27/05/2026
اطاعت و تسلیم اور ایثار کی لازوال داستان کا دن "عید الاضحیٰ" آپ سب کو مبارک ہو۔ جملہ سٹاف گورنمنٹ ہائی سکول مانگٹ دعا گو ہے کہ یہ عید آپ کی زندگیوں میں ڈھیروں خوشیاں، برکتیں اور آسانیاں لے کر آئے۔
آئیے اس عید پر عہد کریں کہ ہم اپنی انا اور نفرتوں کی قربانی دے کر محبت اور علم کی روشنی پھیلائیں گے۔
12/05/2026
" بھارت کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ معرکہ حق میں کیا ہوا ،
وہ مانیں یا نہ مانیں لیکن جانتے سب ہیں ،معرکہ حق میں اپنے
سے کئی گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین آپریشن میں عبرتناک شکست سے دو چار کیا "
11/05/2026
کبھی وقت ملے تو اپنے والدین کے چہروں کی طرف دیکھنا آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کا مستقبل بناتے بناتے وہ خود کتنا ٹوٹ گئے ہیں
11/05/2026
پنجاب کے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان
22 مئی بروز جمعتہ المبارک سے 24 اگست تک
10/05/2026
"موت جسموں کو الگ کر سکتی ہے، مگر وہ محبت کبھی ختم نہیں ہوتی جو آپ نے میری روح میں بوئی تھی۔ آپ آج بھی میری ہر اچھی سوچ اور ہر دعا میں زندہ ہیں۔"
"میری زندگی کی کتاب کا سب سے خوبصورت باب میری ماں ہے۔"
07/05/2026
اللّٰہ اکبر…! آج دل خون کے آنسو رو رہا ہے
آج ڈیرہ غازی خان میں ایک پرائیویٹ سکول کی چھت نہیں گری… آج کئی ماؤں کے خواب دفن ہوگئے… کئی باپوں کی کمر ٹوٹ گئی… کئی گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گئے…!
صبح جب یہ ننھے فرشتے اپنے بستے کندھوں پر لٹکائے گھروں سے نکلے ہوں گے تو نجانے کتنی امیدیں ان کے ساتھ چل رہی ہوں گی۔ کسی ماں نے جاتے ہوئے ماتھا چوما ہوگا… کسی باپ نے جیب میں چند سکے رکھ کر کہا ہوگا: “بیٹا واپسی پر کچھ کھا لینا…!”
کسی ماں نے ٹفن میں اپنے ہاتھ کی روٹی رکھتے ہوئے بار بار تاکید کی ہوگی: “رسیس میں کھانا ضرور کھانا…!”
اور وہ معصوم بچے… راستے بھر ہنستے کھیلتے، ایک دوسرے کو دھکے دیتے، مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے سکول پہنچے ہوں گے… انہیں کیا خبر تھی کہ آج کتابوں سے پہلے ملبہ ان پر کھلنے والا ہے… انہیں کیا معلوم تھا کہ آج حاضری رجسٹر میں ان کے نام کے آگے “غیر حاضر” نہیں بلکہ “ہمیشہ کے لیے خاموش” لکھ دیا جائے گا…!
یا اللّٰہ…! وہ منظر کتنا قیامت خیز ہوگا جب چھت گری ہوگی… ننھی چیخیں… مدد کے لیے پکارتے بچے… خون میں لتھڑی کتابیں… ٹوٹے بستے… اور ملبے تلے دبے خواب…!
پھر خبر گھروں تک پہنچی ہوگی…
کوئی ماں ننگے پاؤں دوڑی ہوگی… کسی کے سر سے چادر گر گئی ہوگی… کوئی باپ دیوانہ وار لوگوں کو دھکے دیتا ہوا سکول پہنچا ہوگا… کوئی بہن دروازے پر کھڑی رو رو کر پوچھ رہی ہوگی: “میرا بھائی کہاں ہے…؟”
اور سکول کے باہر… وہاں صرف ملبہ نہیں پڑا ہوگا… وہاں سینکڑوں دل بکھرے پڑے ہوں گے…!
ہر کدال کے وار کے ساتھ کسی ماں کا کلیجہ پھٹتا ہوگا… ہر نکالی جانے والی لاش کے ساتھ ایک گھر اجڑتا ہوگا… کسی باپ نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کا چہرہ مٹی سے صاف کیا ہوگا… کسی ماں نے بےجان جسم کو سینے سے لگا کر کہا ہوگا: “بیٹا اٹھو… دیکھو میں آگئی ہوں…!”
مگر… وہ بچے اب کبھی نہیں اٹھیں گے…!
مجھے بار بار اس ماں کی چیخ سنائی دے رہی ہے… جسے دس سال بعد اللّٰہ نے بیٹی دی تھی… وہ بیٹی آج سکول سے واپس نہیں آئی… اس کا بستہ تو آیا… مگر اس کی سانسیں نہیں آئیں…!
یہ حادثہ نہیں… یہ غفلت کا قتل ہے…! یہ لالچ کا قتل ہے…! یہ اُن ضمیر فروش لوگوں کا جرم ہے جنہوں نے چند سکوں کے لیے بچوں کو موت کے حوالے کر دیا…!
یاد رکھو…! غریب کے بچے بھی خواب رکھتے ہیں… ان کی مائیں بھی دعائیں مانگتی ہیں… ان کے باپ بھی راتوں کو جاگ کر مستقبل بناتے ہیں…!
آج ڈیرہ غازی خان رو رہا ہے… اور اس کے ساتھ ہر حساس دل رو رہا ہے
ازقلم: آصف نواز مانگٹ
07/05/2026
"مکافات عمل دستک نہیں دیتی جو آج تم کروگے کل وہی تمہارے ساتھ ہوگا اس لیے لوگوں کی زندگی جہنم بنا کر سجدوں میں جنت مانگنا چھوڑ دو"