سب کچھ ہونا زندگی نہیں ہے
جو پاس ہے اس میں خوش رہنا زندگی ہے
❤️❤️❤️❤️❤️
Ghazal
03224300809
لازم نہیں حیات میں احباب کا ہجوم🦋
مل جائے وفادار تو ایک شخص بہت ہے
خود کا مقابلہ کبھی کسی کے ساتھ مت کریں
کیونکہ اللّٰہ نے آپ کو بہترین بنایا ھے🙈🥰
بڑی طلب ھے تیرے دیدار کی میری بے چین نگاھوں کو
کسی شام چلے آو ان آنکھوں میں رات کا خواب بن کر
Good night
اپنے ماضی کے تصوّر سے ہراساں ہُوں میں
اپنے گُزرے ہوئے ایّام سے نفرت ہے مجھے
اپنی بیکار تمنّاؤں پہ شرمِندہ ہُوں
اپنی بے سُود اُمیدوں پہ نِدامت ہے مُجھے 🙂✔️💔🖤
تمہیں حسن پہ دسترس ھے
محبت محبت بڑا جانتے ہو
تو پھر یہ بتاؤ کہ تم اسکی
آنکھوں کے بارے میں کیا جانتے ہو
منفی سوچ غلط نمبر کی عینک کی طرح ہوتی ہے
ہر منظر دھندلا ہر راستہ ٹیڑھا اور ہر چہرہ بگڑا ہوا نظر آتا ہے
16/12/2023
سنا ہے آشیانے پر فلک سے برگ ٹوٹے گی☝️
یہ سنتے ہی نشیمن اور اونچا کر دیا مینے☝️
اداس شامیں، اُجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا
ابھی نئی وادیوں، نئے منظروں میں رہ لو مگر مِری جاں
یہ سارے اک ایک کر کے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا
جو شام ڈھلتے ہی اپنی اپنی پناہ گاہوں کو لوٹتے ہیں
اگر وہ پنچھی کبھی کوئی داستاں سنائیں تو لوٹ آنا
نئے زمانوں کا کرب اوڑھے ضعیف لمحے نڈھال یادیں
تمھارے خوابوں کے بند کمروں میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا
میں روز یونہی ہوا پہ لکھ لکھ کے اس کی جانب یہ بھیجتا ہوں
کہ اچھے موسم اگر پہاڑوں پہ مسکرائیں تو لوٹ آنا
اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تم کو بھول جائیں تمھارے ساتھی
اور اپنی خاطر ہی اپنے اپنے دیے جلائیں تو لوٹ آنا
مِری وہ باتیں تو جن پہ بے اختیار ہنستا تھا کھلکھلا کر
بچھڑنے والے مِری وہ باتیں کبھی رُلائیں تو لوٹ آنا
کسی لباس کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے
ترے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے
ہوا ہے جانتے جانانہ عمر بھر کو جدا
یہ جاکنی ہے کہ رشتوں کی بے سباتی ہے
ہم ایک ساحلِ دریائے خواب پر ہیں کھڑے
پہ جو بھی موج ہے ہم پر سراب لاتی ہے
ہے یہ صحنِ شامِ ملال اور آسماں خاموش
نہ جانے کس کی تمنا کسے گنواتی ہے
ہے یاد اس کے لبوں کی بہت عطش انگیز
بہشت ہے پہ جہنم سے ہو کے آتی ہے
ترے گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو
تری سفید چنبلی تجھے بلاتی ہے
کسی سے کم نہیں چالاک ہم مگر کیا ہو
ہے وہ ہماری سِیادت جو مات کھاتی ہے
اسے بھی اب کوئی دلدار مل گیا ہو گا
ہمیں بھی اب کوئی حسرت نہیں جگاتی ہے
ترے بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہے
مرے بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
اسے کہنا !!
خزاں کے زرد پتوں کا کوئی سایہ نہیں ہوتا۔۔
بہت بےمول ہو کر جب زمیں پر آن گرتے ہیں
تو یخ بستہ ہوائیں بھی
انہی کو زخم دیتی ہیں۔۔
اسے کہنا!!
کہ مجھ کو بھول کر
مجھے بےمول نہ کرنا۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Lahore
54000