Posc General knowledge Mcqs
فقیہہ الفقہاء ،،،،،، سیدنا سعید بن زید
فقیہہ الامت ،،،،،،،، سیدنا عبداللہ بن مسعود
امام الفقہاء ،،،،، سیدنا معاذ بن جبل
رئیس الفقہاء ،،،،، سیدنا عمر فاروق
ابو العرب ،،،،، حضرت اسماعیل
ام العرب ،،،،،، حضرت حاجرہ
ابو الانبیاء ،،،،،، حضرت ابراہیم
ام الانبیاء ،،،،،، حضرت سارہ
ابو البشر ،،،،،،، حضرت آدم
ام البشر ،،،،،،، حضرت حواء
Ppsc Mcqs Bank
Ppsc and Fpsc preparation mcqs
نظم کا بانی۔۔۔نظیر اکبر آبادی*
*جدید نظم کا بانی ۔۔۔محمد حسین آزاد*
*آزاد نظم کا بانی ۔۔۔نزر محمد راشد*
Ppsc General knowledge
The charismatic leader Quaid e Azam Muhammad Ali Jinnah
*Skindar Hayat*
✅ A Leadership Odyssey
*Skindar Hayat*
✅ Aspects of Pakistan Movement
*Skindar Hayat*
Ppsc General knowledge for Ziladar Exam
The Equator passes through 13 countries:
1. Ecuador
2. Colombia
3. Brazil
4. Democratic Republic of the Congo
5. Republic of the Congo
6. Gabon
7. Indonesia
8. Kenya
9. Uganda
10. Sao Tome and Principe
11. Ghana (just barely)
12. Somalia (just barely)
13. Maldives (just barely, some atolls)
These countries are located in South America, Africa, and Southeast Asia.
Fpsc new rules for Exam
1. No Descriptive Exams from now onwards.
2. Only Single Paper with Negative Marking is the New Policy.
ایرانی میزائل رستے میں کیوں رہ جاتے ہیں؟
ایران کا بیلسٹک میزائل جب اصفہان سے اسرائیل کی جانب فائر ہوتا ہے تو سب سے پہلے اسے عراق میں موجود امریکی فوج، یو اے ای میں موجود فرانس کے رافیل طیارے (جنہیں سعودی عرب اپنی ائر سپیس استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے) اور خلیج فارس میں پہرہ دیتے یو ایس ایس کارل ونسن طیارہ بردار جہاز جدید ترین میزائل ڈسٹرائرز سے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایرانی میزائل ان تمام جدید ترین ہتھیاروں سے بچ نکلے تو اردن کی اپنی فضائیہ اور اردن میں موجود امریکی فوج کے ساتھ ساتھ قبرص سے برطانوی رائل ائر فورس کے ٹائفون اور ایف تھرٹی فائیو طیارے آ لیتے ہیں۔
ان تمام اژدھوں سے بھی بچ نکلے تو اسرائیل کا ائر ڈیفنس سسٹم ایرو تھری 2000 کلو میٹر دور سے ہی اسے خلا میں مارنے کی کوشش کرتا ہے، وہ ناکام رہے تو ایرو ٹو زمین کی فضا میں پہنچتے ہی 1500 کلو میٹر سے 500 کلو میٹر تک آتے آتے اسے تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس سے آگے ڈیوڈ سلنگ نامی ڈیفنس سسٹم اس کا 300 کلو میٹر سے 40 کلو میٹر تک پیچھا کرتا ہے۔
ایرانی میزائل ان تمام سسٹمز کو دھوکہ دے کر نکل بھی آئے تو آخر میں اس کا واسطہ آئرن ڈوم سے پڑتا ہے۔ یہ 70 کلو میٹر سے 4 کلو میٹر تک کی رینج میں اس میزائل کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔
کیا دنیا میں کسی بھی ملک کے میزائل کو اپنے ہدف تک پہنچنے میں اتنی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ اور یاد رہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اس کے اپنے بنائے ہیں جبکہ اس میزائل کو روکنے والے ہتھیار ترقی یافتہ ترین ملکوں کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا اوجِ کمال ہیں۔
محسن سلیم کا تجزیہ
Courtesy; Arif Anees
*Names of Motorways*
👉 *M-1* Islamabad to Peshawar
👉 *M-2* Islamabad to lahore
👉 *M-3* Lahore to Abdul Hakeem
👉 *M-4* Multan to Pindi bhatiyan
👉 *M-5* Multan to sukhur
👉 *M-6* Sukhar to Hyderabad
👉 *M-7* Dadu to Hub
👉 *M-8* Gawadar to Rattu dairo
👉 *M-9* Hyderabad to Karachi
👉 *M-10* In Northern to Karachi
👉 *M-11* Lahore to Sialkot and khariyan.
پاکستان کی کابینہ نے فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے اعزازی عہدے پر ترقی دے دی ہے، جس کے بعد وہ ملک کی تاریخ میں اس لقب کے دوسرے حامل بن گئے ہیں۔ ان سے قبل 1959 میں جنرل ایوب خان کو یہ اعزاز دیا گیا تھا۔ فیلڈ مارشل کا درجہ پانچ ستارہ جنرل کے برابر سمجھا جاتا ہے، جس کی بدولت جنرل عاصم منیر مسلح افواج کے تمام چار ستارہ افسران پر فوقیت رکھتے ہیں۔ یہ اعزاز انہیں آپریشن "بنیان مرصوص" کی کامیابی، حالیہ پاک بھارت تنازع میں جرأت مندانہ قیادت، اور دشمن کو میدان جنگ میں شکست دینے کے اعتراف میں دیا گیا۔
تاریخی طور پر یہ عہدہ قرون وسطیٰ کے یورپ میں جنگی خدمات کے لیے دیا جانے لگا، جیسے 1185 میں ہنری ششم نے البیرک کلیمنٹ کو "امپیریل مارشل" مقرر کیا۔ فرانس میں تیرہویں صدی میں اسے اعلیٰ ترین فوجی عہدہ سمجھا جاتا تھا، جبکہ انگلینڈ میں 1736 میں بادشاہ جارج دوم نے پہلی بار جان کیمبل اور جارج ویڈ کو فیلڈ مارشل بنایا۔ جرمنی کی تیس سالہ جنگ کے دوران البرٹ ویلنسٹائن جیسے کمانڈرز کو بھی یہ خطاب ملا۔ بعد ازاں روس، بھارت (جنرل مانک شاہ، 1973)، اور دیگر ممالک میں بھی یہ روایت مقبول ہوئی۔ بیسویں صدی میں جنرل رومیل اور منٹگمری جیسے فوجی افسران نے دوسری جنگ عظیم کے دوران اس لقب کی شہرت بڑھائی۔
اگرچہ اس عہدے کے ساتھ کوئی اضافی اختیارات یا مراعات وابستہ نہیں ہیں، لیکن یہ فوجی قیادت کے وقار اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں یہ اعزاز جنرل عاصم منیر کی عسکری مہارت کو تسلیم کرتا ہے اور ملکی دفاع کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی کے تناظر میں فوجی تیاریوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ قوم کی طرف سے دی گئی یہ عزت افزائی ملک کی سلامتی کے لیے فوجی قیادت کے عزم کو نئی توانائی بخشے گی۔
*PPSC MCQs:*
Yellow river is located in: *China* (also known as Huang He)
Black river is located in: *USA*
Silver river is in: *USA*
Green river is situated in: *USA*
White river is flowed in: *USA*
Red river is located in: *USA & Canada*
Blue river is located in: *Ethiopia & Sudan*
Orange river flows in: *South Africa
**ڈاکٹر عبد القدیر خان: پاکستان کا ایٹمی خواب اور دفاعی استحکام**
ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان کی تاریخ کے ممتاز سائنس دانوں میں شامل ہیں، جنہوں نے ملک کو *ایٹمی قوت* بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات کا دائرہ سائنس و ٹیکنالوجی سے آگے بڑھ کر قومی دفاع کو ناقابل شکست بنانے تک پھیلا ہوا ہے۔
🇵🇰 **ڈاکٹر عبد القدیر خان کے نمایاں کارنامے:**
1. **⚛️ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت تک پہنچانا**
- ان کی قیادت میں 1976ء میں *خان ریسرچ لیبارٹریز (KRL)* کا قیام عمل میں آیا، جہاں خفیہ انداز میں یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع ہوا۔
- مئی 1998 میں *چاغی کے پہاڑی سلسلوں پر کامیاب ایٹمی تجربات* کے بعد پاکستان *دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت* اور *پہلی اسلامی ریاست* بن گیا۔
2. **🏛️ خان ریسرچ لیبارٹریز (KRL) کا عالمی معیار**
- KRL صرف ایٹمی ٹیکنالوجی تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہاں *غوری میزائل* جیسے دفاعی منصوبوں کی تکمیل نے پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کو جدید بنایا۔
3. **🛡️ دفاعی خودمختاری کا حصول**
- ان کی کوششوں سے پاکستان نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں مکمل خودکفیل ہوا، جس نے خطے میں دفاعی توازن قائم کیا۔
4. **📚 تعلیم اور سائنسی فروغ**
- انہوں نے سائنس اور انجینئرنگ کے شعبوں میں نوجوانوں کی رہنمائی کی، نیز تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کرکے علمی روایت کو مضبوط بنایا۔
5. **🏅 قومی اعزازات**
- پاکستان کی جانب سے انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں:
- *نشانِ امتیاز*
- *ہلالِ امتیاز*
- اور دیگر قومی ایوارڈز شامل ہیں۔
**✒️ ان کا تاریخی قول:**
> "میرا خواب تھا کہ پاکستان کو کوئی شکست نہ دے سکے، اور اللہ کے فضل سے یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔"
> — *ڈاکٹر عبد القدیر خان*
**وفات کی تفصیلات:**
- **تاریخ:** 10 اکتوبر 2021
- **مقام:** اسلام آباد، پاکستان
- **عمر:** 85 سال
- **وجہ:** کووِڈ-19 کے بعد پھیپھڑوں میں انفیکشن
انہیں *پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا بانی* قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی عظیم خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
Gaza Supporting Pakistan
Elon Musk plan for London bridge
Click here to claim your Sponsored Listing.