Malik & Sons Paper Products

Malik & Sons Paper Products

Share

Customized school Note Books. Customized Student Diaries. with school name and logo printing. Work Books publishing. Available at Factory/ Wholesale rate.

18/05/2026
18/05/2026

ذوالحجہ کے پہلے دس دن اسلام میں سال کے بہترین اور فضیلت والے دن قرار دیے گئے ہیں، جن میں کی جانے والی عبادتیں اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں۔ ان مبارک دنوں میں درج ذیل اعمال کثرت سے کرنے کی تاکید کی گئی ہے:
​۱. کثرت سے ذکر اور تکبیرات (تسبیح، تحمید، تہلیل)
​ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنا چاہیے۔ خاص طور پر کثرت سے "سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، اور اللہ اکبر" پڑھنا چاہیے۔
​تکبیرِ تشریق: ۹ ذوالحجہ کی فجر سے لے کر ۱۳ ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ بلند آواز سے (خواتین آہستہ آواز میں) یہ تکبیر پڑھنا واجب ہے:
​"اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَاللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ وَلِلہِ الْحَمْدُ"
​۲. نفل روزے رکھنا
​ان دس دنوں میں روزے رکھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ خاص طور پر ۹ ذوالحجہ (عرفہ کے دن) کا روزہ رکھنا بہت اہم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عرفہ کے دن کے روزے سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ (نوٹ: ۱۰ ذوالحجہ کو عید کی وجہ سے روزہ رکھنا ممنوع ہے)۔
​۳. توبہ و استغفار اور گناہوں سے بچنا
​ان فضیلت والے دنوں میں اپنے پچھلے گناہوں کی سچی توبہ کرنی چاہیے اور ہر قسم کی نافرمانی، لڑائی جھگڑے اور غیبت سے دور رہنا چاہیے تاکہ ان ایام کی برکات حاصل ہو سکیں۔
​۴. صدقہ و خیرات اور نیک اعمال
​ان ایام میں کیے جانے والے تمام نیک اعمال کا اجر بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا، نفلی نمازیں (جیسے تہجد، اشراق، چاشت) پڑھنا، اور قرآن پاک کی تلاوت کثرت سے کرنا بہت افضل ہے۔
​۵. قربانی کی تیاری (ناخن اور بال نہ کاٹنا)
​جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے مستحب (بہتر) ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے جسم کے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
​۶. عید کے دن قربانی کرنا
​۱۰ ذوالحجہ کو نمازِ عید کے بعد اللہ کی راہ میں جانور قربان کرنا ان دنوں کا سب سے بڑا اور پسندیدہ عمل ہے۔
​اللہ تعالیٰ ہمیں ان مبارک دنوں کی قدر کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

18/05/2026

سال کے کسی اور حصے میں یہ تمام عبادتیں ایک ساتھ جمع نہیں ہوتیں۔
​اس عشرے کے اہم اور مسنون اعمال
​ان مبارک گھڑیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے درج ذیل اعمال کا خاص اہتمام کرنا چاہیے:
​۱. کثرت سے ذکر الٰہی (تکبیرات)
​ان دنوں میں اللہ کی بڑائی بیان کرنا مسنون ہے۔ مردوں کو مسجدوں اور بازاروں میں بلند آواز سے، اور خواتین کو آہستہ آواز میں یہ تکبیرات پڑھنی چاہئیں:
​اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد۔
​۲. یومِ عرفہ (9 ذوالحجہ) کا روزہ
​نو ذوالحجہ کا روزہ رکھنا بہت بڑی سعادت ہے۔ نبی کریم ﷺ سے جب اس روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
​"میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ یہ (عرفہ کا روزہ) اگلے اور پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔" (صحیح مسلم)
​۳. قربانی کی تیاری (ناخن اور بال نہ کاٹنا)
​جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے مستحب ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے جسم کے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
​۴. سچی توبہ اور دیگر نیک اعمال
​یہ دن گناہوں سے معافی مانگنے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کے ہیں۔ ان دنوں میں نفل نمازیں، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک جیسے نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔
​خلاصہ
​ذوالحجہ کے یہ دس دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتِ محمدیہ کے لیے ایک عظیم تحفہ ہیں۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، اس لیے ہمیں چاہیے کہ غفلت کو چھوڑ کر ان قیمتی لمحات کی قدر کریں، خوب عبادت کریں اور اللہ کی رحمتوں کے سائے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔

14/05/2026

حکومت سے گلے شکوے کرنے والی عوام اپنا احتساب بھی تو کرے
یہ دو تصویریں نہیں دو کہانیاں ہیں معاشرے کی ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت
ایک طرف غلام رسول پاکستانی صاحب ہیں جنہوں نے اب تک بیس لاکھ سے زائد درخت لگا کر ماحول کو بچانے کے لیے دن رات محنت کی ہے خاموشی سے بغیر کسی ہائپ کے ملک اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں
دوسری طرف نیشا پومی صاحب ہیں ایک ہی لائن Nisha Pomi you from پر چالیس لاکھ سے زائد ویڈیوز بن چکی ہیں جاہل مزاج عوام کے ہیرو بن چکے ہیں حکومت پروٹوکول دیتی ہے میڈیا کور کرتا ہے اور لوگ ان کے پیچھے پاگل ہیں
ایک شخص جو درخت لگا کر ملک کا مستقبل سنوار رہا ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں
دوسرا شخص جو ایک بے معنی لائن سے مشہور ہوا اس کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا جاتا ہے
یہ ہمارا معاشرہ ہے
جب تک ہم سنجیدہ نہیں ہوں گے برے کو برا اور اچھے کو اچھا کہنے کی ہمت نہیں کریں گے تب تک بربادی ہی ہمارا مقدر رہے گی
ترجیحات بدلیں ہیروز بدلیں ورنہ شکوے کرنے سے کچھ نہیں بدلے گا
آئیے آج ہم اپنے حقیقی ہیرو کو خراج تحسین پیش کریں اور انکے لیے استقامت کی دعا کریں
غلام رسول پاکستانی کے لیے محبتوں بھرا ایک جملہ ضرور لکھیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ذی شعور لوگ ان سے بہت پیار کرتے ہیں❤️

13/05/2026

آزمائشوں سے بھرا ہوا سفر حج
الحمدللہ! جناب محمد منظور صاحب مع اہلیہ حجِ بیت اللہ کے لیے روانہ ہوچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کی سعادت بھی حاصل کرچکے ہیں۔ لیکن یہ سفر عام سفر نہیں تھا، بلکہ آزمائشوں، صبر، تکلیف اور اللہ پر کامل بھروسے کی ایک زندہ داستان تھا۔

اصل پروگرام کے مطابق 6 مئی 2026 کو گھر سے بذریعہ ٹرین ممبئی روانگی تھی اور 10 مئی کو ممبئی سے جدہ کے لیے فلائٹ مقرر تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 5 مئی کو آپ کی منجھلی صاحبزادی اپنے سسرال پٹھن پورہ سے کنھواں والدین سے ملاقات اور انہیں سفر حج کے لیے رخصت کرنے کے جذبے سے آرہی تھیں کہ راستے میں ایک المناک حادثے کا شکار ہوگئیں۔ سر میں شدید چوٹ آئی، فوری طور پر پٹنہ لے جایا گیا، مگر چوبیس گھنٹے کے اندر وہ اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر عطا کرے آمین۔

اس عظیم صدمے کی وجہ سے 6 مئی کا ٹرین ٹکٹ منسوخ کرنا پڑا اور بعد میں 8 مئی کو پٹنہ سے ممبئی کے لیے فلائٹ بک کی گئی۔ چنانچہ 7 مئی کو بعد نمازِ ظہر اپنی لختِ جگر کی نمازِ جنازہ میں شرکت فرمائی اور اگلے ہی دن، دل پر پہاڑ جیسا غم لیے، سفرِ حج کے لیے روانہ ہوگئے۔

8 مئی بروز جمعہ صبح 10 بجے روانگی ہوئی۔ جمعہ کی نماز سیتامڑھی میں ادا کی۔ رات 10 بجے پٹنہ سے فلائٹ تھی اور یہ لوگ شام 5 بجے ہی پٹنہ پہنچ چکے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ ابھی مزید آزمائش لینا چاہتا تھا۔ اسی دن شدید آندھی اور طوفان کی وجہ سے پٹنہ شہر کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ جگہ جگہ درخت گرے ہوئے تھے، راستے بند تھے، ٹریفک مکمل جام تھا۔ بعض مقامات پر درخت گاڑیوں اور لوگوں پر بھی گرے۔ خبروں کے مطابق کئی لوگوں کی جانیں بھی چلی گئیں۔ ان ہی حالات کی وجہ سے پانچ گھنٹے پہلے شہر پہنچنے کے باوجود وقت پر ائیرپورٹ نہ پہنچ سکے اور فلائٹ چھوٹ گئی۔

رات کے بارہ بج رہے تھے۔ ہر طرف سناٹا، بند دکانیں، تھکے ہوئے چہرے اور دلوں میں فکر و بے چینی۔ دوسری طرف ممبئی سے جدہ کی فلائٹ میں اب ایک دن سے بھی کم وقت باقی تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود اللہ تعالیٰ پر کامل یقین تھا کہ وہ ضرور راستہ نکالے گا۔

چنانچہ 9 مئی سہ پہر ساڑھے تین بجے کی فلائٹ کا انتظام ہوا۔ رات ہوٹل میں گزاری گئی۔ اگلے دن وقت سے کافی پہلے ائیرپورٹ پہنچ گئے، مگر وہاں معلوم ہوا کہ فلائٹ ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوگی۔ دل میں پھر اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں ممبئی پہنچنے میں دیر نہ ہوجائے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا، فلائٹ نے اڑان بھری اور تقریباً سات بجے ممبئی ائیرپورٹ پہنچ گئے۔ پھر اللہ کے فضل سے تمام مراحل آسان ہوتے گئے اور جناب محمد منظور صاحب مع اہلیہ حاجیوں کے قافلے کے ساتھ بخیر و عافیت جدہ اور وہاں سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔
الحمدللہ! عمرہ کی سعادت بھی حاصل ہوچکی ہے۔

واقعی کہا جاتا ہے کہ حج مشقت، صبر اور آزمائش کا سفر ہے، اور اس مرتبہ یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنے کو ملا۔

اللہ تعالیٰ جناب محمد منظور صاحب، ان کی اہلیہ اور تمام حجاجِ کرام کے حج کو حجِ مبرور بنائے، ان کی دعاؤں میں ہم سب کا حصہ نصیب فرمائے اور ہم سب کو بھی بار بار حرمین شریفین کی حاضری عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
✍️ حفظ الرحمٰن قاسمی
23 ذی قعدہ 1447ھ

12/05/2026

ڈیجیٹل ایپس سے لیے گئے قرض کو اتارنا بسا اوقات مشکل محسوس ہوتا ہے، لیکن ایک منظم طریقے سے اس بوجھ کو جلد ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں کچھ عملی مشورے ہیں جو آپ کے کام آ سکتے ہیں:
​۱. قرضوں کی ترجیح کا تعین (Snowball vs Avalanche)
​اگر آپ نے ایک سے زیادہ ایپس سے لون لیا ہوا ہے، تو ان دو طریقوں میں سے ایک اپنائیں:
​سب سے چھوٹا قرض پہلے: سب سے کم رقم والے لون کو پہلے ادا کر کے اسے ختم کریں تاکہ آپ کا ذہنی بوجھ کم ہو اور حوصلہ بڑھے۔
​زیادہ سود والا قرض پہلے: جس ایپ کا مارک اپ یا سود سب سے زیادہ ہے، اسے پہلے اتاریں تاکہ مجموعی رقم میں تیزی سے اضافہ نہ ہو۔
​۲. غیر ضروری اخراجات میں کٹوتی
​کچھ عرصے کے لیے اپنے بجٹ کو انتہائی سخت کر لیں۔ باہر کے کھانے، غیر ضروری آن لائن شاپنگ یا ایسی سبسکرپشنز جو استعمال میں نہیں ہیں، انہیں فوری طور پر روک دیں اور وہ بچنے والی رقم لون کی واپسی میں لگائیں۔
​۳. ادائیگی کے لیے بات چیت (Negotiation)
​اگر آپ کو رقم جمع کرنے میں مشکل ہو رہی ہے، تو ایپ کے کسٹمر سپورٹ سے رابطہ کریں۔
​انہیں اپنی صورتحال بتائیں اور قسطوں (Installments) کی درخواست کریں۔
​بعض اوقات ایپس جرمانے (Late fees) ختم کرنے پر بھی راضی ہو جاتی ہیں اگر آپ اصل رقم فوری ادا کرنے کا وعدہ کریں۔
​۴. متبادل ذریعہ تلاش کریں
​ڈیجیٹل ایپس کا سود عام طور پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو:
​کسی قریبی دوست یا رشتہ دار سے بغیر سود کے ادھار لے کر ایپ کا قرض فوراً ختم کر دیں۔
​اپنے پاس موجود کوئی ایسی چیز جو استعمال میں نہ ہو، اسے فروخت کر کے یہ بوجھ اتاریں۔
​۵. ڈیجیٹل ایپس سے ہوشیار رہیں
​لون ری سائیکلنگ سے بچیں: ایک ایپ کا قرض اتارنے کے لیے دوسری ایپ سے لون ہرگز نہ لیں، یہ آپ کو ایک لامتناہی دلدل میں پھنسا سکتا ہے۔
​رجسٹرڈ ایپس چیک کریں: صرف SECP سے منظور شدہ ایپس کا استعمال کریں اور غیر قانونی ایپس کی دھمکیوں میں نہ آئیں، بلکہ ان کی رپورٹ کریں۔
​سب سے اہم بات: جتنی جلدی ہو سکے اصل رقم ادا کر کے اپنا اکاؤنٹ بند کروائیں اور مستقبل میں ایسی ایپس سے بچنے کی کوشش کریں جن کے چارجز واضح نہ ہوں۔

11/05/2026

پاکستان میں حالیہ چند سالوں میں ڈیجیٹل لون ایپس (Digital Loan Apps) کی بھرمار ہوئی ہے۔ بظاہر یہ ایپس بہت مددگار نظر آتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے چھپے حقائق انتہائی تلخ ہیں۔
آپ کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان ایپس کا ایک تفصیلی جائزہ نیچے دیا گیا ہے:
# # **ڈیجیٹل لون ایپس: فوری ضرورت یا مستقل مصیبت؟**
پاکستان میں اس وقت درجنوں ایپس (جیسے بروقت، ایزی لون، پی کے لون وغیرہ) کام کر رہی ہیں۔ یہ ایپس خاص طور پر ان لوگوں کو نشانہ بناتی ہیں جو بینکوں سے قرض لینے کی شرائط پوری نہیں کر پاتے یا جنہیں ہنگامی طور پر رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔
# # # **1. ان ایپس کے نام نہاد "فائدے"**
* **فوری رسائی:** کسی کاغذی کارروائی کے بغیر 5 سے 10 منٹ میں رقم آپ کے اکاؤنٹ (EasyPaisa/JazzCash) میں آ جاتی ہے۔
* **آسان شرائط:** بینک کی طرح کوئی ضمانت یا بڑی سیلری سلپ نہیں مانگی جاتی۔
* **دستیابی:** یہ 24 گھنٹے دستیاب ہیں، صرف اسمارٹ فون اور شناختی کارڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔
# # # **2. ان ایپس کے بھیانک نقصانات (تاریک پہلو)**
**الف) سود کی ناقابلِ یقین شرح (Hidden Interest Rates):**
یہ ایپس اشتہار میں بہت کم سود دکھاتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا سود سالانہ **100% سے 300%** تک جا پہنچتا ہے۔ اگر آپ 10,000 روپے لیتے ہیں، تو سروس چارجز کے نام پر پہلے ہی 2,000 کاٹ لیے جاتے ہیں اور آپ کو صرف 8,000 ملتے ہیں، جبکہ واپسی پورے 10,000 پلس سود کی کرنی ہوتی ہے۔
**ب) واپسی کی مختصر مدت (Debt Trap):**
اکثر ایپس 90 دن کا کہہ کر قرض دیتی ہیں، لیکن 7 دن گزرتے ہی واپسی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیتی ہیں۔ جب صارف ایک قرض نہیں اتار پاتا، تو یہ ایپس اسے دوسری ایپ سے قرض لے کر پہلا قرض اتارنے کا مشورہ دیتی ہیں، یوں انسان ایک نہ ختم ہونے والی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔
**ج) ڈیٹا کی چوری اور پرائیویسی کا خاتمہ:**
ایپ انسٹال کرتے وقت آپ سے "Contacts" اور "Photos" کی اجازت لی جاتی ہے۔ یہ آپ کا تمام پرسنل ڈیٹا ان کے سرور پر منتقل کر دیتی ہیں۔
**د) ہراساں کرنا اور بلیک میلنگ:**
قرض کی واپسی میں ایک دن کی تاخیر پر ان کے ریکوری ایجنٹس بدتمیزی پر اتر آتے ہیں۔ وہ آپ کے فون لسٹ میں موجود آپ کی **والدہ، بہن، بیٹی یا دوستوں کو فون کر کے** غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ آپ "نا دہندہ" (Defaulter) ہیں۔ پاکستان میں کئی لوگ اس ذہنی اذیت اور بدنامی کی وجہ سے انتہائی قدم (خودکشی) تک اٹھا چکے ہیں۔
# # # **3. کیا یہ قرض لینا چاہیے؟**
**جواب: ہرگز نہیں!**
اگر آپ کے پاس کوئی بھی دوسرا راستہ موجود ہو، تو ان ایپس سے بچنا چاہیے۔ آپ کی صورتحال کے مطابق:
1. آپ کے پاس **مینوفیکچرنگ بزنس** ہے، آپ اپنے مال کی نقد فروخت کر کے پیسے پیدا کر سکتے ہیں۔
2. آپ کے پاس **زمین** ہے، جو کہ ایک ٹھوس اثاثہ ہے۔
3. آپ کے پاس پہلے سے **بینک کارڈز** ہیں، جن کا سود ان ایپس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
# # # **4. اگر کوئی پھنس جائے تو کیا کرے؟ (حفاظتی تدابیر)**
* **ایف آئی اے (FIA Cybercrime):** اگر کوئی ایپ آپ کو بلیک میل کرے، تو فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائیں۔
* **ایس ای سی پی (SECP):** صرف ان ایپس سے ڈیل کریں جو SECP سے رجسٹرڈ ہوں (اگرچہ رجسٹرڈ ایپس کا سود بھی بہت زیادہ ہے)۔
* **فون فارمیٹ کریں:** اگر آپ نے ایپ ڈاؤن لوڈ کی ہے، تو اپنا ڈیٹا محفوظ کر کے فون کو ری سیٹ کریں تاکہ ان کی رسائی ختم ہو سکے۔
# # # **خلاصہ:**
یہ ایپس "ڈیجیٹل ساہوکار" ہیں۔ یہ آپ کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر آپ کی عزتِ نفس اور مالی سکون کو برباد کر دیتی ہیں۔ ساڑھے پانچ لاکھ کا بینک قرض ایک بزنس مین کے لیے مینج کرنا ممکن ہے، لیکن ان ایپس کا 50 ہزار کا قرض بھی آپ کی زندگی اجیرن کر سکتا ہے۔
**مشورہ:** اپنی زمین یا بزنس کے اثاثوں پر بھروسہ کریں، ان خونی ایپس پر نہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

76 CHITTER G Road URDU BAZAR
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 18:00