31/05/2026
السلام علیکم
میں سندھ حکومت، ڈی آئی جی صاحب، ایس ایس پی صاحب، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں سے گزارش کرتا ہوں کہ پریا کماری کے معاملے پر فوری توجہ دی جائے۔
پریا کماری کی محفوظ واپسی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اس کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک معصوم بچی کی جدائی اس کے خاندان کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہے، اور ہم سب اس کی محفوظ واپسی کی امید رکھتے ہیں۔
تمام سوشل میڈیا صارفین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام سے اپیل ہے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور پرامن انداز میں آواز بلند کریں۔
ہمارا مطالبہ ہے:
"پریا کماری کو آزاد کرو"
"پریا کماری کو گھر واپس لاؤ"
"پریا کماری کو انصاف دو"
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پریا کماری جلد اپنے گھر والوں کے پاس محفوظ واپس آئے۔
منجانب:
ڈاکٹر سیدرفیق ایڈووکیٹ
26/05/2026
400 وکلاء کا دولت خان ترین کا کیس فری میں لڑنے کا اعلان
25/05/2026
آپ کا احسان پشتون اور خیبر پختونخوا کھبی نہیں بھولیں گے،آپ کی خدمت ،قربانیاں اور مظلوم کے لئے آواز ہمیشہ یاد رکھی جائے گی،
ہم آپ کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتے ہیں،
18/05/2026
🚨 ٹک ٹاک پابندی کیس — لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرنے کے لئے سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اسلام آباد کو درخواست،اور فیصلہ لاھور ہائی کورٹ ارسال ۔۔۔۔
جس کا اردو ترجمہ 👇
بخدمت سیکرٹری، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، اسلام آباد
موضوع: معزز لاہور ہائی کورٹ کے حکم مورخہ 09-04-2026 پر عملدرآمد — رٹ پٹیشن نمبر 21069/2026
محترم
یہ امر باادب عرض ہے کہ درخواست گزار ڈاکٹر سید رفیق ایڈووکیٹ نے معزز لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 21069/2026 بعنوان Dr. Syed Rafiq Advocate Vs Federation of Pakistan & Others دائر کی تھی۔
معزز عدالتِ عالیہ نے مورخہ 09-04-2026 کے فیصلے کے ذریعے حکم صادر فرمایا کہ درخواست گزار کی زیر التواء درخواست کو جلد از جلد، قانون کے مطابق، میرٹ پر، اور تمام متعلقہ فریقین کو سماعت کا موقع فراہم کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔
تاہم، معزز عدالت کے واضح احکامات کے باوجود درخواست گزار کی درخواست تاحال آپ کے دفتر میں زیر التواء ہے اور ابھی تک کوئی قانونی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔
یہ صورتحال نہ صرف عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کے مترادف ہے بلکہ انصاف کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر کا سبب بھی بن رہی ہے۔
قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل کرنا ہر سرکاری ادارے کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔ دانستہ عدم تعمیل یا بلاجواز تاخیر توہینِ عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت کارروائی کا موجب بن سکتی ہے۔
لہٰذا مؤدبانہ گزارش ہے کہ:
✅ معزز عدالت کے حکم پر فوری عملدرآمد کیا جائے؛
✅ درخواست گزار کی زیر التواء درخواست کو مزید تاخیر کے بغیر، قانون اور میرٹ کے مطابق فیصلہ کیا جائے؛
✅ فیصلے سے درخواست گزار کو باضابطہ تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید گزارش ہے کہ اس نمائندگی/درخواست کی وصولی سے 30 دن کے اندر اندر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر درخواست گزار اپنے قانونی حقوق استعمال کرتے ہوئے معزز عدالت میں مناسب توہینِ عدالت کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
✍️ درخواست گزار:
ڈاکٹر سید رفیق ایڈووکیٹ
مزنگ روڈ، لاہور ہائی کورٹ
📞 03130313109
📎 منسلکات:
• اصل درخواست کی نقل
• لاہور ہائی کورٹ کے حکم مورخہ 09-04-2026 کی مصدقہ نقل
• موجودہ درخواست/نمائندگی کی نقل