I Love Allam Iqbal

I Love Allam Iqbal

Share

Allama Iqbal was born Muhammad Iqbal in the year 1877 in Sialkot. This was in the times of British India when the nation had not been partitioned.

POET, THINKER,ISLAMIST , JURIST , REBEL , FEREEDOM FIGHTER Iqbal is Great He Gave us Vision Courage To Stand Up against In Justice to Unite Globally Iqbal You are Great The region of Sialkot now falls in Pakistan. He was a Muslim poet, philosopher, and a politician. He was adept in many languages such as Urdu, Persian and Arabic and became one of the greatest poets of the modern era. He propagated

04/04/2021

میرے ٹیچر نے ایک دن مجھے بہت مارا، میں نے دل میں انہیں جتنی گالیاں دے سکتا تھا دیں ارادہ کیا جب بھی زرا بڑا ہوا تو انہیں جان سے مار دوں گا۔

ایک دن ملے سائیکل پر تھے ، کافی بزرگ ہو چکے تھے ۔
ان کے پاؤں شوگر کی وجہ سے سوجے رہتے کبھی کبھی بنا جوتوں کے سائیکل چلاتے ۔

مجھے دیکھتے ہی بولے رضوان۔
میں گاڑی سے بھاگ کر اترا
بڑے خوش ہوے مجھے دیکھ کر، ایک دم ہاتھ جوڑ کر بولے انتہائی کمزور آواز میں یار مجھے معاف کر دینا تجھے بہت مارا پر اس لیے مارتا تھا کہ تم کچھ بن جاؤ اور آج تمہیں کسی مقام پر دیکھ کر رو پڑا ہوں کہ میرا شاگرد آج بڑی گاڑی میں بیٹھا ہے بیٹا تم میری خوشی کا اندازہ نہیں کر سکتے..

اور زاروقطار رو پڑے ۔۔

میرے سینے پر گھونسہ لگا، تڑپ کر انہیں سینے سے لگا لیا ۔۔

سارا روڈ یہ منظر دیکھ رہا تھا، پھر ان کے پاؤ چومے

ہم دونوں استاد شاگرد گلے لگ کر روتے رہے ۔۔
عجب سی مہک تھی ان کے سینے سے آتی ، مجھے ان کی چھاتی میں سکون محسوس ہو رہا تھا، ابدی سکون، جس جس راہ چلتے بندے کو پتہ چلا وہ رو پڑا استاد شاگرد کا پیار دیکھ کر..

بات یہ ہے کہ آپ اچھے نمبرز نہ بھی لیں ۔۔اچھے گریڈز نہ بھی لیں، صرف اپنے ٹیچر کا ادب کریں تو اجر ٹیچر نہیں خدا دیتا ہے ۔۔۔مجھے یہ ملاقات کبھی نہیں بھول سکتی ۔۔۔مجھے تراشنے والے وہی تو تھے، میں اک گمنام بے شکل پتھر تھا..

اس لیئے جتنا ہو سکے صرف استاد کے احترام کو ترجیح دیں اور یہی فقط کامیابی کی سیڑھی ہے...
منقول..

14/03/2021

جب حضرت نوح ؑ کشتی بنا رہے تھے تو ایک مومنہ بوڑھی عورت روز اللہ کے نبی کے پاس اپنی گٹھڑی لے کر آتی اور کہتی ”اے اللہ کے نبی، کب کشتی روانہ ہوگی؟“ حضرت نوح ؑ فرماتے ”ابھی دیر ہے۔“ وہ عورت شام تک بیٹھی رہتی اور پھر اٹھ کر چلی جاتی-
ایک دن حضرت نوح ؑ نے فرمایا کہ اے عورت، جب جانا ہوا تو تمہیں بتا دیا جائے گا۔ یہ عورت واپس چلی گئی اور انتظار کرنے لگی کہ کب نوح بلائیں گے۔ اس دوران عذاب آگیا اور کشتی روانہ ہو گئی لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے اس عورت کو نہ بلایا(ظاہری طور پر نوح ؑ کو اس کو بلانا بھلا دیا گیا)-
جب طوفان تھما توایک دن حضرت نوح ؑ کے دل میں محبت اٹھی کہ شہر کو دیکھوں جہاں سے چلا تھا۔ وہاں آئے اور قریب جا کر دیکھا تو ایک جھونپڑی میں دیا جل رہا تھا۔ حضرت نوح ع یہ دیکھ کر چونک گئے کہ روئے زمین پر کوئی ایسا! گھر بھی ہے کہ اتنے عظیم طوفان کے بعد بھی جس میں چراغ جل رہا ہے۔ انہوں نے وہاں تکبیر بلند کی تو وہ عورت سامان لے کر آگئی اور کہنے لگی ”یا نبی اللہ، کیا کشتی تیار ہے چلیں؟“ حضرت نوح ؑ نے حیرت سے اسکو دیکھا اور کہا ” رکو بوڑھیا- کیا تمہیں کچھ بھی پتا نہیں چلا“- وہ کہنے لگی ”یا نبی اللہ، کیا نہیں پتا چلا؟“ کہا: ”اتنا بڑا سیلاب آیا، بارش آئی، تمہیں کچھ بھی پتا نہیں چلا“- بڑھیا کہنے لگی ” یا نبی اللہ، بس ایک دن بادل گرجے تھے اور کچھ ہلکی سی پھوہار پڑی تھی“- حضرت نوح ؑ حیران ہو کر آسمان کی طرف دیکھنے لگے اور کہا ” میرے اللہ، یہ کیا ماجرا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ پر وحی بھیجی کہ اے میرے پیارے نبی، اس عورت کے دل میں چونکہ تمھاری محبت تھی اور تم نے اسے پابند کر دیا تھا اور چونکہ تمہارا اس سے وعدہ بھی تھا کہ نجات کی کشتی میں اسے لے جاؤ گے، تب جبکہ تم نے اپنا وہ وعدہ پورا نہیں کیا- لیکن اے نوح ؑ، میں تو تمہارے وعدے کا ذمے دار تھا، اس لیے میں نے اس بڑھیا تک عذاب پہنچنے ہی نہیں دیا۔

05/02/2021

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی' عنہ ایک روز چلتے پھرتے مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے

وہاں ایک بڑی تعداد میں یہودی جمع تھے
اس روز یہودیوں کا بہت بڑا عالم "فنحاس" اس اجتماع میں آیا تھا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فنحاس سے کہا

"اے فنحاس ! اللہ سے ڈر اور اسلام قبول کرلے..
اللہ کی قسم !
تو خوب جانتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں

تم یہ بات اپنی تورات اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہو.."اس پر فنحاس کہنے لگا..
"وہ اللہ جو فقیر ہے' بندوں سے قرض مانگتا ہے اور ہم تو غنی ہیں.."
غرض فنحاس نے یہ جو مذاق کیا تو قرآن کی اس آیت پر اللہ کا مذاق اڑایا

(من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا سورہ البقرہ ٢٤٥)

صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب دیکھا کہ اللہ کا دشمن میرے اللہ کا مذاق اڑا رہا ہے تو انہوں نے اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور کہا

اس اللہ کی قسم جس کی مٹھی میں ابوبکؓر کی جان ہے !! اگر ہمارے اور تمہارے درمیان معاہدہ نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن ! میں تیری گردن اڑا دیتا..
فنحاس دربار رسالت میں آ گیا کہنے لگا

اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)
دیکھئے ! آپ کے ساتھی نے میرے ساتھ اس اور اس طرح ظلم کیا ہے..
"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا.. "
آپ نے کس وجہ سے اس کے تھپڑ مارا..؟
"صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی

اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !
اس اللہ کے دشمن نے بڑا بھاری کلمہ بولا..
اس نے کہا اللہ فقیر ہے اور ہم لوگ غنی ہیں
اس نے یہ کہا اور مجھے اپنے اللہ کے لئے غصہ آگیا چنانچہ میں نے اس کا منہ پیٹ ڈالا

یہ سنتے ہی فنحاس نے انکار کردیا اور کہا. . "میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی
"اب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی گواہی دینے والا کوئی موجود نہ تھا

یہودی مکر گیا تھا اور باقی سب یہودی بھی اس کی پشت پر تھے یہ بڑا پریشانی کا سماں تھا مگر اللہ نے اپنے نبی کے ساتھی کی عزت وصداقت کا عرش سے اعلان کرتے ہوئے یوں شہادت دی

لَقَد سَمِعَ اَللَّہُ قَولَ الَّذِینَ قَالُو ااِنَّ اللَّہ َ فَقِیر وَنَحنُ اَغنِیَائُ..
اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں

(آل عمران : ۱۸۱(سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
بحوالہ تفسیر روح البیان)

صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے اللہ کی گستاخی پر رب کے دشمن کے طمانچہ مارا اور جب صدیق کی صداقت پہ حرف آنے لگا تو رب تعالیٰ نے صدیق کی صداقت و عزت کی پاسداری کا عرش سے اعلان کر دیا ۔💞

یوم وفات 22 جمادی الثانی
سیدنا ابوبکر صدیقؓ

20/01/2021

بیٹوں نے اپنی اپنی تعلیم مکمل کی اور پاکستان آگئے۔اللہ کی رحمت سے دونوں کو ایک ہی شہر میں ملازمت ملی۔بڑا سا گھر بھی مل گیا تھا لیکن پورا ایک سال گھر خالی رہا کہ جب تک والدین ساتھ نہیں ہوں گے ہم نے گھر میں نہیں سیٹ ہونا
آخر کار دوسال پہلے بیٹوں اور بڑی بیٹی (بہو) کی بے انتہا ضد پہ ہم نے سرگودھا چھوڑا اور پنڈی شفٹ ہو گئے

اس مرتبہ ستمبر میں سرگودھا گئی تو میرا ایلوویرا کا پودا بے یارو مدد گار اکیلے گھر میں ہمارا انتظار کررہا تھا
پتہ نہیں وہ کیسے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو گا کہ پانی بھی جب بارش ہوتی تو اسے ملتا

ادھر پنڈی والے گھر میں ، میرے شوق کے پیش نظر بچوں نے پھولوں، سبزیوں کے ساتھ ساتھ ایلوویرا بھی لگوایا ہے۔ لیکن جو لوگ باغبانی سے دلچسپی رکھتے ہیں انہیں علم ہوگا کہ دوسال سے کم ، عمر کا ایلوویرا استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے

بہرحال سرگودھا والا پودا پہلے ہی ایک بڑے سے گملے میں تھا اور اب بہت صحت مند نظر آرہا تھا اور اس کے مزید بچے بھی پیدا ہو چکے تھے تو میں نے سوچا کہ اسے بھی پنڈی ساتھ ہی لے جاوں۔

ایک تو یہ کہ مجھے ضرورت بھی تھی اور دوسرا یہ کہ اکیلے گھر میں آخر کب تک رہ سکتا اور تیسرا یہ کہ میری چھوٹی بیٹی نے اپنی شادی سے کچھ عرصہ پہلے اپنے بابا کے گھر میں اس کو بڑی محبت سے لگایا تھا ۔۔ ایک دن یہ ختم ہی نہ ہو جائے

اب مسئلہ اسے ساتھ لے کے جانے والا تھا کہ اگر گملے سے نکالوں تو مر ہی نہ جائے اور اگر گملے سمیت لے کے جاؤں تو گملا بہت بڑا اور وزنی
آخر کار سرداراں اور بیٹے نے حفاظت سے اٹھا کے گاڑی کی ڈگی میں رکھا ارد گرد سہارا دیا کہ راستے میں ہچکولوں سے گرے نہیں اور یوں سرگودھا سے پنڈی روانہ ہوئے

گھر پہنچ کے اسے باقی پودوں کے ساتھ رکھا لیکن گملے سے نہیں نکالا

اگلے دن صبح اسکی خیریت پوچھنے گئی تو پودا تو اتنا اداس لگا کہ جیسے سخت دکھی بلکہ ناراض ہو
ہر دن کے ساتھ مرجھانا شروع ہو چکا تھا

میں پریشان کہ وہاں اکیلے گھر میں جہاں دھوپ گرمی سردی اور فاقے تھے وہاں یہ نہ صرف سرسبز تھا بلکہ اپنے خاندان کو بھی بڑھا لیا تھا
اور یہاں اتنے رنگ برنگے پودے ہیں پھول ہیں ، حفاظت ہے وقت پہ پانی مل رہا ہے اور یہاں یہ دن بدن اپنی آب و تاب کھو رہا ہے
ایک دن میں بہت پریشان ہو کے اس کے پاس آکے بیٹھ گئی۔اس کے پتوں پہ پیار سے ہاتھ پھیرا اسے آہستہ آہستہ بتانا شروع کیا کہ میں تو آپ سے بہت پیار کرتی۔اس لئے تو آپ کو اپنے ساتھ یہاں لے آئی تا کہ آپ میری آنکھوں کے سامنے رہیں۔۔اپ کو میرا خیال نہیں، میں اس حال میں دیکھ کے بہت پریشان ہوں آپ کیلئے۔۔پلیز خوش رہا کرو۔اپکا گھر اور آپکی فیملی تو آپ کے پاس ہے۔ صرف جگہ تبدیل ہوئی ہے نا

اب مجھے نہیں پتہ کہ اس پہ میری باتوں اور میری توجہ کا اثر پڑا یا ویسے ہی
لیکن اگلے دن میرا ایلوویرا مسکراتا ہوا لگ رہا تھا

اور میں سوچ رہی تھی کہ اگر ایک پودے نے اپنی سارے خاندان سمیت اپنے گھر(گملے) کے ساتھ صرف جگہ کی تبدیلی کو اتنا محسوس کیا جبکہ اسکے احساسات انسان جیسے نہیں تو جب ہماری بیٹیاں ہم سے دور نئے گھروں کو آباد کرنے جاتیں ہیں تو وہ کتنی مشکلوں سے اس نئے ماحول، نئے لوگوں اور نئے مزاجوں میں اپنی زندگی کی جنگ لڑتی ہیں
اس وقت اگر تھوڑی سی محبت، تھوڑا سا پیار اور احساس کا رویہ ہو تو ہم سب کی بیٹیوں کیلئے کتنی آسانیاں ہو جائیں گی
سلامت باشد
روبینہ قریشی۔19 جنوری 2021

13/10/2020

۔
فزکس میں PhD کے بعد بھارت کی ایک اہم یونیورسٹی میں لیکچرار پوسٹ ہوا۔ ہندو دھرم سے پہلے ہی متنفر تھا۔ 1986 لندن میں دوران تعلیم اسٹیفین ہاکنگز کے لیکچرز اور کتب سے ایسا متعارف ہوا کہ خدا کا ہی منکر ہو گیا۔ اور ایسا منکر کہ بڑے بڑے مسلم، عیسائی اور یہودی علماء سے بھرپور مباحثہ کرتا۔
یہاں تک کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی مجھے قائل نہ کر سکے۔
2005 کی چھٹی کے دن کی ایک صبح مسلم سبزی فروش نے بیل کی۔ ہم گزشتہ 20 سال سے سبزی اسی سے خرید رہے تھے۔ اس دن میں نے اسے چائے کی آفر کی تو اس نے قبول کر لی۔ حسب معمول خدا یا اللہ کے وجود پر اس سے بحث شروع کر دی۔ 30 منٹ کی گفتگو سے معلوم ہوا وہ سیدھا سادہ مسلمان ہے۔ جو 5 وقت نماز پڑھتا ہے۔ ہاں وہ سودے میں بہت ہی صاف گو اور ایماندار تھا۔ مناسب دام میں بیچتا تھا۔ آخر چلتے ہوئے اس نے ایک ایسی بات کی جس نے میری زندگی ہی بدل دی۔ وہ کیا تھی:-
ڈاکٹر جی! تم نے خود بولا کہ تقریبا 6000 سے 10000 سال سے انسانی تاریخ میں پیغمبروں کی کہانیاں چل رہی ہیں اور سب کے سب ایک اللہ، اور جنت دوزخ کی بات کرتے ہیں۔ اور سائنس مرنے کے بعد کے حالات کا جواب ہی نہیں دے سکتی۔ تو اب 2 ہی امکانات ہیں؛
1۔۔۔ اللہ نہیں ہے
2۔۔۔ اللہ ہے
*اگر تو اللہ کا وجود نہ ہوا* تو مرنے کے بعد ہم دونوں برابر ہونگے۔
لیکن *اگر آگے جا کر اللہ موجود ہوا* آپ تو پھر پکڑے جائیں گے۔
دونوں صورتوں میں فائدے میں کون ہوا۔ آپ خود ہی فیصلہ کر لینا۔
اس لئے بہتر یہ ہے اللہ کو مان لیں اور اس کے کہنے پر چلیں۔ اس کا قرآن تو انسان کا اچھا کرنے کا کہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ساری زندگی Probability کے لیکچرز دیئے۔ لیکن اس کے جانے کے بعد سوچا کہ اس Probability کی طرف تو کبھی میرا دھیان ہی نہیں گیا۔ کہ دونوں صورتوں میں *اللہ کو ماننے والا فائدہ میں ہے* ۔
قصہ مختصر اس سوچ کے بعد خیال آیا کونسا آسمانی مذہب بہتر ہے۔ مذاہب کا علم تو مجھے پہلے ہی کافی تھا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ایک لیکچر میں 1400 سال سے پورا قرآن مجید کا حرف بحرف ایک ہونے کا سنا تو انگلینڈ میں کرسچن مشنری ادارے سے اس کی حقیقت دریافت کی۔ تو سب نے اس بات کی تصدیق کی۔
الحمداللہ آج مجھے اور میرے سارے گھر کو مسلمان ہوئے 15 سال ہو گئے۔ ۔ میں اسلامی تعلیمات کے لئے کیرالہ شفٹ ہو گیا۔
میری 3 بیٹیاں حافظ قرآن ہیں۔ اور اللہ کریم نے میری زندگی ہی بدل دی۔ لیکن اس سبزی والے عبد الاحد سے دوبارہ میری ملاقات نہ ہو سکی۔ لیکن میں نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام بھی عبد الاحد رکھا۔ وہ کون تھا؟ یقینا انسان تھا مگر فرشتہ صفت انسان۔

18/06/2020

بصرہ ميں ايک انتہائی حسين و جميل عورت رہا کرتی تھی۔ لوگ اسے شعوانہ کے نام سے جانتے تھے۔ ظاہری حسن و جمال کے ساتھ ساتھ اس کی آواز بھی بہت خوبصورت تھی۔ اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے وہ گائيکی اور نوحہ گری میں مشہور تھی۔ بصرہ شہر ميں خوشی اور غمی کی کوئی مجلس اس کے بغير ادھوری تصور کی جاتی تھی۔ يہی وجہ تھی کہ اس کے پاس بہت سا مال و دولت جمع ہو گيا تھا۔ بصرہ شہر ميں فسق و فجور کے حوالے سے اس کی مثال دی جاتی تھی۔ اس کا رہن سہن اميرانہ تھا، وہ بيش قيمت لباس زيب تن کرتی اور گراں بہا زيورات سے بنی سنوری رہتی تھی۔

ايک دن وہ اپنی رومی اور ترکی کنيزوں کے ساتھ کہيں جا رہی تھی۔ راستے ميں اس کا گزر حضرت صالح المری علیہ الرحمۃ کے گھر کے قریب سے ہوا۔ آپ اللہ عزوجل کے برگزيدہ بندوں ميں سے تھے۔ آپ باعمل عالم دين اور عابد و زاہد تھے۔ آپ اپنے گھر ميں لوگوں کو وعظ ارشاد فرمايا کرتے تھے۔ آپ کے وعظ کی تاثير سے لوگوں پر رقت طاری ہو جاتی اور وہ بڑی زور زور سے آہ و بکاء شروع کر ديتے اور اللہ عزوجل کے خوف سے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑياں لگ جاتيں۔ جب شعوانہ نامی وہ عورت وہاں سے گزرنے لگی تو اس نے گھر سے آہ و فغاں کی آوازيں سنيں۔ آوازيں سن کر اسے بہت غصہ آيا۔ وہ اپنی کنيزوں سے کہنے لگی:
''تعجب کی بات ہے کہ يہاں نوحہ کیا جا رہا ہے اور مجھے اس کی خبر تک نہيں دی گئی۔''
پھر اس نے ايک خادمہ کو گھر کے حالات معلوم کرنے کے ليے اندر بھیج ديا۔ وہ لونڈی اندر گئی اور اندر کے حالات ديکھ کر اس پر بھی خدا عزوجل کا خوف طاری ہو گيا اور وہ وہيں بيٹھ گئی۔
جب وہ واپس نہ آئی تو شعوانہ نے کافی انتظار کے بعد دوسری اور پھر تيسری لونڈی کو اندر بھیجا مگر وہ بھی واپس نہ لوٹيں۔
پھر اس نے چوتھی خادمہ کو اندر بھیجا جو تھوڑی دير بعد واپس لوٹ آئی اور اس نے بتايا کہ گھر ميں کسی کے مرنے پر ماتم نہيں ہو رہا بلکہ اپنے گناہوں پر آہ وبکاء کی جا رہی ہے، لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ عزوجل کے خوف سے رو رہے ہيں ۔''

شعوانہ نے يہ سنا تو ہنس دی اور ان کا مذاق اڑانے کی نيت سے گھر کے اندر داخل ہو گئی۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جونہی وہ اندر داخل ہوئی اللہ عزوجل نے اس کے دل کو پھیر ديا۔ جب اس نے حضرت صالح المری علیہ الرحمۃ کو ديکھا تو دل ميں کہنے لگی:
''افسوس! ميری تو ساری عمر ضائع ہو گئی، ميں نے انمول زندگی گناہوں ميں اکارت کر دی، وہ ميرے گناہوں کو کیونکر معاف فرمائے گا؟''
انہی خيالات سے پريشان ہو کر اس نے حضرت صالح المری علیہ الرحمۃ سے پوچھا:
''اے امام المسلمين! کيا اللہ عزوجل نافرمانوں اور سرکشوں کے گناہ بھی معاف فرما ديتا ہے؟''
آپ نے فرمايا:''ہاں! يہ وعظ و نصيحت اور وعدے وعيديں سب انہی کے ليے تو ہيں تاکہ وہ سيدھے راستے پر آ جائيں۔''
اس پر بھی اس کی تسلی نہ ہوئی تو وہ کہنے لگی:
''ميرے گناہ تو آسمان کے ستاروں اور سمندر کی جھاگ سے بھی زيادہ ہيں۔''
آپ نے فرمايا:
''کوئی بات نہيں! اگر تيرے گناہ شعوانہ سے بھی زيادہ ہوں تو بھی اللہ عزوجل معاف فرمادے گا۔''
يہ سن کر وہ چيخ پڑی اور رونا شروع کر ديا اور اتنا روئی کہ اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔

تھوڑی دير بعد جب اسے ہوش آيا تو کہنے لگی:
''حضرت! ميں ہی وہ شعوانہ ہوں جس کے گناہوں کی مثاليں دی جاتی ہيں۔''
پھر اس نے اپنا قيمتی لباس اور گراں قدر زيور اتار کر پرانا سا لباس پہن ليا اور گناہوں سے کمايا ہوا سارا مال غرباء میں تقسیم کر ديا اوراپنے تمام غلام اور خادمائيں بھی آزاد کر ديں۔
پھر اپنے گھر ميں مقيد ہو کر بيٹھ گئی۔ اس کے بعد وہ شب و روز اللہ عزوجل، کی عبادت ميں مصروف رہتی اور اپنے گناہوں پر روتی رہتی اور ان کی معافی مانگتی رہتی۔ رو رو کر رب عزوجل کی بارگاہ ميں التجائيں کرتی:
''اے توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھنے والے اور گنہگاروں کو معاف فرمانے والے! مجھ پر رحم فرما، ميں کمزور ہوں تيرے عذاب کی سختيوں کو برداشت نہيں کر سکتی، تو مجھے اپنے عذاب سے بچا لے اور مجھے اپنی زيارت سے مشرف فرما۔'' اس نے اسی حالت ميں چاليس سال زندگی بسر کی اورانتقال کر گئی۔

حکايات الصالحين ص۷۴۔..

05/06/2020

شادی سے پہلے*

“پاپا میں کسی کی غلامی نہیں کر سکتی ۔"
"کوئی کسی کی غلامی نہیں کرتا میری بچی ۔ سب اپنے اپنے حصے کا کام کرتے ہیں ۔ جو کام عورتوں کے لیئے مشکل ہیں وہ مرد کرتے ہیں اور جو مردوں کے لیئے مشکل ہیں وہ عورتیں ۔ یونہی مل جل کر گزارا ہوتا ہے ۔"

*شادی کے بعد*

"میں کھانا گرم نہیں کروں گی ۔"
"تو اپنے باپ کے گھر واپس چلی جاؤ ۔ میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہوں تمہاری ضروریات پوری کرنے کے لیئے ۔ تم میری ضرورت پوری نہیں کر سکتی تو مجھے تمہاری ضرورت نہیں ۔"

*طلاق کے بعد* (اسلام آباد کی سڑکوں پر بینر اٹھائے )

"کھانا خود گرم کر لو ۔"
"کھانا خود گرم کر لو ۔"
"کھانا خود گرم کر لو ۔"
"کھانا خود گرم کر لو ۔"

*باپ کے مرنے کے بعد*

"دیکھو میری بہن ۔ میں اب فیملی والا ہوں ۔ میری بیوی تمہیں اور برداشت نہیں کر سکتی ۔ تم اپنا بندوبست کہیں اور کر لو ۔"

*نوکری کی تلاش میں*

"ہمارے پاس ایک فی میل ریسپشنسٹ کی جگہ خالی ہے ۔ آپ ماشاء اللہ خوبصورت ہیں ۔ وہاں کام کر سکتی ہیں ۔"

*ڈھلتی عمر*

"بی بی ۔ ہم معذرت خواہ ہیں ۔ آپ کے کام میں اب پہلے جیسی تندہی نہیں ۔ آپ کہیں اور نوکری ڈھونڈیں ۔ ہمیں اب آپ کی ضرورت نہیں ۔"

*ظالم بڑھاپا*

"محترمہ ۔ آپ کی اتنی عمر ہو گئی ہے ۔ اب میں آپ کو کیا نوکری دوں ۔ اب تو آپ کو آرام سے اپنے بچوں کی کمائی کھانی چاہیئے ۔"
"میرے بچے نہیں ہیں ۔ کوئی نہیں ہے میرا ۔"
"اوہ ۔ چلیں میں کچھ کرتا ہوں آپ کے لیئے ۔ میرا بیس لوگوں کا اسٹاف ہے ۔ کیا آپ ان سب کے لیئے کھانا پکا سکتی ہیں ؟ میں آپ کو چھہ ہزار روپے ماہانہ دوں گا ؟"
"چھہ ہزار ؟"
"میں جانتا ہوں کہ ان چھہ ہزار میں آپ کی ضرورت پوری نہیں ہوتی ۔ مگر میں مجبور ہوں ۔ اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں میرے پاس ۔"
"ٹھیک ہے ۔ مجھے منظور ہے ۔" اس کی آنکھوں سے آنسو زار زار بہہ رہے تھے اور سوچ رہی تھی کہ کاش جوانی میں ہی کھانا گرم کر دیتی..

شائد کہ تیرے دل میں اتر جاے میری بات...

02/05/2020

ایک بہتر مسلمان بننے کے لیے لازمی پڑھیں
اسلام پر بہت سے ابہام دور کر دینے والی تحریر
اسلامی تاریخ میں ٹائم ٹریول ۔۔
چند لمحات کے لیے میری درخواست پر اُس دور میں ٹائم ٹریول کیجئے کہ جب حضرت محمدﷺ کے وصال کو صرف 80 سال گزرے تھے۔ ایک بھی صحابی زندہ نہیں ہے البتہ وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے صحابہ کو دیکھا تھا۔ اس وقت نہ ابو حنیفہ پیدا ہوئے تھے نہ امام مالک نہ امام جعفر صادق اور نہ فقہ لکھنے والا کوئی اورامام پیدا ہوا تھا۔ آپ ایک ایسے دور میں پہنچ گئے ہیں کہ حدیث کی ایک بھی کتاب موجود نہیں ہے۔ اور امام بخاری اور مسلم سمیت دیگر محدثین پیدا ہونے میں ابھی سوا سو سال سے زیادہ عرصہ ہے۔ یہ تو بڑی مشکل صورتحال ہےاب آپ کو سُنت کیسے پتہ چلے گی؟ فرائض کیسے پتہ چلیں گے؟ لوگ آخر کیسے مسلمان ہیں کہ ہمارے اماموں میں سے کوئی پیدا ہی نہیں ہواجن کے کئے ہوئے کام کےبعد ہم آج شیعہ اور سُنی، حنبلی اور شافعی وغیرہ بنے۔
دیوبند اور بریلی مدرسہ تو ابھی سوا ہزار سال بعد بنے گا لہذا آپ دیوبندی بریلوی بھی نہیں بن سکتے، وحابی بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ وحابی فرقے کی شروعات میں ابھی سوا ہزار سال کا عرصہ ہے، اہلِ حدیث تو تب بنیں جب حدیث کی کوئی کتاب ہو۔جس دور میں آپ پُہنچ گئے ہیں اُس وقت لوگ حدیث نبویﷺ کو لکھنے کا تصوّر بھی نہیں کرتے تھے کیونکہ حضرت مُحمدﷺ نے صاف صاف کہا تھا کہ اگر کسی نے مجھ سے سُن کر قُرآن کے علاوہ کُچھ لکھ لیا ہے تو وہ مٹا دے۔ اور لوگوں کو اپنے بزرگوں سے سُنی ہوئی یہ باتیں یاد ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عُمر فاروقؓ اپنے اپنے ادوار میں لوگوں کی اپنے نبیﷺ کی مُحبت میں لکھی جانے والی احادیث کو اکٹھا کر کے آگ لگوا چُکے ہیں۔ اُنھیں جلیلُ القدر صحابہ کی یہ نصیحت یاد ہے کہ نبیﷺ نے قُرآن اور اپنی سُنت کے علاوہ کُچھ نہیں چھوڑا لہٰذا آپ اہل حدیث تو ہو ہی نہیں سکتے۔ صحابہ میں سے کوئی زندہ نہیں ۔ بڑی مشکل میں ہیں ہم اب کہاں جائیں۔
اتنے میں مسجد میں اذان کی آواز آتی ہے، آپ مسجد پہنچتے ہیں تو کیسے نماز پڑھیں گے، ہاتھ باندھ کر یا ہاتھ چھوڑ کر؟
آپ یقیناً ویسے ہی نماز پڑھیں گےجیسے وہاں کی مسجد میں لوگ پڑھ رہے ہوں گے۔ یعنی سُنت مسلمانوں میں رائج ہے۔ فرائض کا پتہ ویسے ہی قرآن سے چل رہا ہے اور قرآن تو تب بھی وہی تھا جو آج ہے۔ یعنی اُس دور کے مُسلمان قُرآن اور مُعاشرے میں رائج سُنّت کے سہارے ہم سے کہیں بہتر مُسلمان تھے۔
احادیث قُرآن کے نزول کے ساتھ ساتھ اُس کی تشریح کو سُنّت کی شکل میں ابتدائی اسلامی مُعاشرے میں رائج کرنے کے لیے تھیں اور ہر سُنّت قُرآن کی تکمیل کے ساتھ ہی اسلامی مُعاشرے میں رائج ہو چُکی تھی۔ قُرآن کی تکمیل کے ساتھ ہی سُنّت کی بھی تکمیل ہو چُکی تھی۔ یعنی احادیث اپنی ضرورت پُوری کر چُکی تھی۔ تبھی ابوبکرؓ اور عُمرؓ نے احادیث کے ذخیروں کو آگ لگوائی تاکہ قُرآن و سُنّت ہی آنے والی نسلوں کے لیے اسلام کا ماخذ ہو۔ تبھی آخری حج کے موقع پر حضرت مُحمدﷺ نے دین کی تکمیل کا اعلان کرتے ہی صحابہؓ سے کہا کہ جو یہاں موجود نہیں اُن تک دین پہںچائیں جسے ایک آیت بھی سمجھ آئی ہو وہی باقیوں کو پہنچائے۔ بعض روایات میں ہے کہ اکثر صحابہ اُس حکم کے بعد حج ادھورا چھوڑ دیا اور مکّہ سے قُرآن اور آپﷺ کا عمل جو اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا (یعنی سُنّت) لے کر نکلے اور آدھی سے زیادہ دُنیا میں پھیل گئے۔
جن صحابہ نے نبیﷺ کو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے دیکھا تھا ویسے ہی سکھایا جنہوں نے ہاتھ چھوڑ کر یا رفع یدین کرتے دیکھا تھا اُنہوں نے آگے ویسے ہی سکھایا۔ کوفے کی طرف جو صحابہ گئے وہ آپﷺ کو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا دیکھتے رہے تھے لہٰذا عراق کے سب مُسلمانوں کی اگلی نسلیں اُسی سُنت پر عمل کرنے لگیں افریقہ اور کُچھ دیگر علاقوں میں جو صحابہؓ پہنچے اُنہوں نے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کی سُنت سکھائی لہٰذا آج تک افریقہ کے کڑوروں مُسلمان ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے اور عین سُنت نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہیں۔
رفع یدین کرنا بھی سُنّت ہے نہ کرنا بھی عین سُنّت۔ نماز تو ایک مثال ہے۔ ہر مُلک کے مُسلمانوں نے مُختلف مُعاملات اور عبادات میں الگ الگ صحابہ سے الگ الگ سُنّت سیکھی لہٰذا سبھی تھوڑے تھوڑے مُختلف ہونے کے باوجود سُنّت پر ہی عمل کرتے ہیں۔ اللہ نے صحابہؓ کے ذریعے ہر وہ طریقۂ عبادت کسی نہ کسی مُلک میں رائج کروا دیا جو نبیﷺ نے کبھی نہ کبھی اختیار کیا تھا۔ اُس وقت کے مُسلمان جب حج کے لیے مُختلف ملکوں سے اکٹھے ہوتے تو ان اختلافات کو بھی مُحبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ عراق والے کہتے کہ ہاتھ باندھ کر نماز کا طریقہ زیادہ مؤدّبانہ ہے مدینہ والوں کی دلیل ہوتی کہ حضوری کا احساس ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے سے زیادہ آتا ہے یہ علمی مذاکرے چلتے رہتے لیکن کوئی اس اختلاف کی بُنیاد پر ایک دوسرے کو غلط نہ کہتا۔
اب اپنی آنکھیں بند کر دوبارہ کھولیں۔ ہم اس وقت120ہجری یعنی حضرت محمدﷺ کے وصال کے 110سال بعد کے مدینہ میں موجود ہیں۔ مدینہ شہر میں امام مالک موجود ہیں اور مدینے میں ہی امام جعفر صادق بھی ہیں۔ یہ دونوں امام اپنی اپنی فقہ ترتیب دے رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے نت نئے پیدا ہونے والے مسائل میں رہنمائی ہوسکے ان کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ یہ امت کو فرقوں میں بانٹیں۔ یہ ایک دوسرے کی بے پناہ عزت کرتے ہیں۔
عین اسی وقت عراق کے شہر کوفے میں امام ابو حنیفہ بھی فقہ لکھ رہے ہیں، انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کا دور تو ہے نہیں اور نہ ہی اخبارات یا رسالے چھپتے ہی۔ ایک ملک سے دوسرے ملک کے سفر کے لئے مہینوں لگ سکتے ہیں لہذا مختلف امام اپنے اپنے لوگوں کی آسانی کے لئے مخلتف ملکوں میں فقہ لکھ رہے ہیں۔ امام شافعی اب سے کچھ سال بعد غزہ فلسطین میں اپنی فقہ لکھیں گے اور امام احمد بن حنبل بغداد میں یہی کام کریں گے۔
آپ کو یہ حال سن کر شاک لگ سکتا ہے کہ باقی سب امام دور دراز ملکوں میں ہیں۔ اور نبی کے شہر میں پیدا ہونے اور اور مسجدِ نبوی میں اپنی زندگی کی سب نمازیں پڑھنے والے امام دو ہی ہیں یعنی مالک اور جعفر صادق، اور دونوں ہی اپنی اپنی فقہ میں ہاتھ چھوڑ کر نماز پرھنے کا طریقہ بتاتے ہیں۔
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ کی وفات کے سو سال بعد ہی مسجدِ نبوی میں نماز کا طریقہ بدل گیا تھا جو ان دونوں اماموں نے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کو اسلامی طریقہ بتایا۔ نہ صرف یہ بلکہ طلاق کے لیے بھی یہ الگ الگ مواقع پردی گئی طلاق کو ہی صحیح سمجھتے ہیں ان دونوں کے نزدیک ایک موقع پر بیس دفعہ دی گئی ایک طلاق ہی شُمار ہو گی۔ ایسے ہی مدینہ کے یہ دونوں امام اکثر مُعاملات میں عقلی دلیلں دیتے ہیں کہ عقل کے استعمال کا حُکم قُرآن میں سات سو چھپن بار ہے اور مدینے میں ابھی مُحمدﷺ کے قائم کردہ اثرات باقی تھے۔
ایسے میں آپ دیکھتے ہیں کہ اسلام کا ایک عظیم طالب علم کوفے سے علمِ دین سیکھنے مدینہ آتا ہے، جی ہاں یہ نعمان بن ثابت ہے جسے آپ ابو حنیفہ کہتے ہیں، یہ امام جعفر صادق کی شاگردی اختیار کرتا ہے اور جلد ہی اسکی شہرت پورے مکے مدینے میں پھیل جاتی ہے۔ امام مالک جب بھی اسے ملتے ہیں احتراماً اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ امام بھی اپنی فقہ لکھ رہا ہے اور ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے اور رفع یدین نہ کرنے کا طریقہ بیان کرتا ہے جس پر نہ امام مالک اعتراض کرتے ہیں اور نہ امام جعفر صادق بلکہ امام مالک اب بھی جیسے ہی امام ابو حنیفہ کو دیکھتے ہیں احتراماً اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں، ان کے شاگرد پوچھتے ہیں آپ تو کسی کے لئے بھی کھڑے نہیں ہوتے پھر انکے لئے کیوں کھڑے ہوتے ہیں تو امام مالک کہتے ہیں اسلام کے ایسے عالم اور عاشقِ رسول ﷺ کا احترام مجھ پر واجب ہے۔
واضح رہے کہ امام مالک نے ایک حج کے علاوہ کبھی مدینے سے باہر کا سفر نہیں کیا کہ کہیں محمد کے شہر سے باہر موت نہ آجائے۔ہر نماز مسجدِ نبوی میں ادا کی کبھی جوتے نہیں پہنے کہ میں کہیں ایسی جگہ جوتا نہ رکھ دوں جہاں محمدﷺ ننگے پاؤں گزرے ہوں۔ کبھی سواری پر نہ بیٹھے کہ کہیں میں کسی ایسی جگہ سوار ہو کر نہ گزر جاؤں جہاں سے محمدﷺ پیدل گزرے ہوں۔ لیکن وہی امام مالک جو رفع یدین اور ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کا طریقہ بتاتے ہیں ایک ایسے عالم کا احترام کرتے ہیں جو رفع یدین نہ کرنے اور ہاتھ باند کر نماز کا طریقہ بتاتا ہے اور وہ ابو حنیفہ امام جعفر کی شاگردی اختیار کئے ہوئے ہیں جو ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں اور جنہیں اب شیعہ امام سمجھا جاتا ہے۔
غزہ سے ایک اور امام یعنی امام شافعی مدینہ آتے ہیں وہ خود ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ اپنی فقہ میں لکھ چکےہیں اور برملا یہ بھی کہتے ہیں کہ روئے زمین پر امام مالک سے بڑا حدیث اور فقہ کا کوئی عالم موجود نہیں۔
مجھے یقین ہے کہ یہ دیکھ کر آپ پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے کہ آپکے دور میں تو رفع یدین، ہاتھ چھوڑ کر یا ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا اور ایسی ہی دیگر باتوں پر بیسیوں فرقے ایک دوسرے کو کافر کہتےہیں اور یہ آئمہ کرام ایک دوسرے کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ اگر کوئی امام کسی دوسرے امام کے علاقے میں جائے دوسری فقہ کے لوگ انہیں جماعت کروانے کو کہیں تو وہ اپنے طریقے سے نہیں اسی امام کے طریقے سے نماز پڑھاتا ہے جس امام کی وہ مسجد ہے۔
یہ دیکھتے ہی آپکو پتہ چل جائے گا کہ شرپسند آپکو مسلمان سے حیوان بنا رہے تھے۔ بھائیوں کو شیعہ، سُنی، دیوبندی، بریلوی، وہابی وغیرہ بنا کر لڑواتے تھے۔ آپکو اپنے دور کے مُلا سے نفرت اور ان آئمہ سے محبت محسوس ہو گی اور آپ مختلف طریقوں سے نماز روزہ اور دیگر عبادات کرنے والے لوگوں کو اختلاف کے باوجود محبت کی نظر سے دیکھ کر اپنے جیسا مسلمان سمجھیں گے۔
اگر میں آپ سے کہوں کہ فرقوں میں بٹ جانا شرک ہے تو شاید آپکو یقین نہ آئے کیونکہ آپکو کبھی ان آیات کے بارے میں تو نہیں بتایا گیا ہوگا جن میں اللہ کہتا ہے کہ ’’اسی کی طرف رجوع کرتے رہو اور اس کا تقویٰ اختیار کرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہوجاؤ، اُن مشرکوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو فرقوں میں بانٹ دیا اور گروہ در گروہ ہوگئے۔ ہر گروہ اسی پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے‘‘۔
کیا اس آیت کے اس کھلے حکم کے بعد بھی آپ دیوبندی، بریلوی، شیعہ، حنفی شافعی یا مالکی کہلوانا پسند کریں گے؟
آپ سب چاہتے ہین کہ قیامت کے دِن حضرت ﷺ آپکی شفاعت کریں لیکن میں آپکو بتاتا چلوں کہ اللہ سورہ انعام کی آیت150میں اپنے نبی کو کیا حکم دے رہے ہیں۔
’’بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کیا آپﷺ کا کسی چیز میں اسے کوئی تعلق نہیں‘‘
کیا یہ آیت جان کر بھی آپ شیعہ، سُنی، دیوبندی، بریلوی وغیرہ بننا پسند کریں گےیا مسلمان ہونا چاہیں گے؟
جب اسلام آیا تو لوگ قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے آپس میں نفرتیں تھیں لیکن اللہ کی رسی یعنی قرآن نے انہیں بھائی بنا دیا، سُنتِ نبوی نے انکے دِل جوڑ دئیے لیکن مسلمان پھر سے فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دشمن اور جہنم سے قریب تر ہوگئے۔ اللہ سورہ آل عمران میں فرماتے ہیں ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹ جانا‘‘
کیا آپ بھی وہابی، اہلِ حدیث یا اہلِ قرآن جیسے کسی فرقے سے منسوب ہونا پسند کریں گےیا مسلمان ہونا چاہتے ہیں؟
کیوں نہ ہم صحابہ کے دور کے مسلمان بن جائیں جو قرآن کو اسلامی علم کا بنیادی ماخذ مانتے تھے۔
ان کے سامنے جب کوئی حدیث پیش کی جاتی تو وہ یہ دیکھتے کہ کہیں وہ حدیث قرآن سے تو نہیں ٹکراتی، اگر ایسا ہوتا تو وہ فوراً کہہ دیتے نبیﷺ ایسا نہیں کہہ سکتے، یہ قرآن کے خلاف ہے۔ راوی سے سننے کی غلطی ہوئی ہو گی۔ اگر حدیث قرآن کے خلاف نہ ہو تو اسے سر آنکھوں پر رکھتے۔
کیوں نہ ہم سب اماموں کو اپنا لیں۔ سب کی عزت کریں اور جس امام کی بھی فقہ سے جو حکم آسانیاں پیدا کرےوہ لے لیں لیکن خود کو کسی بھی امام سے منسوب نہ کریں اور بس بغیر کسی فرقہ کے پہلے دور کے مُسلمان بن جائیں۔ کیوں نہ ہم عقل سے کام لینا شروع کر دیں کہ قُرآن عقل کے استعمال کا سینکڑوں بار حکم دیتا ہے۔
میں آپ کو فرقوں سے نکل کر مُحمدﷺ کے دین اور صحابہ او تمام آئمّہ کے اسلام میں آنے کی دعوت دیتا ہوں۔

(میری زیرِ تکمیل کتاب
Revisiting islamic faith and practices in 21st Century
سے چند پیراگرافس)

محمد رضوان خالد چوھدری

09/03/2020

میرا جسم میری مرضی..
بقلم رافعہ خالد..

وطن عزیز میں گزشتہ کچھ دنوں سے اس نعرے کی گونج وقتاً فوقتاً کسی ناں کسی لبرل، دیسی لبرل ، ماروی سرمد، وقاص گورائیہ ، مبشر زیدی یا گل بخاری جیسے اسلام دشمنوں کی وال سے یا جیو جیسے وطن فروش چینل سے سنائی دیتی رہتی ہے..
پھر اکثر اوقات ہماری نظر سے انکے دئیے ہوئے گندے انڈوں سے نکلنے والے بچوں کی وضاحتیں کثرت سے گزرتی ہیں کہ میرا جسم میری مرضی ، جسکے چاہے بچے پیدا کروں، اپنا بستر خود گرم کرو، اپنے موزے خود ڈھونڈو، ہم جسم فروشی کو لیگل کروائیں گے، میری بہن جیسے مرضی بیٹھے جو مرضی پہنے، مردانہ کمزور اینڈ آف سٹوری کے تمثیلی معانی اصل میں کتنے پاکیزہ ہیں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے..

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں عورت واقعی ہی آزاد ہے یا پھر یہ مخصوص طبقہ درست موقف رکھتا ہے ؟ کیوں یہ مخصوص طبقہ عورت کی آزادی کے لیے میڈیا پر زور و شور سے نعرے لگا رہا، باقاعدہ میڈیا کے تعاون سے جنگ لڑ رہا ہے..

تو جواب یہ ہے کہ جی ہاں الحمدللہ ہمارے ہا‌ں عورت بلکل آزاد ہے، وہ ایک بااختیار ماں ہے جو ماں کی شکل میں جو گھر کی حاکمہ ہے بچوں کی تربیت کی ذمہ دار شوہر، سسر ساس اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار سب سے معزز ہے اسی کو گود سے تربیت پا کر مرد معاشرے کا حصہ بنتا ہے..
پھر ایک بیوی جو گھر کی ملکہ بن کر شوہر کو بادشاہ بنائے رکھتی ہے..
پھر ایک بیٹی اور بہن بن کر والد اور بھائی کی عزت میں اضافے کا سبب بن گھر میں روشنی اور رونق کا سبب بنتی ہے..
اسلام نیں اسکے پاؤں تلے جنت دے کر اسکا قد بلند کیا اور مقام سب سے افضل کر دیا..
پاکستان میں تین صوبوں میں عورت اوسط تعلیم میں مردوں سے آگے نکل چکی ہے..

فوج، میڈیکل، تعلیم، پولیس اور سول ایڈمنسٹریشن سمیت دیگر شعبوں میں انتہائی تیزی سے اپنا مقام پیدا کرتی عورت پاکستان کی روشن خیالی کی بہترین مثال ہے..
پنجاب میں انتظامی امور کی پوسٹس پر گزشتہ تین ماہ میں 60 اسسٹنٹ کمشنرز عورتیں لگائی گئیں جس سے آدھے سے زیادہ صوبے کے انتظامی امور عورتوں کے حصے میں چلے گئے ہیں...
پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں عورتوں کی تعداد کا مجموعی تناسب تمام مسلم ممالک سمیت دنیا میں سب سے زیادہ ہے جو انتہائی قابل فخر بات ہے.. اسکے علاوہ عورتوں کے معاملے میں حقوق نسواں کے سلسلے میں انتہائی سخت قانون سازی بھی اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان عورت کے لیے ایک محفوظ ملک ہے..

لبرلز... یہ درست ہے کہ پاکستان کے کچھ علاقے عورت کو اپنی ثقافت اور کلچر کی بنیاد پر محدود دائروں میں مقید رکھتے ہیں جیسے پاکستان کے قبائلی علاقے اور بلوچستان کے کچھ علاقوں کے علاوہ سندھ کے چند ایک مقامات جہاں پردہ تقافت اور کلچر کا بنیادی جزو ہے، اور آپ کا کہنا ہے کہ آپ انہی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں کہ یہاں کی عورت آزاد نہیں..
پہلی بات ایسا ہرگز نہیں ہے ان علاقوں میں بچیوں ککو تعلیم مکمل میسر ہے اور لوگ اس سے بھرپور استفادہ بھی کر رہے، پردہ انکا کلچر ہے جس پر ہمیں الحمدللہ فخر ہے..
دوسری بات کیا آپ لوگ روایات کے امین ان غیور لوگوں کی بیٹیوں بہنوں ماؤں اور بیویوں کو ان بےہودہ مارچ اور جلسوں سے آذادی دلوائیں گے؟
لوگ پردے اور حجاب کو " پیس آف شٹ" کہنے والی ماروی سرمد جیسا بنائیں اپنی عورتوں کو؟
فحاشی کے پیغامات سے لبریز، شوہر کی نافرمانی پر اکساتے، اسلام، اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے متصادم پیغامات اور تعلیمات پر مشتمل بورڈز اٹھائے یہ ادھ ننگی عورتیں کیا لوگوں کو اس بات پر راضی کر لیں گی کہ انکی عورتیں ان بےحیاؤں جیسی بن جائیں؟ ہرگز نہیں..
الحمدللہ ہم پاکستانی بیٹیاں، مائیں، بہنیں ہیں، اسلام ہمارا مذہب اور پردہ ہمارا حق اور حسن ہے جس پر ہمیں فخر ہے..
ہم اپنے والد، بھائی، بیٹوں اور شوہر کی شان ہیں، انکی عزت کی پاسبان ہیں ہمیں فخر ہے کہ اس وطن کی تخلیق کے دوران اپنے گھر والوں کی عزت محفوظ رکھنے کے لیے جانیں قربان کیں، کنوؤں میں چھلانگیں لگائیں، سر کٹوائے، خاندان کھوئے.. اور تم کہتے ہو آج ہم تم جیسی ہو جائیں..
اگر تم میرا جسم میری مرضی والے عورت کی آزادی چاہتے ہو تو اس قابل بنو کہ لوگ تم جیسا بننا چاہیں ناں کہ تمھیں دیکھ کر لعنت بھیج کر نظر پھیر لیں...

25/02/2020

ایک روز جب میں دفتر میں داخل ہوا تو ایک 22سالہ انتہائی کمزور لڑکی میرا کمرہ
صاف کر رہی تھی۔ اس کے کپڑے انتہائی پرانے، کپڑوں کا رنگ گو کہ سفید تھا لیکن
اس پر اتنی گرد پڑی ہوئی تھی کہ وہ مشکل سے سفید نظر آتے تھے۔ میں نے اپنی
سیکرٹری سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ ہماری پہلی صفائی والی آیا بیماری
کی وجہ سے کام چھوڑ گئی ہے، یہ لڑکی اُس کی جگہ پر آئی ہے۔

دن گزرتے گئے۔ اس بچی کی آنکھوں کی حیا اور چہرے کی معصومیت ایک پیغام دیتی
تھی، میں نے کبھی اس سے متعلق پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس بات کو کوئی چھ ماہ
گزر گئے تو ایک روز میری سیکرٹری نے مجھے کہا کہ اسے دو چارپائیاں لے دیں اور
پھر اس نے وہ واقعہ سنایا جو اس کے ساتھ گزشتہ رات پیش آیا تھا، کہنے لگی کہ
روزانہ اس کا شوہر سائیکل پر لینے اسے آتا تھا۔ کل جب وہ کافی دیر تک نہیں
آیا تو میں اس کو اس کے گھر چھوڑنے چلی گئی۔ یہ ایک ویرانے میں چھپڑ سا تھا
میں نے اندر داخل ہونا چاہا تو اس نے روکا کہ آپ اندر نہ جائیں۔ میں زبردستی
اندر گئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہاں پر ماسوا ایک لالٹین کے کچھ بھی
نہ تھا۔ اس کے دو بچے زمین پر لیٹے ہوئے تھے میں نے پوچھا کہ تم اور تمہارا
خاوند کہاں سوتے ہیں؟ تو اس نے زمین کی ایک جانب اشارہ کر کے بتایا کہ وہاں۔
میں نے پوچھا تمہارے پاس کوئی چارپائی، بستر، رضائی، تکیہ، برتن وغیرہ کچھ
نہیں؟ تو وہ رو پڑی اور کوئی جواب نہ دیا۔ دوسرے دن اسے دو چارپائیاں لے کر دے
دیں اور کچھ برتن بھی ۔ جب میں نے کچھ کپڑوں کے پیسے دیئے اور اسے کرایہ پر گھر
لے دیا تو اس کی حالت دیدنی تھی۔ دراصل میرا پروگرام اس کو ایک گھر لے کر دینے
کا تھا۔

چند روز پہلے میں نے اپنے روزانہ کے معمول کے مطابق دفتر میں صلاۃ التسبیح
شروع کی تو قیام کے دوران اچانک محسوس ہوا کہ میں آسمان میں ایک ایسے مقام پر
ہوں جہاں فرشتے خداوندِ قدوس سے براہ راست احکام وصول کرتے ہیں۔ چاروں طرف تاحد
نظر سفید لباس میں ملبوس فرشتے ہی فرشتے ہیں، اتنے میں رب العزت کی آواز
گونجتی ہے کہ ’’ڈاکٹر صاحب کی عبادت کا ثواب دوگنا کر دو۔ اس کے فوراً بعد تمام
فرشتے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کر دیتے ہیں۔ سب فرشتے حیران ہیں کہ اس بچی نے
اپنے پالن ہار رب العزت سے کیا مانگ لیا ہے کہ ایک تو رب العزت نے اس بندے کو
تمام عمر کی عبادت کے برابر ثواب بخشا ہے اور ساتھ ہی ایسی نعمتیں عطا کی ہیں
جس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔

میں نے نوافل مکمل کئے، بچی کو بلوایا اور اس وقت میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا اور
اس سے استدعا کی کہ وہ ایک بار پھر رب العزت سے میرے لئے ویسی ہی دعا مانگے۔
کچھ دن بعد القاء ہوتا ہے کہ اس نے تو کچھ نہیں مانگا لیکن جو کچھ بھی آپ نے
اسے دیا ہے وہ اتنی خوش تھی اور جب رات کو وہ چارپائی پر لیٹی تو زاروقطار رو
رہی تھی اور زبان پر ’’الحمدللہ‘‘ تھا۔ رب العزت کو اس کی یہ ادا پسند آئی اس
لئے انعام تو آپ ہی کو ملنا تھا۔ میں نے اگلے روز اس لڑکی کو بلوا کر اس کے
گھریلو حالات معلوم کئے تو پتہ چلا کہ اس نے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی
گزاری ہے۔ وہ بالکل ان پڑھ تھی لیکن نماز کی پابند تھی۔ گھر میں کبھی سالن نہ
بھی ہوتا تو وہ سوکھی روٹی اور مرچوں سے پانی کے ساتھ پیٹ بھر لیتی اور ہر حال
میں رب العزت کا شکر ادا کرتی اور کہتی ’’الحمدللہ‘‘ اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر
ہے، ایسے بھی تو لوگ ہوں گے جن کو یہ سوکھی روٹی بھی میسر نہیں۔ چھوٹی سی عمر
میں جب وہ چودہ سال کی تھی ماں باپ نے خالہ زاد کےساتھ رشتہ طے کر دیا اور شادی
ہو گئی۔ شوہر ایک موٹر سائیکل کی دکان پر کام کرتا تھا کبھی ہزار پانچ سوکما
کر لاتا۔ ایک سال کے اندر 2جڑواں بچے پیدا ہوئے کبھی اوپلے تھاپے اور کبھی کسی
کے گھر میں ایک وقت کی روٹی اور 2000 ماہانہ پر کام کیا لیکن ہر حال میں اس نے رب العزت کا شکر
ادا کیا۔ شروع میں سسرال والوں نے ایک چھپڑ میں رہنے کی جگہ دی پھر وہاں سے بھی
نکال دیا اور ہم نے معصوم بچوں کے ساتھ بھینسوں کے کمرے کےایک نکڑ میں رہ کر
گزر بسر کی اور جب اس اسپتال میں نوکری ملی تو ایک کرایہ کا کمرہ لے لیا آپ
جانتے ہیں کہ آج مہنگائی کا کیا عالم ہے لیکن ہر حال میں ذات باری تعالیٰ کا
شکر ادا کیا۔ آج میں اتنی خوش ہوں کہ میں زندگی بھر تصور بھی نہیں کر سکتی تھی
کبھی ایسا بھی ہو گا۔ آج پھر میں اپنے رب کے حضور سربسجود ہوں اور اپنے ڈاکٹر
صاحب کی بھلائی اور خوشی کے لئے دعا کرتی ہوں۔ مجھے گھر مل گیا، گھریلو اشیاء
مل گئیں۔

میں نے جب اس بچی سے انتہائی دردمندانہ اپیل کی کہ ایک مرتبہ پھر وہی دعا
مانگو جو تم نے رات کو میرے حق میں مانگی تھی تو اس نے ذہن پر زور دے کر کہا کہ
میں نے تو کچھ بھی نہیں مانگا تھا۔ میں بس بے انتہا خوش تھی، خوشی میں زاروقطار
رو رہی تھی اور زبان پر ’’الحمدللہ‘‘ تھا اور دل میں آپ کے لئے دعا تھی، وہ
دعا کیا تھی میں نہیں جانتی صرف اور صرف آپ کی صحت اور خوشی مانگ رہی تھی اس
جہان میں اور آخرت میں بھی ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Lahore