The Professor

The Professor

Share

آزاد، خودمختیار، اور بے باک۔ اظہار رائے کی آزادی سب سے مقدس چیز ہے۔ اور یہی انسان کو ترقی کہ طرف لے جاسکتی ہے۔
Ah Ta Xham all you want to know

Photos from The Professor's post 17/06/2026

صدر محترمہ فائزہ رعنا صاحبہ، میڈم فاخرہ نورین صاحبہ، سابق کولیگ اور عزیز دوست ملک ارشاد صاحب، یامین چودھری صاحب اور دیگر کی جدوجہد کو سلام ❤️ جہاں لاہور شہر نہیں نِکلا وہاں آپ لوگ سب کے حقوق کے لئے کھڑے رہے۔ مزاحمت اور جدوجہد آسان نہیں ہوتی۔ اور ایسی کمیونٹی میں جہاں اپنے حقوق کا بھی شعور کم ہو زیادہ مشکل ہوتی ہے۔
آپ سب کو دی پروفیسر کا سلام ❤️

24/05/2026

(روجھان کی ڈائری سے۔۔۔ چند سال پرانی تحریر)

شام کی چائے کے بعد جج صاحب نے اپنی سکیورٹی پر تعینات کانسٹیبل کو گیٹ پر رکنے کا کہا تاکہ وہ میرے ساتھ ننگے پیر ذرا لان میں چہل قدمی کر سکیں۔۔ اب میرے ساتھ گفتگو میں لائبریری اور کتابیں اولین موضوعات میں سے ہو سکتے تھے۔ جج صاحب نے پوچھا یہاں لائبریری بھی ہے؟ میں نے کہا جی سر، یہاں لائبریری میں کافی اچھی کتابیں موجود ہیں۔ گویا جوتے پہننے کے بعد رخ لائبریری کا ہوا۔ گدا حسین نے شاہ جی کو چابیاں دے رکھی تھیں تو وہ جلدی سے کھل بھی گئی لیکن ساری کتابیں اپنی متعلقہ ریکس کی بجائے میزوں پر آرام فرما رہی تھیں اور ایک دوسرے سے شاید ملاقات اور اختلافات دور کرنے کا موقع کالج نے ان کو فراہم کیا تھا۔ کیونکہ اس کے بعد انہوں نے ترتیب سے اپنے متعلقہ خانوں میں چلے جانا تھا۔ لائبریری پہنچتے ہی میں نے جج صاحب کو کتابوں کے جھنڈ کے حوالے کیا اور دس پندرہ منٹس تک میں بھی چہل قدمی کرتا رہا اور موبائل میں مصروف رہا۔ کہ اچانک جج صاحب نے مجھے مخاطب ہو کر کہا “پروفیسر صاحب اگر یہ آدھی میز کتابوں کی کوئی پڑھ لے تو اُس کے پاس کتنا علم آ جائے گا، لوگ سوچتے ہی نہیں۔” ڈاکٹر ربنواز مونس صاحب کی صحبت نے تصویر کا دوسرا رخ تو دکھانا سکھا ہی دیا تھا، میں نے فوراً اس میز پر پڑی کتابوں کی طرف نظر ڈالی اور اسی طرف بڑھا جہاں جج صاحب ہاتھوں کے اشارے سے مجھے باور کرا رہے تھے کہ یہ آدھی کتابیں جو میز پر بکھری پڑی ہیں ان کو پڑھنے سے کتنا علم آ جائے گا۔ مجھے ان کی بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔۔ مگر میں نے اثبات میں سر ہلایا کہ جی سر بالکل۔۔ جب کوئی بات مجھے کھٹکتی رہے تو وہ میں مونس صاحب سے ضرور ڈسکس کرتا ہوں، وہ چاہے بائیولوجی کے متعلق ہی کیوں نہ ہو کیونکہ مجھے ان کی گفتگو سے اتنی لذت ملتی ہے جو شاید کہیں اور نہیں۔۔
صبح ملاقات میں میں نے ڈاکٹر صاحب کو یہی بات بتائی اور ڈاکٹر صاحب نے کہا ان کو بتانا تھا یہ میز آپ پڑھ لیں تو آپ کو اچار اور چٹنیوں، گرامر، عربی و فارسی کے صیغے، قاسم کے گھوڑے کا رنگ، نسل غرض بہت کچھ پتہ چل جائے گا۔ یہ میرے دماغ میں ادھورے رہ جانے والے سوالوں کے جواب تھے کہ جج صاحب کو بکھری کتابوں کے وزن سے غرض تھی نہ کہ معیاری کتابوں کو پڑھنے سے۔ یہ بات میں نے سومرو صاحب کو بھی بتائی تھی، ان کا شاندار چٹکلہ بھی کمال تھا۔
جج صاحب چار کتابیں ادھار لے گئے تھے۔ مگر ان کا ٹرانسفر ہو گیا تو میں نے دو چار مہینے بعد سومرو صاحب سے کہا کہ کتابیں تو واپس کروائیں، وہ تو چلے گئے، ان سے منگوا دیں۔ تو پتہ چلا یکسر مختلف موضوعات پر ادھار لی گئی کتابیں انہوں نے کبھی پڑھی ہی نہیں، وہ ان کے چیمبر میں پڑی ہیں اور اگلی صبح گدا حسین اٹھا لایا۔

18/05/2026

کوئی دوست رہنمائی کرے پیپلا نے کن قصابوں کے ساتھ ایم او یو سائن کیا ہے؟ تاکہ کمیونٹی ڈسکاونٹ پیکج سے مستفید ہو سکے۔

17/05/2026

سر کے اور داڑھی کے بال کافی بڑے ہوگئے ہیں۔ کوئی دوست رہنمائی کرے۔ پیپلا نے کس حجام کے ساتھ کمیونٹی کہ مفاد میں ایم او یو سائن کیا ہے؟ تاکہ میں ڈسکاؤنٹ سے مستفید ہو سکوں 🥳

17/05/2026

چغتائی لیب کے بعد پیپلا “الیاس دُنبہ کڑھائی” والے کے ساتھ بھی کوئی ایم او یو سائن کرے۔ کمیونٹی نے سستا دُنبہ بھی کھانا ہے

21/04/2026

صدر پیپلا لاہور سے ہونا شرط نامنظور۔۔

21/04/2026

تحریک اساتذہ پنجاب کے اگلے الیکشن میں صدارتی اُمیدوار کے لیے مُحترمہ پروفیسر ڈاکٹر فاخرہ نورین صاحبہ کا نام ہونا چاہیے۔ وہ ایک مضبوط آواز اور مسائل سے آگہی رکھنے کہ ساتھ مزاحمتی سیاست سے بھی اچھی طرح سے واقف ہیں۔
مُحترمہ فاخرہ نورین صاحبہ کی الیکشن میں بھرپور حمایت کریں گے۔ انکے علاوہ کوئی اُمیدوار صدارت کے لیے اہل نہیں۔

18/04/2026

اگلے پیپلا انتخابات میں پینل ووٹ کی بجائے کمیونٹی کو یہ حق دیا جائے کے وہ اپنے من پسند افراد کا انتخاب کر سکیں۔ کیونکہ پینل ووٹ فلاپ ہو گیا ہے۔
کمیونٹی کو انکا جمہوری حق دینا چاہیے۔ پچھلے الیکشن میں ڈاکٹر طارق کلیم صاحب کو ووٹ ڈالنے کی وجہ سے میں اپنے ایک کولیگ کو ووٹ نہیں ڈال سکا ایسے ہی ہزاروں پروفیسر صاحبان کو اپنی حقیقی رائے سے محروم رکھا گیا۔

18/04/2026

اگلے پیپلا انتخابات میں پورے پنجاب میں کِسی پرنسپل کو پریزائڈنگ آفیسر نہیں بنانا چاہیے بلکہ کالج میں موجود معزز اساتذہ میں سے سینیئر یا سینیارٹی کی بنیاد پر اساتذہ سے درخواست کرنی چاہیے کے وہ کمیونٹی کے لئے الیکشن کی خدمات سر انجام دیں۔
شفافیت کے لئے
پرنسپل صاحبان کو یونین کے الیکشن میں تمام سیاسی عمل سے دور رکھنا ضروری ہے۔

17/04/2026

پلاننگ کمیشن کے چیف اکونومسٹ
ماہر معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق نے 21 اپریل 1968 میں اپنی ایک تحقیق میں بتایا کہ پاکستان کے 66 فیصد صنعتی اثاثے، 70 فیصد انشورنس، اور 80 فیصد بنکاری نظام صرف مُلک میں موجود 22 خاندان چلا رہے ہیں۔
جنمیں سہگل خاندان، داؤد خاندان، آدم جی خاندان، حبیب خاندان، اصفہانی خاندان اور دیگر شامل تھے. خاندانوں کی یہ فہرست انکی ذات سے زیادہ کاروباروں سے منسلک ناموں کے ساتھ سامنے آئی۔ جسکے بعد ان کاروباری لوگوں کے خلاف ایک عوامی مومنٹم بنا جو غریب ممالک میں اکثر جلسے جلوسوں، جلاؤ گھیراؤ اور احتجاج کی شکل میں نکلتا ہے۔ جسکا بھرپور فائدہ اٹھایا بیریسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے جو ڈکٹیٹر ایوب خان کی کیبنٹ میں وزیر خارجہ تھا۔ بھرپور فائدہ اٹھانے کی بات اس لیے کیونکہ ڈاکٹر محبوب الحق کی 1968 کی 22 خاندانوں کی دولت کی تحقیق سے ایک سال قبل یعنی کہ 1967 میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ چکا تھا۔ اور پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے سے بھی ایک سال قبل یعنی 1966 میں وہ ملٹری ڈکٹیٹر ایوب خان کی کابینہ سے علیحدگی اختیار کر کہ اپنی سیاست کا آغاز کر چکا تھا۔
نئی نویلی پیپلز پارٹی کے پاس ڈاکٹر محبوب الحق کی تحقیق تھی۔ اور ذوالفقار علی بھٹو کہ پاس کارل مارکس کا لٹریچر۔ سیاست بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ عوامی جلسوں میں 22 دولت مند خاندانوں کو روسی سوشلسٹ نظریات کی بھینٹ چڑھایا گیا اور عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ آپکی غربت، بے روزگاری، بھوک (جو کہ ہمیشہ سے گلوبل ایشوز رہے ہیں) انکی وجہ یہ سرمایہ کار ہیں جنہوں نے آپکی محنت سے دولت کمائی ہے۔۔ انکی دولت کے اصل مالک آپ ہیں۔
سارا دن حقہ پینے، بٹیرے اور مرغے لڑانے والے کام چور اور غیر پیداواری غریب کے دل کو یہ بات اسقدر لُبھا گئی کہ وہ خود کو 22 خاندانوں کی دولت میں حصہ دار سمجھنے لگا۔۔ اور بیریسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے مفروضاتی اثاثوں اور مالی حقوق کے لیے وکیل نامزد کر لیا۔ سابق وزیر خارجہ، کارل مارکس کے سوشلسٹ نظریات کا اسلامی لٹریچر کے مساوات کے پہلو سے موازنہ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کا پڑھا ہوا، مغربی تہذیب سے واقف، تقریر کے فن اور عوامی جذبات بھڑکانے میں ماہر بھٹو کہ پاس اب ایک سٹیج اور لاکھوں کا مجمعہ تھا جو 22 سرمایہ دار خاندانوں کی زمین تنگ کر رہا تھا اور ایک نئی پارٹی یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کو مغربی پاکستان میں مقبول کر رہا تھا۔ جسکا مقابلہ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ سے بھی تھا۔
(جاری ہے)

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Lahore