علم جفر یا دھوکہ Ilm E Jafar

علم جفر یا دھوکہ Ilm E Jafar

Share

وطنِ عزیز میں جفر کے نام پر دھوکہ دہی کا تاریخی جائزہ
A Historical Review of the Deception in Jafar

وطنِ عزیز میں بظاہر معتبر سمجھے جانے والے نام دہائیوں سے ایلِ وطن کوعلم جفر کے نام پر بظاہر دھوکہ دیتے نظر آتے ہیں۔ جفر کی اس ادھوری تعلیم، یا تشہیر نے ہزاروں افراد کا نہ صرف وقت برباد کیا، بلکہ عوام الناس کی بڑی تعداد کو آج تک الجھنوں میں مبتلا کیے رکھا ہے۔ ان ناموں میں سرِ فہرست پاکستان کےمشہورِ زمانہ بابر سلطان قادری و شاد گیلانی،(اور انکے بعد ان حضرات کے شاگرد) اور مصر کے طوخی فلکی صاحب شام

22/05/2025

فریب کی دنیا کا مزید احوال جلد احباب کی خدمت میں دوبارہ۔

04/12/2024

اسلام علیکم

12/08/2024
17/03/2024

اسرارِ ازل را، نہ تو دانی و نہ من
ایں حرفِ معمہ، نہ تو خوانی و نہ من
ہست است پسِ پردہ گفتگوۓ من و تو
چو پردہ بر افتد، نہ تو مانی و نہ من

28/12/2023

رسالہ فلکیات اپنی اشاعت کے ۱۰ سال کامیابی سے پوراکرنے کے کے بعد گیارہویں سال میں قدم رکھ چکا ہے۔ اس سلسلہ میں رسالہ نے علوم مخفیہ کے سلسلے میں عوام کی جو خدمت کی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس سلسلہ میں علم جفر کو ہر کہ ومہ تک پہنچانے کا فخر بھی اسی رسالہ کو حاصل ہے۔ نو سال پورا ہونے پر میں ضروری سمجھتا ہوں کہ علم جفر کی جو خدمت فلکیات نے بہم پہنچاتی ہے اس کا تھوڑا سا جائزہ لے لیا جائے۔ بعض لوگ کہیں گے کہ جائزہ اس وقت لینا چاہیئے جب بات مکمل ہو جائے تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ فلکیات نے علم جفر کی جو خدمت کرنا تھی وہ ہو مکمل چکی؟۔ ایسا نہیں ہے، انشاء اللہ تعالی علم جفر کے جاننے والے حضرات اس میں اپنے مضامین لکھتے رہیں گے اور قارئین مستفید ہوتے رہیں گے جفر کی جو شمع جناب علامہ شاد گیلانی نے روشن کی ہے وہ روشن رہے گی۔ البتہ اس میں جو حصہ میں نے لیا ہے وہ کچھ عرصہ کے لئے منقطع ہو رہا ہے۔ کیوں کے آئندہ کچھ مدت تک میری تعلیمی مصروفیات اس قدر ہوں گی کہ جفر میں تحقیق بالکل . ٹھپ ہوکر رہ جائے گی اور میں بغیر کسی تحقیق کے (خواہ وہ ذرہ برابرہی کیوں نہ ہوں)مضمون لکھنا نہیں چاہتا۔ اس لئے میں کوئی مضمون نہیں لکھ سکوں گا۔ اسی لئے میں نے اس مضمون میں گذشتہ سالوں کا جائزہ لینے کی ضرورت محسوس کی ہے۔
فلکیات شائع ہونے کچھ ماہ ہی گذرے تھے کہ علم جفر کا قلمدان جناب شاد گیلانی صاحب سنبھالا۔ اس سے پہلے کے چند شماروں میں علم جفر سے متعلق کچھ مضامین حفیظ الرحمن غوری صاحب نے بھی لکھے تھے۔ جو علم الآثار سے متعلق تھے۔ اور یہ مضامین بعد میں دوبارہ شائد کئے جاتے رہے۔ جناب علامہ صاحب نے شروع سے ہی مستحصلات کھلے لفظوں میں لکھنا شروع کئے۔ یوں کہیئے کہ ساری دنیا سے بغاوت کر کے علم جفر کو عام کرنا شروع کیا۔ اسکا ردعمل مختلف صورتوں میں ظاہر ہوا۔ کئی بلکہ اکثر عالمان جفر نے اس کی سخت مخالفت کی۔ ان (نام نہاد) عالموں کے نزدیک یہ عذاب الہٰی کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ حالاں کہ دراصل علم جفر کے قواعد عام ہو جانے سے ان کی اپنی "عالمیت"کا پول کھلنے کاخطرہ نہیں نظر آیا۔ اور یہی مخالف کی اصل وجہ تھی۔
"وگرنہ
ایک عالم اگر صحیح معنوں میں عالم ہو تو ہ اپنے علم کو پھیلائے گا۔"
اور جہاں کہیں اسے اپنے علم میں کمی کا احساس ہو گا وہاں وہ بر ملا اعتراف کرے گا کہ یہ نکتہ مجھے معلوم نہیں ہے۔ سو فیصد علم تو کسی انسان کے بس میں نہیں ہے علامہ صاحب نے مسلسل ہرماہ مضامین لکھ کر چالیس پچاس قوائد شائع کرائے ۔ اس دوران تصویر کا دوسرا رخ دیکھے توکئی طالبان علم کی پیاسی بجھنے کی صورت پیدا ہوگئی۔ جو عرصہ سے نام نہاد عالموں کی بخیلی کا شکار ہو رہے تھے۔

ان میں ایک میں بھی تھا۔ میں ۱۹۶۴ء میں علم جفر سے متعارف ہوا تھا۔ جب اپنے نانا جان سے اس علم کی ابتدائی معلومات حاصل کی تھیں۔ اس وقت سے لے کر فلکیات شائع ہونے تک سات آٹھ سال کا عرصہ انتہائی مایوسی کا دور تھا۔ مستحصلہ ایک ایسا پہاڑ تھا جسے سر کرنا ناممکن نظر آتا تھا۔ ان سات آٹھ سالوں میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ یہ سب فراڈ ہے۔ لیکن دل کے اندر یہ بات ضرور اٹھتی تھی کہ علم جفر کا اتنا شور جوسن رہے ہیں اس میں کچھ کچھ حقیقت ضرور ہوگی۔ لیکن یہ حقیقت کہاں سے ملے گی،کوئی بتانے والا نہ تھا۔ آخر فلکیات نے منزل آسان کی اور اس میں شائع ہونے والے تمام مضامین جفر کو سمجھنا شروع کر دیا۔ چوں کہ لوہا پہلے ہی سے گرم تھ،ا اس لئے جب اس پر پر جفر کی ضرب پڑی تو یہ یہ باآسانی اس طرف مڑ گیا جدھر استاد نے موڑنا چاہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سارے مضامین جفر جو علامہ صاحب نے شائع کئے ہضم کر لئے اب میرے اندر اتنے قواعد جمع ہو چکے تھے، جنہیں اپنے تک محدود رکھنا میرے لئے ممکن نہ تھا۔ لہذا انہیں اگلنا شروع کر دیا۔ علامہ صاحب نے قواعد تو بیان کر دیئے تھے اب میں نے یہ انداز اختیار کیا کہ انہیں قواعد کو ترتیب والا اور مرحلہ وار انداز سے سمجھا دیا جائے چوں کہ علامہ صاحب کے لکھنے کا انداز لیکچر دینے والا ہے۔ یعنی جس طرح مقرر خطاب کرتا ہے۔ وہ اسی انداز میں لکھتے ہیں۔ اسی لئے بعض دوستوں کو ان کے مضامین سمجھنے میں مشکل پیش آئی ہے۔

02/12/2023

آجکل نام نہاد شناسانِ علم جفر کا زیادہ زور اپنی علمی دھاک بٹھانے اور پیر بن کر بیٹھنے پر ہے۔ اپنے کمنٹ بکس بند کر کے لکھتے ہیں تاکہ کوئی تنقید نہ کر سکے، سوال نہ پوچھ سکے۔ سوال کرو تو بلاک کر دیتے ہیں۔ قارئین سمجھدار ہیں کہ ان کی یہ احتیاتی تدابیر عوامی سوالوں اور تنقید کا جواب نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔

26/11/2023

حصہ دوم:
علم جفر کی دوسری شاخ یعنی " آثار " کا بھی ایسا ہی حال ہے۔ نقوش و عملیات پیش کرنے والے معزز صاحبان سے گزارش کرنے کی جسارت کریں گے کہ وہ بھی کبھی کبھی تصابق حاصل کرنے کی کوشش کر لیا کریں ۔ ہر چیز کی مقبولیت اس کی افادیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ افادیت کا پہلو ہمیشہ تشنہ تکمیل ہی رہا ہے ۔ اور اس طرف آج تک کسی نے بھی پیش رفت نہیں کی ۔ ہر صاحب مضمون کچھ اپنی تعریف کر کے۔ کچھ لوگوں کی کم عقلی کا بیان دے کر کچھ تھوڑا بہت مضمون لکھ کر نتائج و عواقب کو لوگوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا اچھا ہو اگر اعدادو شمار کی کسوٹی پر کبھی کبھی یہ تجزیہ بھی نظروں سے گزرتا ر ہے کہ ان علوم سے کتنے لوگوں کے مسائل حل ہوئے ؟ کتنے قتل ہونے سے بچے تھے ؟ کتنی ماؤں کے لال دوبارہ مل گئے ، کتنے چور پکڑے گئے؟ وغیره وغیره - ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ عظیم جفر دوسرے علوم مخفی سے زیادہ دلچسپ ہے۔ آج کا دور کیا ، کیوں ، اور کیسے کا ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کی خواہشوں کی تکمیل کب اور کیسے ہو سکتی ہے۔ خصوصاً ہمارا قیمتی نوجوان طبقہ تو اس معاملے میں بہت حساس ہے ۔ اسی دور زندگی میں نوجوان کے ذہین عملی کوششوں میں دلچسپی لینے کی بجائے اگر علم جفر کے نت نئے مستحصلات میں الجھ گئے قوقوم کا بہت اعتقان ہے ۔ ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ علم جفر کیر شائع کرنا بندکر دینا چاہئے بلکہ مراد یہ ہے کہ مواد شائع ہو لیکن معیاری اور تجربات کی کسوٹی پر پورا اترتا ہو۔ آپ یقین کیجئے گذشتہ دس برس میں شائع ہونے والے مختلف تواعد کو کسی بھی ایک سوال پر اطلاق کر کے دیکھے ہیں جواب مختلف آئین سے
ازمائش شرط ہے۔

کوشش کیجئے کہ ان علوم میں تحقیق اور تجزیہ اس طریق پر یہ کہ معاشرے کے تمام شعبے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ ان علوم کی افادیت عوام کے ذہنوں میں مقام بنائے۔ جس طرح دوسرے شعبوں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے ۔ علوم مخفیہ کا دائرہ بھی یہ عزاز حاصل کرے ۔ معاشرے کے امن وسکون میں علم جفر کا بھی حصہ
ہو- چنانچه قارئین ودیگر حضرات سے اپیل ہے کہ ان گزارشات پر ہمدردانہ غور فرما یا جائے ۔
ہمیں معلوم ہے کہ اس تحریر کو پڑھ کر کئی چہرے چیں بہ جبیں بھی ہوں گے۔ تاہم التماس ہے کہ بہتری کیلئے تنقید کا دروازہ کھولنا چاہئیے ۔ یہ سب گذارشات بڑے غور و فکر اور تجربات کے بعد مرتب کی گئی ہیں۔ ان پر بڑا وقت لگا ہے ان کو کم اہم نہ جائے گا۔ البتہ مزید تحقیق و تلاش کی بہ صد شکر یہ پذیرائی کی جائے گی۔ آخر میں جناب عامل لیاقت منجم صاحب کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے پوری دل تجھی سے علوم کی اشاعت میں اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے۔ اور ہر دلعزیز رسالہ فلکیات کے ذریعے ایک بہت بڑی ہم مشغلہ و ہم ذوق تعداد کو ایک دور سر تے کے قریب کیا ہوا ہے ۔ خدا ان کو مزید دینی و دنیاوی ترقی دے البتہ ہم سب ان نادر سہولت سے فائدہ اٹھا کر ان علوم کو پھر سے بام عروج لائیں ۔

21/11/2023

؀خُوگِر حمد سے تھوڑا سا گِلا بھی سن لے

اوّل: "حصہءِ اخبار"

-۱- معزز ومحترم قارئین اسلام علیکم ! پاکستان میں شائع ہونے والے مختلف رسائل و کتب کے مطالعہ سے علم جفر کے متعلق جو تفصیلات ملتی ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علم حروف کا ایک عجیب و غریب گورکھ دھندہ ہے۔ اس میں پہلے سوال کو مختلف حروف میں توڑ دیا جاتا ہے۔ پھر اس پر مختلف قواعد وغیرہ کا اطلاق ہوتا ہے، آخری سطر میں جواب کی لائن پھر مختلف حروف میں حاصل ہوتی ہے جن کو جوڑ کر جواب بنانا ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ مختصر سا خاکہ ہے جو اس علم کا قدر نے مستعمل تعارف پیش کرتا ہے ۔
علم جفر کے شائقین و قارئین سے یہ حقیقت پوشید نہیں ہوگی کہ سطر حجاب میں تقریباً سو فیصدی نظیرہ ہم مرتبہ حروف کی مدد بھی لی جاتی ہے ۔ اور یہ ایک بہت بڑا سقم ہے۔ جس کو آج تک ش*ذ و نادر ہی کسی نے دُور کرنے کی کوشش کی ہو یا اس سقم سے مبّرا کوئی قاعدہ شائع کروایا ہو۔ اب دیکھئے کسی نے سوال کیا کہ فلاں کے ہاں لڑکا ہوگا یا لڑکی ۔ جواب آیا لڑکا۔ لیکن پیدا ہوئی لڑکی ۔ تردد ہوا ۔ دوبارہ رابطہ کیا تو فرمان جاری ہوا کہ بھائی غلطی ہوگئی، اصل میں الف کا ہم مرتبہ "ی" لینا تھا لیکن غلطی سے جواب میں لفظ لڑکی سے لڑکا بن گیا ۔
اسی طرح جن قواعد کے آخر میں مستحصلات اعداد کی شکل میں آتے ہیں، ان میں پھر ہر عدو سے حرف لینا ظنّی ہے۔ کیونکہ ہر عدد کے تین تین ہم مرتبہ حروف میں سے کسی ایک کا چناؤ کرنا کسی طرح کبھی دخل در ظن سے خالی نہیں ہو سکتا۔
بطور ایک علمی نوع کے ہم علم جفر کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جو علم جفر آج کل دھڑا دھڑ شائع ہو رہا ہے اس طریق سے تو یہ علم کوڑیوں کے بھاؤ مل رہا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ اس علم کی موجودہ شکل کچھ افادیت بھی رکھتی ہے یا نہیں ؟ گذشته دس تا پندرہ سال سے علم جغر پر جو مضامین شائع ہو رہے۔

" ان سب میں ایک ہی ملتا جلتا طرز اظہار ہے۔ تقریباً سبھی صاحب مضمون پہلے اپنی تعریف کرتے ہیں۔ اپنی معقولیت کا اظہار خود ہی کرتے ہیں ۔ اپنی روزانہ ڈھیروں ملنے والی ڈاک کا ذکر بھی کر دیتے ہیں ۔ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ماشاء اللہ بہت سے لوگ ان سے راہنمائی حاصل کرنے آتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ آخر ان باتوں کا تعلق علمی کاوشوں سے کیا ہے ؟ ہمارے خیال میں میر طرفہ بیان اور مضامین لکھنے والوں کا مزاج بدلنا چاہئیے۔ "

خواہ مخواہ ادھر ادھر کی باتیں کر کے وسائل کا دامن محدود نہیں کرنا چاہیئے۔ مزید یہ کا علم جفر کو خواہ مخواہ اپنے تجربات کی بھینٹ نہ چڑھائیے۔ قابل قدر اور مستند ترین اساتذہ و مشاہیر کے مضامین پر عرق ریزی کرنا چاہئیے ۔ آسان سے آسان تر علم جفر پیش کرنے کی جو روشن نکلی ہے اس سے اصل علم جفر دفن ہو جائے گا۔ ہاں البتہ یہ آسان علم جفر بھی اگر عوام الناس کی سمجھ میں نہیں آرہا توپھر اس علم کا تقدس مزید پامال نہ کیا جائے۔ لوگوں کو خود ہی اپنے مسائل حل کرنے کا مشورہ دینا چاہئیے۔

Want your school to be the top-listed School/college?

Telephone

Website