ILM VERSE علم ورس

ILM VERSE  علم ورس

Share

کتابوں سے سوچ تک — علم ورس
Wisdom | Books | Growth

08/03/2026

مردہ مچھلی کا زندہ ہونا، سمندر میں سرنگ اور علمِ خضر کا راز
سورۃ الکہف (آیات 61 تا 70) کا حیران کن پہلو

جدید بائیولوجی ہمیں بتاتی ہے کہ جب کسی جاندار کے خلیے مکمل طور پر مر جائیں، اس کا ڈی این اے ٹوٹ جائے اور وہ خوراک بن جائے تو اس میں دوبارہ زندگی آنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
فزکس کا قانون Entropy بھی یہی کہتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز آہستہ آہستہ زوال کی طرف جاتی ہے، زندگی کی طرف نہیں لوٹتی۔
لیکن قرآن ہمیں ایک ایسا واقعہ بتاتا ہے جو یاد دلاتا ہے کہ
قوانینِ فطرت خود اللہ کے بنائے ہوئے ہیں — اور جب وہ چاہے انہیں بدل بھی سکتا ہے۔
سورۃ الکہف میں حضرت موسیٰؑ کے ایک عجیب سفر کا ذکر آتا ہے۔
یہ صرف سفر نہیں تھا بلکہ علم، حقیقت اور الٰہی حکمت کی تلاش تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جب موسیٰ اور ان کا خادم دو سمندروں کے سنگم (مجمع البحرین) تک پہنچے تو وہ اپنی مچھلی بھول گئے، اور وہ مچھلی سمندر میں ایک عجیب راستہ بناتی ہوئی چلی گئی۔
(الکہف 61)
روایات کے مطابق وہ مچھلی پکی ہوئی مردہ مچھلی تھی جو وہ سفر کے لیے بطور خوراک ساتھ لے جا رہے تھے۔
لیکن اس مقام پر ایک حیران کن واقعہ پیش آیا۔
وہ مچھلی اچانک زندہ ہو گئی اور سمندر میں کود گئی۔
قرآن کہتا ہے کہ اس نے پانی میں سرنگ جیسا راستہ بنا لیا۔
پانی عام طور پر فوراً اپنے خلا کو بھر دیتا ہے، لیکن اس واقعے میں پانی میں مچھلی کا راستہ ایک واضح نشانی بن گیا۔
یہی وہ علامت تھی جس کے ذریعے اللہ نے موسیٰؑ کو بتایا تھا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں انہیں ایک خاص بندے سے ملنا ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ موسیٰؑ اور ان کا خادم اس واقعے کو فوراً سمجھ نہ سکے اور آگے نکل گئے۔
کچھ دیر بعد موسیٰؑ نے کہا:
ہمارا کھانا لاؤ، اس سفر نے ہمیں تھکا دیا ہے۔
تب ان کے خادم کو اچانک یاد آیا کہ چٹان کے پاس مچھلی زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی تھی۔
یہ سن کر موسیٰؑ فوراً بول اٹھے:
"یہی تو وہ مقام تھا جس کی ہم تلاش کر رہے تھے!"
پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔
وہاں انہیں اللہ کا ایک خاص بندہ ملا۔
قرآن اس کا نام نہیں لیتا، لیکن اسلامی روایت میں وہ حضرت خضرؑ کے نام سے مشہور ہیں۔
اللہ فرماتا ہے:
ہم نے اسے اپنی طرف سے خاص رحمت عطا کی تھی اور اسے اپنے پاس سے ایک خاص علم سکھایا تھا۔
یہی وہ علم ہے جسے علماء علمِ لدنی کہتے ہیں۔
یعنی ایسا علم جو کتابوں یا تجربات سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے براہِ راست عطا ہوتا ہے۔
یہاں ایک حیران کن منظر سامنے آتا ہے۔
موسیٰؑ جیسے عظیم پیغمبر، جن پر تورات نازل ہوئی، خضرؑ سے ادب کے ساتھ کہتے ہیں:
"کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھائیں جو اللہ نے آپ کو دیا ہے؟"
یہ علم کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
حقیقی عالم وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ سیکھنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
خضرؑ نے جواب دیا:
آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔
کیونکہ آپ اس بات پر کیسے صبر کریں گے جس کی حقیقت آپ کے علم میں نہیں؟
یہ جملہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری کو بیان کرتا ہے۔
ہم اکثر صرف ظاہری منظر دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے۔
آخرکار خضرؑ نے موسیٰؑ کو ساتھ رکھنے کی ایک شرط رکھی:
"میرے ساتھ رہنا ہے تو کسی بات پر سوال نہیں کرنا جب تک کہ میں خود اس کی وضاحت نہ کروں۔"
یہی وہ سفر تھا جس میں بعد میں:
کشتی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے
ایک بچے کو قتل کیا جاتا ہے
اور ایک گرتی ہوئی دیوار کو تعمیر کیا جاتا ہے
اور آخر میں ان سب کے پیچھے چھپی حیران کن حکمت سامنے آتی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے:
• انسانی علم محدود ہے
• ہر واقعہ وہ نہیں ہوتا جو ہمیں نظر آتا ہے
• اللہ کی حکمت ہماری سمجھ سے کہیں بڑی ہے
• اور علم حاصل کرنے کے لیے عاجزی اور صبر دونوں ضروری ہیں
قرآن کا یہ قصہ دراصل ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کائنات میں بہت سی حقیقتیں ایسی ہیں جو ہماری عقل سے آگے ہیں۔
اور شاید اسی لیے اللہ ہمیں بار بار یہ یاد دلاتا ہے:
"تمہیں علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔"


08/03/2026

ُقُل أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ
وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ
وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ

08/03/2026

َتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

Want your school to be the top-listed School/college in Sialkot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Sialkot
Sialkot
51310