Muhammad Arif

Muhammad Arif

Share

Personal Blog for Guidance of Positive Life

28/05/2026

یوم تکبیر
جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا۔
28 مئی
28 سال ہوگئے

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ان افراد کا تھا

سائنسدان: ڈاکٹر عبدالقدیر خان (بانی ایٹم بم)،
ڈاکٹر منیر احمد خان، ڈاکٹر ثمر قند مبارک، ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر تسنیم شاہ اور ڈاکٹر اکرام الحق

سیاسی کردار: ذوالفقار علی بھٹو ۔سابق وزیراعظم پاکستان۔
غلام اسحاق خان ۔ سابق صدر پاکستان

پاکستان کی افواج اور خفیہ اداروں نے اس پورے پروگرام کو دنیا کی نظروں سے محفوظ رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا

ان تمام مخلص افراد کی بدولت پاکستان مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی 7 ویں ایٹمی طاقت بنا

*پاکستان زندہ باد، پائندہ باد

26/05/2026

استاد ایک عظیم شخصیت ہے جو قوموں کی تقدیر سنوارتا ہے۔ ماں باپ جسم دیتے ہیں تو استاد شعور، کردار اور فکر عطا کرتا ہے۔ وہ شمع کی مانند خود جل کر شاگردوں کو روشنی دیتا ہے۔

یومِ تقریب والدین اور تقسیمِ انعامات پر ہم استاد کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو استاد کے سپرد کر کے بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ انہیں علم کے ساتھ ادب اور ذمہ داری سکھائے گا۔

شاگرد کی کامیابی ہی استاد کا اصل انعام ہے۔ استاد صرف علم نہیں، زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔

حافظ محمد روحیل نے استاد کا مقام و مرتبہ کچھ خوبصورت اشعار میں پرو کر پشتو زبان میں بیان کیا، سنیں اور محظوظ ہوں۔

18/05/2026

حج کی سعادت ایک عظیم نعمتِ خداوندی ہے۔
اس اہم سفر اور یکم ذی الحجہ 1447 کے اہم دن حرم مکی و خانہ کعبہ کے تقرب میں یاد کرنے پر مشکور و ممنون۔

اللہ تعالیٰ آپ کی عبادات، دعائیں اور حاضری کو قبولیت سے نوازیں۔ مقبول و مبرور حج نصیب ہوں۔

محمد عارف خان

17/05/2026

پاکستان میں ذوالحج کا چاند نظر آ گیا!!
انشاءاللّٰہ پاکستان بھر میں عیدالاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ کو ہوگی۔
تمام اہلِ اسلام کو پیشگی عید مبارک

07/05/2026

a lot, Shaidu Bulletin

دینی شعور، علمی تحقیق اور صحافتی بصیرت کا سنگم
مولانا محمد عارف حقانی (پی ایچ ڈی اسکالر)
مولانا محمد عارف صاحب عصرِ حاضر کے اُن ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے دینی روایت کی تہذیبی وقعت اور جدید فکری مباحث کے تقاضوں کے مابین ایک نہایت متوازن اور سنجیدہ علمی ربط قائم کیا ہے۔ آپ کا تعلق ضلع نوشہرہ کے تاریخی قصبے ایسوڑی پایان کے ایک ایسے علمی و ادبی خانوادے سے ہے جہاں فکر، مطالعہ اور علمی ذوق محض مشغلہ نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی ایک زندہ روایت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی فکری تشکیل اور علمی ارتقا میں آپ کے برادرِ اکبر، پروفیسر ابرار خٹک صاحب (شعبۂ اردو) کی سرپرستی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، جن کی علمی بصیرت اور ادبی وابستگی نے آپ کے ذوقِ تحقیق کو جِلا بخشی اور اسے وسیع تر فکری جہات سے آشنا کیا۔
آپ کے تعلیمی سفر کا آغاز آبائی گاؤں کے پرائمری اسکول سے ہوا، بعد ازاں گورنمنٹ سینٹینئل ہائی اسکول اکوڑہ خٹک اور گورنمنٹ خوشحال خان خٹک کالج اکوڑہ خٹک جیسے معتبر اداروں سے آپ نے ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم نمایاں کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ اسی علمی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ نے گورنمنٹ خوشحال خان خٹک کالج ہی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی، جہاں آپ کے اندر مطالعے کی سنجیدگی اور فکری استقلال مزید پختہ ہوا۔
عصری تعلیم کے ان مراحل کے ساتھ ساتھ علومِ دینیہ سے قلبی وابستگی نے آپ کو برصغیر کی معروف دینی درسگاہ، دارالعلوم حقانیہ، تک پہنچایا، جہاں آپ نے آٹھ سالہ درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد “الشہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ والاسلامیہ” کی سند حاصل کی، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نزدیک ایم اے کے مساوی تسلیم شدہ ہے۔ اس مرحلے نے آپ کی شخصیت میں مذہبی روایت کی گہرائی، علمی سنجیدگی اور فکری وقار کو مزید استحکام بخشا۔
مولانا محمد عارف صاحب نے اپنی علمی جستجو کو کسی ایک دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف علوم میں تخصص حاصل کر کے ایک ہمہ جہت علمی شخصیت کے طور پر خود کو منوایا۔ آپ نے جامعہ پشاور سے عربی، اسلامیات اور پشتو میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں، جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے مطالعۂ پاکستان میں ایم اے کیا۔ تدریسی اصولیات اور تعلیمی انتظام کے جدید تقاضوں سے آگاہی کے لیے آپ نے ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ سے بی ایڈ اور ایم ایڈ کی اسناد حاصل کیں، جس سے آپ کے تدریسی و انتظامی شعور میں نمایاں پختگی پیدا ہوئی۔
تحقیق کے میدان میں بھی آپ نے غیر معمولی سنجیدگی اور فکری انہماک کا مظاہرہ کیا۔ ہائٹیک یونیورسٹی، ٹیکسلا کینٹ سے ایم فل کی ڈگری کے دوران آپ کے تحقیقی کام کو علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اس وقت آپ اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں پی ایچ ڈی کے آخری مراحل میں مصروفِ تحقیق ہیں۔ آپ کے مقالے کا موضوع “ماحولیاتی تحفظ اور قرآنی تعلیمات” ہے، جو عصرِ حاضر کے نہایت اہم اور حساس عالمی مسئلے کو قرآنی حکمت، توازنِ فطرت اور اسلامی اخلاقیات کے تناظر میں سمجھنے کی ایک بامعنی علمی کوشش ہے۔ یہ تحقیق محض مذہبی تعبیر نہیں بلکہ انسان اور کائنات کے باہمی تعلق کو ایک اخلاقی ذمہ داری کے طور پر دیکھنے کی سنجیدہ سعی بھی ہے۔
مولانا محمد عارف صاحب کی شخصیت کا ایک نمایاں اور مؤثر پہلو ان کی صحافتی و ادبی فعالیت ہے۔ آپ ایک صاحبِ اسلوب کالم نگار ہیں جن کی تحریروں میں فکری سنجیدگی، علمی استدلال اور سماجی شعور نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ آپ کے مضامین اور تجزیاتی کالم مختلف قومی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں، جن میں آپ سماجی بے اعتدالی، فکری انتشار، مذہبی انتہاپسندی، تعلیمی بحران اور اخلاقی زوال جیسے موضوعات پر متوازن اور مدلل اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ آپ کا طرزِ تحریر نہ خطیبانہ مبالغے کا شکار ہے اور نہ ہی خشک علمی اصطلاحات کا؛ بلکہ اس میں ایک ایسی شائستہ روانی اور فکری وقار موجود ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
آپ کی شخصیت میں مدرسے کی روحانی وابستگی، جامعہ کی تحقیقی سنجیدگی اور صحافت کی فکری جرات ایک ایسے حسین امتزاج کی صورت میں جلوہ گر ہیں جو موجودہ معاشرتی و فکری انتشار میں اعتدال، مکالمے اور شعوری بیداری کا پیغام دیتا ہے۔ بلاشبہ ڈاکٹر مولانا محمد عارف صاحب اُن اہلِ قلم اور اہلِ دانش میں شامل ہیں جو علم کو محض سند یا پیشہ نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح اور فکری رہنمائی کی ایک سنجیدہ ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
بارگاہِ ربِ ذوالجلال میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر مولانا محمد عارف صاحب کے علم، فکر اور قلم میں مزید وسعت و تاثیر عطا فرمائے، ان کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو قبولیتِ عامہ بخشے اور انہیں صحت، عافیت اور استقامت کے ساتھ دین، علم اور انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرماتا رہے۔ آمین۔
راقم :حضرحیات خان
گورنمنٹ ھایر سکینڈری سکول شیدو

05/05/2026

اللہ تعالیٰ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس شہید رحمہ اللہ کی شہادت قبول فرمائیں۔

01/05/2026

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ".

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2443]

23/04/2026

کتابوں کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے
نبی الرحمة صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم کا فرمان

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِیِّهٖ.
موطا امام مالک: رقم الحدیث 2618
ترجمہ:
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان کو تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے، اللہ تعالی ٰ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔ (صلی اللہ علیہ وسلم)

21/04/2026

*پاک بحریہ کا کروز میزائل تیمور کا کامیاب تجربہ،*
`آئی ایس پی آر`

20/04/2026

حج تربیت 2026
Hajj Training 2026

Want your school to be the top-listed School/college in Nowshera?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Nowshera