Ghazal

Ghazal

Share

03224300809

20/12/2023

سب کچھ ہونا زندگی نہیں ہے
جو پاس ہے اس میں خوش رہنا زندگی ہے
❤️❤️❤️❤️❤️

20/12/2023

لازم نہیں حیات میں احباب کا ہجوم🦋
مل جائے وفادار تو ایک شخص بہت ہے

20/12/2023

خود کا مقابلہ کبھی کسی کے ساتھ مت کریں
کیونکہ اللّٰہ نے آپ کو بہترین بنایا ھے🙈🥰

20/12/2023

بڑی طلب ھے تیرے دیدار کی میری بے چین نگاھوں کو
کسی شام چلے آو ان آنکھوں میں رات کا خواب بن کر
Good night

16/12/2023

اپنے ماضی کے تصوّر سے ہراساں ہُوں میں
اپنے گُزرے ہوئے ایّام سے نفرت ہے مجھے
اپنی بیکار تمنّاؤں پہ شرمِندہ ہُوں
اپنی بے سُود اُمیدوں پہ نِدامت ہے مُجھے 🙂✔️💔🖤

16/12/2023

تمہیں حسن پہ دسترس ھے
محبت محبت بڑا جانتے ہو
تو پھر یہ بتاؤ کہ تم اسکی
آنکھوں کے بارے میں کیا جانتے ہو

16/12/2023

‏منفی سوچ غلط نمبر کی عینک کی طرح ہوتی ہے
‏ہر منظر دھندلا ہر راستہ ٹیڑھا اور ہر چہرہ بگڑا ہوا نظر آتا ہے

16/12/2023
16/12/2023

سنا ہے آشیانے پر فلک سے برگ ٹوٹے گی☝️
یہ سنتے ہی نشیمن اور اونچا کر دیا مینے☝️

15/12/2023

‏اداس شامیں، اُجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا
ابھی نئی وادیوں، نئے منظروں میں رہ لو مگر مِری جاں
یہ سارے اک ایک کر کے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا
جو شام ڈھلتے ہی اپنی اپنی پناہ گاہوں کو لوٹتے ہیں
اگر وہ پنچھی کبھی کوئی داستاں سنائیں تو لوٹ آنا
نئے زمانوں کا کرب اوڑھے ضعیف لمحے نڈھال یادیں
تمھارے خوابوں کے بند کمروں میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا
میں روز یونہی ہوا پہ لکھ لکھ کے اس کی جانب یہ بھیجتا ہوں
کہ اچھے موسم اگر پہاڑوں پہ مسکرائیں تو لوٹ آنا
اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تم کو بھول جائیں تمھارے ساتھی
اور اپنی خاطر ہی اپنے اپنے دیے جلائیں تو لوٹ آنا
مِری وہ باتیں تو جن پہ بے اختیار ہنستا تھا کھلکھلا کر
بچھڑنے والے مِری وہ باتیں کبھی رُلائیں تو لوٹ آنا

15/12/2023

کسی لباس کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے
ترے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے
ہوا ہے جانتے جانانہ عمر بھر کو جدا
یہ جاکنی ہے کہ رشتوں کی بے سباتی ہے
ہم ایک ساحلِ دریائے خواب پر ہیں کھڑے
پہ جو بھی موج ہے ہم پر سراب لاتی ہے
ہے یہ صحنِ شامِ ملال اور آسماں خاموش
نہ جانے کس کی تمنا کسے گنواتی ہے
ہے یاد اس کے لبوں کی بہت عطش انگیز
بہشت ہے پہ جہنم سے ہو کے آتی ہے
ترے گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو
تری سفید چنبلی تجھے بلاتی ہے
کسی سے کم نہیں چالاک ہم مگر کیا ہو
ہے وہ ہماری سِیادت جو مات کھاتی ہے
اسے بھی اب کوئی دلدار مل گیا ہو گا
ہمیں بھی اب کوئی حسرت نہیں جگاتی ہے
ترے بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہے
مرے بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

15/12/2023

‏اسے کہنا !!
خزاں کے زرد پتوں کا کوئی سایہ نہیں ہوتا۔۔
بہت بےمول ہو کر جب زمیں پر آن گرتے ہیں
تو یخ بستہ ہوائیں بھی
انہی کو زخم دیتی ہیں۔۔
اسے کہنا!!
کہ مجھ کو بھول کر
مجھے بےمول نہ کرنا۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

China Scheme
Lahore
54000