Shahdare

Shahdare

Share

risht center for free

20/04/2022

لڑکوں کی شادیوں میں تاخیر کی وجوہات

میری عمر بیس سال تھی میں بی اے کا طالب علم تھا۔ اور میرے ایک قریبی دوست و محسن کی عمر 50 سال تھی۔ ہم دونوں ملکر مویشیوں کا بیوپار اور کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ ہم بزنس پارٹنر ہونے کے ساتھ ہم راز بھی تھے۔ انہوں نے ہی مجھے بائیک و ٹریکٹر وغیرہ چلانا سکھایا۔ ان کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔

پہلے بیٹے کا رشتہ دیکھنے اپنی اہلیہ کے ہمراہ پہلے دن ہی کہیں گئے۔ تو لڑکی کو آنکھ اٹھا کر دیکھے بنا پانچ سو روپے دے آئے اور کہہ آئے کہ ہمیں رشتہ پسند ہے۔ آنٹی کو لڑکی پسند نہ تھی انکے مطابق انکا گھر بھی اتنا اچھا نہ تھا۔ عمر بھی لڑکے سے زیادہ تھی۔ بہت احتجاج ہوا۔ مگر میرے دوست نے انکی اور اپنی سب بیٹیوں کی ایک نہ سنی اور بیٹے کی شادی وہیں کر دی۔ اللہ نے دو چاند سے پوتے دیے۔ بیٹے پر بھی آفرین ہے باپ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کیا۔

دوسرے بیٹے کی باری بھی ایسا ہی ہوا۔ انکی اہلیہ نے کہا کہ آپ یہاں شادی کریں گے تو میں خود کشی کرکے جان دے دونگی ۔ انہوں نے کہا دیر نہ کرو اس کام میں ۔ میں کسی کی دھی کو رد نہیں کر سکتا۔ تم پہلے معلوم کرتی اب جو ہے قبول ہے۔ کسی کے گھر جا کر دھی رانی میں نقص نکالنا مجھ سے نہ ہوگا۔ میری گھر چار بیٹیاں ہیں ان کو بھی رد کیا جائے گا۔

احتجاج حد سے بڑھ گیا۔ کہ اس بار بھی لڑکے اور لڑکی کی عمر میں فرق تھا۔ اور لڑکا لڑکی سے کافی خوبصورت تھا۔ خواتین کی باتوں کو نظر انداز کرکے شادی کر دی گئی۔ اللہ نے دو بیٹے ایک بیٹی عطا کی۔ ہر کسی ( گاؤں محلے کی خواتین ) نے بہوؤں نے نام رکھے اور ان دونوں شادیوں کو مِس میچ کرار دیا۔ مگر دونوں لڑکے اپنے باپ کے فیصلے پر خوش ہیں اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

بیٹیوں کی شادی کی باری آئی۔ میں ان کے گھر ایسے ہی جاتا تھا جیسے اپنے گھر آتا ہوں۔ آپ میری بات پر اگر یقین کر سکیں تو کریں۔ بڑی آپی کا جس دن رشتہ ہوا میں کہیں گیا ہوا تھا ۔ زندگی میں پہلی بار جو فیملی دیکھنے آئی۔ پسند کر گئی۔ باقی تو میری تینوں بہنوں کو دیکھنے جب مہمان آنے ہوتے تھے۔ میں وہیں انکے گھر ہوتا تھا۔ پانچ منٹ میں ہی مہمان کہہ دیتے تھے ہمیں بیٹی پسند ہے۔۔اور چاروں کو ہی جو دیکھنے آئے بیاہ کر لے گئے۔ ان کی طرف سے بھی بہت نکتہ چینیاں نہ کی گئیں۔

الحمدللہ میری چاروں بہنیں اپنے گھروں میں بے حد خوش ہیں۔ سب کے پاس بیٹے بھی ہیں بیٹیاں بھی ہیں۔ میں سب نے سسرال کئی بار گیا ہوں۔ کہ انکی شادیوں میں سارا انتظام میں ہی تو سنبھال رہا ہوتا تھا۔ تو انکے سارے سسرال والے جانتے ہیں۔

میرے دوست نے اپنے دونوں بیٹوں اور چار بیٹوں کی شادی بیس سال کے اوپر نیچے عمر میں کی تھی۔

اس ایک گھر کی مثال میں سیکھنے والوں کے لیے بے شمار سبق ہیں۔

میرے دوست نے مجھے چند سبق پڑھائے تھے۔ وہ آپ سے شئیر کرتا ہوں۔

میرے بیٹے کبھی بھی اپنے یار کی بہن کو گندی نگاہ سے نہ دیکھنا۔ یہ چیز تمہیں تمہاری اپنی نظر میں نِکا کر دے گی۔ اسے وہی عزت و احترام دینا جو اپنی بہن کو دیتے ہو۔ غیرت مندوں میں شمار کئیے جاؤ گے۔ پرے پنچائت کے بندے بنو گے۔

تم استاد بننا چاہتے ہو۔ تو اپنی شاگردوں سے عاشقی نہ لڑانا۔ نہ اپنی کسی شاگرد سے شادی کرنا۔ بڑا نام کماؤ گے۔

اپنی ماں اور باپ سے کہنا کسی کی بیٹی کو رد کرکے نہ آئیں۔ رد کرو گے تمہارے بہنیں رد کی جائیں گی۔ اچھی طرح ہوم ورک کرکے رشتہ لیکر جائیں۔ نہ کہ رشتہ دیکھنے۔ اور تمہارا رشتہ طے کرنے کا اختیار اپنے دادا والد یا چھوٹے بھائی کو دینا۔ رشتے ناطے مرد ہی جوڑا کرتے تھے۔ اور یہ کام تو تھرڈ پارٹی (نائی, میراثی) ہی اپنی صوابدید پر طے کر دیا کرتی تھی۔ وہ لوگ بڑے زمانہ شناس ہوتے تھے۔ یہ کام جب سے خواتین نے آل اِن آل سنبھالا ہے تو ہر تیسرے چوتھے گھر میں بیٹی شادی کے انتظار میں شادی کی عمر سے گزر چکی ہوئی ہے۔

یہ رشتہ دیکھنا کیا ہوتا ہے؟ وہ بھی بیٹیوں کو دیکھنے کون جاتا ہے؟ رشتہ تو بیٹی والے دیکھنے آتے ہیں۔ میرے دوست کا دور یہ تھا۔ وہ اس سے نہ نکل سکے۔ وہ کہتے تھے کہ بیٹی کا تو رشتہ لیکر جایا جاتا ہے۔ انکی نظر میں بیٹے کے لیے رشتہ دیکھنے جانے والے لوگ اور پھر بیٹیوں کے "نام" رکھ کر رد کر دینے والے لوگ اللہ کی بارگاہ میں گناہ گار ٹھہرتے ہیں۔

انکے مطابق بیس سے لیکر حد پچیس سال کی عمر میں بیٹے کی شادی کر دو۔ وہ ایڈجسٹ ہوجائے گا۔ اس کے بعد یاریاں لگائے گا۔ پرفیکشن میں جائے گا۔ جو ملے گی نہیں تو اول شادی میں تاخیر ہوگی۔ اور ہو گی بھی تو بیوی سے گھل مل نہیں سکے گا۔ کہ پہلے ہی درجن بھر سہیلیوں کا نشہ کر چکا ہوگا۔ پوسٹ میرٹل افیئرز میں بھی جائے گا۔ کہ تیس تک جاکر لڑکا بوہتا سیانا ہوچکا ہوتا۔ اور دو شادیوں یا ایک بیوی ایک معشوق والی نفسیات بننے لگتی۔ ٹائم سے شادی ہوئی تو ایسی نفسیات کم بنتی ہے۔

اور ہم لڑکے ہیں ناں۔ قسم سے اکثریت میں ہمیں سسرال کے کچے پکے گلی یا ٹاؤن والے گھر کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ نہ ہمیں انکے گھر میں موجود لڑکی کی زیادہ بہنوں کی ٹینشن ہوتی ہے۔ ناں ہی ہم جہیز لینے کی نفسیات رکھتے ہیں۔ ہم تو شادی پر کھانا بھی خود دینا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ ایک کمرے کا سامان خود بنانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ لڑکی کو سادگی سے لانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ اپنا اور مخالف پارٹی کا خرچ کم سے کم کروانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ یعنی یہ دولہے کی نفسیات ہوتی۔

مگر ایسا کچھ بھی ہم کر نہیں پاتے۔ کیوں؟ ہماری ہی مائیں بہنیں پھوپھیاں خالائیں مامیاں ان سب باتوں میں ٹانگ اڑا لیتی ہیں۔ اور ایسی بہو لانے کی لاحاصل میراتھن دوڑ میں شامل ہوجاتی کہ جسے سارا خاندان دیکھے اور دیکھتا رہ جائے۔ سائیں موئے جوڑ ہی نہیں بن پاتے۔ قد رنگ فیملی سائز تعلیم مکان کی بناوٹ اور نجانے کتنے انتہائی بیوقوفانہ و جاہلانہ اعتراض لگا کر ہماری خواتین لڑکیوں کو رد کر آتی۔

ایک عورت بڑے فخر سے بتا رہی تھی کہ ماسٹر صاحب سب کچھ ٹھیک تھا۔ انکے گھر کے آگے خالی پلاٹ میں روڑھی لگی ہوئی تھی۔ میرا پتر اوتھے بو واں سُنگھن جائے دا؟ میں نے کہا چاچی اسی ٹریکٹر لاکے اوتھوں روڑھی چک دیاں گے۔ اوہ پلاٹ ای اسی آپے خرید لواں گے۔ فیر کیہ خیال اے؟ اپنا سا منہ لیکر رہ گئی۔ اس بیبی نے پنجاب کا کوئی ضلع ہی شاید چھوڑا ہو۔ کہنا تو نہیں چاہیے مگر اپنا بیٹا کِسے نا چج دا تھا۔ مروجہ پنجابی مردانہ بیوٹی سٹینڈرڈز کو دس نمبر دیں تو اس لڑکے کو دو نمبر مل سکتے ہیں۔ اور بات کرنے اٹھنے بیٹھنے کی بھی کوئی تمیز نہیں۔ بس پیسہ تھا۔ اور اکلوتا تھا۔ ابھی تک بیٹھا ہوا ہے۔ کوئی انکو اب پسند نہیں کر رہا۔ ترلے کر رہے کوئی بس انکا رشتہ کروا دے۔ مگر نہیں ہو پا رہا۔

خواتین کو میری باتیں یقیناً ناگوار گزریں گی۔ اور خصوصاً وہ آنٹیاں جو کئی سال سے بیٹے کا رشتہ تلاش کرنے کا تماشا لگائے ہوئے ہیں۔ آپ مجھے انفرینڈ کریں یا بلاک کر دیں۔ اپنے چن مکھن کی بوتھی ویکھ کر کسی کی دھی بہن کا نام رکھا کریں۔ اور اپنی گھر بیٹھی شاہ زادیوں کی عقلیں اور شکلیں بھی دیکھ لیا کریں۔ وہ کوئی حلیمہ سلطان نہیں ہیں۔ جو آپ کرتی پھر رہی ہیں۔ وہی کل کو بھگتیں گی بھی۔

اور لڑکوں سے بس ایک بات کہوں گا۔ میرے ویرو زندگی لڑکی کی جاب اسکے گورے رنگ تیکھے نین نقشوں اور خوبصورتی کے ساتھ اچھی نہیں گزرتی۔ اس کی تعلیم و تربیت اسکا خاندانی ہونا اسکا باشعور ہونا، اسکا گھر داری اور نئے گھر میں آکر اپنا انٹرسٹ پیدا کرنا ہی اسکے گُن ہیں۔ چھوڑو یہ جانو مانو شونا بیبی کو۔ اور بندے دے پتر بن کے ویاہ کراؤ۔

ایک آخری بات۔ بہو سے کل کو لگانا تو بیر ہی ہے ناں؟ اس کے کھانے پینے نہانے کپڑے پہننے ہسنے رونے سونے جاگنے بات کرنے آٹے گوندتے ہوئے ہلنے میں بھی نکالنے تو نقص ہی ہیں۔ پھر اتنا سیاپا کیوں اپنی جان کو ڈالا ہوا ہے؟

20/04/2022

بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ بچی گناہ و ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں

اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہورہے ہیں 25، 30 سال تک نکاح نہیں ہورہا،
تو یہ جنسی مریض بنیں گے اور گناہ کریں گے ۔

اپنی بچیوں کے سروں پہ دوپٹہ ڈالنے کا مقصد تب پورا ہوگا جب ان کا نکاح وقت پہ ہوگا۔

نکاح انسانوں کا طریقہ ہے ، جانور بغیر نکاح کے رہتے ہیں رہ سکتے ہیں

ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں

جوان بچیوں کو مدرسہ میں رکھنا شرعا حرام ہے ۔ ان کی بنیادی ضرورت نکاح ہوتا ہے

اللہ تعالی نے معاشرتی اعمال میں سے نکاح کو سب سے آسان رکھا ہے اور زنا کیلئے سخت ترین وعیدیں ہیں ۔

بلوغت کے بعد مرتے دم تک نکاح انسان کے حیا کی حفاظت کرتا ہے ،
بغیر نکاح کے انسان " باولے کتے " کی مانند ہوتا ہے۔

وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے

انسان کی جنسی ضرورت کا واحد باعزت حل نکاح ہے اور نکاح نہیں ، تو زنا عام ہوگا یہ عام فہم نتیجہ ہے

بدقسمتی کی انتہا، مدارس یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح علم حاصل کر رہے ہیں،
والدین کو نکاح کی پرواہ ہی نہیں۔

والدین اپنی اولاد پہ رحم کریں اور وقت پہ نکاح کا بندوبست کریں

نوجوانوں کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ "جنسی زندگی " ہے اور اس پہ بات کرنا ہمارے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے ۔

جو والدین اولاد سے دوستی نہیں کرتے یا جو بچے والدین سے دوستی نہیں کرتے وہ مستقل نقصان کرتے رہتے ہیں

مسجد کے ممبر سے نکاح کو آسان بنانے کی تحریک(شادی ود سادگی) شروع کریں
نکاح کو آسان بنائیں اگر اپنی معاشرت عزیز ہے ۔ بصورت دیگر عذاب کا انتظار کریں۔

09/02/2022

*چار شادیوں سے فائدہ کس کو ہوگا مرد کو یا عورت کو۔۔۔؟؟؟*
میں فیصل آباد میں رکشہ چلاتا ہوں
تقریباً پچپن سال کی خاتون کی آنکھیں 20 روپے کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے آنسوؤں سے بھیگ گئیں اس کے ساتھ ایک چھوٹی بچی بھی تھیں میں نے اسے پہچان لیا وہ میری بچپن کی ٹیچر تھی انتہائی با پردہ خوبصورت اور ایم اے پاس اس نے اپنی درد بھری کہانی کچھ یوں سنائی ۔
میری شادی کو تیسرا سال تھا زندگی بہتر سے بہتر ہو رہی تھی کہ میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی میں نے پہاڑ سر پر اٹھا لیا مجھے لگا کہ میرے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے
میرے میاں نے بہت سمجھایا کہ اس لڑکی کا رزق بھی اللہ ہمیں دے گا اور وہ اسانی سے ایڈجسٹ ہو جائے گی لڑکی بہت مجبور اور لاوارث ہے۔
مگر میں نے ایک نہ سُنی اور میں نے اسے طلاق دلوا کر ہی چھوڑا ۔
ٹھیک تین مہینے بعد میرا خاوند ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گیا۔ اور میری دنیا اجڑ گئی میری گود میں ایک بچی تھی اسے لیکر اپنے والدین کے گھر آگئی۔
۔زندگی میں مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا کہ میں نے جان بوجھ کر اپنی سوتن کو طلاق دلوائی تھی اب میں اپنی اس بہن سے زیادہ مجبور تھی اور نکاح کی خواہش بھی دل میں تھی لیکن کوئی بھی معیاری رشتہ نہیں مل رہا تھا۔
فارغ ہونے کی وجہ سے اسلام کا بھی بخوبی مطالعہ کر رہی تھی۔پہلی بار مجھے اسلام ثواب سے ہٹ کر ایک معاشرتی ضرورت لگا۔
میرے تایا زاد بھائی گورنمنٹ ملازم تھے وہ مجھ سے نکاح کر کے سہارا دے سکتے تھے مگر وہ اپنے گھر میں مسئلہ کھڑا نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ شادی شدہ تھے اور اسکی بیوی ظاہر ہے معمول کے مطابق رکاوٹ بنتیں
مجھے پہلی بار اپنا تایا زاد بھائی قصوروار نظر آیا جب اس نے بزدلانہ بہانہ کیا کہ اسے دوسری شادی کی ضرورت نہیں ہے
ابھی میں بہت خوبصورت تھی۔امید کر رہی تھی کہ شاید کوئی کنوارہ رشتہ ہی مل جائے
ایک تہجد گزار مجھ سے کچھ سال بڑے کزن نے مجھ سے نکاح کی حامی بھری مگر اس کی والدہ نے مجھ پر بیوگی جیسا جرم تھوپ دیا۔میں سوچتی تھی کہ بیوہ ہونے میں میرا کیا قصور ہے؟
گھر میں میرے دل سے پہلی مرتبہ اس معاشرے کی بربادی کے لیے بد دعائیں نکل رہی تھی کہ میں معاشرے کو کیسے سمجھاؤں کہ ایک سے زیادہ نکاح مرد کی نہیں عورت کی ضرورت ہے
میں بہت پریشان تھی۔میری عمر بھی اب چالیس سال ہو گئی تھی۔ابھی بھی نکاح کی خواہش تھی۔
ہمارے محلے میں ایک تاجر نے بیواؤں کے لیے ماہانہ راشن کا بندوبست کیا ہوا تھا۔اس نے میرا نام بھی لکھ لیا اور میرے گھر راشن بھیجنا شروع کیا
وہ روتے روتے کہنے لگی کہ بیوہ یا مطلقہ کو بہت زیادہ مرد کی ضرورت ہوتی ہے مجھے افسوس ہے ان عورتوں پر جو اپنے مردوں کو کسی سے نکاح کی اجازت نہیں دیتیں ۔خدا کی قسم ایک بیوہ یا مطلقہ کو کم از کم پچاس سال تک مرد کی ضرورت پیسوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ مگر وہ اپنی عزت کی خاطر کسی سے بات نہیں کرتی اور بہت سی بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہیں ۔
اب میری بیٹی بھی جوان ہوچکی ہے اس کی بھی شادی کرنا ہے۔اور میں سوچ رہی ہوں کہ اس کی شادی میں کسی مرد سے کروں اور اسکو نصیحت کروں کی کبھی اپنے شوہر کو دوسری شادی سے منع نہیں کرنا تاکہ میں اپنی اس غلطی کا ازالہ کر سکوں جو میں نے اپنے شوہر سے اپنی سوتن کو طلاق دلوا کر کی تھی
آخر میں ان تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ کسی مجبور اور بےسہارا عورت کو صرف مالی مدد نہ کریں بلکہ نکاح میں لے کر ان کی مدد کریں
ن
اگر ایک لاوارث اور بیوہ کو اللہ نے ہی پیٹ لگایا ہے تو شہوت کا جذ بہ بھی اسی اللہ نے ہی لگایا ہے اور یہ بھی گزارش ہے جن کی بہنیں بیوہ ہیں ان کا نکاح کریں ان کی صرف مالی مدد نہ کریں ۔نکاح سے مالی اور جسمانی دونوں مددیں ہوجاتی ہیں
معاشرے میں دوسری شادی میں رکاوٹ خود عورتیں بنی ہوئی ہیں اور ایسا کر کے عورتیں عورتوں کی دشمن بنی ہوئی ہیں ۔
مرد چار نکاح کر سکتا ھے اسکو اللہ نے اجازت دی ہے
وہ بھائی جو اپنی بہنوں کو دوسری شادی نہیں کرنے دیتے وہ قیامت والے دن اس بات کا جواب دیں گے۔۔۔؟؟؟
نوٹ : اس تحریر سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ ایک سنجیدہ معاشرتی مسئلہ ہے ، اس پر سنجیدگی سے سوچنے اور عمل کی بھی ضروت ہے، لیکن دوسری شادی صرف وہی کرے کہ جو دونوں بیویوں میں انصاف بھی کر سکے ۔ شکریہ

06/01/2022

اسلام آباد میں میرے ایک جاننے والے رہتے ہیں‘ تیس سال ناروے میں گزارے‘ ریٹائر ہوئے اور اسلام آباد میں بس گئے‘ اللہ تعالیٰ نے اچھا گھر دے دیا‘ دو گاڑیاں اور آٹھ ملازمین تھے‘ زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی‘ جوانی میں جو کمایا وہ انویسٹ کر دیا‘ ناروے سے پنشن بھی آ جاتی تھی لہٰذا صبح شام دووقت واک کرتے تھے‘ شام کو بیگم صاحبہ کے ساتھ کلب میں بیٹھ جاتے تھے‘ کھانا کھاتے تھے‘ چائے پیتے تھے اور واپس آ کر سو جاتے تھے۔

یہ ان کی روٹین تھی لیکن پھر میں نے ان کے معمول میں تبدیلی دیکھی‘ ملازم آٹھ سے چار ہو گئے‘ گاڑی بھی ایک رہ گئی‘ کلب آنا جانا بھی بند ہو گیا اور دوست احباب سے ملاقاتوں میں بھی تعطل آنے لگا‘ میں نے چند دن قبل ان سے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی تو یہ مسکرا کر بولے ’ ’جاوید صاحب میں افورڈ نہیں کر سکتا‘‘ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ بولے ’’مہنگائی بہت زیادہ ہو چکی ہے‘میری پنشن اور کرائے اب میرے اخراجات برداشت نہیں کر پا رہے لہٰذا میں نے سب سے پہلے گاڑی ایک کر لی‘ گاڑی ایک ہونے کی وجہ سے دوسرا ڈرائیور اضافی ہو گیا تھا۔

میں نے اس سے معذرت کر لی‘ کچن میں خانساماں کے ساتھ ایک ہیلپر تھا‘ میں نے اسے بھی فارغ کر دیا‘ گھر میں ایک ویٹر تھا‘ مجھے وہ بھی فالتو محسوس ہوا‘ ہمیں خانساماں کھانا دے دیتا ہے‘ بیگم نے اسے بھی نکال دیا‘ دو چوکی دار تھے‘ ان میں سے ایک رہ گیا‘ اب صرف صفائی والا لڑکا اور مالی بچا ہے‘ ہم ان کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں اور میں کل بیگم سے یہ بھی کہہ رہا تھا ہم اگر یہ گھر کرائے پر دے دیں اور خود فلیٹ میں شفٹ ہو جائیں تو ہم باقی چار ملازموں کی تنخواہوں سے بھی بچ جائیں گے اور ہمارا سیکیورٹی‘ بجلی‘ گیس اور پٹرول کا خرچ بھی کم ہو جائے گا‘‘۔

میں نے ہنس کر کہا ’’یہ تو بہت اچھا ہے‘ آپ سادگی کی طرف آ رہے ہیں اور سادہ طرز زندگی ہمیشہ مفید ہوتا ہے‘‘ وہ بھی ہنسے اور پھر سنجیدگی سے میری طرف دیکھ کر بولے ’’ماشاء اللہ آپ مجھے اس وقت عمران خان اور شوکت ترین محسوس ہو رہے ہیں اور میرا دل چاہ رہا ہے میں آگے بڑھ کر آپ کے ہاتھ چوم لوں‘‘ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا‘ وہ بولے ’’جناب میں امیر تھا تو میری امارت کا فائدہ صرف اور صرف غریبوں کو ہورہا تھا‘ میری وجہ سے آٹھ خاندان پل رہے تھے۔

ان کو کھانا بھی ملتا تھا‘ کپڑے بھی‘ گرم پانی بھی اور صاف ستھری رہائش بھی‘ ان کے والدین کو دوائیں اور بچوں کو تعلیم بھی مل رہی تھی لیکن جب میرے ٹیکس بڑھ گئے‘ میں معاشی دباؤ کا شکار ہوگیا تو میں نے ملازمین کم کرنا شروع کر دیے یوں یہ لوگ اور ان کے خاندان گلیوں میں رل گئے‘ میں اور بیوی روزانہ کافی شاپس میں جاتے تھے‘ کلب میں کھانا کھاتے تھے‘ حکومت نے کلب کے ممبرز‘ ریستورانوں اور کافی شاپس پر بھی ٹیکس بڑھا دیے‘ ہم آؤٹ آف بجٹ ہوگئے اور ہم نے کافی شاپس‘ ریستوران اور کلبوں میں جانا بھی کم کر دیا‘ ان کی آمدنی کم ہوئی تو انھوں نے بھی ڈاؤن سائزنگ شروع کر دی۔

یہ اگر بیس لوگوں کو جاب دے رہے تھے تو اب ان میں سے آٹھ دس لوگ کم ہو جائیں گے‘ نقصان کس کو ہوا؟ غریب کو‘ حکومت اب سالمن فش‘ کتوں اور بلیوں کی خوراک اور ڈبوں میں بند خوراک پر بھی ٹیکس بڑھا رہی ہے‘ میں سالمن فش پانچ ہزار روپے کلو خرید رہا ہوں اور یہ انتہائی مہنگی ہے‘ میں مہینے میں تیس ہزار روپے کی فش کھاتا ہوں‘ حکومتی ترجمان روز مجھے اور میرے جیسے لوگوں کو طعنہ دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے سالمن فش اور ڈبوں میں بند خوراک بیچتے کون لوگ ہیں؟ مچھلی صاف کون کرتا ہے‘ کاٹ کر کون دیتا ہے۔

ڈبوں میں بند خوراک کی دکانوںپر کون کام کرتے ہیں؟ میں نے اگر گھر میں جرمن شیفرڈ یا ہسکی رکھا ہوا ہے یا پرشین کیٹ پال رکھی ہے تو ان کی دیکھ بھال کون کرتا ہے؟ اور پالتو جانوروں کے کلینکس میں کام کون کرتا ہے؟ میں اگر ان کی خوراک افورڈ نہیں کر سکوں گا تو میں کیا کروں گا؟ میں بلی‘ کتے اور طوطے نہیں پالوں گا تو اس کا نقصان کس کو ہو گایوں ’’پیٹس کیئر‘‘ کی ساری انڈسٹری بند ہو جائے گی‘ آپ یاد رکھیں غریب کا سہارا حکومت نہیں ہوتی امیر لوگ ہوتے ہیں‘ دنیا کی کوئی حکومت دو چار دس کروڑ لوگوں کو نہیں پال سکتی۔

یہ معاشرے کے خوش حال لوگ ہوتے ہیں جو اپنے سرمائے سے پیسہ نکال کر پسے ہوئے محروم طبقوں پر خرچ کرتے ہیں‘ حکومت اس وقت پورے ملک کو ہیلتھ کارڈز دے رہی ہے‘ یہ دو کروڑ خاندانوں کو فوڈ سبسڈی بھی دے گی لیکن سوال یہ ہے حکومت کے پاس رقم کہاں سے آئے گی؟ کیا حکومت کے سونے کے پہاڑ ہیں یا ہماری زمینیں کھسک کر سعودی عرب چلی گئی ہیں لہٰذا پھر احساس پروگرام کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟یہ رقم ہم امیروں کے ٹیکس سے آئے گی اور ہم اگر کام نہیں کریں گے‘ ہمارے پاس اگر رقم نہیں ہو گی تو ہم ٹیکس کہاں سے دیں گے؟ حکومت کے پاس پیسہ کہاں سے آئے گا اور یہ ہیلتھ کارڈ اور فوڈ سبسڈی کہاں سے دے گی؟ لہٰذا آپ تمام لوگ پاگل پن اور بے وقوفی کی انتہا کو چھو رہے ہیں‘ آپ ہمیشہ وہ شاخ کاٹ دیتے ہیں جس پر پورا معاشرہ بیٹھتا ہے‘‘۔

میں نے ہنس کر کہا ’’آپ کے اندر ایک ظالم سرمایہ دار بول رہا ہے‘‘ وہ تڑپ کر بولے ’’معاشرے کو امیر لوگ چلاتے ہیں‘ امریکا میں 36 ہزار ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں‘ ان کمپنیوں نے پورے امریکا‘ آدھے یورپ اور ایک چوتھائی تھرڈ ورلڈ کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔

آج اگر صرف ایپل کمپنی یا مائیکرو سافٹ بند ہو جائے تو امریکا میں گرینڈ ری سیشن آ جائے گا اور اس ری سیشن کا اثر چین تک جائے گا چناں چہ امریکی صدر کو اگر بل گیٹس یا ٹم کک کو بچانے کے لیے ایٹم بم بھی استعمال کرنا پڑا تو یہ ایک منٹ نہیں سوچے گا جب کہ ہم روز اٹھتے ہیں اور وزیراعظم سے لے کر چپڑاسی تک پورا ملک امیروں‘ صنعت کاروں اور بزنس مینوں کو گالی دینا شروع کر دیتا ہے‘ ہم نے ملک میںامیر سے امیر ترکو بھی گالی بنا دیا ہے جب کہ پوری دنیا ایڑی چوٹی کا زور لگا کر امیروں کو امیر تر بناتی ہے۔

امریکا میں اس وقت 724 بلینئرز ہیں‘ چین اشتراکی ملک ہے وہاں 698ہیں‘ روس 1990 تک کمیونسٹ ہوتا تھا لیکن آج صرف تیس برسوں میں وہاں 117بلینئرز ہیں اور ہمسائے انڈیا میں 237بلینئرز بیٹھے ہیں اور یہ تمام چند برسوں میں امیر سے امیر تر ہوئے ہیں اور اگر امارت سے امارت تر بری تھی تو ان ملکوں نے ان کو کیوں نہیں روکا؟ کیوں کہ یہ جانتے ہیں یہ لوگ پوری دنیا کے محسن ہیں‘ ان کے پاس دولت آئے گی تو یہ مزید سرمایہ کاری کریں گے‘ سرمایہ کاری سے نوکریاں پیدا ہوں گی‘ نوکریوں سے مزید لوگ برسرروزگار ہوں گے اور روزگار سے معاشرے میں غربت بھی ختم ہو گی اور حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا لیکن ہم ہر بار اس امیر شخص کو گالی دے کر‘ اس پر ٹیکس بڑھا کر اس کا حوصلہ توڑ دیتے ہیں جو ملک میں روزگار کا بندوبست کر رہا ہے۔

جو ملک کو کما کر دے رہا ہے‘‘ وہ رکے اور ہنس کر بولے ’’میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں آپ بتائیں اگر آپ کے پاس مزید پیسہ آ جائے تو آپ کیا کریں گے؟‘‘ میں نے تھوڑی دیر سوچا اور جواب دیا ’’میں ملازمین کی تعداد بڑھاؤں گا‘ گاڑیاں خریدوں گا‘ نیا گھر بناؤں گا اور جی بھر کر خرچ کروں گا‘‘ وہ ہنسے اور کہا ’’اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’حکومت اور غریبوں کو! حکومت کو مزید ٹیکس ملے گا اور غریبوں کو مزید روزگار‘‘ وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر بولے ’’یہ ہوئی ناں بات‘ معیشت اس طرح چلتی ہے۔

آپ اگر رقم خرچ نہ کریں تو بھی آپ اپنی دولت بینک میں رکھ دیں گے یا پراپرٹی میں لگا دیں گے اور یوں بھی یہ دولت سیکڑوں لوگوں کے چولہے جلائے گی‘ آپ سالمن مچھلی کو روک دیں گے تو لوگ اپنی عادت بدل دیں گے اور یوں مچھلی کاٹنے‘ مچھلی کو جہاز سے اتارنے‘ کرایہ وصول کرنے اور ٹیکس جمع کرنے والے بے روزگار ہو جائیں گے‘ ملک میں کچھ لوگ مزید بے روزگار ہو جائیں گے۔

آپ کے ملک میں کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان 66 ہزار روپے‘ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری اور وزیر آبپاشی محسن لغاری ایک ‘ ایک ہزار روپے‘ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار دو ہزار روپے وزیرتوانائی حماد اظہر 29 ہزارروپے‘شہباز شریف 82 لاکھ روپے ‘آصف زرداری 22 لاکھ روپے‘ بلاول بھٹو زرداری 5 لاکھ روپے‘ شاہ محمود قریشی 8 لاکھ روپے اور فوادچوہدری ایک لاکھ 36 ہزار روپے ٹیکس دیتے ہیں اور باقی 331 پارلیمنٹیرینز ٹیکس کے گوشوارے ہی جمع نہیں کراتے‘ ایک طرف یہ صورت حال ہے اور دوسری طرف آپ ملک چلانے والوں کو ذبح کر رہے ہیں۔

آپ ٹیکس دینے اور روزگار فراہم کرنے والوں کو عبرت کی نشانی بنا رہے ہیں‘ آپ نے پوری زندگی خود چندہ جمع کیا لیکن اب آپ چندہ دینے والوں کو عبرت کی نشانی بنا رہے ہیں‘ یہ ملک کیسے چلے گا؟‘‘ وہ رکے اور پھر بولے ’’ملک اس وقت چلتے ہیں جب لوگ امیر سے امیر تر ہوتے ہیں‘ جب لوگ ڈبوں میں بند خوراک بھی کھاتے ہیں‘ کتے اور بلیاں بھی پالتے ہیں اور روزانہ سالمن فش بھی لیتے ہیں لیکن ہماری فلاسفی کیا ہے؟ امیر کو گالی دیں‘ اس کا کاروبار بند کریںاور اس کی پرچیزنگ پاور ختم کر دیں تاکہ ہم غریبی میں نام پیدا کر سکیں‘ آپ اب بنا لیں ریاست مدینہ‘ ایک ایسی ریاست جس میں محتاج ہی محتاج ہوں لیکن غنی کوئی نہ ہو‘ جس میں سارے ہاتھ نیچے ہوں‘ اوپر والا ہاتھ کوئی نہ ہو‘‘ وہ خاموش ہو گئے لیکن میں انھیں حیرت سے دیکھتا رہا۔

26/01/2021
06/01/2021

بیوی کا کسی اور سے تعلق/ طلاق خلع

آپ کسی بھی دارالافتاء چلے جائیں ہفتے کی بنیاد پر سینکڑوں خطوط ہیں جو خواتین نہیں مرد حضرات لکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہماری بیوی کو کسی اور کے ساتھ ” محبت ” ہوگئی ہے ۔ وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے ۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے یا بچہ بھی ہے ۔ بتائیں کیا کروں

ایک دارالافتا میں ایک خط آیاجس میں شوہر نے لکھا تھا کہ ” رات آنکھ کھلی تو بیوی بستر پر نہیں تھی ، بیڈروم سے باہر آیا تو صوفے پر لیٹی موبائل میں مصروف تھی ۔ اب وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے اور ہمارا ایک بچہ بھی ہے “۔

میں نے خود یہ واقعات سنے ہیں کہ شوہروں کے پیچھے عورتوں نے ان کی امانت میں خیانت کی ہے ۔

نبی مہربان ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالی کو جائز کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے “۔

ایک عالم دین نے کیا خوب فرمایا تھا ” یہ قوم اسلام پر مرنے کے لئیے تیار ہے لیکن اسلام پر جینے کے لئیے تیار نہیں ہے “۔

آپ قرآن کا مطالعہ کریں سورۃ البقرہ سے لے کر والناس تک چلے جائیں ۔ آپ کو نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں سے کسی ایک فرض کی تفصیلات نہیں ملینگی ۔ آپ کو یہ تک نظر نہیں آئیگا کہ نماز کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ کو ان عبادات کی تسبیحات تک نہیں پتہ چل پائینگی ۔

لیکن نکاح ، طلاق ، خلع ، شادی ، ازدواجی معاملات ، میاں بیوی کے تعلقات ، گھریلو ناچاقی ، کم یا زیادہ اختلاف کی صورت میں کرنے کے کام ۔آپ کو سارا کچھ اللہ تعالی کی اس مقدس ترین کتاب میں مل جائیگا..

آپ مان لیں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت ہے ۔

حضرت عمر نؓے فرمایا ” جب دین گھر کے مرد میں آتا ہے تو گویا گھر کی دہلیز تک آتا ہے لیکن اگر گھر کی عورت میں دین آتا ہے تو اس کی سات نسلوں تک دین جاتا ہے “۔

قربانی ، ایثار ، احسان ، درگذر ، معافی ، محبت اور عزت یہ اسلام اور قرآن کی ڈکشنری میں آتے ہیں ۔ کمال تو یہ ہے کہ ان جوڑوں کی طلاق زیادہ جلدی ہوجاتی ہے جو ” جوائنٹ فیملی ” میں نہیں رہتے ہیں ۔

خواتین کی نہ ختم ہونے والی خواہشات نے بھی معاشرے کو جہنم میں تبدیل کیا ہے ۔
الیکٹرانک میڈیا ٹی-وی سیریل فلمیں نے گھر گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ...

گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں ۔

سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔

پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ، بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔
لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں ۔
یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ...

مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔

لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور ان شاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔

بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔
زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔
خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔
خدا کو بھی محبت کے اظہار کے لئیے پانچ دفعہ آپ کی توجہ درکار ہے ۔ ہم تو پھر انسان ہیں جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں ۔ قیامت کے دن میزان میں پہلی چیز جو تولی جائیگی وہ شوہر سے بیوی کا اور بیوی سے شوہر کا سلوک ہوگا ۔

یاد رکھیں

مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگے تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔

ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے اور ایک مثالی خاندان سے ایک صحتمند معاشرہ وجود میں آتا ہے اوریہی اسلام کی منشاء ہے۔ (منقول )

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Dolt Khan Road
Lahore
54000