رمیِ جمرات عبادت ہے، کھیل نہیں!
حج اسلام کے عظیم ترین ارکان میں سے ایک عظیم عبادت ہے۔ یہ صرف چند ظاہری اعمال کا مجموعہ نہیں بلکہ بندگی، عاجزی، اطاعت اور سنتِ نبوی ﷺ کے سامنے مکمل سپردگی کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ محمد ﷺ نے حج ادا کرکے پوری امت کو یہ عظیم اصول عطا فرمایا:
«خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ»
“اپنے حج کے طریقے مجھ سے سیکھ لو۔”
یعنی حج کا ہر عمل اسی انداز میں معتبر اور مقبول ہے جس انداز میں نبی کریم ﷺ نے ادا فرمایا۔ اگر عبادات میں انسان اپنی طرف سے نمائش، کھیل، غیر سنجیدگی یا تماشائی انداز شامل کر دے تو وہ عبادت کی روح کے خلاف ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوئی جس میں معروف سابق کرکٹر Wasim Akram رمیِ جمرات کے موقع پر کرکٹ کے بولنگ انداز میں کنکریاں مارتے ہوئے نظر آئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس حرکت کو پسند کیا، شیئر کیا، اور اس پر ہنسی مذاق اور واہ واہ کا اظہار کیا۔
حالانکہ رمیِ جمرات کوئی کھیل، جذباتی ایکشن یا تفریحی منظر نہیں، بلکہ ایک عظیم عبادت ہے جس کے اندر گہری روحانی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔
یہ عمل دراصل:
• شیطان کی مخالفت کا اعلان ہے۔
• نفس کی خواہشات کو ٹھکرانے کی تربیت ہے۔
• اللہ کے حکم کے سامنے کامل اطاعت کا اظہار ہے۔
• حضرت إبراهيم عليه السلام کی سنت کی یاد ہے، جب انہوں نے اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہتے ہوئے شیطان کے وسوسوں کو رد کیا تھا۔
رمیِ جمرات کا مقصد غصہ نکالنا یا کرتب دکھانا نہیں، بلکہ بندگی، اتباع اور خشوع کا اظہار ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف رمی کا حکم دیا بلکہ اس کا طریقہ، انداز اور اعتدال بھی سکھایا۔
عبد الله بن عباس رضي الله عنهما فرماتے ہیں:
«قالَ لي رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ غداةَ العقبةِ وَهوَ على راحلتِه: هاتِ القِطْ لي.
فلقطتُ لَهُ حصياتٍ هنَّ حصى الخَذفِ، فلمَّا وضعتُهنَّ في يدِه، قال:
بأمثالِ هؤلاءِ، وإيَّاكم والغلوَّ في الدِّين، فإنَّما أَهلَكَ من كان قبلَكمُ الغلوُّ في الدِّينِ»
ترجمہ:
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمرۂ عقبہ کی صبح، جبکہ آپ اپنی سواری پر تھے، فرمایا: “میرے لیے کنکریاں چنو۔”
میں نے آپ ﷺ کے لیے چھوٹی چھوٹی کنکریاں چنیں جو انگلی سے پھینکی جانے والی کنکریوں جیسی تھیں۔ جب میں نے وہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں رکھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“اسی جیسی کنکریاں مارو، اور دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔”
📖 رواه سنن النسائي (3057)، وسنن ابن ماجه (3029)
ذرا غور کیجیے!
نبی کریم ﷺ نے تو کنکریوں کے سائز تک میں اعتدال، ادب اور سنت کی تعلیم دی، لیکن آج بعض لوگ اسی عبادت کو ویڈیو کلپ، کھیل یا سوشل میڈیا کے مزاح میں تبدیل کر رہے ہیں۔
یہ طرزِ عمل عبادت کی سنجیدگی کے خلاف ہے۔ حج عاجزی سکھاتا ہے، نمائش نہیں۔ رمیِ جمرات اطاعت کا درس دیتی ہے، کھیل تماشے کا نہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسی حرکات کو پسند کرتے ہیں، انہیں شیئر کرتے ہیں، اور ان پر ہنسی مذاق کرتے ہیں۔ حالانکہ عبادات کے معاملے میں دل میں سنجیدگی، ادب اور خوفِ خدا ہونا چاہیے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر ہر عبادت کو تفریح بنا دیا جائے تو پھر عبادت کی روح باقی کیا رہ جائے گی؟
اصلاح کا تقاضا یہ ہے کہ ہم خود بھی ایسی حرکات سے بچیں اور دوسروں کو بھی نرمی، حکمت اور خیرخواہی کے ساتھ سمجھائیں کہ عبادات کا تعلق عاجزی، اتباعِ سنت اور خشوع سے ہے، نہ کہ سوشل میڈیا کی شہرت اور وقتی تفریح سے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حج اور دیگر عبادات کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ادا کرنے، ان کی اصل روح سمجھنے، اور دین میں سنجیدگی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Islamic Fatawa
Asslamolikum! We will share islamic masail.You can Ask any time in Comments.
25/05/2026
تکبیرات تشریق کا نقشہ
22/05/2026
واضح رہے کہ قربانی ہر اُس عاقل ، بالغ ، مقیم، مسلمان، مرد اور عورت پر واجب ہے جو عید الاضحٰی کے ایام میں نصاب کا مالک ہے، (یعنی ساڑھے سات تولہ سونا (87.4875گرام ) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.4125گرام ) یا اس کی قیمت کے برابر رقم اس کی ملکیت میں موجود ہو )، یا اس کی ملکیت میں ضرورت و استعمال سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یا رہائش کے مکان سے زائد مکان یا جائیداد وغیرہ ہو، یا استعمال سے زائد گھریلو سامان ہو ، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں، تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے ۔ (سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو، تجارتی ہو یا تجارت کے علاوہ، اگر وہ استعمال میں نہ ہو تو اسے بھی نصاب میں شامل کیا جائے گا، لہٰذا اگر مذکورہ سب چیزیں ملاکر یا بعض ملاکر مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر بھی قربانی واجب ہوگی ۔)
نیز قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم ، یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے، چنانچہ اگر قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن (۱۲ذی الحجہ) کو بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت واستعمال سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تب بھی اس پر قربانی واجب ہے ۔ ہاں عید الاضحٰی کے دنوں تک جو قرض یا اخراجات واجب الادا ہیں، اتنی مقدار منہا کرکے نصاب کا حساب کیا جائے گا۔
بنا بریں جس کے پاس رہائشی مکان کے علاوہ زائد مکانات موجود ہیں ، ضروری مکان کے لیے پلاٹ کے علاوہ دیگر پلاٹ ہیں ، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں، خواہ یہ سب تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو ، بہر حال ایسا شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ، اور اس پر قربانی کرنا شرعاً واجب ہے ۔
نیزواضح رہے کہ ایسا شخص گھر میں ایک ہو یا ایک سے زائد ، درج بالا شرائط کی موجودگی کی وجہ سے اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب لوگ پائے جاتے ہوں تو سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے ، اور ایسی صورت میں از روئے شرع ایک ہی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔
17/05/2026
ایک بچھیا(گائے) جو پانچ بندوں نے مل کر خریدی، گھر لانے کے بعد قربانی سے پہلے اس میں چھٹا ساتواں حصہ دار کو شریک کرنا کیسا ہے؟
جواب
اگر مذکورہ پانچ افراد مال دار ہیں یعنی صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے ان پر قربانی لازم ہے اور قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس میں کسی اور کو شریک کرنا چاہتے ہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں:
1۔۔ خریدتے وقت مزید افراد کو اس میں شریک کرنے کی نیت کی تھی تو ایسی صورت میں کسی قسم کی کراہت کے بغیر مزید افراد کو شریک کرنا جائز ہوگا۔ البتہ بہتر یہی ہے خریدنے سے پہلے شریک کرے۔
2۔۔خریدتے وقت مزید افراد کو اس میں شریک کرنے کی نیت نہیں کی تھی تو ایسی صورت کسی اور کو اس میں شریک کرنا مکروہ ہوگا، البتہ اگر کرلے تو بھی سب کی قربانی ہوجائے گی۔
اور اگر مذکورہ خریدار مال دار نہیں، بلکہ غریب ہیں اور قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس میں کسی اور کو شریک کرنا چاہتے ہیں تو اس کی بھی دو صورتیں ہیں:
1۔۔ خریدتے وقت مزید افراد کو بھی اس میں شریک کرنے کی نیت کی تھی تو ایسی صورت مزید افراد کو شریک کرنا جائز ہوگا۔
2۔۔ خریدتے وقت مزید افراد کو اس میں شریک کرنے کی نیت نہیں کی تھی تو غیر صاحبِ نصاب شخص کے قربانی کی نیت سے جانور خریدنے سے وہ اس پر قربانی کے لیے لازم ہوگیا، لہذا اب کسی اور شریک نہیں کیا جاسکتا۔اگر شریک کرلیا تو باقی حصوں کی رقم صدقہ کرنا لازم ہوگی۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه
تمام احباب سے گزارش ہے کہ آج ہفتہ 16 مئی کو پاکستان میں 28 ذی القعدہ ہے، اور کل بروز اتوار اِن شاء اللہ تعالیٰ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کا امکان ہے۔
لہٰذا جو حضرات قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ کوشش کریں کہ اپنے ناخن اور بال اتوار شام تک تراش لیں، کیونکہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی تک ناخن اور بال نہ تراشنا مسنون اور مستحب عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
برائے مہربانی ثوابِ دارین اور صدقۂ جاریہ کی نیت سے یہ پیغام آگے ضرور شیئر کریں۔
16/05/2026
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : بھینس کی قربانی قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟ بعض حضرات اس کی قربانی کو ناجائز کہتے ہیں ، لیکن خیرات کرنے کو جائز کہتے ہیں ۔ والسلام:محمد زکریا، کراچی
الجواب حامدًا ومصلیًا واضح رہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہائ، مفسرین وائمہ کرام w کے نزدیک بھینس ‘ گائے کی نوع میں شامل ہے اور اس وجہ سے اس کی قربانی بھی درست ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’أُحِلَّتْ لَکُمْ بَہِیْمَۃُ الْأَنْعَامِ إِلاَّ مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ الخ۔‘‘ (المائدہ:۱) اس آیت کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع صاحب v لکھتے ہیں: ’’پالتو جانور جیسے اونٹ، گائے، بھینس، بکری وغیرہ جن کی آٹھ قسمیں سورۂ انعام میں بیان فرمائی گئی ہیں ان کو ’’ أَنْعَام ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس جملہ میں اُس خاص معاہدہ کا بیان آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اونٹ، بکری، گائے، بھینس وغیرہ کو حلال کردیا ہے، ان کو شرعی قاعدہ کے موافق ذبح کرکے کھا سکتے ہیں۔‘‘(معارف القرآن، ج:۳،ص:۱۳) تمام علماء کا اس مسئلہ میں اجماع ہے کہ سب ’’بہیمۃ الأنعام‘‘ (چرنے چگنے والے چوپایوں) کی قربانی جائز ہے، کم از کم بھینس کی قربانی میں کوئی شک نہیں ہے۔ نیز جہاں قرآن مجید میں حرام چیزوں کی فہرست دی ہے، وہاں یہ الفاظ ہیں: ’’قُلْ لاَّ أَجِدُ فِیْ مَا أُوْحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ إِلَّا أَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَتًا أَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا۔‘‘ (الانعام:۱۴۵) درج بالا دونوں آیات میں تمام چرنے والے جانوروں کی حلت کا عام حکم ہے، اس میں بھینس بھی شامل ہے، کیونکہ وہ بھی چرنے والے جانوروں میں سے ہے، اسی طرح ’’بہیمۃ الأنعام‘‘ کی حلت میں بھی بھینس بصراحت شامل ہے، اس کا گوشت اور دودھ‘ گائے کے گوشت اور دودھ کی طرح حلال وطیب ہے، کیونکہ یہ دونوں ایک ہی جنس سے ہیں۔ اگر بھینس کو گائے کی جنس سے مانا جائے یا عمومِ بہیمۃ الانعام پر نظر ڈالی جائے تو حکمِ جوازِ قربانی کے لیے یہ علت کافی ہے۔ شرعاً بھینس چوپایہ جانوروں میں سے ہے اور ’’بقر‘‘ (گائے) میں شامل ہے، گائے کی قربانی جائز ہے اس لیے بھینس کی قربانی بھی جائز ودرست ہے۔ اس دلیل کو اگرنہ مانا جائے تو گائے کی ہم جنس بھینس کے دودھ اور اس کے گوشت کے حلال ہونے کی بھی دلیل مشکوک ہوجائے گی۔ حدیث مبارکہ میں ہے: حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ’’کل ذی ناب من السباع، فأکلہٗ حرام‘‘ ہر کچلی (نوک دار دانت جو اگلے دانتوں کے متصل ہوتے ہیں) والے درندے کا کھانا حرام ہے۔‘‘ (صحیح مسلم ،کتاب الصید والذبائح وما یؤکل من الحیوان، ص:۱۴۷) اور بھینس یقینا شریعت کے اس اصول کے تحت بھی نہیں آتی، کیونکہ یہ ’’ذی ناب من السباع‘‘ میں سے نہیں ہے۔ درحقیقت بنیادی طور پر تین اقسام کے جانور ہیں جن کے بارے میں فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ قربانی کے لیے قابل قبول ہیں: 1:۔۔۔۔۔۔۔ ’’غنم‘‘ میں اس کی انواع اور نرومادہ شامل ہیں، یعنی بھیڑ اور بکری۔ 2:۔۔۔۔۔۔۔’’إبل‘‘ سے مراد اونٹ نر ومادہ۔ 3:۔۔۔۔۔۔۔’’بقر‘‘ میں بھی اس کی انواع اور نر ومادہ شامل ہیں، یعنی گائے اور بھینس۔ چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’واضح ہو کہ جنس واجب میں یہ ہونا چاہیے کہ قربانی کا جانور اونٹ، گائے اور غنم تین اجناس سے ہو اور ہر جنس میں اس کی نوع نر ومادہ اور خصی وفحل سب داخل ہیں، کیونکہ اسم جنس کا ان سب پر اطلاق کیا جاتا ہے اور ’’معز‘‘ (بھیڑ) نوعِ غنم ہے اور ’’جاموس‘‘ (بھینس) نوعِ بقر ہے۔ قربانی کے جانوروں میں سے کوئی وحشی جائز نہیں ہے۔‘‘ (فتاویٰ ہندیہ، ج:۵، ۲۹۷، طبع: رشیدیہ۔ بدائع الصنائع،ج:۵،ص:۶۹، دار الکتاب العربی بیروت) ہدایہ میں ہے: ’’ویدخل فی البقر الجاموس لأنہٗ من جنسہٖ۔‘‘ (الہدایہ، ج:۲،ص:۴۴۷، باب الأضحیۃ) امام ابن المنذر v فرماتے ہیں: ’’ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع واتفاق ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔‘‘ (الاجماع لابن المنذر،ص::۴۸) حافظ ابن قدامہ المقدسی لکھتے ہیں: ’’ہمیں ا س میں اختلاف کا علم نہیں ہے، ابن المنذرv نے اس بات پر اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے، نیز بھینس ‘ گائے کی ایک نوع ہے۔‘‘ (المغنی لابن قدامہ،ج:۲،ص:۵۹۴) امام حسن بصریv بھی یہی کہا کرتے تھے کہ: ’’بھینس گائے کی طرح ہی ہے۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ،ج:۳،ص:۲۱۹، وسندہ صحیح) لہٰذا اس بات پر جمہور علماء اور ائمہ اسلام کا اجماع واتفاق ہے کہ بھینس کی قربانی کا وہی حکم ہے جو گائے کا ہے، بھینس کو گائے کے ساتھ شامل وشمار کیا جائے گا۔ بکری اورگائے کی طرح بھینس کی قربانی اور خیرات کرنا شرعاً جائز اور قبول ہے۔ فقط واللہ اعلم الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ محمد انعام الحق شعیب عالم محمد انس انور دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
*السلام علیکم،*
*ذی الحج کا مہینہ شروع ہو رہا ہے۔ قربانی کے خواہشمند تمام افراد کے لیے بال اور ناخن تراشنے کی آخری تاریخ ہفتہ/اتوار 16 یا 17 مئی 2026 ہے۔ دوسروں کو بھی یاد دلائیں کیونکہ ہم میں سے اکثر بھول جاتے ہیں!*
12/05/2026
جواب
واضح رہے کہ قربانی ہر اُس عاقل ، بالغ ، مقیم، مسلمان، مرد اور عورت پر واجب ہے جو عید الاضحٰی کے ایام میں نصاب کا مالک ہے، (یعنی ساڑھے سات تولہ سونا (87.4875گرام ) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.4125گرام ) یا اس کی قیمت کے برابر رقم اس کی ملکیت میں موجود ہو )، یا اس کی ملکیت میں ضرورت و استعمال سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یا رہائش کے مکان سے زائد مکان یا جائیداد وغیرہ ہو، یا استعمال سے زائد گھریلو سامان ہو ، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں، تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے ۔ (سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو، تجارتی ہو یا تجارت کے علاوہ، اگر وہ استعمال میں نہ ہو تو اسے بھی نصاب میں شامل کیا جائے گا، لہٰذا اگر مذکورہ سب چیزیں ملاکر یا بعض ملاکر مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر بھی قربانی واجب ہوگی ۔)
نیز قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم ، یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے، چنانچہ اگر قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن (۱۲ذی الحجہ) کو بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت واستعمال سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تب بھی اس پر قربانی واجب ہے ۔ ہاں عید الاضحٰی کے دنوں تک جو قرض یا اخراجات واجب الادا ہیں، اتنی مقدار منہا کرکے نصاب کا حساب کیا جائے گا۔
بنا بریں جس کے پاس رہائشی مکان کے علاوہ زائد مکانات موجود ہیں ، ضروری مکان کے لیے پلاٹ کے علاوہ دیگر پلاٹ ہیں ، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں، خواہ یہ سب تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو ، بہر حال ایسا شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ، اور اس پر قربانی کرنا شرعاً واجب ہے ۔
نیزواضح رہے کہ ایسا شخص گھر میں ایک ہو یا ایک سے زائد ، درج بالا شرائط کی موجودگی کی وجہ سے اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب لوگ پائے جاتے ہوں تو سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے ، اور ایسی صورت میں از روئے شرع ایک ہی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔
09/05/2026
ہر طواف کے سات چکروں کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے،چاہے طواف فرض ہو یا نفل ۔ اور حرم شریف میں پڑھنا سنت ہے، اور مقام ابراہیم اور بیت اللہ کو سامنے لےکر پڑھنا افضل ہے۔ اگر وہاں جگہ نہ ملے تو پوری مسجد الحرام میں کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں، اگر کسی نے یہ دو رکعت مسجد الحرام میں نہیں پڑھی تو اس کو جہاں کہیں بھی ادا کرے، ادا کرنا واجب ہے، جب تک ادا نہیں کرے گا ذمہ سے ساقط نہیں ہوں گی، اگر دوگانہ طواف پڑھنا بھول گیا اور اپنے وطن واپس پہنچ گیا تو اپنے وطن میں ہی یہ دو رکعت پڑھ لے، اس پر تاخیر کی وجہ سے دم لازم نہیں آئے گا اور نماز پڑھنے کا واجب ادا ہوجائے گا۔ باقی اگر یہ دو رکعت نہ پڑھے تو بھی عمرہ ادا ہوجائے گا،لیکن اس عمل کو ترک کرنے کی صورت میں گناہ گار ہوگا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Peshawar