KP Updates

KP Updates

Share

any thing serious and funny will be Shared

14/03/2026

Hi, I am back

06/08/2024

اب ‎ ایک نیا رخ اختیار کر چکے ہیں۔ طلبہ تحریک نہ صدارتی نظام اور نہ ہی فوج کی حمایت یافتہ حکومت ماننے کو تیار ہے۔ گزشتہ کئی سالوں میں اشرافیہ نے نظام کو جکڑ لیا تھا، عدلیہ، فوج، بیوروکریسی سمیت ہر جگہ حسینہ واجد نے اپنے لوگ بٹھائے جیسا کہ پاکستان میں گزشتہ چار دہائیوں میں ہوا۔ بنگلہ دیش کا نوجوان اس پورے نظام کی تبدیلی مانگ رہا ہے، لوگ صرف وزیر اعظم ہاؤس ہی نہیں وزیر داخلہ سے لے کر چیف جسٹس تک کے گھر میں داخل ہو گئے۔
پاکستانی حکمران یہاں راکھ میں دبے شعلوں سے اتنے غافل ہیں کہ آج بھی انہوں نے عمران خان سے مخصوص نشستیں چھیننے کیلئے پارلیمنٹ کو بدنیتی پر مبنی قانون سازی کیلئے استعمال کیا ہے.
Credit Ameer Abbas

01/08/2024

**انسانوں کے ساتھ پیش آنے والے عجیب و غریب واقعات**

1) **ڈیجاوو (Deja Vu) کی صورتحال:**
- کبھی کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی منظر یا حالت سے گزرتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب کچھ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ مثلاً آپ پہلی بار کسی جگہ سفر کرتے ہیں، اپنے دوستوں کے ساتھ کسی ریستوران میں جاتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور کسی موضوع پر بات کرتے ہیں اور اچانک آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ پہلے بھی کر چکے ہیں۔

2) **ڈوپ (DOP) کی صورتحال:**
- یہ صورتحال اس وقت پیش آتی ہے جب کوئی چیز اچانک غائب ہو جاتی ہے اور پھر اچانک واپس آ جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی چیز غائب ہو جاتی ہے، آپ اسے ہر جگہ تلاش کرتے ہیں لیکن وہ نہیں ملتی۔ کچھ وقت بعد آپ کو وہ چیز اپنے جگہ پر مل جاتی ہے یا کسی معروف مقام پر جہاں آپ نے اسے تلاش کیا تھا۔

3) **جاثوم (Incubus) کی صورتحال:**
- کیا آپ نے کبھی نیند میں یہ محسوس کیا ہے کہ آپ حرکت نہیں کر سکتے؟ یا خوفناک ہلوسینیشنز میں مبتلا ہوئے ہیں، جن میں آپ جاگتے ہوئے محسوس کرتے ہیں لیکن حرکت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں؟ بہت سے لوگ اسے نیند کے دوران شلل کہتے ہیں، جو آنکھ کی تیز حرکت کے دوران ہوتا ہے۔ اس حالت میں آپ کے عضلات مکمل آرام کی حالت میں نہیں ہوتے جس کی وجہ سے یہ شلل کی حالت ہوتی ہے جو چند سیکنڈز یا چند منٹ تک رہتی ہے۔

4) **خواب کی شعوری حالت (Lucid Dream):**
- کبھی کبھی جب آپ خواب دیکھتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خواب حقیقت جیسا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواب کے دوران آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ خواب دیکھ رہے ہیں اور اس میں شعوری طور پر تصرف کر سکتے ہیں جیسے جاگتے ہوئے کرتے ہیں۔ آپ کسی ڈراؤنے خواب کو مضحکہ خیز خواب میں تبدیل کر سکتے ہیں، اس طرح خواب پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں اور آج کل بہت سے لوگ اس فن میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔

14/01/2024

کیا حسین اتفاق کہ فائزعیسٰی قاضی نوازشریف کیلئےخوش نصیبی کی علامت،نوازشریف کےخلاف کرپشن منی لانڈرنگ کا سب سےمضبوط حدیبیہ کیس فائزعیسٰی قاضی نےختم کیا،نوازشریف کی تاحیات نااہلی فائزعیسٰی قاضی نےختم کی اور اب نوازشریف کی زندگی کےسب بڑےسیاسی مخالف عمران خان کو الیکشن سے”ٹیکنیکل ناٹ آؤٹ” کر کے فائزعیسٰی قاضی نےنوازشریف کو الیکشن واک اوور دیدیا۔۔
اب پتا چلا مسلم لیگی کیوں کہا کرتےتھےکہ جب جسٹس بندیال جائیں گےاور فائزعیسٰی قاضی آئیں گے تب نوازشریف وطن واپس آئیں گے۔۔
Well Played سر قاضی
Irshad Bhatti via Twitter

30/11/2023

چیف جسٹس IHC جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں کہانی 30 سیکنڈز کی!

آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے کمرہ عدالت نمبر 1 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو تیز ترین الٹرا پرو میکس انصاف ملتے دیکھا، گویا انصاف کا عالمی ریکارڈ قائم ہوا۔ کیسے ؟ آئیے بتاتا ہوں۔

جس نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کیخلاف 27 جولائی 2017 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 10 ماہ یعنی 300 سے زائد دن یعنی 7200 گھنٹے 4,32000 سے زائد منٹ لگا کر احستاب عدالت سے مجرم ثابت کروایا اور جس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، آج اسی نیب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں صرف 30 سیکنڈز میں اپنے اسی مجرم کو باعزت بری کروا دیا۔

گزشتہ سے گزشتہ سماعت پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو کہا تھا کہ انہیں دلائل دینے کیلئے 30 منٹ درکار ہونگے، آج جب دلائل کی باری آئی تو نیب کا نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کے دلائل کا جواب دینا تو درکنار، 30 سیکنڈز میں بریت کیخلاف اپیل واپس لے لی، میرٹ پر دلائل نہیں ہوئے، لہذا چیف جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ محفوظ بھی نہ نہ کیا فورا کمرہ عدالت میں سنا دیا، جی وہی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق جو سابق وزیراعظم عمران خان کے فیصلے مہینوں محفوظ رکھتے ہیں۔

تو پھر ہوا نا تیز ترین الٹرا پرو میکس انصاف ؟ وہ بھی 30 سیکنڈز میں!

20/09/2023

‏“صاحب قوم کے شعور کی توہین نا کریں۔ آپ چور کو چور کہتے تھے قوم ہم آواز تھی۔ آپ فتوی لگاتے آپ پر ایمان کی حد تک بھروسہ تھا، لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے۔ آپ غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹتے آپ کی حب الوطنی کی قسم کھاتے تھے، کس نے جھٹلانا تھا؟ مگر اب نہیں اب آپ قوم کی توہین کر رہے ہیں۔ آپ صحافی چھوڑ، چینلز خریدیں، جس حب الوطنی کی بنیاد پر آپ کے بیانیے بکتے تھے آپ بھی جانتے ہیں کہ اس کا تمغہ ان سینوں پہ بھی سجا ہے جن کو آپ زبردستی مقابل بنارہے ہیں”؛ ارشد بھائ کی مسکراہٹ بتا رہی تھی وہ دوسری طرف کی جھنجلاہٹ سے بڑے محظوظ ہورہے ہیں۔
ادھر سے گلہ یہ بھی تھا کہ ان کے شاہکار بھی اپنے نام کرلیے۔ “نغمے بھی قوم کے ہیں، قوم کے پیسے سے بنے ہیں۔ احتساب بھی قوم کے پیسے کا تھا جس سے آپ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ جب آپ قوم کو چھوڑ کر ان کے مجرموں کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو قوم بھی آپ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی۔ وہ اپنے نغموں۔ قسموں۔ اپنے بھروسے، سب سے آپ کو عاق کر دے گی۔ سمجھ جائیں آپ کی طاقت قوم ہے، ڈنڈا نہیں۔ آپ کے پاس صرف ڈنڈا رہ جائیگا۔ ڈنڈے سے دل نہیں جیتے جاتے”۔
راس نہیں آتی اتنی جرات ہم جیسی قوموں کے بیٹوں کو۔ راس آئ بھی نہیں بڑی قیمت چکھانی پڑی لیکن بات اس کی یہ بھی سچ ثابت ہوئ، اس کی ہر بات کیطرح۔۔
ڈیڑھ سال سے بیانیے بن رہے ہیں۔ یار بک گئے۔ غم خوار بک گئے۔ وفاداریاں اونے پونے نکل گئیں۔ ایمان کوڑیوں کے بھاؤ آ گئے۔ اصول، اقدار، قانون کونسی چیز ہے کہ جس کی بولی نہیں لگی۔ لیکن قوم نے اپنے بھروسے سے ایسے عاق کیا ہے بیانیہ بن کے ہی نہیں دے رہا۔
ارشد بھائ جان سے گئے، جیتے جی رسوا کرنے کی کوششیں کیں، مرے تو کیا کیا تہمتیں لگیں۔ ظلِ شاہ کے جسم میں کوئ عضو سلامت نہ چھوڑا، جن انگلیوں سے اس کا خون ٹپک رہا تھا، وہی ہاتھ اس کے محبوب گریباں پر ڈالے۔ اب عمار۔۔
عمران خان کی جان پر حملہ، کردار پر حملہ، مکان پر حملہ، حملہ بھی اس پر، پرچہ بھی اس پر۔
ہم بالوں سے پکڑ کر دنیا کے سامنے بھری عدالت سے گھسیٹتے لے گئے، ظلم تم نے کیا تم نے آنکھیں کیوں نا پھیریں؟
پنجاب میں الیکشن جیت گئے؟ زیادتی کردی اب تو آئین پامال ہوگا مجبوری ہے ہم کہہ رہے ہیں، مان لو تمہاری مجبوری ہے۔
کشمیر، گلگت بلتستان میں تمہاری حکومتیں ہیں؟ ہم نہیں چاہتے۔ خاموشی سے حوالے کردو۔ بولوگے تو برے بنوگے۔
سائفر تھا، نہیں تھا۔ مداخلت تھی، سازش تھی۔ ہائے ہائے قوم کو بتا دیا؟ یہ کوئ بتانے والی بات تھی بند کمرے میں گھٹنوں کو ہاتھ لگانے تھے یہ کیا کردیا؟
سرحد پار سے کوئ آیا؟ نہیں آیا۔ پراپگنڈہ کر رہے ہو، شرپسند کہیں کے۔ مگر اب آگیا ہے، دیکھو لوگ مر رہے ہیں بد امنی ہے، الیکشن نہیں مانگنا۔۔ اب جواب مانگ رہے ہو؟ سوال ہوچھ رہے ہو؟ غدار! واجب القتل ہو تم تو۔
میں دہشتگرد، میرے یار غدار، میری قوم باغی، میری نسل گناہگار۔
مسئلہ یہ ہے کہ سننے والوں کو یاد ہے، بولنے والے اپنی ہی گڑی کہانی بھول جاتے ہیں۔ پھر جھنجلا جاتے ہیں کہ قوم مان کیوں نہیں رہی۔
جنجھلاہٹ میں پھر ۹ مئی کی تلوار لے کر پل پڑتے ہیں۔۔ اور ۹ مئی بھی کیا اپنی صفوں میں مڑ کر پوچھ لیں۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ ۹ مئ کی فصل ۹ اپریل کو بوئ گئ تھی اور بونے والے ہاتھ دونوں مرتبہ ایک ہی تھے!
“بیانیہ سچ پر بنتا ہے” ایک اپنے نام کیطرح راست باز دیوانہ ہوتا تھا ارشد شریف، جس نے تمہیں یہ حقیقت سمجھانا چاہی تھی۔
آج بھی حقیقت یہی ہے کہ جب قوم اپنے بچوں کے جنازے پڑھتے نڈھال ہورہی ہو تو دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا عزم کانوں میں پگلتے سیسے کیطرح اترتا ہے۔ خدا کے لیے مان جاؤ۔ قوم کے شعور کی توہین نا کرو۔لاشوں پہ نوحے لکھے جاتے ہیں بیانیے نہیں بنائے جاتے۔

https://twitter.com/MuradSaeedPTI/status/1704192117956911384?s=19

17/09/2023

ٹاوٹ لاجک
کرونا، ٹڈی دل، معیشت، ریکوڈک، کارکے، ائی پی پیز، دوست ممالک سے امداد اور FATF جیسے معاملات، جو خالص سویلین حکومت کی ذمہ داری ہیں، اگر ان میں بہتری ائی تو وہ فوج کا کریڈٹ ہے
البتہ افغانستان سے طالبان لا کر قبائلی علاقوں میں آباد کرنے جیسا خالص قومی سلامتی کے معاملے میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں تھا، وہ صرف سویلین حکومت نے کیا۔

11/06/2023

ایک شخص انٹرویو دینے گیا تو منیجر نے سوالات مکمل کرنے کے بعد کہا
آپ انتہائی قابل شخص ہیں ہم آپ کو سوچنے کی نوکری دیتے ہیں اور آپکی تنخواہ 10 لاکھ ھوگی جبکہ ہماری کمپنی ماہانہ 5 لاکھ کماتی ہے
جس پر وہ شخص بولا : اگر کمپنی 5 لاکھ کماتی ہے تو آپ مجھے 10 لاکھ کہاں سے دیں گے ؟
منیجر بولا : بس یہی تو سوچنا ہے
14460 ارب کا بجٹ رکھا ہے جس میں انکم صرف 7536 ھوگی اب 6924 ارب کہاں سے آئیں گے یہ جس نے سوچنا ہے
اسکی %80 دماغی شریانیں بند ہیں پلیٹلیٹس انتہائی نگہداشت ہیں اور دل کے 174 بائی پاس آپریشن ہوچکے ہیں
جبکہ اسکا منشی پہلے بھی منی لانڈرنگ کا ایفیڈیوٹ دیکر فرار ہوچکا ہے۔

28/12/2022

From to
Our airspace will be used again Afghanistan, but this time under civilian Martial Law! So sad and shameful

26/08/2022

‏خیبر پختونخوا سیلابی صورت حال : وزیر اعلی خیبر پختونخوا سیکٹریٹ پشاور " فلڈ ایمرجنسی ایمرجنسی کنٹرول روم " قائم کردیا گیا۔
خیبرپختونخوا میں جو افراد کسی بھی جگہ پھنسے ہے وہ ان نمبروں پر فوری رابطہ کریں
Call # 091111712713
Whatsapp # 03041033435
‎ 🇵🇰 please Share!!

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

City
Peshawar
25000