30/07/2025
تاریخ میں زندہ یہ عورت کیا کمال کا ذہن رکھتی تھی، اپنی الارم گھڑی کو الٹا چلاتی، ایک کالج میں داخلہ نہ ملنے سے لے کر پی ایچ ڈی کرنے تک اور امریکی نیوی سروس سے لے کر جدید پروگرامنگ لینگویجز کی مؤجد بننے تک کا سفر اتنا آسان نہ تھا۔ COBOL پروگرامنگ لینگویج، لینگوئج Compiler اور کمپیوٹر پروگرامنگ میں ان کی خدمات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ کارنامے آج ہم آپ سے شئیر کریں گے۔
گریس مرے ہوپر (Grace Murray Hopper) ، کمپیوٹر سائنس کی تاریخ میں ایک غیر معمولی شخصیت جس نے روایات کو توڑا اور ڈیجیٹل دور پر انمٹ نقش چھوڑا۔ آئیے ان کی زندگی کا مختصر تعارف دیکھتے ہیں۔
سال 1906 میں نیویارک شہر میں پیدا ہونے والی گریس کو ابتدائی طور پر لاطینی زبان میں کم نمبروں کی وجہ سے واسر کالج میں داخلے سے انکار کر دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے واقعی داخلہ حاصل کیا اور 1928 میں گریجویشن کی، ریاضی اور فزکس میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے ییل یونیورسٹی سے اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھی، 1930 میں ایم اے اور 1934 میں ریاضی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
بچپن سے ہی ہوپر مشینوں کے کام کرنے کے طریقے میں گہری دلچسپی رکھتی تھی۔ ان کے بچپن کا ایک مشہور اور اکثر بیان کیا جانے والا قصہ اس کی بہترین مثال ہے:
سات سال کی عمر میں، وہ الارم گھڑی کے میکانزم کو سمجھنے میں اتنی مگن ہو گئیں کہ انہوں نے سات گھڑیوں کو کھول دیا۔ اپنی والدہ سے ڈانٹ کھانے کے باوجود، انہوں نے ان میں سے ایک کو دوبارہ جوڑ کر اسے الٹی سمت (counterclockwise) میں چلانے میں کامیاب ہو گئیں۔ جو ان کے روایت پسندی سے بیزار ہونے کا ثبوت ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے آغاز نے ان کے تعلیمی راستے کو ڈرامائی طور پر بدل دیا۔ واسر کالج میں ریاضی کی پروفیسر کے طور پر اپنے بہترین کیریئر کے باوجود، انہوں نے اپنے ملک کی خدمت کا گہرا احساس محسوس کیا۔ 1943 میں، وہ امریکی بحری ریزرو (WAVES) میں شامل ہوئیں۔ ابتدائی طور پر، انہیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کی عمر (37) اور چھوٹے قد کی وجہ سے داخلے سے انکار کر دیا گیا، جو بحریہ کے جسمانی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تھا۔ تاہم، ان کی استقامت رنگ لائی، اور انہوں نے ایک چھوٹ حاصل کی، جس سے انہیں لیفٹیننٹ کے طور پر کمیشن حاصل کرنے کی اجازت ملی۔ اس کے بعد انہیں ہارورڈ یونیورسٹی میں بیورو آف شپس کمپیوٹیشن پروجیکٹ میں تعینات کیا گیا، یہ ایک اہم لمحہ تھا جس نے کمپیوٹنگ کے میدان میں عملی طور پر ان کے داخلہ کو یقینی بنایا۔ یہیں پر انہوں نے Harvard Mark 1 کمپیوٹر پر اپنا اہم کام شروع کیا، جو ایک بہت بڑی، کمرے کے سائز کی الیکٹرو مکینیکل مشین تھی۔ انہوں نے کمپیوٹنگ میں "bug" کی اصطلاح کو مشہور کیا، جب انہوں نے مارک II کے Relay میں پھنسے ہوئے ایک حقیقی کیڑے کو دریافت کیا، جس کی وجہ سے خرابی پیدا ہوئی اور Debugging کی پہلی ریکارڈ شدہ مثال سامنے آئی۔
»کیا آپ John Von Neumann کو جانتے ہیں ؟
موجودہ کمپیوٹر آرکیٹیکچر کا بانی اور امریکہ کہ جوہری بم کی تیاری میں Oppenheimer کے ساتھ Manhattan Project میں کام کرنے والے John کے ساتھ مارک I پر کمپیوٹنگ کے کام میں ہوپر کا ساتھ انتہائی اہم تھا۔ یہ ابتدائی کمپیوٹر، اپنے وقت کا ایک عجوبہ، مین ہٹن پروجیکٹ کے لیے پیچیدہ حسابات انجام دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔
»جدید کمپیوٹر کے بانیوں کے ساتھ کام:
وہ 1949 میں Eckert-Mauchly Computer Corporation میں شامل ہوئیں، جہاں انہوں نے UNIVAC I (یونیورسل آٹومیٹک کمپیوٹر I) کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا، جو امریکہ میں تجارتی اور حکومتی استعمال کے لیے تیار کیا جانے والا پہلا بڑے پیمانے پر الیکٹرانک ڈیجیٹل کمپیوٹر بن گیا۔
»کمپائلر کی تیاری:
کمپائلرز سے پہلے، پروگرامنگ ایک ناقابل یقین حد تک محنت طلب اور غلطیوں سے بھرپور عمل تھا، جس میں پروگرامرز کو براہ راست مشین کوڈ میں ہدایات لکھنی پڑتی تھیں، جو بائنری ہندسوں کی ایک سیریز تھی جسے کمپیوٹر سمجھ سکتے تھے۔ ہوپر نے سوچا کہ کیوں نہ
انگریزی جیسی کمانڈز کا استعمال کرتے ہوئے کوڈ لکھنے کا ایک طریقہ نکالا جائے، جسے کمپیوٹر خود بخود مشین کے پڑھنے کے قابل ہدایات میں ترجمہ کر سکے۔ یہ ایجاد، جسے ابتدائی طور پر A-0 سسٹم کے نام سے جانا جاتا تھا، تمام جدید پروگرامنگ زبانوں کی بنیاد بنی۔ اب کمپیوٹرز سے بات کرنا یعنی پروگرامنگ کرنا انتہائی آسان اور دلچسپ ہوگیا۔
»کوبول COBOL پروگرامنگ لینگویج:
پھر 1950 کی دہائی کے آخر میں COBOL (کامن بزنس اورینٹڈ لینگویج) کی تخلیق کا سہرا ان کے سر ہوا۔ ایک معیاری، بزنس کے لیے موزوں پروگرامنگ زبان کی اہم ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے جو مختلف مشینوں پر چل سکتی تھی۔ ان کی ٹیم کی انتھک کوششوں کی وجہ سے COBOL کئی دہائیوں تک سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کاروباری پروگرامنگ زبان بن گئی، جس نے دنیا بھر میں حکومتوں، کارپوریشنوں اور مالیاتی اداروں کے لیے بڑی مقدار میں ڈیٹا کو پروسیس کیا۔
»نیوی میں خدمات:
وہ ابتدائی طور پر 1966 میں 60 سال عمر کی حد کی وجہ سے بحریہ سے کمانڈر کے طور پر ریٹائر ہوئیں، لیکن ان کی مہارتیں اتنی قیمتی تھیں کہ اسے کھویا نہیں جا سکتا تھا۔ انہیں 1967 میں بحریہ میں کمپیوٹر زبانوں کو معیاری بنانے میں مدد کے لیے ڈیوٹی پر واپس بلایا گیا، ایک ایسا کام جسے انہوں نے اپنی خاص جوش کے ساتھ قبول کیا۔ انہوں نے کئی سال مزید خدمات انجام دیں، راستے میں ترقی بھی حاصل کی، اور بالآخر 1986 میں 79 سال کی عمر میں دوبارہ ریٹائر ہوئیں، ریئر ایڈمرل کے عہدے پر فائز تھیں۔ اپنی آخری ریٹائرمنٹ کے وقت، وہ امریکی بحریہ میں سب سے زیادہ عمر کی فعال ڈیوٹی پر موجود کمیشنڈ افسر تھیں۔
»اعزازات:
گریس ہوپر کو بے شمار اعزازات سے نوازا گیا، جن میں دنیا بھر کی یونیورسٹیوں سے 40 سے زیادہ اعزازی ڈگریاں، 1991 میں نیشنل میڈل آف ٹیکنالوجی، اور 2016 میں بعد از مرگ صدارتی میڈل آف فریڈم، جو امریکہ کا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے۔ انہوں نے 1992 میں 85 سال کی عمر میں اپنی وفات تک کام کرنا اور تعلیم دینا جاری رکھا۔ ان کی میراث صرف ان مشینوں میں نہیں ہے جنہیں انہوں نے بنانے میں مدد کی یا ان انقلابی پروگرامنگ زبانوں میں نہیں ہے جو انہوں نے ایجاد کیں، بلکہ ان کے غیر متزلزل تجسس، کمپیوٹنگ کو ایک نیا رخ دینے، اور سب سے بڑھ کر عمر کو بس ایک نمبر باور کرانے میں ان کی عملی زندگی قابل رشک ہے۔
کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی کے طالب علم کی حیثیت سے ان کے اس زندگی میں اتنے کام میرے لیے سب سے بڑی موٹیویشن ہیں۔
(تحریر: ثاقب علی)
* کاپی پیسٹ کرنے سے پہلے اجازت لینا اخلاقی ذمہ داری ہے
23/07/2025
ویسے تو اسکالرشپس سارا سال آتی رہتی ہیں، مگر جو اہم اور نمایاں سکالرشپس ہوتی ہیں، اُن کا ٹائم ستمبر، اکتوبر سے لے کر مئی تک ہوتا ہے۔ ان مہینوں میں دنیا کی بڑی اور پرومننٹ فُل فنڈڈ انٹرنیشنل سکالرشپس آتی ہیں جن میں آپ اپلائی کر سکتے ہیں۔
ابھی سے تیاری شروع کریں!
اگر آپ واقعی کسی فُل فنڈڈ سکالرشپ کو ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں تو ابھی سے اپنے ڈاکومنٹس کی تیاری شروع کر دیں۔ سب سے اہم ڈاکومنٹس جو آپ کو تیار رکھنے چاہئیں وہ یہ ہیں:
• ریسرچ پروپوزل
• سی وی (Curriculum Vitae)
• پرسنل اسٹیٹمنٹ
• موٹیویشنل لیٹر (Motivational Letter )
اگر آپ ان تمام ڈاکومنٹس کی تیاری ایک ساتھ نہیں کر سکتے، تو کم از کم ریسرچ پروپوزل اور سی وی کی تیاری ابھی سے شروع کر دیں۔ ان دونوں کی تیاری میں وقت لگتا ہے، اور یہ سکالرشپ اپلیکیشنز میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان پر محنت کریں، وقت دیں، اور اچھے سے تیار کریں۔
ابھی آپ کی ڈگری complete نہیں ہوئی تب بھی آپ اپلائی کر سکتے ہیں!
اگر آپ اس وقت چھٹے، ساتویں یا آٹھویں سمسٹر میں ہیں، یا آپ کی ڈگری اگست یا ستمبر 2026 تک مکمل ہو جائے گی، تو بھی آپ بہت سی فُل فنڈڈ انٹرنیشنل سکالرشپس کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ اکثر سکالرشپس کے لیے اپلائی کرتے وقت فائنل ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ آپ اپنی Latest ٹرانسکرپٹ کے ساتھ اپلائی کر سکتے ہیں۔
فائنل ڈگری کب تک ضروری ہے؟
یہ ہر سکالرشپ کا مختلف criteria ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر کیسز میں آپ کو فائنل ڈگری اُس وقت درکار ہوتی ہے جب آپ کی کلاسز شروع ہونے جا رہی ہوں، یا جب ویزا کے لیے اپلائی کرنا ہو۔ یعنی سکالرشپ حاصل کرنے کے بعد فائنل ڈگری کی ضرورت پیش آتی ہے، نہ کہ اپلائی کرنے کے وقت۔
اگر آپ IELTS کی تیاری کرنا چاہتے ہیں تو ابھی کریں!
اگر آپ IELTS دینا چاہتے ہیں تو یہ بہترین وقت ہے تیاری کا۔ اگلے 2 سے 4 مہینوں میں آپ آسانی سے IELTS کی تیاری مکمل کر سکتے ہیں اور ٹیسٹ دے سکتے ہیں، جو کہ آپ کی اپلیکیشن کو مزید مضبوط بنائے گا۔
رہیں باخبر، رہیں تیار!
ان شاء اللہ، آپ کو اسی پلیٹ فارم پر تمام پرومننٹ فُل فنڈڈ انٹرنیشنل اسکالرشپس کی مکمل معلومات، اپلائی کرنے کا طریقہ، اور ضروری رہنمائی فراہم کی جاتی رہے گی۔
کاپیڈ
22/07/2025
تعلیم‘ اساتذہ اور مصنوعی ذہانت 🗞️
تحریر: شاہد صدیقی ✍️
اکیسویں صدی نے ایک طرف تو ہماری زندگیوں کو بے شمار چیلنجز سے دوچار کیا ہے لیکن اس کیساتھ ساتھ اَن گنت مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ ان چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج تبدیلی کے سفر کی تیز رفتاری ہے۔ پہلے زمانوں میں جو تبدیلی برسوں میں آتی تھی اب وہ مہینوں اور دنوں میں آ رہی ہے۔ تبدیلی کے عمل کی اس برق رفتاری کا براہِ راست اثر تعلیمی منصوبہ بندی پر پڑا ہے کیونکہ مستقبل کی منصوبہ بندی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں کئی ہنر اور نوکریاں متروک ہو جائیں گی جبکہ بہت سی نئی مہارتیں ناگزیر بن جائیں گی۔ نئی مہارتوں میں سب سے اہم مہارت مصنوعی ذہانت ہے۔ مصنوعی ذہانت نے زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے اور تعلیم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بارے میں ردعمل متنوع‘ شدید اور متضاد ہے۔ آئیے سب سے پہلے ان نظریات کا جائزہ لیتے ہیں جو مصنوعی ذہانت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں اور بعض اوقات گمراہ کن ہو سکتی ہے۔ دوسرا مؤقف اخلاقیات کے تناظر میں مصنوعی ذہانت پر تنقید کرتا ہے کیونکہ اسے پرائیویسی کی خلاف ورزی‘ نگرانی اور نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرا مکتبِ فکر مصنوعی ذہانت کو یکسر رد کرنے کے بجائے اس کے مثبت استعمال کے بارے میں پُرامید ہے اور سمجھتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال صحت‘ ٹیکنالوجی‘ ماحولیات‘ انجینئرنگ‘ کاروبار اور تعلیم جیسے شعبوں میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔ یہ نقطۂ نظر مصنوعی ذہانت کو پیشہ ورانہ برتری کیلئے لازمی سمجھتا ہے۔ تاہم ایک متوازن رویہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں کے تحت استعمال کیا جائے۔ پاکستان کے تعلیمی مسائل سے نمٹنے میں مصنوعی ذہانت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی مسئلہ دو کروڑ 51 لاکھ بچوں کا سکول سے باہر ہونا ہے (پاکستان اکنامک سروے 2024-25ء)۔ آئیے اب جائزہ لیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت پاکستان کے تعلیمی نظام میں رسائی‘ معیار‘ مطابقت اور مساوات جیسے اہم چیلنجز سے نمٹنے میں کیسے مدد دے سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان بچوں کو تعلیم دی جا سکتی ہے جو سکول یا کالج کی عمارتوں سے محروم ہیں۔ اور وہ بھی اپنی سہولت کے وقت‘ رفتار اور جگہ کے مطابق۔ یہ نظام ایک طرف تو لچکدار ہو گا اور دوسری طرف کم خرچ۔ مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال سے سکولوں کی کمی اور اساتذہ کی قلت جیسے مسائل سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ استعمال سے نصاب سازی‘ مواد کی تیاری‘ تدریسی عمل‘ انفرادی اختلافات سے نمٹنے‘ جانچ اور فیڈ بیک دینے کے عمل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ نصاب سازی میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بڑے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کرکے طلبہ کی کارکردگی اور سماجی رجحانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس جائزے سے ہمیں ان مہارتوں سے آگاہی ہوتی ہے جو طلبہ کو مستقبل میں درکار ہوں گی۔ یوں مصنوعی ذہانت نصاب میں علم‘ مہارت اور صلاحیتوں کا مناسب توازن پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
جب نصاب تیار ہو جائے تو اگلا مرحلہ تدریسی مواد کی تیاری کا ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت نصاب کی خاکہ بندی سے انٹرایکٹو اور مقامی مواد تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ مواد تعلیمی اہداف کیساتھ ہم آہنگ ہو گا۔ اس طرح مصنوعی ذہانت ابتدائی خاکہ تیار کرکے مواد سازوں کا کام آسان کر سکتی ہے تاکہ وہ ثقافتی پہلو‘ تدریسی طریقے اور موضوعاتی درستی پر توجہ دے سکیں۔ نصاب اور مواد کی تیاری کے بعد تدریس کا مرحلہ آتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے اساتذہ طلبہ کی انفرادی رفتار اور صلاحیت کے مطابق ذاتی نوعیت کی تعلیم دے سکتے ہیں۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ اساتذہ کو مصنوعی ذہانت کے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دی جائے۔ پاکستان میں جہاں کلاسیں بھری ہوئی ہوتی ہیں‘ اساتذہ کو مصنوعی ذہانت سے بااختیار بنانا ضروری ہے‘ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہمارے ٹیچر ایجوکیشن پروگرامز میں مصنوعی ذہانت کا مربوط ماڈیول شامل ہو۔ مصنوعی ذہانت طلبہ کی کارکردگی کا تجزیہ کرکے تدریسی حکمتِ عملی کو بہتر بنا سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے امتحانات کی خودکار جانچ پڑتال ممکن ہے‘ خواہ وہ معروضی ہوں یا تشریحی۔ یہ سکولوں کی سطح پر بھی انتظامی معاملات میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو پاکستان پائیدار ترقی کا ہدف (SDG 4) یعنی معیاری تعلیم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
آئیے اب پاکستان میں تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کے راستے میں حائل چیلنجز کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی‘ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی سہولتیں ہی موجود نہیں۔ جہاں یہ سہولیات دستیاب ہیں وہاں انٹرنیٹ کی رفتار سست‘ غیر مستحکم اور ناقابلِ اعتماد ہوتی ہے۔ زیادہ تر اساتذہ مصنوعی ذہانت کے پیشہ ورانہ اور اخلاقی استعمال کے لیے تیار نہیں ہیں‘ جیسا کہ کووِڈ کے دوران واضح ہو گیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ٹیچر ایجوکیشن پروگرامز میں مصنوعی ذہانت شامل نہیں ہے۔ دوسرا چیلنج ثقافتی اور لسانی ہے۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو زبان اور ثقافت کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایک اور بڑا چیلنج مصنوعی ذہانت کا اخلاقی (Ethical) استعمال ہے‘ جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
نصاب کا ایک اہم جزو امتحانات کا نظام بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت امتحانی نظام میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بڑی تعداد میں سوالات بنائے جا سکتے ہیں۔ ایک ہی امتحان کے کئی ورژن بن سکتے ہیں اور سوالات کو کم سے کم وقت میں جانچا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اساتذہ کی جانب سے طلبہ کو دی جانے والی فیڈ بیک اکثر دیر سے‘ عمومی اور غیر مؤثر ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے فوری‘ مخصوص اور رہنمائی فراہم کرنے والی رائے دی جا سکتی ہے جو طلبہ کو اپنی خامیوں پر قابو پانے کیلئے نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے مسلسل فیڈبیک سے نہ صرف طلبہ کی بہتری ممکن ہو گی بلکہ یہ نصاب اور تدریسی طریقوں کو بھی بہتر بنانے میں مدد دے گی۔
لہٰذا پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے انٹرنیٹ‘ موبائل یونٹس اور شمسی توانائی سے چلنے والی لیبارٹریوں میں سرمایہ کاری کریں۔ ساتھ ہی ٹیچر ایجوکیشن پروگرامز میں مصنوعی ذہانت کو مربوط کیا جائے تاکہ اساتذہ کو بڑی جماعتوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر‘ پیشہ ورانہ اور اخلاقی تربیت دی جا سکے۔ ان دونوں اقدامات کو عملی شکل دینا تبھی ممکن ہو گا جب ہمارے پاس جامع مصنوعی ذہانت پالیسی اور وفاقی و صوبائی سطح پر حکمتِ عملی کے منصوبے ہوں جو نصاب‘ تدریسی طریقوں‘ جانچ اور فیڈبیک کو مربوط کریں۔ ریاست کو چاہیے کہ مقامی زبانوں میں مصنوعی ذہانت کے کھلے ماخذ (open source) ٹولز کی حوصلہ افزائی کرے اور انہیں فروغ دے۔ ایک اور اہم اقدام یہ ہے کہ ریاست ڈیٹا کی رازداری اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کو یقینی بنائے۔ اس مقصد کے لیے ایک مکمل مصنوعی ذہانت پالیسی کی ضرورت ہے جو مصنوعی ذہانت کے پیشہ ورانہ‘ ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال کی رہنمائی فراہم کرے۔ آخر ی بات یہ کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی اساتذہ کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت پالیسی سازی‘ نصاب سازی‘ تدریس اور جانچ میں معاون بن سکتی ہے‘ لیکن تخلیقی اور تنقیدی سوچ رکھنے والے اساتذہ کی ضرورت ہمیشہ موجود رہے گی تاکہ تعلیم میں جذبات‘
تخلیق اور تنقید شامل ہو سکیں۔
ثاقب علی
#