07/04/2025
ایک عرب قبیلے کے شیخ کو جب معلوم ہوا کہ اس کے جانوروں میں سے ایک مرغا غائب ہے تو اس نے فوری طور پر اپنے ملازم گمشدہ مرغے کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑائے‘ خود بھی ٹیلوں پر چڑھ کر دیکھا لیکن مرغا نہ ملا۔ رات گئے تک جاری رہنے والی یہ تلاش ختم ہوگئی ‘ کسی ملازم نے کہا‘ کوئی بھیڑیا مرغے کو لے گیا ہوگا۔ اس پر شیخ نے مرغے کے پروں کا مطالبہ کرڈالا تو ملازم اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ اگلے روز شیخ نے اونٹ ذبح کروائے اور تمام قبیلے والوں کو کھانے سے پہلے مرغے کی تلاش میں مدد کی درخواست کی۔ سب لوگ حیرت زدہ تھے کہ اتنا امیر آدمی اور ایک مرغے کے لیے بے چین۔ قبیلے والوں نے شیخ کی درخواست سنی اَن سنی کی اور کھانا کھا کر چلے گئے۔ چند دن بعد قبیلے میں سے کسی کی بکری گم ہوئی تو شیخ نے ایک بار پھر اونٹ ذبح کیا‘ قبیلے والوں کو بلایا اور مرغے کی تلاش میں مدد کی درخواست کی۔ اس بار قبیلے والوں میں سے چند ایک نے تو اسے پاگل پن سے تعبیر کیا کہ معاملہ بکری کا ہے اوربات مرغا تلاش کرنے کی ہو رہی ہے۔ خود شیخ کے بیٹوں نے گھر آئے مہمانوں سے والد کے طرزِعمل کی معذرت کی اور بات رفع دفع ہوگئی۔ کچھ عرصہ گزرا کہ ایک اونٹ غائب ہوگیا۔ شیخ نے پھر وہی کیا‘ اونٹ ذبح ہوا‘ دعوت ہوئی اوراور گمشدہ مرغے کو ڈھونڈنے کی ترغیب دی۔ اب کی بار تو لوگوں نے دھمکی ہی دے ڈالی کہ اگر شیخ نے پاگل پن کی یہ باتیں جاری رکھیں تو سرداری سے معزول کردیاجائے گا۔ شیخ نے یہ ماحول دیکھا تو چپ سادھ لی۔ مہینہ بھر گزرا ہوگا کہ قبیلے کی ایک نوجوان لڑکی غائب ہوگئی۔لڑکی کا غائب ہونا قبیلے والوں کی غیرت پر تازیانہ تھا۔ اب کی بار شیخ نے پھر وہی کیا۔ لوگ اکٹھے ہوئے تو انہیں اپنے مرغے کی تلاش پر قائل کرنے لگا۔یہ سن کر لوگوں نے اسے خوب برا بھلا کہا اور لڑکی کی تلاش میں نکل گئے۔ کھوجیوں کی خدمات حاصل کی گئیں‘ کنوؤں میں جھانکا گیا‘ نوجوانوں کی ٹولیاں دور دور تک نکل گئیں ۔ آخرکار کسی نے خبر دی کہ فلاں پہاڑ کے ایک غار میں کچھ لوگ پوشیدہ طور پر رہ رہے ہیں۔ قبیلے والوں نے اس غار پر چھاپہ مارا تومعلوم ہوا کہ یہ ڈاکوؤں کا بسیرا ہے اور انہی نے لڑکی اغوا کی تھی۔ اس غار کے قریب سے ہی گمشدہ اونٹ‘ بکری اور شیخ کے مرغے کی باقیات بھی مل گئیں۔ لڑکی مل جانے کے بعد لوگوں کو خیال آیا کہ دراصل شیخ اپنے مرغے کی بازیابی کے لیے نہیں بلکہ انہیں کسی بڑے نقصان سے بچانے کے لیے ان سے مدد مانگ رہا تھا۔
اس حکایت کا پس منظر تو یقینا عرب ہے لیکن اس کا سبق عالمگیر ہے‘ جو اسی طرح کی سینکڑوں کہانیوں اور ضرب الامثال میں لپیٹ کرپچھلی نسل نے اگلی نسل تک پہنچا دیا ہے‘ یعنی جب تک پہلی غلطی کو درست نہیں کیا جاتا‘ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ تباہی کسی ایک غلطی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اپنی غلطی کو حکمت عملی سمجھ لینے سے ہوتی ہے ۔
05/04/2025
اسرائیلی خاتون وزیراعظم
گولڈا مئیر کا 1967 میں دیا گیا بیان:
”جب ہم نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگائی تو میں
پوری رات اس خوف سے سو نہیں سکی کہ عرب
فوجیں چاروں طرف سے اسرائیل میں داخل ہو جائیں گی
لیکن جب اگلی صبح سورج طلوع ہوا تو مجھے یہ بات سمجھ آ گئی کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں کیونکہ ہم ایک ایسی(مسلمان) قوم کا سامنا کر رہے ہیں جو سو رہی ہے😢😭😭
21/10/2024
چوری کرو, حرام خوری کرو, لوگوں کاحق کھاؤ, , تکبر کرو, فرعونی لہجے میں بات کرو, شیطانی کرو, , چمچہ گیری کرو, جھوٹی گواہی دو, ناحق معمولی باتوں پر قسم اٹھاؤ, منافقت کرو, مگر یہ بات اچھی طرح سے یاد رکھو کہ تمہارے ہمارے آخری اوقات یہی بوسیدہ ھڈیاں ھیں اور جب ھمارا نتیجہ یہ بوسیدہ ھڈیاں ھیں تو پھر دولت شہرت کا کیا گھمنڈ 💔💯
اللّٰہ پاک ہم سب کو نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 🙂🤲
17/10/2024
Excise and taxation constable job 2024..🌹🌹
17/10/2024
پشاور ،سوات ،مالاکنڈ، وزیرستان سمیت پختونخواھ کے تمام اضلاع کے لیے ڈفینس سکیورٹی فورسز میں بھرتی جاری ہے
15/10/2024
کچھ روز قبل لاہور کے پنجاب کالج کیمپس جو کہ گرلز کیمپس ہے وہاں کے گارڈ نے فرسٹ ائیر کی ایک طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ وقوعہ یوں ہے کہ
کالج کی بیسمنٹ کافی وسیع ہے جو کہ پارکنگ ایریا بھی ہے۔ فرسٹ ائیر کی ایک طالبہ کو ایک گارڈ نے جان بوجھ کر یہ کہہ کر روک لیا کہ آپکی فیس اور ڈاکومینٹس کلئیر نہیں ہیں۔ بچی گھبرا گئی اور بولی کہ میری فیس تو کلئیر ہے۔ گارڈ نے کہا آپ رک جائیں میں آفس میں چیک کر کے بتاتا ہوں۔ جب بیسمنٹ سے تمام گاڑیاں جا چکیں تو گارڈ اس بچی کو بیسمنٹ کے ہی ایک ایسے کمرے میں لے گیا جو سی سی ٹی وی کیمرہ کی پہنچ میں نہیں تھا۔
سننے میں آیا ہے کہ ایک وین ڈرائیور بھی اسکے ساتھ ملا ہوا تھا اور دونوں وحشیوں نے مل کر ایک طالبہ کو جنسی جبر کا نشانہ بنا ڈالا۔
ادھر بچی کے گھر والے بہت دیر گزرنے کے بعد پریشان تھے کہ بیٹی ابھی تک گھر نہیں آئی۔ یہی سوچ کر وہ خود بچی کو لینے کالج پہنچ گئے۔ وہاں ڈھونڈنے پہ بچی بیسمنٹ میں زخمی حالت میں ملی۔
چار دن بعد اس بچی کا انتقال ہو گیا۔
اس کیمپس کی ہیڈ نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ والدین اور سٹوڈنس کو دھمکایا گیا کہ یہ بات باہر نہ نکلے مگر اتنا بڑا ظلم چھپائے کہاں چھپتا ہے۔ لڑکی کی کلاس فیلوز تک بات پہنچی اور یوں ظلم کی یہ المناک داستان پنجاب کالج کے تمام طلباء و طالبات تک پہنچ گئی۔
ملزم کو تاحال پکڑا نہیں گیا نہ ہی کوئی سزا دی گئی۔ سزا دینا تو درکنار، پنجاب کالج کی انتظامیہ اس بات سے ہی انکاری ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبر پھیلائی گئی ہے۔
جب بھی کوئی ایسا حادثہ رونما ہوتا ہے تو ایسے جھوٹے ارباب اختیار اسکو جھوٹ قرار دے دیتے ہیں۔ مظلوم کی آہ کو بھی دبا دیا جاتا ہے۔
پنجاب کالج کے تمام کیمپس کے سٹوڈنٹس اس واقعہ پر شدید غصے میں ہیں ۔ آخر وہ کسی کی بہن تھی، کسی کی بیٹی تھی۔ اگر خاموشی اختیار کر لی جائے تو دیگر بہنیں بیٹیاں بھی معمولی گارڈز کے ہاتھوں ایسی بربریت کا نشانہ بنتی رہیں گی۔
لہذا تمام کیمپس کے طالبعلموں نے کلاسسز کا بائیکاٹ کیا اور اکٹھے ہو کر کیمپس پہنچے۔ وہاں بھرپور احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔
We want Justice. We Want Justice
طلبا و طالبات کا مطالبہ تھا کہ میڈم آفس سے باہر آئے جو اس واقعے کو جھوٹ قرار دے رہی ہے مگر وہ اپنے آفس کو اندر سے لاک کر کے بیٹھی رہی، خدا
01/10/2024
خیبر پختون خواہ پولیس آسامیوں کے لئے ہونے والے اپلائی کی ضلعی سطح پر تفصیلات...🌹🌹🌹