتاب غنیۃ الطالبین میں ارشاد فرمایا ہے کہ’’جب تو صدق و اِخلاص سے باری تعالیٰ کا طلبگار بن جائے تو مولا تعالیٰ تجھے ایسا آئینہ عطا فرمائے گا جس میں تجھے دنیا اور آخرت کے عجائبات نظر آئیں گے‘‘۔ یعنی ایسا آئینہ جس میں اولیاءکاملین کو دنیا و آخرت کی معلومات حاصل ہوجاتی ہیں۔ یہ علم لدنی ہے ۔
مولانا محمد اصغر صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ علامہ سید پیر عباس علی شاہ علیہ الرحمہ نے فاروق آباد میں مجھے اور قبلہ حاجی (محمد یوسف علی)نگینہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو بسلسلہ بڑی گیارہویں شریف مدعو کیا جب محفل کا آغاز ہوا تو تعارفی وعظ کے دوران پیر عباس علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ سے ایک شخص نے سوال لکھ بھیجا کہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے پیر صاحب کون تھے؟ تو شاہ صاحب نے فرمایا کہ مجتہدین کو بیعت کی ضرورت نہیں ہوتی تو اس شخص نے مجمع عام میں کھڑے ہوکر کہا کہ شاہ صاحب یہ کس کتاب میں لکھا ہے؟ تو شاہ صاحب نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ میں نے صحیح جواب نہ دیا ہو‘ تو انہوں میں مجھےاور محترم حاجی صاحب کا نام لے کر کہا یہ اِن کا موضوع ہے وہ مذکورہ سوال کا جواب دیں گے ،تو معاً بعد انہوں نے حضرت پیر حاجی محمد یوسف علی نگینہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا اعلان کردیا۔ حضرت نے بیان شروع کرتے ہی فرمایا کہ پیر عباس علی شاہ صاحب کا ایسا فرمانا اُن کے علم و فضل کے منافی نہیں ، آج کا اجتماع اگر سوال و جواب کا ہی ہے تو جس کا دل چاہے اور جو بھی سوال کرے یہ فقیر اُس کا جواب دے گا۔جس شخص نے امام اعظم رضی اللہ عنہ کے پیر یا شیخ طریقت کے بارے میں سوال کیا ہے کہ وہ کون ہے ؟ تو سنو! وہ شیخ قطب عالم سیّدنا و مولانا سید ابراہیم بن حسن بن حسن مجتبیٰ علی جدہ و علیم السّلام اجمعین ہیں’’کما فی منتخب تواریخ‘‘ اور اسعاف الراغبین‘‘۔یہ حوالے سن کر سائل مطمئن ہوگیا۔ حاجی صاحب فرماتے رہے کچھ اور سوال کرو مگر کسی شخص میں سوال کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔

25/12/2025

بندے رب دے دُعا کر کے تقدیر بدل دیندے

بندے رب دے دعا کر کے تقدیر بدل دیندے
اے لوح و قلم والی تحریر بدل دیندے

پھر ٹہنی کھجور دی نوں تلوار بنا چھڈ دے
سوٹے نوں بنا سپ تے تصویر بدل دیندے

کڈھن اوٹھنی پتھراں چوں مُردے وی کرن زنده
کھوہ کھارے چہ لب سٹ کے تاثیر بدل دیندے

ہو جائے نظرجس تے کر لین جنہوں اپنا
دل شیشہ بنا اُس دا تے خمیر بدل دیندے

میرے پیر مجدد جد طاہر تے نظر کردے
کر دور شقاوت نوں تے ضمیر بدل دیندے

رومی کہیا قدرت رب بخشی اے ولیاں نوں
چلے ہوئے راہواں چوں ایہہ تیر بدل دیندے

آج کل دے مفسر کئی تفسیر دلوں گھڑ دے
کٹ کٹ کے حدیثاں نوں تفسیر بدل دیندے

مضمون بدل کے تے مفہوم بدل جاندے
آیات قرآنی دی تنویر بدل دیندے

بگڑی تیری بن جاسی مل غوث دا در یوسف
قسمت نے غلاماں دی میرے پیر بدل دیندے

کلام: باباجی سرکار پیر طریقت، رہبر شریعت، حضرت علامہ مولانا حاجی محمد یوسف علی نگینہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ (فیصل آباد)

19/12/2025

ساقی نامہ
رکھ سانبھ سراحیاں تے ساغر نظراں دے جام پلا ساقی
کر لانبھے نظر نہ نظراں توں آج میری ہوش اُڑا ساقی

آج جام تے جام پلائی جا ، سبھناں دی ہوش اُڑائی جا
مستی سب نوں ورتائی جا ، تیرا ہووے شان سوا ساقی

نظراں دے نال ملاون دے جے قابل نظر نہ میری اے مینوں ہن چہرہ تکن دے ایناں تے کرم کما ساقی

رہوے وسدا تیرا مے خانہ، رہوے چلدا تیرا پیمانہ
پیا آکھے ہر اک دیوانہ ، آج نہ ایناں ترسا ساقی دے

آئے نے تیرے دیوانے ، بیٹھے نے سارے مستانے
وچ رقص آون پیمانے رُخ اُتوں پردہ چا ساقی

آ جہناں لائے ڈیرے نے ایہہ سارے منگتے تیرے نے
یوسف وی بردا تیرا اے در توں نہ دُور ہٹا ساقی

کلام: پیر طریقت، رہبر شریعت حضرت حاجی محمد یوسف علی نگینہ سرکار رحمۃ اللہ علیہ

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Nageena Masjid, China Scheme
Lahore
54900