Brainiacs School System And Academy

Brainiacs School System And Academy

Share

Educational Institute

21/09/2024

ایک ملاح کی کشتی میں دو انتہائی تعلیم یافتہ مگر خودپسند اور مغرور انسان سوار ہوئے. ان میں سے ایک اپنے وقت کا معروف فلسفی تھا اور دوسرا مشہور ریاضی دان. سمندر میں دوران سفر فلسفی نے ریاضی دان پر دھاک بٹھانے کیلئے ملاح کو مخاطب کرکے پوچھا "کیا تمہیں فلسفہ آتا ہے؟" .. ملاح نے متانت سے جواب دیا "نہیں محترم" .. فلسفی نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ "پھر سمجھو تم نے فلسفہ نہ سیکھ کر اپنی پچیس فیصد زندگی ضائع کردی" .. کچھ دیر کشتی میں خاموشی رہی. اب ریاضی دان نے فسلفی کو نیچا دکھانے کی ٹھانی اور ملاح کو بالواسطہ مخاطب کیا "کیا تمھیں ریاضی آتی ہے؟" ملاح نے بے بسی سے نفی میں گردن ہلائی اور کہا "نہیں صاحب" .. اب کے قہقہہ ریاضی دان نے لگایا اور رعونت سے بولا "پھر سمجھو تم نے ریاضی نہ سیکھ کر اپنی آدھی زندگی ضائع کردی"

کشتی میں ایک بار پھر خاموشی چھاگئی. اچانک ملاح نے فلسفی اور ریاضی دان کو مخاطب کیا اور پوچھا "کیا آپ دونوں دانشوروں کو تیراکی آتی ہے؟" .. دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور گردن نفی میں ہلاتے ہوئے بولے "نہیں مگر کیوں؟" .. ملاح نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ "پھر سمجھو آپ نے تیراکی نہ سیکھ کر اپنی پوری زندگی ضائع کردی ... کشتی میں سوراخ ہوگیا ہے اور بچنے کی واحد صورت اس وقت تیراکی ہی ہے"

یہ ایک فرضی داستان ہے مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ علم و ہنر کے کسی شعبے میں مہارت رکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان متکبر ہوجائے یا یہ غلط فہمی پال لے کہ علم و ہنر کے دوسرے شعبے کمتر ہیں. ایک کمہار بھی اپنے فن میں اتنا ہی مشتاق ہے جتنا کوئی آئی ٹی پروفیشنل. ایک مدرسے کا عالم دین بھی ایسے ہی قابل عزت ہے جیسے ایک کالج کا پروفیسر. ہم انسان مختلف علوم میں مہارت رکھتے ہیں اور ہمیں انکسار و باہمی ادب کے ساتھ ایک دوسرے سے مستفید ہونا چاہیئے. سائنس کے شعبے انسانیت کیلئے فی الواقع تکریم کے حامل ہیں مگر اس سے ہرگز یہ مراد نہیں لینی چاہیئے کہ سائنسدان کسی فلسفی، شاعر یا مصور سے زیادہ زہین ہوتے ہے. حقیقت فقط اتنی ہے کہ ان سب کی ذہانت جدا جدا ہے اور مختلف شعبوں سے وابستہ ہے.
منقول

09/07/2024

بفضل اللّٰہ ایک بار پھر علاقہ بھر میں بورڈ کے رزلٹ میں برینیکس سکول اور اکیڈمی کے طلباء نے نمایاں پوزیشن حاصل کیں۔ ہمارے طلباء ہمارا اثاثہ ہیں۔ 💞
بورڈ کے امتحانات میں طلباء کی نمایاں کارکردگی کے علاوہ ادارہ ہذا میں کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے جس میں ادارہ کے بانی سر تنویر حسین رح کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طلباء میں منطقی سوچ کو پروان چڑھانا، مطالعہ کی جانب راغب کرنا، مادہ پرستی کی دور میں دینی حمیت بیدار کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ ✨
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سیشن میں ادارے پر 150 سے زائد میٹرک کے طلباء نے اعتماد کرتے ہوئے ٹیسٹ سیشن جوائن کیا اور سو فیصد نتائج حاصل کیے۔ ❣️

fb.me 28/05/2024

For any type of study related assistants, feel free to consult

fb.me

18/03/2024

کیا پریکٹیکل میں بھی فیل ہو سکتے ہیں؟
جواب: اگرچہ پریکٹیکل میں پاس ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے لیکن ایسے طلباء کے کیسز ملتے ہیں جو پریکٹیکل میں لاپرواہی برتنے سے فیل ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ پریکٹیکل میں فیل ہونے کی صورت میں اس سبجیکٹ کے نہم اور دہم کے دونوں پیپرز بھی دوبارہ دینے پڑتے ہیں۔ اس لیے احتیاط بہتر ہے۔
کاپی بنی بنائی لی جائے یا خود بنائی جائے؟
جواب: بعض صورتوں میں پریکٹیکل امتحانات لینے والے کاپیاں ویسے ہی رکھ دیتے ہیں لیکن اگر ممتحن نے چیک کر لی تو مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ کاپی خود تیار کریں۔ ایک کاپی آپ آسانی سے دس دنوں میں تیار کر سکتے ہیں۔
پریکٹیکل کی باقاعدہ تیاری کرنا ضروری ہے؟
جواب: جیسا اوپر بتایا گیا ہے کہ پاس ہونے کے چانسز زیادہ ہیں لیکن اگر آپ زیادہ نمبر لینے کے خواہشمند ہیں تو آپ کو باقی طلباء سے ممتاز نظر آنا چاہیے جس کے لیے آپ کو اپریٹس یعنی پریکٹیکل کے ساز و سامان کا باقاعدہ استعمال آنا چاہیے۔ زبانی انٹرویو (viva) بہترین ہونا چاہیے اور کاپی خود بنانی چاہیے۔
برینیکس اکیڈمی میں پریکٹیکل کی سہولت موجود ہے؟
جواب: برینیکس اکیڈمی میں مکمل سازو سامان کے ساتھ پریکٹیکل کی مکمل سہولت موجود ہے۔ پچھلے پانچ سالوں سے رزلٹ بھی بہترین رہا ہے۔ بہت سے طلباء بہترین تیاری کی وجہ سے 90 فیصد سے زائد نمبر لے پاتے ہیں۔ اس سال پریکٹیکل کلاسز 20 مارچ سے شروع ہوں گی۔
Boys' Timing: 11:00 AM to 12:30 PM
Girls' Timing: 1:00 PM to 2:30 PM
رابطے کے لیے درج ذیل نمبرز پر رابطہ کریں۔
03234575844
03084343327
03230013026

22/02/2024

#اس تحریر کا تعلق چیف جسٹس صاحب کے فیصلے سے نہیں کیونکہ یہ معاملہ زیربحث ہے اس لیے پوسٹ کر رہا ہو۔۔۔۔۔
قادیا ۔۔۔نیت کا مقدمہ جب انسانی اور مذہبی آزادی کے " ریپر " میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے تو ہمارے بہت اچھے اور معقول دوست بھی دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ میں ذاتی طور پر قائل ہوں کہ فاسق گروہ کے جھوٹے پیشوا کو بھی گالی نہیں دینی چاہیے کہ اس طرح آپ تبلیغ کا راستہ بند کر لیتے ہیں ۔۔۔لیکن تبلیغ کا حق دینا اس لیے ممکن نہیں اور نہ یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے کہ یہ گروہ کوئی مسلک یا مذہب نہیں ہے ، یہ سیدھا سیدھا ایک جعل سازی ہے جس کو ہمارے " روشن خیال " دوست انسانی ہمدردی کے چکر میں لیگلائز کرنا چاہ رہے ہیں ۔

یہ بات آپ کو آسانی سے سمجھ نہیں آئے گی ، اس کو اس مثال سے سمجھیے کہ کسی بھی کاروباری ادارے یا فلاحی ادارے کے دفتر کے عین سامنے اسی نام سے دوسرے کو اپنا دفتر قائم کرنے کا حق دیا جا سکتا ہے ؟
کیا کوکا کولا کی فیکٹری کے سامنے ایک شخص اپنی فیکٹری لگا لیتا ہے اور اپنے برانڈ کا نام بھی کوکا کولا رکھتا ہے تو انسانی حقوق کے تحت اس کو اس کی اجازت دی جائے گی ؟
ایدھی فاؤنڈیشن کے دفتر کے سامنے کوئی دوسرا شخص اپنا فلاحی دفتر بنا لیتا ہے اور نام "ایدھی فاؤنڈیشن" ہی رکھتا ہے تو کیا معاشرے کا اخلاق اور قانون اس عمل کو درست سمجھیں گے یا دھوکہ دہی اور جعل سازی سمجھیں گے ؟؟

بات اتنی آسان نہیں جتنی ہمارے دوست بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ اس گروہ کو اسلامی فرقوں پر قیاس کر کے خلط مبحث کیا جاتا ہے ۔ اس وقت مسلمانوں کے جتنے بھی فرقے ہیں ان میں دو امور قدر مشترک ہیں ، بھلے تاویلات کے نام پر ان میں جتنی بھی ملاوٹ کر دی گئی ہو لیکن بنیادی عقیدہ سمجھ کر ان کو " لاک " کر دیا گیا ہے

ایک یہ کہ دنیا کا خالق اور مالک صرف اور صرف اللہ ہے ، اسے توحید کہتے ہیں ۔
اور دوسرا یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعوی کرے گا وہ کذاب ہوگا اور ایسے گروہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا
اب اگر کوئی شخص ان میں سے کسی ایک عقیدے کا صریحاً انکار کرتا ہے تو اس کو مسلمان سمجھا اور کہا نہیں جا سکتا اور یہ بھی یاد رکھیے کہ اس کو یہ کہلانے کا حق بھی نہیں دیا جا سکتا۔
یہ سمجھنا کہ وہ [ بے چارے ] پھر اب خود کو خود کیا سمجھیں ، یہ ہمارا نہیں ان کا اپنا درد سر ہے کہ جب انہوں نے مسلمانوں سے الگ ایک راستہ اختیار کیا اور اسلام کے بنیادی طے شدہ عقیدے سے بغاوت کی تو اپنے لیے الگ شناخت بھی خود طے کرتے ۔
حیرت انگیز کہ جعل ساز اس کے باوجود چاہتے ہیں کہ انہیں مسلمان سمجھا جائے یا خود کو مسلمان کہلانے کا حق دیا جائے اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو ہمارے ان دوستوں کو کہ جو انسانیت کے نام نہاد اصولوں کے خمار میں مبتلا ہے اوپر دی گئی مثالوں کی بنیاد پر کوکا کولا کی فیکٹری کے سامنے کوکا کولا کے برانڈ کے نام کے ساتھ فیکٹری کو کام کی اجازت دینا چاہیے۔لیکن حیرت انگیز طور پر اس کو وہ جعل سازی کہتے ہیں اور اس خانہ ساز نبوت کے حامل مذہب کو اجازت دینا چاہتے ہیں کہ وہ خود کو مسلمان کہیں اور بطور مسلمان خود کو متعارف کروا سکیں۔
اس سارے مقدمے کو ایک اور مثال سے سمجھیے کہ ایک شخص عیسائیت جیسا عقیدہ تثلیث اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک خدا آسمان پر ہے ایک خدا روح القدس ہے اور ایک خدا عیسیٰ ہے یوں اس کائنات میں تین خدا ہیں اور اس کے بعد وہ یہ کہتا ہے کہ " میں مسلمان ہوں اور میرے گروہ کے لوگوں کو مسلمان سمجھا جائے" تو کیا اس پر بھی ہمارے دوست اس نئے انے والے گروہ کو کچھ دن بعد یہ حق دینے کی " تاکید " کریں گے ؟؟

جہاں تک تبلیغ کے حق کا تعلق ہے تو جو گروہ باقاعدہ جعل سازی پر مبنی ایک فرقہ ہے اس کو کیسے تبلیغ کا حق دیا جا سکتا ہے ؟
تبلیغ کا حق دینے کا اولین مطلب یہ نکلتا ہے کہ آپ نے اس گروہ کو اس کی جعل سازی سمیت اس کی حیثیت میں قبول کر لیا ہے ۔
میں نہیں کہتا کہ آپ نے اس کے عقائد سے اتفاق کیا ہے لیکن آپ نے اس کو ایک مستقل گروہ کے طور قبول کر لیا ہے ۔ میں پھر وہی اوپر والی مثال دوں گا کہ کوکا کولا کی فیکٹری کے سامنے جعلی بوتلوں کی فیکٹری کو اپنے مارکیٹنگ کا حق دے دیا ہے

اب میرا سوال یہ ہے کہ اصلی فیکٹری کے حقوق کی پامالی کیا کوئی اخلاقی اور انسانی مسئلہ نہیں ہے؟؟؟
اور جعلی پروڈکٹ کو حقوقِ مارکیٹنگ دئے جا سکتے ہیں ؟
اور کیا کسی مہذب معاشرے میں اس کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے ؟
#منقول

29/01/2024

*⭕ بیٹوں کی اقسام*

*🍀 بیٹے 5 پانچ قسموں کے ہوتے ہیں 😗

*🍀 ۱ 😗 پہلے وہ جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا حُکم دیں تو کہنا نہیں مانتے، یہ عاق ہیں۔

*🍀 ۲ 😗 دوسرے وہ ہیں جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بے دلی اور کراہت کے ساتھ، یہ کسی قسم کے اجر سے محروم رہتے ہیں۔

*🍀 ۳ 😗 تیسری قسم کے بیٹے وہ ہیں جنہیں والدین کوئی کام کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بڑبڑاتے ہوئے، سُنا سُنا کر، احسان جتلا کر، بکواس بازی کر کر کے۔ یہ کام کر کے بھی گھاٹے میں ہیں اور گناہ کما رہے ہیں۔

*🍀 ۴ 😗 چوتھی قسم کے وہ بیٹے ہیں جنہیں والدین کوئی کام بتا دیں تو خوش دلی سے کرتے ہیں، یہ اجر کماتے ہیں اور ایسے بیٹے بہت کم ہوتے ہیں۔

*🍀 ۵ 😗 پانچویں قسم کے وہ بیٹے ہیں جو والدین کی ضرورتوں کے کام اُن کے کہنے سے پہلے کر دیتے ہیں، یہ خوش بخت بیٹوں کی نادر قسم ہیں۔

🍀 آخری دو قسم کے بیٹے؛
ان کی عمر میں برکت،
رزق میں وسعت،
ان کے معاملات کی آسانی اور ان کے سینوں میں پڑی راحت اور وسعت کے بارے میں کچھ نا پوچھیئے، یہ تو بس اللہ
“ اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے”۔

🍀 *ایک چھوٹا سا سوال ہے ہر اُس کرم فرما کیلئے جو اس وقت یہ پڑھ رہا ہے 😗
آپ اوپر بیان کیئے گئے بیٹوں کی قسموں میں سے کون سی قسم کے بیٹے ہیں.... ؟

🍀 ( بھاگ کر اپنی ماں کے سر پر بوسہ دینے سے پہلے ) اپنے آپ سے یہ پوچھ کر دیکھیئے کہ والدین کے ساتھ “بِر” یا حُسن سلوک یا راستبازی ہوتی کیا ہے؟

🍀 یہ حُسن سلوک؛ ماں یا باپ کے سر پر ایک بوسہ لے لینے کا نام نہیں ہے، ناں ہی ان کے ہاتھوں پر یا حتی کہ اُن کے پاؤں پر بوسہ لینے کا نام ہے۔ کہیں یہ کر کے تو اس گمان میں میں ناں پڑ جائے کہ تو نے ان کی رضا کو پا لیا ہے۔

🍀 حُسن سلوک یہ ہے کہ تو اُن کے دل میں آئی ہوئی خواہش کو محسوس کرے اور پھر اُن کے حُکم کا انتظار کیئے بغیر اس خواہش کو پورا کر دے۔

🍀 حُسن سلوک یہ ہے کہ تو یہ جاننے کی کوشش میں لگا رہے کہ انہیں کونسی بات خوشی دیتی ہے اور پھر اُس کام کو جلدی سے کر ڈالے۔
اور تو یہ جاننے کی کوشش کرے کہ انہیں کس بات سے دُکھ پہنچتا ہے اور پھر اس کوشش میں رہے کہ وہ تجھ سے ایسی کوئی چیز کبھی بھی نا دیکھ پائیں۔

🍀 اُن سے حسن سلوک یہ ہے کہ تجھے ان کا احساس ہو،
تو ان کیلیئے بات چیت کا وقت نکالتا ہو،
انہیں کسی چیز کے کھانے پینے کی طلب ہو تو حاضر کر دیتا ہو بھلے یہ ایک چائے کا کپ ہی کیوں ناں ہو۔

🍀 حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تو اُن کے آرام اور راحت کا خیال رکھے بھلے اس کیلیئے اپنی راحت کو ہی کیوں نا تیاگنا پڑے۔ اگر تیری دوستوں میں شب بیداری انہیں شاق گزرتی ہے تو تیرا جلدی سو جانا بھی ان کے ساتھ ایک حسن سلوک کی ہی ایک مثال ہے۔

🍀 حسن سلوک یہ بھی ہے کہ ان کی خاطر اپنی دعوتیں ضیافتیں چھوڑ دے اگر اس سے تیرا اُن کے ساتھ میل جول متاثر ہوتا ہے تو۔

🍀 ایک مناسب ریسٹورنٹ پر ان کے ساتھ کھانا، حج و عمرہ میں ان کی راحت کے پیش نظر اچھے ہوٹل میں ان کے قیام کا بندوبست،
حتی کہ کہیں چھوٹی موٹی تفریح اور پکنک جو تیرے والدین کے دل کو سرور دے اور وہ اپنی اس عمر میں بھی خوشی کا احساس پائیں۔

🍀 حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تیرے والدین تیرے مال سے مستفیض ہو رہے ہوں بھلے وہ خود کیوں ناں مالدار ہوں۔

اور تیرا یہ جانے بغیر کہ ان کے پاس اب کتنے پیسے ہیں اور انہیں ضرورت ہے بھی یا کہ نہیں تو ان پر خرچ کرتا رہے۔

🍀 حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کی حتی المقدور راحت تلاش کرتا رہے اور انہوں نے تیری ولادت سے اب تک جو کچھ خدمت کر دی ہے کو کافی سمجھے اور اب ان کے احسانات کے بدلے میں کچھ نا کچھ کرتا رہے۔

🍀 حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کے لبوں پر کسی طرح ہنسی لاتا رہے بھلے تو اپنے نظروں میں کیوں ناں مسخرہ ہی لگ رہا ہو،

*آخری بات 😗 والدین سے حسن سلوک تیرے اور تیرے بھائیوں بہنوں کے درمیان *" باری بندی"* کا نام نہیں۔
یہ تو ایک دوڑ کا نام ہے جو جنت کے دروازوں کی طرف جاری ہے اور پتہ نہیں کون پہلے پہنچ جائے۔
اور یہ بھی یاد رکھیو کہ جنت کو بہت سے راستے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی راستے تیرے والدین سے ہو کر جاتے ہیں۔

*اچھی بات ضرور آگے بڑھائیں* ❤

30/12/2023

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا 😊
ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ریاست کے تین ستونوں (عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ) سے بھی زیادہ اہم کردار تعلیمی ادارے نبھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے عزم کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں جس کی بانی برینیکس سکول سر تنویر حسین سندھو رح نے آج سے 13 سال پہلے بنیاد رکھی۔
آئیے جانتے ہیں ہمارے اہداف جو اس سال 2023 میں تکمیل تک پہنچے۔
1۔ طلباء کی تعلیم و تربیت کا سب سے اہم فیکٹر اساتذہ ہوتے ہیں۔ ادارہ ہذا میں اساتذہ کرام کو اس سال دو ٹریننگ کورسز کروائے گئے جو بالکل مفت تھے۔ ایک ٹریننگ کورس کے لیے ہم اپنے سینئر اساتذہ اور کور کمیٹی کے ارکان سر صہیب، سر ناصر اور سر علی کے مشکور ہیں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکالا اور جونئیر اساتذہ کو تعمیر قوم کے گر سکھائے۔ دوسری ٹریننگ کا انتظام ایک این جی او کے تحت کیا گیا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک بہتر استاد ہی بہتر نتیجہ فراہم کرے گا۔
2۔ طلباء کی ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے آرٹ کے مقابلے کروائے گئے۔ آرٹ کے لیے خصوصی اساتذہ مقرر کیے گئے۔ آپ پیج کی تصاویر کے کلیکشن میں ہمارے بچوں کے سکیچ اور ڈرائنگز دیکھ سکتے ہیں۔ ❣️
3۔ ہر خاص موقع پر طلباء کو چارٹ بنانے، تقاریب، اور خصوصی لیکچرز کے ذریعے انفارمیشن فراہم کی گئی۔
4۔ طلباء کو جدید سائنسی تحقیقات جیسا کہ بلیک ہول، آرٹیفیشل انٹیلیجنس وغیرہ جیسے موضوعات پر ہر ماہ لیکچر دئیے گئے۔ ہم سر حمزہ کے مشکور ہیں جنہوں نے طلباء کو ان موضوعات پر جامع لیکچرز دئیے اور ان کی اندر تحقیق و جستجو کا مادہ پیدا کیا (حالیہ سروے کے مطابق ہمارے مڈل کے آدھے بچے سائنسدان بن کر ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں 💞)
5۔ روزنامچہ یعنی پرسنل ڈائری کو فروغ دیا گیا۔ جس سے طلباء میں تخلیقی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئیں اور ہمارے بہت سے طلباء اپنے ذاتی مختصر افسانے اور اشعار لکھنے لگے۔ ان کا کلیکشن بھی پیج پر موجود ہے۔
6۔ کتب پڑھنے پر اساتذہ کو ادارے کی جانب سے انعامات سے نوازا گیا۔ اساتذہ کو ان کی سیلری میں بونس ڈاکیومنٹریز دیکھنے اور کتب پڑھنے سے مشروط کیا گیا جس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا۔
7۔ ہم اقوام کی ترقی میں کتب بینی کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طلباء میں کتب بینی کی عادت ڈالنے کے لیے ادارہ ہذا نے اپنے بجٹ میں سے طلباء کو فری رسالے جاری کیے۔ تاکہ طلباء اس اچھی عادت کی جانب راغب ہو سکیں۔
8۔ ترجمۃ القرآن پڑھانے کے لیے ہمارے سینئر اساتذہ سر صہیب، سر ناصر اور سر حمزہ نے خصوصی وقت نکالا تاکہ طلباء کو قرآن مجید سے حاصل ہونے والا سبق بتلایا جا سکے جو دنیا و آخرت کی بھلائی کا باعث ہو۔
9۔ پچھلے سال جنوری میں سر صہیب اور سر عبداللہ کی سرکردگی میں سپورٹس ڈے کروایا گیا۔ جس میں چھ کھیلوں کے مقابلے ہوئے۔ سپورٹس ڈے کی کلیکشن بھی پیج پر موجود ہے۔
10۔ ہائی کلاسز کے طلباء کو حالات حاضرہ، رواداری (غیر مسلموں سے اچھا سلوک) ، خواتین کا اسلامی معاشرے میں مقام، خوشی غمی کے آداب، موبائل فون کے استعمال، کیرئیر کونسلنگ پر ہفتہ میں ایک دن لیکچر ضرور دئیے گئے۔ تاکہ وہ ادارے سے فارغ التحصیل ہو کر معاشرے کا مفید رکن بن سکیں۔ اس اچیومنٹ پر ہم سر نوید واگی، سر علی رضا، سر ناصر اور سر حمزہ کے تہہ دل سے مشکور ہیں جنہوں نے طلباء کو عملی زندگی کے سبق دئیے۔
اختتام: لسٹ تو بہت لمبی ہو سکتی ہے لیکن آخر میں ہم اپنے تمام سٹاف ممبرز کے مشکور ہیں جن کی بدولت آج ادارہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ ہم اپنے بچھڑنے والے اساتذہ کو اس موقع پر نہیں بھولیں گے۔پہلے سر تنویر رح جنہوں نے اس ادارے کی بنیاد رکھی اور ہم سب کور کمیٹی کے ارکان کو ایک واضح نصب العین دیا اور تین سال پہلے خالق حقیقی سے جا ملے۔ دوسرے سر صہیب جو اس وقت یورپ میں فزکس کے شعبے میں پی ایچ ڈی اور اعلیٰ ریسرچ کے لیے یورپ میں مقیم ہیں اور اس علاقے کے نوجوانوں کے لیے رول ماڈل ثابت ہوئے۔
بقول حالی:
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
ہم انشاء اللہ مزید بہتری کی جانب گامزن رہیں گے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے آمین 💞

29/12/2023

So, countdown has been started... 🧩🧩
We're going to announce our final result Tomorrow...
Stay tuned for further updates. 😊😊

19/12/2023

‏اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 6 رن بنائے چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے
اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی
کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں؟
سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے
ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں؟ سب نے کہا بہت برے
پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے
ٹیچر پھر ہنس دیئے
صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا میں ہمیشہ نمبر 1 نہیں آتا تھا بلکہ درمیانے نمبر لینے تھا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے؟
سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں؟
ٹیچر نے کہا 👈 ادب،
مجھے یاد ہے کہ میں بھی اپنے اساتذہ کے ساتھ کچھ گیمز کھیلا ہوں جیسے کرکٹ، یسو پنجو وغیرہ
کرکٹ میں جب بھی فیلڈنگ میں ٹیچر کی ٹیم میں ہوتا کبھی ان کی طرف بال نہیں پھینکتا تھا ہر صورت ان کو بال ہاتھ میں دیتا، یا مجبوراََ کبھی پھینکنی پڑتی تو ایسے کہ ان کو بال پکڑنے میں مشکل نہ ہو اورکہیں ان کو لگ نہ جائے، یسو پنجو کھیلتے تو ٹیچر کی باری آنے پر انکے اصرار کرنے پر سب دوسرے ساتھی ان کے ہاتھوں پر تھپڑ مارتے مگر میں نے کبھی یہ گستاخی نہیں کی، کبھی انکی اجازت کے بغیر یا انکی غیر موجودگی میں ان کی کرسی یا جگہ پر نہیں بیٹھا، کبھی ان کی غیر موجودگی میں انکا نام بے ادبی سے نہیں پکارا ( اگرچہ بہت سارے دوسرے ساتھی پکارتے اور بعض تو گالیاں بھی بکتے)۔۔۔۔ مگر یقین جانیں ہم میں سے جو جو ادب کرتے آج اللہ تعالیٰ نے ان کے ادب کرنے والے بھی بے شمار پیدا کر دیے ہیں
اور ایک آپ لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو یارکر مار کر آوٹ کرو
جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا کبھی ہارنے سے زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں آپ طاقت میں اپنے ٹیچرز اور والدین سے بے شک بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب سے جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے ٹیچرز اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کریں آپ کبھی نہیں ہاریں گے
اللہ پاک آپکو ہر میدان میں سرخرو رکھے
آمین ثم آمین ــــــــــ

05/11/2023

خوش قسمت
اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور بڑوں کی دعائیں لیں ( دعائیں لینے اور کروانے میں فرق ہے)
قربان کریں....... اپنے کمفرٹ زون۔۔۔(سکون کی حالت) کو یعنی گیمز، موبائل فون ، انٹرنیٹ یہاں تک کے دوستی، یاری سب قربان کریں۔۔۔۔مکمل تو نہیں چھوڑ سکتے مگر سارا وقت اور انرجی ان چیزوں پر ضائع نہ کریں
با مقصد ہو جائیں، (goal) مقصد سیٹ کریں اور اس کے لیے مکمل محنت کریں اپنا سارا وقت ( جتنا زیادہ دے سکتے ہیں ) اس کو دیں۔
یہ سب کرنے کے بعد آپ اپنا مقصد (goal) پا لیں گے،لوگ آپ کو "خوش قسمت" کہیں گے اور آپ واقعی خوش قسمت ہونگے کیونکہ آپ نے وہ حاصل(acheive) کیا ہوگا جو لاکھوں لوگوں کا خواب ہوگا۔
نوٹ: محمد حمزہ تنویر سندھو بھائی کی فرمائش پر تحریریں لکھنی شروع کی ہیں۔۔۔۔۔ ❤️ مقصد طلباء اور ساتھیوں کو موٹیویشن دینا ہے 😊

11/10/2023

الحمدللہ! اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے برینیکس دن بدن عروج کی منزلیں طے کر رہا ہے۔
انٹرمیڈیٹ پارٹ ون کے رزلٹ میں ہونہار طالب علم محمد علی رمضان نے جہاں علاقہ بھر میں ٹاپ کیا وہیں بورڈ میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کر کے علاقے کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ دیگر طلباء کو بھی انٹر پارٹ ون میں اعلیٰ نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے پر ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
ہمارے قابل اساتذہ اور محنتی طلباء ہی ہمارا سرمایہ ہیں ✨💞
نوٹ: میٹرک ٹیسٹ سیشن کا آغاز 21 اکتوبر سے ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ ہمارے طلباء کی اعلیٰ کارکردگی کے پیچھے ٹیسٹ سیشن کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ اس لیے آج ہی خود کو ٹیسٹ سیشن کے لیے رجسٹرڈ کروائیں۔
تمام کلاسز میں داخلے جاری ہیں۔۔۔۔۔!!!

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Brainiacs School System And Academy Babu Sabu Bund Road Lahore
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00