Institute of Art, Calligraphy and Computer

Institute of Art, Calligraphy and Computer

Share

BE CREATIVE is our moto,

24/06/2026

لیمن گراس ایک نہایت خوبصورت، خوشبودار اور آسانی سے اگنے والا پودا ہے 🌾🍋
یہ عام گھاس جیسا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پتوں کو ہاتھ سے ہلکا سا مسلتے ہی لیموں جیسی تازہ خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے دنیا بھر میں چائے، خوشبودار مشروبات، باغبانی اور قدرتی خوشبو کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران لیمن گراس کی مقبولیت بہت زیادہ بڑھی ہے، خاص طور پر:

🏡 گھریلو باغبانی
🌿 نامیاتی باغات
☕ جڑی بوٹیوں والی چائے
🪴 گملوں کی باغبانی
اور فارم ہاؤسز میں۔
اس پودے کی سب سے بڑی خصوصیات یہ ہیں:
✅ شدید گرمی برداشت کرتا ہے۔
✅ تیزی سے بڑھتا ہے۔
✅ خوشبودار پتے پیدا کرتا ہے۔
✅ گملوں میں بہترین کامیابی دکھاتا ہے۔
✅ نسبتاً کم بیماریوں کا شکار ہوتا ہے۔
✅ کئی سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
جون سے ستمبر تک کا موسم لیمن گراس کی نشوونما کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔

🌱 لگانے کا طریقہ
لیمن گراس کو عموماً:
🌱 جڑ والے حصے (گچھے کی تقسیم)
یا
🌱 نرسری کے تیار شدہ پودے
سے اگایا جاتا ہے۔
بیج سے بھی اگایا جا سکتا ہے، لیکن گھریلو باغبانی میں جڑ والے حصے سے اگانا زیادہ آسان اور تیز ہوتا ہے۔

🌱 گچھے کی تقسیم سے اگانے کا طریقہ
اگر آپ کے پاس پہلے سے لیمن گراس کا پودا موجود ہو تو:
🌾 جڑوں سمیت ایک چھوٹا حصہ الگ کریں۔
اسے نئی جگہ یا گملے میں لگا دیں۔
چند دنوں کے اندر نئی بڑھوتری شروع ہو جاتی ہے۔
یہ لیمن گراس بڑھانے کا سب سے کامیاب طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

🌱 نیا پودا لگانے کا طریقہ
زمین میں
تقریباً:
• 1 فٹ چوڑا
• 1 فٹ گہرا
گڑھا کافی رہتا ہے۔
گملے میں
کم از کم:
🪴 12 سے 16 انچ چوڑا گملا
استعمال کریں۔
کیونکہ وقت کے ساتھ یہ بڑا گچھا بنا لیتا ہے۔

🌍 مٹی
لیمن گراس نرم، زرخیز اور اچھی نکاسی والی مٹی پسند کرتا ہے۔
بہترین مٹی کا فارمولا
• 40٪ باغ کی مٹی
• 30٪ کمپوسٹ
• 20٪ کوکوپیٹ
• 10٪ موٹی ریت
یہ آمیزہ:
✅ نمی برقرار رکھتا ہے۔
✅ جڑوں کو سانس لینے دیتا ہے۔
✅ تیز بڑھوتری میں مدد دیتا ہے۔

☀️ جگہ اور موسم
لیمن گراس مکمل دھوپ پسند کرتا ہے۔
بہترین نشوونما کے لیے:
☀️ روزانہ کم از کم 6 سے 8 گھنٹے دھوپ ضروری ہے۔
جتنا زیادہ سورج ملے گا:
🌾 پودا اتنا ہی گھنا
🌾 مضبوط
اور
🌾 خوشبودار
بنے گا۔

💧 پانی دینے کا طریقہ
لیمن گراس کو معتدل نمی پسند ہے۔
گرمیوں میں
• ہفتے میں 2 سے 4 مرتبہ پانی درکار ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر گملوں میں لگے پودوں کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اہم بات
مٹی مکمل خشک نہ ہونے دیں۔
لیکن:
❌ پانی کھڑا بھی نہ رہنے دیں۔

🌿 کھاد
لیمن گراس مسلسل بڑھنے والا پودا ہے، اس لیے اسے باقاعدہ غذائیت پسند ہے۔
ہر 30 سے 45 دن بعد
• کمپوسٹ
• ورمی کمپوسٹ
• گلی سڑی گوبر کھاد
استعمال کریں۔
اس سے:
✅ پتے لمبے بنتے ہیں۔
✅ خوشبو بہتر ہوتی ہے۔
✅ گچھا زیادہ گھنا بنتا ہے۔

✂️ کٹائی اور برداشت
لیمن گراس کی کٹائی بہت آسان ہے۔
جب پتے:
🌾 2 سے 3 فٹ
لمبے ہو جائیں تو:
✂️ بیرونی پتے جڑ کے قریب سے کاٹ لیں۔
درمیانی نئے پتے چھوڑ دیں۔
اس سے:
✅ پودا مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔
✅ نئی کونپلیں نکلتی رہتی ہیں۔

☕ چائے کے لیے استعمال
لیمن گراس دنیا بھر میں اپنی خوشبودار چائے کے لیے مشہور ہے۔
چائے بنانے کے لیے:
🌾 تازہ یا خشک پتوں کا نچلا حصہ
چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر استعمال کیا جاتا ہے۔
اس سے چائے میں قدرتی لیموں جیسی خوشبو آتی ہے۔

🌿 باغ میں خوبصورتی
لیمن گراس صرف خوشبودار پودا نہیں بلکہ ایک خوبصورت سجاوٹی پودا بھی ہے۔
اس کے:
🌾 لمبے جھکے ہوئے پتے
🌾 گھنے گچھے
باغ میں خوبصورت ساخت پیدا کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے اسے پھولدار کیاریوں کے ساتھ بھی لگایا جاتا ہے۔

🦟 بعض کیڑوں کو دور رکھنے میں مدد
بہت سے باغبان لیمن گراس کو اس لیے بھی پسند کرتے ہیں کیونکہ اس کی خوشبو بعض ناپسندیدہ کیڑوں کو دور رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اسی لیے اسے:
🏡 گھر کے قریب
🪴 بالکونی میں
🌳 بیٹھنے کی جگہ کے آس پاس
لگایا جاتا ہے۔

🌿 گملے کا سائز
کم از کم
• 12 سے 16 انچ چوڑا گملا
بہترین نتائج کے لیے
• 18 سے 24 انچ چوڑا گملا
استعمال کریں۔
کیونکہ وقت کے ساتھ پودا کافی بڑا گچھا بنا لیتا ہے۔

🐛 کیڑوں اور بیماریوں سے بچاؤ
لیمن گراس عام طور پر بیماریوں کے خلاف کافی مزاحمت رکھتا ہے۔
پھر بھی بعض اوقات:
• نرم جسم والے کیڑے
• پتوں پر پھپھوندی
دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
بچاؤ
✅ ہوا داری برقرار رکھیں۔
✅ زیادہ پانی نہ دیں۔
✅ خشک پتے ہٹا دیں۔
✅ نیم کا تیل استعمال کریں۔

🌡️ گرمی اور سردی برداشت کرنے کی صلاحیت
لیمن گراس:
✅ شدید گرمی برداشت کرتا ہے۔
✅ جون، جولائی اور اگست میں تیزی سے بڑھتا ہے۔
✅ مرطوب موسم پسند کرتا ہے۔
تاہم:
❄️ شدید پالا
یا
❄️ مسلسل سخت سردی
اسے نقصان پہنچا سکتی ہے۔

⭐ خاص بات
لیمن گراس ان چند پودوں میں شامل ہے جو:
✅ خوشبودار ہوتے ہیں۔
✅ چائے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
✅ گملوں میں کامیابی سے اگتے ہیں۔
✅ تیزی سے بڑھتے ہیں۔
✅ باغ کو خوبصورت بناتے ہیں۔
✅ نسبتاً کم بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔

⚠️ عام غلطیاں
❌ لیمن گراس کو سایہ دار جگہ پر لگانا، کیونکہ دھوپ کی کمی سے پتے کمزور، پتلے اور کم خوشبودار ہو سکتے ہیں۔
❌ بہت چھوٹے گملے میں اگانا، کیونکہ وقت کے ساتھ جڑیں اور گچھا کافی پھیل جاتے ہیں۔
❌ مٹی کو مکمل خشک ہونے دینا، کیونکہ مسلسل پانی کی شدید کمی بڑھوتری کو سست کر سکتی ہے۔
❌ پانی کھڑا رہنے دینا، کیونکہ اس سے جڑوں کے گلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
❌ پرانے اور سوکھے پتوں کو نہ ہٹانا، کیونکہ اس سے نئی بڑھوتری متاثر ہو سکتی ہے اور پودا بے ترتیب دکھائی دیتا ہے۔
❌ کئی سال تک گچھے کی تقسیم نہ کرنا، کیونکہ بہت زیادہ گھنا گچھا بعض اوقات بڑھوتری کو سست کر سکتا ہے۔

🎯 کامیابی کا راز
اگر لیمن گراس کو مکمل دھوپ، زرخیز اور اچھی نکاسی والی مٹی، باقاعدہ نمی، ہر ماہ نامیاتی کھاد اور وقتاً فوقتاً کٹائی فراہم کی جائے تو یہ سال بھر خوشبودار، گھنا اور صحت مند رہتا ہے اور چائے، خوشبو اور باغ کی خوبصورتی کے لیے بہترین پودوں میں شمار ہوتا ہے۔

23/06/2026
21/06/2026

کبھی کبھی صرف ایک استاد آپ کی پوری زندگی کیلئے ناقابل فراموش ھو جاتا ھے۔ آپ پر کس استاد نے سب سے زیادہ اثر چھوڑا ؟

17/06/2026

امیتابھ بچن کے پروگرام "کون بنے گا کروڑ پتی" میں جب امیتابھ نے
نانا پاٹیکر سے ایک غیر متوقع سوال پوچھا کہ انہوں نے فلمی دنیا کی چکاچوند کو چھوڑ کر اپنے گاؤں واپس جانے کا فیصلہ کیوں کیا۔؟

"ویلکم" کے اداکار کا سادہ، بے تکلف اور حقیقت پسندانہ جواب لوگوں کے دلوں کو چھو گیا۔

نانا پاٹیکر کا جواب کچھ یوں تھا؛

"میں فلم انڈسٹری کا آدمی نہیں ہوں۔ میں یہاں کام کرنے آتا ہوں اور پھر واپس اپنے گاؤں چلا جاتا ہوں۔ میں کبھی پارٹیوں کا شوقین نہیں رہا۔ میں گاؤں کا ہوں اور گاؤں ہی کا رہوں گا، مجھے وہی جگہ اچھی لگتی ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ؛

شہر کی زندگی کے مقابلے میں گاؤں میں انہیں زیادہ سکون ملتا ہے۔

"شہر میں چاروں طرف دیواریں ہیں، جبکہ میرے گاؤں میں پہاڑ ہیں۔ مجھے الارم نہیں جگاتا، پرندوں کی آواز جگاتی ہے۔ میں اپنی گائیں اور بیل سنبھالتا ہوں، اپنا کھانا خود پکاتا ہوں، اور سادہ زندگی گزارتا ہوں۔"

نانا پاٹیکر کے مطابق ان کے نزدیک دولت اور شہرت سے زیادہ اہم چیز فطرت اور اپنی جڑ سے جڑے رہنا ہے

12/06/2026

خدارا گھر تعمیر کرتے وقت یہ غلطیاں مت کریں جو ہر دوسرے پاکستانی گھر میں موجود ہیں

ایک صاحب کے گھر کا معائنہ کرانے کے لیے مجھے بلایا ۔ گھر نیا تھا، تقریباً 4 سال پہلے بنا تھا۔ ایک کمرے کی چھت بارشوں میں ٹپکتی تھی ، باتھ روم کی دیواروں پر سیلن اور سیپج کے نشان تھے اور بیڈ روم میں دوپہر کو بھی اتنی گرمی کہ سانس لینا مشکل۔۔۔۔
خیر ان کا تو جو حل ہوسکتا تھا میں نے بتایا لیکن کچھ غلطیوں کی نشاندھی آپ کی آسانی کے لیے کرتا چلوں کہ میں ہمیشہ گھروں کی تعمیر میں ان چیزوں کو سر فہرست رکھتا ہوں میں نے اپنے کام کے برسوں میں ایسے سیکڑوں گھر دیکھے ہیں جہاں لاکھوں روپے لگنے کے بعد بھی وہ بات نظر نہیں آئی جس کے لیے سب کچھ لگایا گیا تھا۔ اور وجہ ہر بار وہی غلطیاں ہوتی ہیں جن سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔
پہلی غلطی:
نقشے کو "مشوروں" کی بھینٹ چڑھا دینا

ہمارے ہاں ایک عجیب روایت ہے۔ آرکیٹیکٹ نقشہ بناتا ہے، مستری دیکھتا ہے اور کہتا ہے "یہ والی دیوار ہٹا دو"، پڑوسی آتا ہے اور مشورہ دیتا ہے "ہمارے گھر میں ایسا ہے، بہت اچھا لگتا ہے"، پھر کوئی رشتہ دار آ کر کمرے کی سمت بدلوا دیتا ہے۔ نتیجہ؟ جو گھر کاغذ پر خوبصورت تھا وہ تیار ہوکر تنگ، تاریک اور بے ترتیب بن جاتا ہے۔ ہر پلاٹ کی سمت الگ ہوتی ہے، سائز الگ ہوتا ہے، ضرورت الگ ہوتی ہے۔ ایک پیشہ ور انجینیئر یا آرکیٹیکٹ یہ سب سوچ کر نقشہ بناتا ہے۔ اسے محفوظ رکھیں۔

دوسری غلطی:
ابھی بچا لو، بعد میں دیکھیں گے

سستا سریا، ملاوٹ زدہ سیمنٹ، گھٹیا اینٹیں اور کم قیمت پائپ، یہ سب چند ہزار بچاتے ہیں اور چند سال بعد لاکھوں کا نقصان کر جاتے ہیں۔ دیواروں میں دراڑیں، باتھ روم سے رساؤ، زنگ آلود لوہا اور اکھڑتا پلستر، یہ اسی "بچت" کے تحفے ہیں۔گھر زندگی میں ایک بار بنتا ہے۔ اس میں لگنے والا مٹیریل وہ نہیں ہونا چاہیے جو سستا ہو بلکہ وہ ہونا چاہیے جو پائیدار ہو۔

تیسری غلطی:
ہوا کو گھر میں داخل ہونے کا راستہ نہ دینا

بڑے بڑے ڈرائنگ روم، اونچی چھتیں، خوبصورت انٹیریئر ، سب کچھ ہے مگر ہوا کا گزر نہیں۔ کراس وینٹیلیشن نہ ہو تو گرمیوں میں گھر بھٹی بن جاتا ہے اور پھر اے سی چوبیس گھنٹے چلتا ہے، سیدھی بات یہ ہے کہ صحیح جگہ کھڑکی، وینٹی لیٹر اور کھلا حصہ نہ صرف گھر کو سانس دیتا ہے بلکہ آپ کی جیب بھی بچاتا ہے۔
چوتھی غلطی:
واٹر پروفنگ کو "فضول خرچی" سمجھنا

یہ وہ غلطی ہے جو مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے کیونکہ اس کا نقصان آہستہ آہستہ ہوتا ہے، سامنے نہیں آتا، لیکن جب آتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ چھت پر، باتھ روم میں، زیر زمین ٹینکوں میں مناسب واٹر پروفنگ نہ ہو تو پانی اپنا راستہ خود بناتا ہے اور پھر پینٹ اکھڑتا ہے، لوہے میں زنگ لگتا ہے اور مرمت کا بل ابتدائی واٹر پروفنگ سے کئی گنا زیادہ آتا ہے۔اس مرحلے پر ہرگز سمجھوتہ نہ کریں

پانچویں غلطی:
عارضی پلاننگ

آج کے گھر میں اگر صرف آج کی ضروریات دیکھی جائیں تو پانچ سال بعد توڑ پھوڑ کرنی پڑتی ہے۔ سولر پینل لگانے ہوں تو چھت پر جگہ نہیں، گاڑی آ جائے تو پورچ نہیں، بچے بڑے ہوں تو کمرہ نہیں۔ اضافی بجلی کے پوائنٹس، پانی کے ذخیرے کی گنجائش، اسٹوریج، یہ سب چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں مگر پہلے سے سوچ کر رکھی جائیں تو بعد میں پریشانی نہیں ہوتی ۔

چھٹی غلطی:
سورج کا حساب نہ رکھنا

مغرب کی طرف بڑی کھڑکیاں اور بغیر سن شیڈ کے شیشے، یہ دیکھنے میں جدید لگتے ہیں مگر گرمیوں میں آپ کا گھر تنور بنا دیتے ہیں۔ چھت پر ریفلیکٹو کوٹنگ، دیواروں کی انسولیشن، سن شیڈ اور باہر چند درخت، یہ کوئی بہت بڑا خرچ نہیں لیکن فرق آسمان زمین کا ہوتا ہے۔جو لوگ تعمیر کے وقت موسم کو نظر انداز کرتے ہیں وہ ساری زندگی بجلی کے بلوں کی صورت میں اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔
ساتویں غلطی:
ٹھیکیدار کو "اللہ کے حوالے" کر دینا

یہ شاید سب سے بڑی غلطی ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹھیکیدار کو پیسے دے دیے، اب وہ ایمانداری سے کام کرے گا۔ شاید کرے، شاید نہ کرے۔ مگر نگرانی تو آپ کی ذمہ داری ہے۔ مٹیریل صحیح آ رہا ہے؟ تناسب درست ہے؟ کام نقشے کے مطابق ہو رہا ہے؟ یہ سب دیکھنا ضروری ہے۔ ایک باشعور مالک اور ایک ذمہ دار انجینیئر کی موجودگی ہی کام بہترین ہوسکتا ہے ورنہ چونے کے لیے تیار ہو جائیں ۔

گھر بنانا آسان نہیں ، اگر یہ سات باتیں آپ نے آج جان لی ہیں تو یقین کریں، آپ بہت سی پریشانیوں سے پہلے ہی محفوظ ہو گئے ہیں۔اپنے کسی عزیز کو بھی بتائیں جو گھر بنانے کا ارادہ رکھتے ہوں، کیونکہ ہو سکتا ہے آپ کا ایک شیئر کسی کی زندگی بھر کی کمائی بچا لے۔

Want your school to be the top-listed School/college in London?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


London
London
E,EC,N,NW,SE,SW,W,WC