کوفہ کی ایک عورت عمر بن عبدالعزیز کے پاس اپنی حالت بیان کرنے آئی اور عرض کیا:
“اے امیرالمؤمنین! میں اور میری بیٹیاں اُن اموال میں سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکیں جو لوگوں میں تقسیم کیے گئے، نہ تھوڑا نہ زیادہ۔”
عمر بن عبدالعزیزؒ نے اس سے وجہ پوچھی کہ اسے اس کے حق سے کیوں محروم رکھا گیا۔ عورت نے بتایا کہ مقامی ذمہ داران اور اہلِ انتظامیہ نے اس کا معاملہ آگے نہیں بڑھایا اور نہ ہی اسے اُن لوگوں میں شامل کیا گیا جو امداد یا وظیفے کے مستحق تھے۔
اس پر عمر بن عبدالعزیزؒ نے فرمایا:
“شام کے وقت دوبارہ میرے پاس آنا، میں تمہارے لیے ایک خط لکھ دوں گا تاکہ تمہیں انصاف ملے اور تمہارا حق تم تک پہنچ جائے۔”
پھر کچھ لمحے خاموش رہے اور فرمایا:
“نہیں، تم ابھی ٹھہرو… کیا معلوم میں شام تک زندہ رہوں یا نہ رہوں۔”
یہ کہہ کر انہوں نے عورت کو اپنی زوجہ فاطمہ بنت عبدالملک کے پاس بھیج دیا تاکہ اس کے معاملے کو فوراً دیکھا جائے اور اسے مؤخر نہ کیا جائے، کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ کہیں موت آ جائے اور وہ اس عورت کی ضرورت پوری نہ کر سکیں۔
جب عورت فاطمہ بنت عبدالملک کے پاس پہنچی تو اس کی نظر عمر بن عبدالعزیزؒ پر پڑی۔ اس نے دیکھا کہ وہ خود اپنے وضو کے لیے پانی انڈیل رہے ہیں اور اپنی ضرورت اپنے ہاتھ سے پوری کر رہے ہیں، کوئی خادم اس کام پر مامور نہیں۔
فاطمہ بنت عبدالملک گھر میں تھیں اور سر کھلا ہوا تھا۔ عورت نے حیرت سے کہا:
“کیا آپ پردہ نہیں کرتیں؟ یہ شخص آپ کو اس حالت میں دیکھ رہا ہے!”
فاطمہؓ نے مسکرا کر کہا:
“کیا تم جانتی نہیں یہ کون ہیں؟
یہ میرے شوہر، امیرالمؤمنین عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے کام خود کرتے ہیں، وضو کا پانی خود انڈیلتے ہیں۔ نہ خلافت نے انہیں غرور دیا اور نہ حکومت نے انہیں عاجزانہ زندگی سے روکا۔”
اس کے بعد عمر بن عبدالعزیزؒ نے عورت کو بلایا اور اس کے حق میں ایک خط لکھ دیا، جس میں حکم دیا گیا کہ اسے انصاف دیا جائے اور اس کا وہ حق واپس کیا جائے جس سے اسے محروم رکھا گیا تھا۔
نوٹ: مآخذ کمنٹس میں ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔ شکریہ
یوم السبت :6/6/26.. اسلام آباد ۔
Kids Online Islamic Academy
we are teaching Qaida, nazra, hifz e Quran with tajweed and diffrent islamic course. Equip yourself and your children with the jewel of education.
Assalam Alaikum, welcome to our page, if you want to read the Holy Quran or want to give your children quality education in Quran and religion, then we will teach you and your children, enroll today and under the supervision of expert teachers.
جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے)۔
تو فرشتوں نے کہا: "ہم 'نفس' (جانیں) نہیں ہیں، بلکہ ہم تو پاکیزہ روحیں ہیں۔"
پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (جو بھی اس زمین پر ہے، فنا ہونے والا ہے)۔
تو فرشتوں نے کہا: "ہم زمین پر نہیں رہتے، بلکہ ہم تو آسمان کے رہنے والے ہیں۔"
لیکن جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ ۚ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے، اسی کی حکومت ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے)۔
تو فرشتے اللہ کے حضور سجدے میں گر گئے اور کہنے لگے: "پاک ہے وہ ذات جس کے لیے اکیلے ہی بقا ہے۔"
چنانچہ فرشتے، جن، انسان اور زمین و آسمان کی ہر مخلوق موت کے گھاٹ اتر گئی۔ سوائے ملک الموت (موت کے فرشتے) کے۔
اللہ تعالیٰ ملک الموت سے پوچھے گا: "اے ملک الموت! اب مخلوقات میں سے کون باقی بچا ہے؟"
ملک الموت کہے گا: "اے میرے معبود! جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور تیرے سامنے موجود یہ تیرا عاجز بندہ ہی باقی بچے ہیں۔"
تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: "جبرائیل کی روح قبض کر لو۔" تو وہ جبرائیل کی روح قبض کر لے گا۔
اللہ تعالیٰ دوبارہ ملک الموت سے پوچھے گا: "مخلوقات میں سے اب کون باقی رہا؟"
وہ کہے گا: "میکائیل، اسرافیل اور تیرے سامنے کھڑا یہ تیرا عاجز بندہ۔"
اللہ تعالیٰ فرمائے گا: "میکائیل اور اسرافیل کی روح قبض کر لو۔" تو وہ ان کی روح بھی قبض کر لے گا۔
پھر اللہ جبار جل جلالہ پوچھے گا: "اے ملک الموت! اب کون باقی بچا ہے؟"
وہ کہے گا: "تیرے سامنے موجود اس عاجز بندے کے علاوہ اب کوئی باقی نہیں رہا۔"
اللہ تعالیٰ فرمائے گا: "مت یا ملک الموت (اے ملک الموت! مر جاؤ)۔"
چنانچہ ملک الموت بھی مر جائے گا۔ اور جب وہ موت کی سختیوں کو محسوس کرے گا تو کہے گا: "تیری عزت اور جلال کی قسم! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ موت کی سختیاں اتنی شدید ہوتی ہیں، تو میں تجھ سے درخواست کرتا کہ مجھے بندوں کی روحیں قبض کرنے کے کام سے معاف ہی رکھے۔"
پھر اللہ تعالیٰ دنیا کی طرف دیکھے گا جو بالکل ویران پڑی ہوگی، اور فرمائے گا: "اے دنیا! کہاں ہیں تیرے دریا؟ کہاں ہیں تیرے درخت؟ کہاں ہیں تیرے محلات؟ کہاں ہیں بادشاہ اور کہاں ہیں بادشاہوں کے بیٹے؟ کہاں ہیں
نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔ جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے، کہیں گے اے کاش کہ ہم نے اللہ کا کہنا مانا ہوتا اور ہم نے رسول کا کہنا مانا ہوتا۔
- سورۃ الأحزاب
Soft Reminder 🎗️
تمہارا رب جس چیز کو تمہارے قریب کرے اس میں حکمت تلاش کرو
اور جس چیز کو تم سے دور کرے اس پر صبر اختیار کرو
اپنے رب کریم کے فیصلے پر راضی ہو جاو وہ بڑا مہربان ہے
دنیا کے بڑے سے بڑے مسئلوں کے باوجود
مسکرانا، خوش رہنا،
دوسروں میں خوشیاں بانٹنا
اور ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرنا… ✨🌿
یہ صرف خوش مزاجی نہیں،
بلکہ “الحمدللہ” کی عملی تفسیر ہے 🤍
*گوشت کھانے کے بعد یہ کام ضرور کریں* ✅
سنت اور سائنس
ذکر کیا جاتا ہے کہ سيبويه کی بیوی نے اُن کی کتابیں جلا دیں، کیونکہ وہ اُن کتابوں میں مشغول رہتے اور اُس کی طرف کم توجہ دیتے تھے۔ جب سیبویہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ بے ہوش ہو گئے، پھر ہوش آنے کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
اور ليث بن المظفر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ كتاب العين کو یاد کرنے میں مشغول رہتے تھے، تو اُن کی بیوی کو اُس کتاب سے غیرت آ گئی اور اُس نے اُسے جلا دیا۔
اسی طرح امیر محمود الدولة الآمري بہت زیادہ کتابیں جمع کرتے تھے۔ جب اُن کا انتقال ہوا تو اُن کی بیوی اُن پر نوحہ کرتے ہوئے کتابوں کو گھر کے درمیان موجود پانی کے حوض میں پھینکتی جاتی تھی، کیونکہ وہ اُن کتابوں کی وجہ سے اُس سے غافل رہتے تھے۔
اور إبراهيم العياشي نے “حجرات النساء” نامی کتاب کی تالیف میں بیس سال صرف کیے۔ اُن کی بیوی اُن کی مسلسل مصروفیت سے ناراض ہو گئی اور اُس نے کتاب جلا دی۔ روایت میں آتا ہے کہ اس کے بعد وہ فالج میں مبتلا ہو گئے۔
جبکہ محمد بن شهاب الزهري کی بیوی نے ایک دن کہا:
“اللہ کی قسم! یہ کتابیں مجھ پر تین سوکنوں سے بھی زیادہ بھاری ہیں
اب اصل عبارت پڑھ لیں!
!”يُذكَرُ أنَّ زَوْجَةَ سِيبَوَيْه أحْرَقَتْ كُتُبَهُ؛ لِأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولًا بِهَا عَنْهَا وَيَقِلُّ اهْتِمَامُهُ بِأَمْرِهَا، فَلَمَّا عَلِمَ سِيبَوَيْه بِذَلِكَ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ لَمَّا أَفَاقَ طَلَّقَهَا.
وَيُقَالُ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ الْمُظَفَّرِ إنَّهُ كَانَ مَشْغُولًا بِحِفْظِ "كِتَابِ الْعَيْنِ"، فَغَارَتْ زَوْجَتُهُ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ وَأَحْرَقَتْهُ.
وَكَذَلِكَ كَانَ الْأَمِيرُ مَحْمُودُ الدَّوْلَةِ الْآمِرِيُّ يَجْمَعُ كُتُبًا كَثِيرَةً، فَلَمَّا تُوُفِّيَ جَعَلَتْ زَوْجَتُهُ تَنْدُبُهُ وَتَقْذِفُ بِالْكُتُبِ فِي حَوْضِ الْمَاءِ الَّذِي كَانَ فِي وَسَطِ الدَّارِ؛ لِأَنَّهُ كَانَ يَغْفُلُ عَنْهَا بِسَبَبِ تِلْكَ الْكُتُبِ.
وَأَمَّا إِبْرَاهِيمُ الْعَيَّاشِيُّ فَقَدْ أَمْضَى عِشْرِينَ سَنَةً فِي تَأْلِيفِ كِتَابٍ بِاسْمِ "حُجُرَاتِ النِّسَاءِ"، فَغَضِبَتْ زَوْجَتُهُ مِنِْ انْشِغَالِهِ الْمُسْتَمِرِّ وَأَحْرَقَتِ الْكِتَابَ، وَجَاءَ فِي الرِّوَايَةِ أَنَّهُ أُصِيبَ بِالْفَالِجِ (الشَّلَلِ) بَعْدَ ذَلِكَ.
بَيْنَمَا قَالَتْ زَوْجَةُ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ يَوْمًا:
"
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ بانی پبلک ٹرانسپورٹ!
حضرت عمر رض نے اپنی خلافت میں اونٹ والوں کو مقرر کیا تھا جنکی ذمہ داری یہ تھی کہ جن شہریوں کے پاس سواری نہیں تھی ان کو مطلوبہ جگہ پہنچائیں. (ابن سعد، الطبقات القبری، جلد 3, صفحہ 293) یعنی پبلک ٹرانسپورٹ کو مہیا کرنا خلیفہ وقت اپنی شرعی ذمہ داری سمجھتے تھے.
جب میں کہتا ہوں کہ خلافت میں ہی کراچی لاہور فیصل آباد اور باقی شہروں کے کچرے سے لے کر سڑکوں تک کا مسئلہ حل ہوگا تو کچھ لوگوں کو یہ عجیب لگتا ہے. دراصل ان کے ذہن میں خلافت کا تصور چند شرعی سزاؤں تک محدود ہے جیسے چور کے ہاتھ کاٹنا یا زانی کو سزا دینا.
خلافت سن کر ان کے ذہن میں روٹی، کپڑا، مکان، ماڈرن ٹرانسپورٹیشن، بہترین تعلیمی نظام اور علاج کے لیے ماڈرن اسپتال اور ریسرچ اکیڈمیز نہیں آتی جو اس بات کہ نشاندہی کرتا ہے کہ ایک عام پڑھا لکھا شخص کس حد تک مغربی پروپیگنڈے سے متاثر ہوچکا ہے۔۔
*Reminder*
کل عشرہ ذی الحجہ کا تیسرا روزہ ہے🌸
رکھنا نہ بھولیے گا🍀
🌙*الله اكبر الله اكبر*
*لا اله إلا الله والله اكبر*
*الله اكبر الله اكبر و لله الحمد*🌷
ثقة تابعى میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں:-
*عشرہ ذی الحجہ میں صحابہ و تابعین اس قدر کثرت سے تکبیرات کہتے کہ گویا ان کی آوازیں سمندر کی موجوں کی مانند ہوتی تھیں۔*
(فتح الباري لابن رجب ١١٢/٦)
# عشرة ذي الحجة_٣
Haga clic aquí para reclamar su Entrada Patrocinada.
Localización
Categoría
Contacto la escuela/facultad
Teléfono
Dirección
Barcelona