14/01/2026
Punjab Public Teachers Association-PPTA
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Punjab Public Teachers Association-PPTA, Lahore.
PPTA advocates for fair salaries,service structures,job security and professional development opportunities.It engages with policymakers to influence educational reforms and works against the privatization of education,emphasizing accessibility and equity
14/01/2026
سردی کی شدت بڑھنےکی وجہ سےسردیوں کی چھٹیوں میں ایک ہفتہ اضافہ ہوگیا۔۔۔سکول و کالج اب 19جنوری کو کھلیں گے۔۔
رانا سکندرحیات
پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری (PSER) سروے کرنے والےاساتذہ کرام ذلت، مالی نقصان اور عدم تحفظ کا شکار — مکمل بائیکاٹ کا اعلان
پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری (PSER) سروے کرنے والے اساتذہ کرام اس وقت شدید مشکلات، ذلت و رسوائی اور مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہری بلاکوں میں عوام کی بڑی تعداد ڈیٹا فراہم کرنے سے انکاری ہے۔ شدید سردی میں اساتذہ گھروں کے باہر کھڑے ہو کر لوگوں سے منت سماجت کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ کئی مقامات پر انہیں بیٹھک میں بیٹھ کر سروے فارم مکمل کرنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی، جس کے باعث اساتذہ کو گلیوں اور سڑکوں پر بیٹھ کر سروے فارم پر کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کی جانب سے انومیریٹرز، یعنی اساتذہ، کو ہر صورت ڈیٹا مکمل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، چاہے حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں۔
اساتذہ کو 30 سے 40 کلومیٹر دور بلاک الاٹ کیے گئے ہیں۔ عوامی عدم تعاون کے باعث نہ ڈیٹا مکمل ہو پاتا ہے اور نہ ہی اساتذہ کی حاضری لگتی ہے۔ اس کے باوجود اساتذہ اپنی جیب سے روزانہ 700 سے 800 روپے فیول اور تقریباً 300 روپے دوپہر کے کھانے پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ اس طرح ایک انومیریٹر کا روزانہ مجموعی خرچ 1000 سے 1200 روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 2 ماہ گزرنے کے باوجود کوئی تنخواہ یا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔
ان حالات میں اساتذہ نہ صرف شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں بلکہ آئے روز عوامی بدسلوکی اور عدم تحفظ نے ان کی عزتِ نفس کو بھی بری طرح مجروح کیا ہے۔ جن ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے تھا، آج انہی ہاتھوں میں کمپیوٹر ٹیبلٹ تھما کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
ان سنگین حالات کے پیشِ نظر تمام اساتذہ کرام نے مطالبات کی منظوری تک پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری سروے کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
اساتذہ کے واضح اور دو ٹوک مطالبات
اساتذہ کرام حکومتِ پنجاب سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. سروے کی تمام بقایا تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں۔
2. اضافی ڈیوٹی کے عوض ہر انومیریٹر کو کم از کم 60,000 روپے ماہانہ معاوضہ دیا جائے۔
3. فیلڈ ورک کے دوران سیکیورٹی اہلکار فراہم کیے جائیں۔۔تاکہ ڈیٹا حاصل کرنا آسان ہو۔۔
4. 30 سے 40 کلومیٹر دور بلاکس کے باعث پیش آنے والے مسائل کے حل کیلئے معاوضے اور تنخواہوں میں واضح اضافہ کیا جائے۔
5. غیر حاضری لگانے کی پالیسی ختم کر کے عوامی عدم تعاون کی صورت میں اساتذہ کو تحفظ دیا جائے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ بدانتظامی کی وجہ سے ایک بہترین اور عوامی فلاحی منصوبہ ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ فیصلے نہ کیے گئے تو یہ منصوبہ بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔
اساتذہ نے واضح اور دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری سروے کا بائیکاٹ مکمل اور غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔
ہر سال ڈیپارٹمنٹل پروموشنل ٹیسٹ لیا جائے۔۔سب ٹیچرز کو کسی بھی سکیل پر پروموٹ ہونےکا برابر حق دیا جائے۔۔
پرائمری سکول ٹیچرز(PSTs) اور ایلیمنٹری سکول ٹیچرز(ESTs) کو سکیل 16 اور سیکنڈری سکول ٹیچرز(SSTs) کو سکیل 17
اعلان جلد متوقع۔
موسم سرما کی شدت میں اضافہ ہونے کے باعث پرائمری اورایلیمنٹری سکولوں کومزید ایک ہفتہ کیلئےسردیوں کی چھٹیاں بڑھانے کا فیصلہ کیے جانے کا امکان۔۔ہائی اور ہائر سیکنڈری سکول سوموار سے کھلنے کا امکان۔۔سردی کی شدت میں اضافہ برقرار رہنے پر فیصلہ زیر غور۔۔۔ذرائع
🤔 2026 کی سب سے بڑی گڈ نیوز… کہاں رہ گئی؟
جس خوشخبری کے چرچے تھے،
نہ اس کی آہٹ سنائی دی، نہ کوئی اعلان ہوا۔
کیا وہ واقعی آنے تھی؟
یا صرف باتوں تک محدود تھی؟
❓ وہ گڈ نیوز کون سی تھی؟
❓ کب آنی تھی؟
❓ اور اب کہاں ہے؟
کسی کو کچھ معلوم ہے؟
📢 Good News for Teachers — Circulating on Social Media! 📚✨
Some encouraging news is being shared on social media for teachers. Let’s take a look 👇
1️⃣ Two Cadres for Teachers
• PST & EST upgraded to Grade 16
• SST upgraded to Grade 17
2️⃣ 30% Disparity Allowance
Proposed to reduce salary differences for teachers.
3️⃣ Laptops for Teachers 💻
To enhance digital learning, teaching quality, and professional skills.
4️⃣ Electric Bikes for Teachers 🛵⚡
For easy, affordable, and eco-friendly commuting.
5️⃣ Teaching & Performance Allowance 🎯
Additional allowance based on teaching duties and performance.
6️⃣ Anything More? 🤔
If you’ve heard any updates, share in the comments!
ہم نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اساتذہ کو ٹیچنگ الاؤنس دیا جانا چاہیے، مگر یہ الاؤنس فکس رقم کی صورت میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ بنیادی تنخواہ کا کم از کم 30 فیصد ہونا چاہیے، تاکہ یہ مہنگائی کے ساتھ خود بخود ہم آہنگ رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اساتذہ کا طبقہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے بری طرح پس چکا ہے۔ محدود تنخواہوں، بڑھتے اخراجات اور مسلسل نظرانداز کیے جانے کے باعث یہ طبقہ معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں پرفارمنس الاؤنس متعارف کرانا مزید مسائل کو جنم دے گا، کیونکہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پرفارمنس کا معیار کون اور کیسے طے کرے گا؟
یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کون سا استاد اچھا ہے اور کون سا نہیں؟ ایسے مبہم اور غیر شفاف نظام سے ناانصافی، سفارش اور انتشار کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی پیچیدہ اور متنازع نظام کے بجائے ایک ہی واضح، منصفانہ اور بلا تفریق الاؤنس دیا جائے۔
ٹیچنگ الاؤنس تمام اساتذہ کو، بغیر کسی امتیاز کے، ملنا چاہیے تاکہ اساتذہ معاشی طور پر مستحکم ہوں اور پوری توجہ تدریسی عمل پر مرکوز رکھ سکیں۔
اساتذہ کو تقسیم کرنے کے بجائے مضبوط کیا جائے، کیونکہ مضبوط استاد ہی مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے
. . . .
پنجاب حکومت کا اساتذہ کو کارکردگی الاؤنس دینے کا فیصلہ
پرائمری اسکول کے اساتذہ کو اچھی پرفارمنس پر 5 ہزار روپے الاؤنس دیا جائے گا
ایلمینٹری اسکولز کے اساتذہ کو 7500 روپے الاؤنس دیا جائے گا
ہائی اسکول اساتذہ کو 10 ہزار روپے الاؤنس دیا جائے گا
ہائر سکینڈری اسکولز کے اساتذہ کو 12,500 روپے الاؤنس دیا جائے گا
میرے خیال کے مطابق پرائمری اساتذہ کو سب سے زیادہ ملنا چاہیے۔۔۔
26/12/2025
لاہور:- پنجاب حکومت نے اساتذہ کو کارکردگی الاونس دینے کا فیصلہ کردہا۔۔
اساتذہ کی آنلائن Higher Order Thinking (HOT) ٹریننگ سنگین انتظامی و تکنیکی بحران کا شکار، اساتذہ شدید اذیت میں مبتلا
محکمہ تعلیم کے زیرِ اہتمام جاری Higher Order Thinking (HOT) Training اس وقت شدید انتظامی اور تکنیکی مسائل کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث سرکاری اساتذہ کو غیر معمولی مشکلات اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اساتذہ کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں سے ٹریننگ کی آفیشل ویب سائٹ یا تو مکمل طور پر بند ہے یا شدید حد تک غیر مستحکم ہے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ پورٹل پر موجود ٹریننگ ویڈیوز دورانِ پلے بار بار رک جاتی ہیں، سسٹم سٹک ہو جاتا ہے اور ویڈیو دوبارہ چلنے پر آغاز سے شروع ہو جاتی ہے، جس سے سیکھنے کا پورا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح بار بار لاگ آؤٹ، ڈیٹا سیو نہ ہونا اور پورٹل کا فریز ہو جانا معمول بن چکا ہے، جس کے باعث کوئی بھی اسائنمنٹ درست طریقے سے مکمل نہیں ہو پا رہی۔
اساتذہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب محکمہ تعلیم کی طرف سے HOT ٹریننگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور ڈیڈ لائنز کا دباؤ مسلسل برقرار ہے، جبکہ دوسری جانب پورٹل کی عدم دستیابی اور تکنیکی خامیاں انتظامی نااہلی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس صورتحال نے Higher Order Thinking جیسے اہم اور معیاری تدریسی پروگرام کی افادیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ اس ٹریننگ کے حوالے سے یہ شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ بعض افراد پانچ سو روپے کے عوض دوسرے اساتذہ سے ٹریننگ مکمل کروا رہے ہیں، جس کے باعث یہ پورا عمل عملی تربیت کے بجائے محض رسمی کارروائی بنتا جا رہا ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف تربیتی مقاصد متاثر ہو رہے ہیں بلکہ نظام کی شفافیت اور معیار بھی بری طرح مجروح ہو رہا ہے۔
اساتذہ تنظیموں اور تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ Higher Order Thinking (HOT) Training کے آن لائن نظام کو فوری طور پر مکمل طور پر فعال اور مستحکم بنایا جائے، سرور اور ویڈیو اسٹریمنگ کے مسائل کا مستقل حل نکالا جائے، اسائنمنٹ ماڈیولز کو درست کیا جائے اور تکنیکی خرابیوں کے باعث اساتذہ کے لیے ڈیڈ لائنز میں توسیع کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان مسائل کی وجہ سے اساتذہ کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی یا انتظامی کارروائی سے گریز کیا جائے تاکہ ٹریننگ واقعی تدریسی معیار میں بہتری کا ذریعہ بن سکے، نہ کہ اساتذہ کے لیے اذیت کا سبب۔
Rana Sikandar Hayat
DTE Punjab DSD
Click here to claim your Sponsored Listing.