Zia ur Rehman Ziluj

Zia ur Rehman Ziluj

Share

Life Riser || Career Coach || Trainer || Food Technologist || Halal Certification Professional

Hum sub musafir hain manzil ki trf rawan dawan. .musafir paikar e junoon hota ha jo usy muthark rakhti ha.jo muthark ni wo musafir ni..manzil pr musafir ka imaan ,imaan bil gaib hota ha...wo manzil k pas pohnch kr b bhatk sakta ha..manzlen rahber ki marhoon e minat hoti ha ..agr talb e manzil rakhtay ho to rahber dhoond lo...hum ne to dhoond lia...

24/07/2025

📘 میٹرک کے بعد بچوں کے مستقبل کا فیصلہ:
والدین کی ذمہ داریاں اور بچوں کی شمولیت

(تحریر:عبدالستارمنہاجین)

ہر سال جب میٹرک کے نتائج کا اعلان ہوتا ہے تو لاکھوں طلباء و طالبات ایک نئے تعلیمی سفر کے دہانے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب اُن کی زندگی کے اہم ترین فیصلے کئے جا رہے ہوتے ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے ہاں اُن فیصلوں میں اکثر بچوں کی رائے یا رجحان کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ والدین، اساتذہ یا رشتہ دار اپنی سمجھ بوجھ، سماجی دباؤ اور بھیڑچال کی بنیاد پر یہ طے کر لیتے ہیں کہ بچہ آگے ڈاکٹر بنے گا، انجینئر یا کون سے مضمون میں بی ایس کی ڈگری کرے گا، جبکہ بچہ خود یہ جانتا ہی نہیں کہ اُس کا دل کس شعبے میں ہے، یا اُس کے اندر اصل صلاحیت کیا ہے۔ کیریئر کونسلنگ کے بغیر اِتنا بڑا فیصلہ بہت سے بچوں کا مستقبل تباہ کر دیتا ہے۔

🧒 بچوں کی شمولیت کیوں ضروری ہے؟

اعلیٰ تعلیم کے اہم فیصلے میں بچوں کی شمولیت صرف ایک اَخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ اُن کی زندگی کے مستقبل پر اثرانداز ہونے والا بنیادی اُصول ہے۔ اگر کوئی بچہ حساب میں کمزور ہے مگر والدین زبردستی اُسے پری انجینئرنگ میں بھیج دیتے ہیں تو وہ نہ صرف تعلیمی طور پر ناکام ہوگا بلکہ اِعتماد کی کمی، ذہنی دباؤ اور احساسِ کمتری کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔ اُس کے برعکس اگر بچے کو اپنی دلچسپی کے شعبے میں جانے دیا جائے تو وہ کم نمبروں کے باوجود بھی کامیابی اور خوداعتمادی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

کسی بھی معاملے میں اپنا مؤقف رکھنا، اِختلاف کرنا اور دلیل دینا ایک صحتمند ذہن کی علامت ہے، مگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ وہی سوچے جو ہم نے سوچا، وہی مانے جو ہم نے مانا اور وہ معاشرے کے مروجہ اُصولوں سے ہٹ کر سوچنے بولنے کی ہمت نہ کرے۔ ایسے بھیڑچال والی صورتحال میں بچے کی تخلیقی صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں۔

🎓 ڈگری یا ہنر؟ فیصلہ کن مرحلہ

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کا بنیادی مقصد ’’نوکری حاصل کرنا‘‘ بنا دیا گیا ہے۔ شعور، تخلیق یا ذاتی ترقی کو شاید ہی کہیں ترجیح دی جاتی ہو۔ والدین کا خیال ہوتا ہے کہ اگر بچہ ’’ڈگری یافتہ‘‘ نہیں ہوگا تو وہ کسی قابلِ احترام روزگار کے قابل نہیں بن سکے گا۔ یہ سوچ نہ صرف محدود ہے بلکہ اکثر عملی زندگی میں ناکام بھی ثابت ہوتی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک ڈگری کے ساتھ کوئی ہنر، کوئی مہارت یا معاشی پیداوار کی صلاحیت نہ ہو وہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں لاکھوں نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے سالہا سال لگا کر ایم اے، ایم ایس یا ایم فل تک تعلیم حاصل کی، لیکن آج بھی وہ ملازمت کی تلاش میں دھکے کھا رہے ہیں۔

🔧 ہنرمند افراد کی بڑھتی ہوئی قدر

اِس کے برعکس اگر ہم معاشرے میں ہنرمند افراد کی حالت دیکھیں تو وہ عملی زندگی میں نسبتاً زیادہ خوشحال، خودمختار، خودکفیل اور معاشی طور پر مستحکم ہیں۔ ایک ماہر الیکٹریشن، پلمبر، اے سی ٹیکنیشن یا آٹو مکینک اکثر اپنے وقت کا خود مالک ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے گاہک چنتا ہے، اپنی اُجرت خود طے کرتا ہے اور کسی کی نوکری کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس راستے پر چلنے والا بچہ چند سالوں کا تجربہ حاصل کرنے کے بعد اپنے ماتحت ملازمین کی ایک ٹیم بنا چکا ہوتا ہے۔ یعنی وہ دوسرے کلاس فیلوز کی نسبت کم تعلیم ہونے کے باوجود اپنے شوق کے ہنر کو اپنانے کی وجہ سے روزگار دینے والا بن جاتا ہے۔

آج کے دور میں ہارڈ اسکلز کے علاوہ سافٹ اسکلز کی بھی بڑی قدر ہے۔ یعنی صرف ہاتھ کے ہنر ہی نہیں بلکہ کمپیوٹر پروگرامنگ، گرافک ڈیزائننگ، فری لانسنگ، زبانوں کی مہارت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسی سافٹ اسکلز بھی تیزی سے نوجوانوں کو معاشی خودمختاری کی طرف لے جا رہی ہیں۔ اگر آپ کا بچہ کسی ایسے بنر کو اپنا لیتا ہے تو اس فیلڈ میں بھی ممکن ہے کہ وہ چند سال کے اندر اندر ایک ٹیم کیلئے روزگار کے ذرائع پیدا کرنے والا بن جائے۔

📚 سادہ تعلیم + مہارت = کامیاب زندگی

جو بچے اعلیٰ تعلیم جاری نہیں رکھنا چاہتے بلکہ سادہ تعلیم کے ساتھ فوری طور پر کوئی ہنر بھی سیکھنا چاہتے ہیں، اُن کیلئے ایک بہترین آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ وہ سادہ انٹرمیڈیٹ یا گریجویشن کے ساتھ ساتھ کسی ہنر یا زبان کی تعلیم حاصل کرلیں۔ انگریزی، عربی یا چینی زبان سیکھنا آج کے دور میں کسی خزانے سے کم نہیں۔ یہ زبانیں اُنہیں عالمی مارکیٹ سے بھی منسلک کرسکتی ہیں۔ اپنی سافٹ اسکلز کی مدد سے مختلف سروسز کی بیرونِ ملک فروخت سے وہ ملک میں رہتے ہوئے بھی معقول زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔

👩‍👦 سنگل ماؤں اور کم آمدنی والے والدین کیلئے رہنمائی

جو والدین اپنے بچوں کی یونیورسٹی سطح تک تعلیم کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے، یا وہ مائیں جو بطور ’سنگل مدر‘ اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہیں، اُن کیلئے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ بچوں کو کم سے کم بنیادی تعلیم کے بعد کسی ہنر کی تعلیم دلوانے پر توجہ دیں۔ اس سے وہ قرضوں سے بھی بچیں گے اور بچے بھی جلد خودکفیل ہوجائیں گے۔ اگر بچہ ذہین ہو تو کمانے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی جاری رکھ سکتا ہے۔

🤝 فیصلے میں رہنمائی، زبردستی نہیں

بچوں کی رہنمائی نہ صرف والدین کا حق ہے بلکہ اُن کا فرض بھی ہے، لیکن اپنا فیصلہ بچوں پر تھوپ دینا نہ صرف غیرمنصفانہ عمل ہے بلکہ اُن کی زندگی کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔ بچوں کو ہنر، ڈگری یا کسی خاص شعبے کے فوائد و نقصانات سے آگاہ کرنا، اُنہیں مختلف راستوں کی عملی تصویر دکھانا، اُن کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو سمجھنا، یہ سب اِقدامات والدین اور اساتذہ کی اصل ذمہ داری ہے۔

📈 ضروری تکمیلی اِقدامات: ادارے، والدین اور طلبہ کیلئے مشترکہ رہنمائی

ہمیں صرف بچوں کو سننے یا اُن کی مرضی کا خیال رکھنے تک محدود نہیں رہنا چاہئے، بلکہ کچھ عملی اِقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ اسکولز اور کالجز میں باقاعدہ ’’کیریئر کونسلنگ سیل‘‘ قائم کئے جائیں، جہاں طلبہ کو مستقبل کی مارکیٹ، جاب ٹرینڈز اور ہنر سیکھنے کی رہنمائی فراہم کی جائے۔ والدین کیلئے بھی تربیتی سیشنز کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ روایتی سوچ سے ہٹ کر بچوں کی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق فیصلے کرسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کم نمبر لینے والے طلبہ کو بھی مایوس نہیں ہونے دینا چاہئے، بلکہ اُن کی قوت و صلاحیت پر اِعتماد بحال کرکے اُنہیں متبادل کامیاب راستے دکھانا ہوں گے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر بچے کی تعلیم و کیریئر میں ’’اخلاقی، دینی اور شخصی تربیت‘‘ کو ضرور شامل کیا جائے، تاکہ وہ صرف کامیاب پروفیشنل ہی نہیں بلکہ ایک باکردار اِنسان بھی بن سکے۔ تعلیم صرف روزگار نہیں، کردار سازی کا عمل بھی ہے، اور یہی حقیقی کامیابی کی بنیاد ہے۔

✅ نتیجہ

ہمیں اِس سوچ سے نکلنا ہوگا کہ صرف ’’ڈگری یافتہ‘‘ ہونا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ دنیا بدل چکی ہے، روزگار کے ذرائع تبدیل ہوچکے ہیں، اور کامیابی کے معیارات بھی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات، تعلیمی پالیسیوں اور گھریلو فیصلوں کو نئی نسل کے مزاج، رجحان اور عالمی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کریں۔

بچوں کے مستقبل کے فیصلے صرف حاصلکردہ نمبروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ شعور، رجحان، مہارت اور مشاورت کے ساتھ کئے جانے چاہئیں۔ کیونکہ تعلیم بوجھ نہیں، شعور ہے۔ اور شعور کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے بچوں کو سنا جائے، سمجھا جائے اور فیصلے میں شریک کیا جائے۔

19/07/2025

جنریشن گیپ اور کیرئیر کاؤنسلنگ۔۔۔۔
آج کی یوتھ تیزی سے بدلتی اور ترقی کرتی ہوئی دنیا کا سامنا کر رہی ہے، جہاں ٹیکنالوجی، مارکیٹ اور جابز کی ریکوائرئمنٹس روزانہ بدل رہی ہیں۔ جبکہ والدین اور بزرگ اکثر پرانی روایات، تجربات اور مخصوص شعبوں (جیسے ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری ملازمت) کو کامیابی کی ضمانت سمجھتے ہیں۔۔۔
یہی فرق نسلوں کے درمیان خلا یعنی "جنریشن گیپ" کو جنم دیتا ہے۔
اس خلا کی وجہ سے نوجوان اکثر الجھن، دباؤ اور غیر دلچسپ کیرئیر کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں۔ یہاں کیرئیر کاؤنسلنگ ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے، جو والدین کی تجربہ کار سوچ اور نوجوانوں کے جدید رجحانات کے درمیان ایک بیلنس پیدا کرتی ہے
میری کیرئیر کاؤنسلنگ سروسز کا مقصد یہی ہے کہ طلبہ کو ان کی شخصیت، انٹرسٹ، صلاحیتوں اور موجودہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق درست راہنمائی دی جائے تاکہ وہ نہ صرف کامیاب کیرئیر کا انتخاب کریں بلکہ خوشحال زندگی گزاریں۔
اگر آپ یا آپ کے بچے کیرئیر کے انتخاب میں تذبذب کا شکار ہیں تو کیرئیر کاؤنسلنگ سے فائدہ اٹھائیں اور نسلوں کے اس فاصلے کو سمجھداری، مکالمے اور راہنمائی سے کم کریں۔۔۔
ہم سٹوڈنٹس کی صلاحیتوں ،انٹرسٹ اور ویلیوز کو چیک کرنے کیلئے ایک ایپٹیٹیوڈ ٹیسٹ لیتے ہیں جس کے رزلٹ کی بنیاد پر ہم سٹوڈنٹس کو 3 بہترین آپشن ریکمنڈ کرتے ہیں ۔۔
اس کے علاؤہ وہ لوگ جو ڈگری کر چکے ہیں اور جابز نہیں مل رہی انکی کیرئیر میپنگ کے ذریعے ڈائریکشن سیٹ کروا کے روزگار کا رستہ ہموار کرتے ہیں ۔۔

ضیاء الرحمن ضلج
کیریئر کونسلر

YouTube:
https://youtube.com/?si=-L4M7s3DZwXGKco4
WhatsApp:
https://whatsapp.com/channel/0029VbBgZiO59PwbZkl7sp0V

02/07/2025

زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے درست تعلیمی راستہ چننا نہایت اہم ہے۔ اکثر طلبہ میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد یہ فیصلہ کرنے میں الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ کون سا شعبہ ان کے لیے بہتر ہے۔ اس سلسلے میں چند بنیادی اصولوں پر غور کرنا ضروری ہے۔

سب سے پہلے، اپنے شوق، دلچسپی اور صلاحیت کو پہچانیں۔ اگر آپ کو سائنسی تجربات کا شوق ہے تو سائنس کا میدان آپ کے لیے بہتر ہو سکتا ہے۔ اگر آپ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں مہارت رکھتے ہیں تو سوشل سائنسز یا بزنس کا انتخاب مناسب رہے گا۔

دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ آپ جس شعبے کا انتخاب کر رہے ہیں، اُس کے مستقبل میں روزگار کے مواقع کیسے ہیں؟ مثلاً آئی ٹی، میڈیکل، انجینئرنگ اور ڈیجیٹل میڈیا جیسے شعبے آج کل زیادہ ڈیمانڈ میں ہیں۔

تیسری بات، اپنے والدین، اساتذہ یا کسی پیشہ ور کیرئیر کونسلر سے مشورہ ضرور کریں، لیکن فیصلہ اپنی دلچسپی، مہارت اور حالات کو مدنظر رکھ کر خود کریں۔

یاد رکھیں، کامیابی اُس وقت حاصل ہوتی ہے جب آپ دل سے کسی کام کو اپناتے ہیں۔ اس لیے وہی راستہ چُنیں جس میں آپ دلجمعی، دلچسپی اور لگن کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

26/06/2025

کیریئر کا انتخاب: انٹرمیڈیٹ کے طلباء کے لیے..

پاکستان میں اکثر طلباء انٹرمیڈیٹ کے بعد کیریئر کے انتخاب میں الجھن کا شکار ہوتے ہیں, ریل کے ان دو ٹریک کی طرح کہ مجھے کس راستے کا انتخاب کرنا ہے، جب آپ کے سامنے بہت سے راستے ہوں، تو درست فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ تحریر ان طلباء کے لیے ہے جو بہترین کیریئر کے انتخاب کیلئے پریشان ہیں۔۔

1. خود کو پہچانیے (خودشناسی)
کیریئر کے انتخاب کا پہلا قدم خود شناسی ہے۔ اپنے شوق، دلچسپی، شخصیت، اور صلاحیتوں کو پہچانیں۔ خود سے سوال کریں:

مجھے کس مضمون میں دلچسپی ہے؟
میں کس کام کو کر کے خوشی محسوس کرتا ہوں؟
میری طاقت اور کمزوریاں کیا ہیں؟
میں عملی (practical) کام پسند کرتا ہوں یا تحقیقاتی (research) کام؟
2. معلومات حاصل کریں
ہر فیلڈ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں۔ انٹرنیٹ، یوٹیوب، سینئرز، اساتذہ، اور کیریئر کونسلرز سے بات کریں۔ درج ذیل شعبوں پر تحقیق کریں:
طب (Medical)
انجینئرنگ
کمپیوٹر سائنس / آئی ٹی
بزنس / مینجمنٹ
سوشل سائنسز
آرٹس اور ڈیزائن
زراعت، فوڈ سائنس، اور ماحولیاتی سائنس
دینی تعلیم اور شریعہ
(اس کیلئے آپ ہمارے یوٹیوب چینل کو بھی وزٹ کر سکتے ہیں جہاں ہر ڈگری پروگرام کے متعلق مکمل تفصیل موجود ہے
https://youtube.com/?si=CbbW4dT4CbqJPDW8 )
3. مواقع کا جائزہ لیں
ہر فیلڈ میں روزگار کے امکانات (Job Market) کا جائزہ لیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ مستقبل میں کن فیلڈز کی مانگ بڑھے گی۔ صرف آج کے رجحان کو نہ دیکھیں بلکہ آنے والے دس سال کو ذہن میں رکھیں۔

4. گھر والوں سے مشورہ، دباؤ نہیں
اپنے والدین سے ضرور مشورہ کریں، لیکن صرف ان کی خواہش پر نہ چلیں۔ آپ کی زندگی آپ کی ہے۔ والدین کی رائے کو اہمیت دیں، مگر آخری فیصلہ اپنے شوق، قابلیت، اور معلومات کی بنیاد پر کریں۔

5. چھوٹے کورسز اور انٹرنشپ
جس فیلڈ میں آپ کو دلچسپی ہو، اس سے متعلق چھوٹے کورسز کریں یا کسی ادارے میں انٹرنشپ کریں۔ اس سے آپ کو اصل کام کا اندازہ ہوگا اور فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا۔

6. کیریئر کونسلنگ
اگر آپ اب بھی کنفیوز ہیں، تو کسی مستند کیریئر کونسلر سے رجوع کریں۔ وہ آپ کی شخصیت، دلچسپی، اور قابلیت کو جانچ کر آپ کو بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔

7. کوئی بھی فیصلہ آخری نہیں
اگر آپ نے کسی فیلڈ کا انتخاب کیا اور بعد میں محسوس کیا کہ یہ آپ کے لیے نہیں ہے، تو رک جائیں، سیکھیں، اور نئی راہ اپنائیں۔ زندگی میں تبدیلی کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔

یاد رکھیں، کیریئر کا انتخاب زندگی کا اہم فیصلہ ہے، لیکن یہ زندگی کا آخری فیصلہ نہیں۔ محنت، لگن، اور صحیح سمت میں قدم آپ کو کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اپنے دل کی سنیں، تحقیق کریں، مشورہ لیں، اور پراعتماد ہو کر قدم بڑھائیں۔

ہم پچھلے کئی سالوں سے ہزار ہا سٹوڈنٹس کو بلکل مفت گائیڈ( کیرئیر کونسلنگ) کر چکے ہیں۔آپ بھی ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں ہم اب ادارے کی شکل میں منظم انداز میں کیرئیر کونسلنگ کا کام کر رہے ہیں ،انتہائی کم فیس کیساتھ ( جو ادارے کے بنیادی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے ہے) آپ اپنی اور اپنے بچوں کی کیرئیر کونسلنگ کیلئے رابط کر سکتے ہیں جس میں یہ چیزیں شامل ہیں ۔۔
#خودشناسی ۔۔ خود ک جاننا


#پرسنلٹی کے مطابق ڈگری اور کیرئیر گائیڈنس
کی تفصیل

۔۔

اپنا سیشن کنفرم کرنے کیلئے رابط کریں
03137959987
ضیاء الرحمن ضلج
کیرئیر کونسلر

12/06/2025

‏دریا کی دہلیز پہ ٹھہری سوچ رھی ھیں آنکھیں
کتنا وقت لگے گا آخر سارے خواب بہانے میں..!

Photos from Zia ur Rehman Ziluj's post 03/06/2025

Honoured to lead the training session on Halal Lead Auditor OIC/SMIIC-12019, PS 3733:2022 General Requirements for Halal Food Standard!
Grateful for the opportunity to share knowledge and guidance with the participants.
Special thanks to Pro.Dr. Khurram Shahzad for joining us in the closing session and making the event even more special.

02/06/2025

Alhamdulillah.....
Another milestone achieved.. successfully completed the 6-Month Diploma in Sustainable Packaging and Safety, by CHART , Minhaj University Lahore.
This program has enhanced my knowledge nd strengthen my expertise in food safety and packaging standards.
A heartfelt thanks to our respected Chairman Prof. Dr. Hussain Mohi-ud-Din Qadri and CEO Prof. Dr. Khurram Shahzad for their continuous support and encouragement throughout this journey.

29/05/2025

Alhamdulillah… I've completed training on OIC/SMIIC-2 standard. Im proud to have received this certificate directly from the OIC SMIIC General Secretariat.
What's remarkable is that this training isn't offered in Pakistan by any competent organization, making this achievement even more special..

I would like to extend my heartfelt gratitude to our leadership, particularly our Chairman Prof. Dr. Hussain Mohi-ud-Din Qadri and CEO Khurram Shahzad for their support and trust in my professional development.

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Lahore