09/06/2026
🎓 BZU Admissions Fall 2k26
*Bs 4 years, ADP 2 years*
✅ *Apply Online Now*
📅 Last Date to Apply:- *10-07-2026 (Friday)*
📊*Merit Criteria:-*
* 30% Matric Marks
* 70% First Year Marks
📝 *Entry Test Information:-*
For admission to the following programs, an aptitude/entry test will be conducted on *14-07-2026 (Tuesday)*
• Engineering Programs
• BS Textile Design
• *13-07-2026 (Monday)*
• BS Graphic Design
• BS Fine Arts
*Note:-*
Admissions for BS 5th Semester, M.Phil and Ph.D will open in July•
📢 *Secure Your Future — Apply Before the Deadline!!*
For more Information
Send Msg
08/06/2026
4 سال پہلے ان دروازوں سے انجان بن کر داخل ہوئے تھے،
آج نکلیں گے تو یہ دیواریں، یہ درخت، یہ راہداریاں سب اپنا سا لگتا ہے۔
یہاں کلاسیں بنک کیں، یہاں دوست بنائے، یہاں خواب دیکھے۔
یہاں بارش میں بھیگے، دھوپ میں جلے، چائے پر لڑے، نوٹس پر مرے۔
آج لائبریری خاموش ہے، گراؤنڈ خالی ہے،
مگر دل میں شور ہے... 4 سال کی یادوں کا، دوستوں کے قہقہوں کا۔
ڈگری تو مل جائے گی، مگر یہ لمحے؟
یہ ہنسی، یہ یاری، یہ BZU والی زندگی... یہ کہاں سے لائیں گے؟
الوداع نہیں کہوں گا، کیونکہ BZU کبھی چھوٹتا نہیں ہے۔
یہ سانسوں میں بس جاتا ہے، یادوں میں رہ جاتا ہے۔
ٹیگ کر دو اس دوست کو جس کے بغیر یہ 4 سال ادھورے تھے 🫂
08/06/2026
مائیں اگر جوانی میں بیوہ ہوجائیں تو اولاد کے لیئے دوسری شادی نہیں کرتیں بلکہ اولاد کی تعلیم و تربیت اور مستقبل کے لیئے اپنی زندگیاں قربان کردیتی ہیں کہ ایک دوسرا شخص میرا شوہر تو ہوسکتا ہے مگر میرے بچوں کا باپ نہیں بن سکتا
اور پھر وہی اولاد جب کچھ بن جاتی ہے تو اپنے گھروں کے ہوکر رہ جاتے ہیں اب مائیں انھیں بوجھ لگتی ہیں اور وہ انھیں دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیئے چھوڑ دیتے ہیں
06/06/2026
کوئٹہ ۔ کچھ گھنٹے قبل دوران ڈیوٹی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ایک شخص نے تیزاب پھینک دیا ۔ یہ وہ جلا ھوا ڈوپٹہ ھے جو اس متاٹرہ ڈاکٹر نے پہن رکھا تھا ۔ اسکا جسم کتنا جھلسا ھو گا ؟ کتنا ظلم ھے ۔ پھر وھی درندگی وھی بزدلانہ مردانگی ۔۔۔
02/06/2026
تپتی اور جھلسا دینے والی گرمی میں جب سورج سوا نیزے پر ہوتا ہے، تو سڑکوں اور بازاروں میں رزقِ حلال کی تلاش میں نکلے ہوئے مزدوروں اور محنت کشوں کا حال بے حال ہو جاتا ہے۔ ایسے میں جب یہ تھکے ہارے وجود اللہ کے گھر کا رخ کرتے ہیں، تو وضو کے ٹھنڈے پانی اور نماز کے بعد وہاں ملنے والا چند لمحوں کا آرام ان کے جسم سے ہیٹ سٹروک کا اثر اور زندگی کی تھکن پگھلا دیتا ہے۔ یہ جسمانی اور روحانی سکون انہیں دوبارہ محنت کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
دینِ اسلام کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں آرام کرنے کی نہ صرف اجازت تھی بلکہ یہ سنت سے بھی ثابت ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ذکر ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر سے نکل کر مسجدِ نبوی میں آ کر سو گئے۔ نبی کریم ﷺ جب ان کی تلاش میں مسجد پہنچے تو دیکھا کہ وہ زمین پر لیٹے ہوئے ہیں اور ان کی پیٹھ پر مٹی لگ گئی ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے جسم سے مٹی جھاڑتے ہوئے پیار سے فرمایا: "قُم أَبَا تُرَاب" (اٹھو اے ابو تراب! یعنی مٹی والے)۔ اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے گھر میں سکون پانے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے کی مساجد میں اکثر ایسے نوٹس دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں غریبوں کو وہاں آرام کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ یہ مساجد جن کی تمام تر سہولیات عام عوام کے چندوں سے چلتی ہیں، وہاں سیکیورٹی کے خدشات تو سمجھ آتے ہیں، لیکن ہال کھلا ہونے کے باوجود کسی ضرورت مند کو محض انتظامی اصولوں کی وجہ سے دھتکار دینا مسجد کے اصل تصور کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر شفقت فرماتا ہے، اور اگر تپتی دوپہر میں کسی بے سہارا انسان کو اللہ کے گھر میں پناہ اور چند لمحوں کا سکون مل جائے، تو یہ عمل کسی بھی مادی بچت سے کہیں زیادہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کا باعث بن سکتا ہے۔
30/05/2026
ایک وقت تھا جب یونیورسٹیاں کوئی بینولقوامی لیول کی ریسرچ کرتا تھا یہ کوئی گریڈ 17میں اسسٹنٹ کمشنر بنتا تھا یا ملکی سطح پر اپنا نام پیدا کرتا تھا تب جا کے ایسے پوسٹرز لگوائے جاتے تھے
اب حالات اس قدر برے آن پہنچے ہیں کہ ایک بندہ 11 اسکیل میں بھرتی ہو رہا ہے اور یہ یونیورسٹی اس کا پوسٹرز بنواکر لگوا رہی ہے مطلب یہ کہ اب سرکاری نوکری وہ بھی 11 ویں اسکیل کی کس قدر خوشی کی بات سمجھی جا رہی ہے
یہ ایک المیہ ہے کہ ایک سیشن میں ہر یونیورسٹی سے تقریباً 2000تک طالب علم نکلتے ہیں لیکن مشکل سے کوئی 1 پرسنٹ ہی جاب لیتا ہے