Hazara Progressive Study Forum - HPSF

Hazara Progressive Study Forum - HPSF

Share

Study Group to study, debate and analyze different topics related to history, ideologies and culture.

17/11/2018

Up Coming Sunday Event.

we are Organizing a seminar related to State, Political Structure, proponents and key elements of the state.
Speaker: “General Secretary of Progressive Academic Forum "Mr. Ali Reza Mongol".

The Session will give you Information about Political Structure of State and what are proponents and key elements of the state.
Add: Ali Abad Meritorious P/H School, Champion Academy, near noor wellfear.

For Registration Follow this link

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSczfMbJa_gynH6-VseruvrOimno0FttwfFGGepjwiHLMaGBWA/viewform

03/07/2018
ہزارہ برادری کی قیادت کا ہمہ کس کے سر بیٹھے گا؟ 07/06/2018

ہزارہ برادری کی قیادت کا ہمہ کس کے سر بیٹھے گا؟
تحریر : غلام نبی کریمی
شکریہ۔ نیا دور ٹی وی

ہزارہ برادری کی قیادت کا ہمہ کس کے سر بیٹھے گا؟ کسی بھی سماج میں تبدیلی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سماج کے اندر موجود تمام طبقوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ سماجی تبدیلی (سوشل جینج) کے لئے ترقی پسندانہ افکار ....

Photos from Hazara Progressive Study Forum - HPSF's post 10/12/2017

روا مہینے کا تیسرا سیشن۔

انجمن اتحادیہ ہزارہ کے دفتر میں ۱۰ دسمبر بروز اتوار کو ’ سرمایہ داری ‘ کے
عنوان پر لیکچر پروگرام اور اسٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا۔ لیکچر کا آغاز جنرل سیکرٹری ہزارہ پروگریسیو اسٹڈی فورم غلام نبی کریمی نے کیا جبکہ اس عنوان سے متعلق ’ نجکاری اور گلوبلائزیشن ‘پر انٹر نیشنل ریلیشنز کے سینیر طالب علم برادر الطاف نے بھی سیر حاصل
گفتگو کی۔ آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔

Photos from Hazara Progressive Study Forum - HPSF's post 04/12/2017

علمی نشست

3 دسمبر بروز اتوار کو انجمن اتحادیہ ہزارہ کی جانب سے ہزارہ ٹاون میں 2 مختلف موضوعات پر لیکچر پروگرام کا اِنعقاد کیا گیا.

روسی انقلاب کی تاریخ, قومیت اور قومی ریاست پر ہزارہ پروگریسیو اسٹڈی فورم کے جنرل سیکرٹری غلام نبی کریمی نے لیکچر ڈلیور کیا. تین گھنٹے کی سیر حاصل لیکچر کے بعد آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا.

اس علمی نشست میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے طلبا سمیت بڑی تعداد میں دوسرے شعبے کے طلبہ نے بھی شرکت کیں

Photos 05/07/2017

Study Circle on " Student Politics"

Date: Sunday 9th July
Time: 5:30 Pm Sharp
Venue: Champions Academy, Near Noor Welfare, Ali Abad



Host: Hazara Progressive Study Forum - HPSF

Photos 30/06/2017

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد ۔

امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے آپ بیتی لکھی ہے جس میں انھوں نے لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے کی تفصیلی روداد بیان کی ہے جس میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی بحران اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

ریمنڈ ڈیوس اور ان کے شریک مصنف سٹارمز ریبیک نے بڑے ڈرامائی انداز میں جیل روڈ اور فیروز پور روڈ کے سنگم پر پیش آنے والے واقعے کی منظر کشی کی ہے، جس میں انھوں نے دو پاکستانی شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ جب وہ چوک میں ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے تو ان کی گاڑی کے آگے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد میں سے ایک نے پستول نکال کر ان پر تان لیا۔

ریمنڈ ڈیوس انتہائی تربیت یافتہ سکیورٹی کنٹریکٹر تھے اور انھوں نے ایسی ہی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی بارہا مشق کی تھی۔ انھوں نے فوراً اپنا پستول نکال کر اس کے میگزین میں موجود 17 میں سے دس گولیاں گاڑی کی ونڈ سکرین سے فائر کر کے ان دونوں موٹر سائیکل سواروں محمد فہیم اور فیضان حیدر کو جان سے مار ڈالا۔

ریمنڈ ڈیوس کو ان دونوں کی ہلاکت کا ذرا بھر افسوس نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فیصلہ میں نے نہیں بلکہ محمد فہیم نے پستول نکال کر کیا تھا: ’اگر کوئی مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو (انھیں مار کر) میرا ضمیر صاف رہے گا کیوں کہ میرا اولین مقصد اپنے خاندان میں واپس آنا ہے۔ ‘

ریمنڈ ڈیوس کو اسی دن گرفتار کر کے ان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ اسی وقت لاہور میں امریکی قونصل خانے سے ایک گاڑی انھیں چھڑوانے کے لیے آئی تو اس نے سڑک کے غلط طرف گاڑی چلاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار دی اور یوں اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی۔

ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انھیں گرفتارکر کے پہلے ایک فوجی چھاؤنی اور بعد میں لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ جب امریکی سفارت خانے کو پتہ چلا تو انھوں نے ڈیوس کو رہائی دلوانے کی سرتوڑ کوششیں شروع کر دیں۔

یہ وہی زمانہ ہے جب امریکی حکام کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم ہو چکا تھا اور انھوں نے اسامہ کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا۔

امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اگر اسامہ کے خلاف آپریشن ہوا اور اس دوران ڈیوس پاکستانی حراست میں رہے تو انھیں مار دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خود اس وقت کے صدر براک اوباما نے 15 فروری کو خود ریمنڈ ڈیوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’ہمارا سفارت کار ہے‘ اور انھیں ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔

کتاب کے مطابق ریمنڈ ڈیوس پر تشدد نہیں کیا گیا، تاہم وہ کہتے ہیں کہ انھیں نہانے کے لیے ٹھنڈا پانی دیا جاتا تھا اور اس دوران آنکھیں انھیں گھورتی رہتی تھیں۔ رات کو ان کے کمرے میں تیز بلب روشن رہتے تھے اور تیز موسیقی بجائی جاتی تھی تاکہ وہ سو نہ سکیں۔

اس دوران اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں ملوث امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر حکومت منجدھار میں پھنسی ہوئی ہے، ’اگر عوام کی سنی جاتی ہے تو دنیا ناراض ہو جاتی ہے اور اگر دنیا کے سنی جاتی ہے تو پھر عوام ناراض ہو جاتی ہے۔ ‘

حسبِ توقع پاکستانی حکومت دباؤ میں آ گئی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مقدمہ عدالت میں تھا اور لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے۔ اس لیے تیز اذہان سر جوڑ کر بیٹھے اور یہ تدبیر سوچی گئی کہ دیت اور خون بہا کے شرعی قانون کو حرکت میں لایا جائے۔

چنانچہ مقتولین کے ورثا کو منوا کر انھیں 24 لاکھ ڈالر خون بہا دیا گیا اور یوں 49 دن پاکستانی حراست میں رہنے کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو آزاد کر دیا گیا۔

اس وقت پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ترجمان صدیق الفاروق نے انکشاف کیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے کردار ادا کیا ہے۔



کتاب کی خوبی یہ ہے کہ ایک طرف ریمنڈ ڈیوس کے نقطۂ نظر سے ان سے کی جانے والی تفتیش اور مختلف عدالتوں میں پیشیوں کا احوال بیان ہوتا ہے، پھر اگلے باب میں امریکہ میں موجود ان کی بیوی کی زبانی ان پر گزرنے والے واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بیچ میں امریکی سفارت خانے کی سرتوڑ کوششیں دکھائی جاتی ہیں، اور پھر ہم دوبارہ جیل پہنچ جاتے ہیں۔

اس کتاب کی اشاعت کی کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ ادارے نے اس کے بعض حصوں پر اعتراض کیا تھا جس کی وجہ سے یہ کتاب تقریباً ایک سال کی تاخیر کے بعد اب کہیں جا کر شائع ہوئی ہے۔

‘دا کنٹریکٹر‘ کے مطالعے سے پاکستانی تاریخ کے ایک خجالت آمیز موڑ کے مختلف پہلوؤں پر اس کے مرکزی کردار کے نقطۂ نظر سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

اس کتاب میں سنسنی خیز جاسوسی ناولوں کی مخصوص تکنیک استعمال کرتے ہوئے قاری کے تجسس جو بار بار ہوا دی جاتی ہے۔ اس لیے توقع ہے کہ کتاب خوب بکے گی اور اگر اس پر ہالی وڈ نے فلم بنائی، جس کا عین امکان ہے، تو مار دھاڑ سے بھرپور یہ فلم بھی باکس آفس پر خاصی کامیاب ثابت ہو گی

Photos 21/06/2017

No extra fees on DMCs.

A warning to Schools Managements by District Education Officer Quetta.

Please report if anyone ask for it.

Courtesy Time News

10/06/2017

3 Major problems in our society
1: Educated illiterates: It’s a group of people, who read books and passed their exams. They never learnt anything from those books. Sometimes they talk about different revolutions and even some also pass negative comments over what those revolutionaries did. This group of people don’t have any energy to stand up for their society, stand up for justice and rights of deserving. They are WORDS only. Their role in the society is like that parasite who endangers all other good offspring, because by looking at such people, the new generation also gets effected by them.
2: Class system: is also becoming a major problem in our society. Actually by looking at our political parties, class system is the best name for this system. Because here the worker remains worker no matter how hardworking and intelligent he is and seniors and leader remain at their top positions no mater how incompetent they are. Actually our educated illiterates are also responsible for class system in our society.
3: Personality worshipers: they are group of people who blindly follow their incompetent and bungling leaders. No mater how much you tell them that their leaders are making them fool, they even don’t care of it. Even blinds are much better then this type of people.

03/06/2017

Reminder.

This is to remind our friends that seminar on 'Resistance of Baba Mazari' will be on Sunday 4th June (Tomorrow) at Kindergarten High School Bakhi Chowk Ali Abad.

Timing: 4.30 to 7.00 PM sharp.

Speakers: Mr Nasim Javed and Ustad Rahmani.

Host: Hazara Progressive Study Forum

Regards

02/06/2017

ترقی پسندیت

20 ویں صدی کے ابتدائی سالوں میں اشتراکیت کے فروغ کے ساتھ ساتھ حقیقت پسند ی میں انقلابیت کاعنصر پیدا ہوا اور اسے ترقی پسندی کانام دیاگیا ۔ ترقی پسند قصہ نویسیوں ،شاعروں اور تمثیل نگاروں کاعقیدہ تھا او ر ہے کہ حیات ایک تخلیقی عمل ہے جس کامقصد یہ ہے کہ انسان کی فنی صلاحیتوں کو پوری طرح پنپنے کے مواقع دیئے جائیں اور اس دنیا کو بنی نوع انسان کیلئے خوبصورت اور دل آویز ٹھکانہ بنایا جائے ۔ اشترا کی معاشرے میں پہلے بار محنت کش بطور ہیرو کے ظاہر ہوا جس کے انقلابی عزائم کااظہار ترقی پسند ادب میں ہوتا ہے ‘‘۔

Photos 01/06/2017

Invitation.

Seminar on " Resistance of Shaheed Baba Mazari"

Speakers:

Mr. Naseem Javed
(Writter and Progressive intellectual)

Mr. Ustad Rahmani
(Religious Scholar)

Venue. Kindergarten high school near imam bargah ali-ibne-abi-talib, balkhi chowk. Ali abad.

Date: Sunday 4th June
Time:04:30pm till 07:00pm sunday, sharp.

Please join us to pay tribute to the great resistance of Shaheed Baba Mazari.

Regards
Gen Sectary G.N.Karimi
Hazara Progressive Study Forum(HPSF)

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Shop#5, Ali Abad, Mohalay Bagh
Quetta
87300