میری کہانی میری زبانی 18+

میری کہانی میری زبانی 18+

Share

Iqra Public Middle School

24/05/2026

💔 اُس رات میری نو سالہ بیٹی نے اپنے بستر پر سونے سے انکار کر دیا… اور کچن کی میز کے نیچے سکڑ کر بیٹھتے ہوئے صرف اتنا کہا:
“امی… وہاں وہ مجھے کھول نہیں سکتا…” ⚠️

میرے ہاتھ سے پلیٹ گر گئی۔
سٹیل کی آواز پورے فلیٹ میں گونجی۔

اور اگلے ہی لمحے مجھے محسوس ہوا کہ میری بیٹی کئی مہینوں سے ڈر رہی تھی… بس میں نے کبھی اُس کے خوف کو صحیح نام نہیں دیا۔

میری بیٹی کا نام مریم تھا۔

اور میرا نام عائشہ۔

ہم لاہور کے ایک تنگ سے فلیٹ میں رہتے تھے، جہاں کھڑکیوں سے ہمیشہ رکشوں کا شور، چائے کی بھاپ اور لوگوں کی زندگیاں اندر آتی رہتی تھیں۔

میرے پہلے شوہر کی وفات کے بعد زندگی نے مجھے اس طرح خالی کر دیا تھا جیسے کسی نے اندر سے آواز نکال لی ہو۔

پھر فراز میری زندگی میں آیا۔

مہذب۔

نرم لہجے والا۔

محلے کی بوڑھی عورتوں کے تھیلے اٹھا لینے والا آدمی۔

وہ ہر کسی سے یہی کہتا:

“مریم اب میری اپنی بیٹی ہے۔”

لوگ مجھے مبارک دیتے۔

“عائشہ، اللہ نے اچھا آدمی دے دیا تمہیں۔”

اور میں… یقین کرنا چاہتی تھی۔

کیونکہ اکیلی عورت اکثر محبت نہیں، سہارا ڈھونڈتی ہے۔

شروع شروع میں سب ٹھیک لگتا رہا۔

پھر مریم بدلنے لگی۔

وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند رکھنے لگی۔

رات کو چونک کر جاگ جاتی۔

اور جب فراز اُس کے سر پر ہاتھ رکھتا تو اُس کے کندھے عجیب طرح سکڑ جاتے۔

میں نے خود کو سمجھایا:

نیا گھر ہے۔

نیا ماحول ہے۔

وقت لگے گا۔

مگر اُس رات…

سب بدل گیا۔

کھانے کے بعد مریم خاموشی سے اپنی چادر، پانی کی بوتل اور اسکول بیگ اٹھا کر کچن کی میز کے نیچے جا کر بیٹھ گئی۔

میں نے حیرت سے پوچھا:

“بیٹا وہاں کیوں؟”

اُس نے نظریں اٹھائے بغیر کہا:

“بس یہاں ٹھیک ہے…”

فراز ہنس پڑا۔

“بچے بھی نا، ڈرامہ بہت کرتے ہیں۔”

پھر اُس نے مریم کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

مریم ایک دم پیچھے ہٹ گئی۔

اتنا سا لمحہ تھا…

مگر ماں کی روح بعض اوقات ایک لمحے میں جاگ جاتی ہے۔

رات کو میری آنکھ اچانک کھلی۔

بستر کے ساتھ فراز نہیں تھا۔

گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔

میں باہر نکلی تو دیکھا…

وہ مریم کے کمرے کے باہر کھڑا تھا۔

اُس کا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر تھا۔

میرا دل جیسے سینے میں جم گیا۔

“فراز…؟”

وہ چونکا نہیں۔

صرف مڑا اور بولا:

“وہ کھانس رہی تھی۔”

“میں نے تو کچھ نہیں سنا…”

چند لمحے اُس کی آنکھیں میرے چہرے پر ٹکی رہیں۔

پھر وہ مسکرایا۔

وہی شریف آدمی والی مسکراہٹ۔

“تم زیادہ سوچنے لگی ہو، عائشہ۔”

اگلی صبح مریم اسکول جانے سے انکار کر رہی تھی۔

میں اُس کے پاس بیٹھی اور پہلی بار وہ سوال پوچھا جس سے میں خود بھی ڈرتی تھی۔

“کیا فراز نے تمہیں ڈرایا ہے؟”

مریم خاموش رہی۔

پھر اُس نے اپنا اسکول بیگ کھولا۔

اندر سے ایک پرانا موبائل نکالا۔

میرا پرانا فون۔

جو مجھے لگا تھا شفٹنگ کے دوران کہیں کھو گیا۔

میرے ہاتھ کانپنے لگے۔

فون آن کیا۔

اسکرین پر صرف ایک فولڈر تھا۔

VIDEOS.

مریم رونے لگی۔

ایسے نہیں جیسے بچے روتے ہیں۔

ایسے… جیسے کوئی اندر سے ٹوٹ کر پانی بن جائے۔

میں نے اُسے سینے سے لگا لیا۔

“امی یقین کریں گی؟”

یہ سوال نہیں تھا۔

یہ ایک زخمی بچے کی آخری امید تھی۔

اور اُس لمحے مجھے سمجھ آیا…

بچوں کو سب سے زیادہ کسی درندے سے نہیں، اُس خوف سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ماں بھی یقین نہ کرے۔

میں نے اُس کے ماتھے کو چوما۔

“میں تمہاری ماں ہوں، مریم… تمہارے خلاف پوری دنیا بھی کھڑی ہو جائے نا… تب بھی میں تم پر یقین کروں گی۔”

میں نے ویڈیوز نہیں دیکھیں۔

ہمت نہیں ہوئی۔

میں صرف اتنا جان گئی تھی کہ میری بیٹی کئی راتوں سے اکیلی جنگ لڑ رہی تھی۔

اُسی دن میں نے اپنی بہن کو فون کیا۔

اُسی رات مریم گھر سے نکل گئی۔

محفوظ جگہ پر۔

اور اگلی شام جب فراز حسبِ معمول سموسے اور مٹھائی لے کر گھر آیا، تو میں نے پہلی بار اُس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔

وہ واقعی بہت اچھا اداکار تھا۔

دروازے کی گھنٹی بجی۔

فراز نے چونک کر میری طرف دیکھا۔

میں نے دروازہ کھولا۔

باہر میری بہن کھڑی تھی۔

اُس کے ساتھ ایک خاتون پولیس افسر۔

اور مریم کی اسکول کونسلر۔

فراز کے چہرے کا رنگ اتر گیا۔

“یہ کیا مذاق ہے؟”

میں نے پہلی بار اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا:

“آج ایک ماں سوئی نہیں ہے، فراز۔”

وہ ہنس پڑا۔

ایک سرد، بدصورت ہنسی۔

پھر آہستہ سے بولا:

“تمہیں ابھی تک نہیں پتا اُس فون میں کیا ہے…”

میرے جسم میں برف دوڑ گئی۔

پولیس افسر آگے بڑھی۔

“فون ہمیں دے دیجیے۔”

فراز نے میری طرف دیکھا۔

اور پہلی بار اُس کی آنکھوں میں وہ آدمی نظر آیا جسے اُس نے برسوں سے چھپا رکھا تھا۔

“تم سمجھتی ہو یہ صرف بچے کی بات ہے؟” اُس نے دھیرے سے کہا۔ “وہ فون تمہارے لیے تھا، عائشہ۔”

میرا گلا خشک ہو گیا۔

“کیا مطلب؟”

وہ ہنسنے لگا۔

“تم ہمیشہ خود کو بہت سمجھدار سمجھتی تھیں نا؟ کبھی سوچا، تمہارے کپڑے بدلتے وقت فون کہاں ہوتا تھا؟ کبھی سوچا تمہارے کمرے کا دروازہ آدھی رات کو کیوں کھلتا تھا؟”

میری ٹانگوں سے جیسے جان نکل گئی۔

اچانک مجھے وہ سارے لمحے یاد آنے لگے جنہیں میں نے اتفاق سمجھ کر بھلا دیا تھا۔

بدلا ہوا فون اینگل۔

کھلی ہوئی الماری۔

باتھ روم کے باہر آہٹیں۔

اور مریم…

میری بچی…

وہ خود ڈرنے کے باوجود اُس فون کو چھپا کر بیٹھی رہی تھی۔

صرف مجھے بچانے کے لیے۔

میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

مگر اس بار کمزوری کے نہیں۔

شرمندگی کے۔

کیونکہ میری بیٹی بچی تھی…

اور میں اندھی۔

پولیس اُسے لے گئی۔

محلے والے جمع ہو گئے۔

کچھ حیران تھے۔

کچھ یقین نہیں کر رہے تھے۔

کیونکہ اچھے چہرے اکثر لوگوں کو سچ سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔

دو دن بعد، میں پہلی بار اُس میز کے نیچے بیٹھی جہاں مریم سوتی تھی۔

وہ میرے ساتھ آ کر خاموش بیٹھ گئی۔

میں نے آہستہ سے پوچھا:

“یہیں کیوں آتی تھیں؟”

اُس نے میز کی لکڑی کو ہاتھ لگایا۔

پھر دھیمی آواز میں بولی:

“کیونکہ یہاں صرف ایک طرف سے راستہ تھا… اور اگر کوئی آتا تو مجھے پہلے نظر آ جاتا…”

قسم سے…

اُس لمحے میرا دل ایسے ٹوٹا جیسے کسی نے ننگے ہاتھوں سے پکڑ کر موڑ دیا ہو۔

ایک نو سالہ بچی نے اپنے لیے پناہ گاہ بنائی ہوئی تھی…

اور اُس کی ماں کو خبر تک نہ تھی۔

کئی مہینوں بعد مریم نے دوبارہ اپنے کمرے میں سونا شروع کیا۔

مگر پہلے دن اُس نے ایک شرط رکھی۔

“امی… دروازہ کھلا رہے گا نا؟”

میں نے اُس رات ساری رات اُس کے دروازے کے باہر بیٹھ کر گزاری۔

اور پہلی بار سمجھا…

بچے اندھیرے سے نہیں ڈرتے۔

وہ اُس لمحے سے ڈرتے ہیں جب کوئی بڑا اُن کے خوف پر یقین نہیں کرتا۔ 💔



23/05/2026

ہم گناہ میں جو ڈوبے تو مکمل اترے
یہ عبادت کی طرح نصف پہ رکنے والے نہیں۔۔۔۔🤤🖤

23/05/2026

وہ خوش کلام ہے ایسی کہ اس کے پاس رہ کر ❤️✨
لمبے لمحے بھی پلک جھپکنے میں گزر جاتے ہیں۔ 🌙
اس کی باتوں میں ایک ایسی مٹھاس ہے
جو وقت کو بھی نرم کر دیتی ہے۔ 💫
اس کے قریب ہوں تو لگتا ہے
کہ گھڑیاں نہیں، احساس چل رہا ہے۔ 🌹
طویل خاموشی بھی مختصر سی لگتی ہے،
اور ہر ملاقات ایک خوبصورت سا خواب بن جاتی ہے۔ 🔥
وہ بولے تو دل ٹھہر جاتا ہے،
اور سنو تو روح سکون پا لیتی ہے۔ 🤍
شاید اسی کو جادو کہتے ہیں،
جو وقت کو بھی بدل دے۔ ❤️‍🔥✨
♥️

23/05/2026

عورت کا حسن اس کے چہرے میں نہیں ، اس کے کردار میں نظر آتا ہے
لیکن کردار 42" سے کم نہ ہو
♥️

02/05/2026

شادی کی پہلی رات میری بیوی نے جیسے ہی میرے پاؤں پکڑے ۔۔۔۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Multan City
Multan