ترجمان دہلی کی درج ذیل فائلیں کسی کے پاس موجود ہیں؟
۱۹۷۲ تا ۱۹۷۸
۱۹۸۵ تا ۱۹۸۷
Abdussalam Rahmani - Bondihar
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Abdussalam Rahmani - Bondihar, Tutor/Teacher, Balrampur.
DOB: August 1938
General Secretary of Markazi Jamiat Ahle Hadees Hind : 27 July 1975 to 22 June 1978
General Secretary of Markazi Jamiat Ahle Hadees Hind : 11 May 1985 to 1987
Rector Jamia Sirajul Uloom Bondihar, U.P.: 1987 to Till
20/12/2021
زیر ترتیب ہے۔
مولانا کے مضامین یا خطوط کسی کے پاس محفوظ ہوں تو ضرور مطلع کریں
25/11/2020
https://thefreelancer.co.in/?p=8502
سادگی تو ہر اہل حدیث عالم کی پہچان ہوتی ہے۔لیکن جب سے خیراتی مشروعاتی ذہن بننے لگا ہے، سادگی کی غمومیت میں کمی آگئی ہے۔ مکروریا کا دامن زیادہ دراز ہونے لگا ہے، جی حضوری اور کاسہ لیسی کو صلاحیت مان لیا گیا ہے، مشروعاتی وخیراتی مولویوں میں عجب وغرور آگیا ہے۔ بندگان رسید وچندہ جھوٹ زیادہ بولنے لگے ہیں۔ مولانا عابد حسن رحمانی کا دور...
مکمل مضمون پڑھنے کے لیے ذیل کے لنک پر کلک کریں:
https://thefreelancer.co.in/?p=8502
✒️
23/11/2020
مولانا رحمہ اللہ کی #تقریریں آڈیو یا ویڈیو کی شکل میں کسی کے پاس موجود ہوں تو ضرور مطلع کریں۔
پیشگی شکریہ
21/11/2020
مولانا عبد السلام صاحب رحمانی رحمہ اللہ کو نور توحید ایوارڈ پیش کرتے ہوئے زاھد آزاد جھنڈا نگری صاحب۔
نوٹ: ایوارڈ کے ساتھ سولہ ہزار روپئے کا چیک بھی پیش کیا گیا۔ لیکن مولانا نے چار ہزار روپئے اپنی طرف سے شامل کرکے بیس ہزار روپئے اسی وقت نورتوحید کے اشاعتی فنڈ میں جمع کروادیا۔
(سال ۲۰۰۳ کا واقعہ)
28/06/2020
رحمہ الله
سابق استاذ سراج العلوم، کنڈؤ بونڈیہار
16/07/2018
۱۹۷۱ سے ۲۰۱۱ تک آپ کے ہزاروں تلامذہ علمی اور عملی شعبوں میں سر گرم ہیں، جس نے بھی آپ سے کسب فیض کیا اسے فخر ہے کہ میں محترم استاد کا شاگرد ہوں، آپ نے زندگی اپنے اصولوں کے مطابق گزاری تھی، جس بات کو حق سمجھا اسے برملا کہہ دیا اور ہمیشہ اس پر اٹل رہے، سلفیہ کی مٹنگوں میں جب بھی بولنے کی بات آتی تو ہم جونیر اسا تذہ مولانا کی طرف دیکھتے، خوش اخلاق ملنسار تھے، مجھے یاد ہے کہ آپ مٹر پھلی کے موسم میں اساتذۂ جامعہ کو عصرانہ کی دعوت دیتے، اللہ نے آپ کو بے پناہ علم سے نوازا تھا، آپ نے اسے تقسیم کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا، ان شاء اللہ یہ خدمت جلیلہ آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہوگی.......
*مکمل پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں*
مولانا عبد السلام مد نی؛ پھول سا چہرہ زرد نہ تھا -
مولانا عبد السلام مد نی؛ پھول سا چہرہ زرد نہ تھا | دی فری لانسر- بے جا اندیشوں سے بالاتر ہوکر سوچنے کی دعوت آہ مولانا عبد السلام مد نی رحمہ اللہ بھی آج بتاریخ ۱۶/ جولائی ۲۰۱۸ء تقریبا ساڑھے پانچ بجے اس دار فانی سے رخصت ہوگئے، جب بھی آپ کانام آتا، حفظہ اللہ لکھتا آج پہلی بار ....
04/04/2018
آج کا قلم کار اب اپنا ہر کام فیس بک پر کرتا ہے۔ وہیں لکھتا پڑھتا ہے۔ رہتا بھی وہیں ہے۔ دن رات جب چاہتا ہے ایک بٹن دباتا ہے اورآن لائن دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ آف لائن دنیا میں دقتیں بھی تو بہت ہیں۔ شام کے مشرقی غوطہ میں قتل عام ہورہا ہے۔ ایسے مواقع پر پہلے قنوت نازلہ پڑھنے میں کتنا کھڑا رہنا پڑتا تھا، اب وہ مشکل بھی آسان ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا پر تیر تلوار لفظوں سے دشمن پر وار کرو، لائک ملیں، کمنٹ آئیں، شیئر ہو تو کتنا سکون ملتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے مسلمانوں کی فوج نے دشمن کو مار بھگایا ہو۔ آف لائن زندگی کے بڑے بڑے مسائل اب حل ہوگئے ہیں۔ اب تو احتجاج بھی بڑی آسانی سے ہوجاتا ہے ۔ وہی بٹن دباؤ اور شانتی سے لکھ دو۔ نہ کہیں آنا نہ جانا۔
ایک طرف جہاں قلم کار کو اتنی سہولتیں میسر ہوئی ہیں کاغذ پر چھپنے والے رسالوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ بڑے بڑے پرچے بند ہورہے ہیں۔ جو جاری ہیں ان کی حیثیت اب آرکائیوز سے زیادہ نہیں ہے۔ جو تحریریں سوشل میڈیا پر کاپی پیسٹ اور فارورڈ ہو ہو کر پرانی ہوجاتی ہیں انہی میں سے کچھ منتخب کرکے ایڈیٹر اپنے رسالے میں سجا دیتا ہے۔ یعنی رسالے اب ڈاکومنٹنگ کا کام کررہے ہیں۔ تحریروں کو دستاویزی حیثیت دے رہے ہیں۔
فری لانسر نے ایک وقفہ لیا اتنی دیر میں پرنٹ میڈیا کی دنیا بدل چکی تھی۔ وہ قلم کار جو اپنا مضمون لکھ کر ایڈیٹر کو دے دیا کرتا تھا اور پرچے کی چھپائی تک مطمئن رہتا تھا اب اس سے ایک منٹ بھی صبر نہیں ہوتا۔ ادھر لکھا ادھر فیس بک اور واٹس اپ پر چھاپ دیا۔
اشاعت کی تمام تر آسانیوں اور قلم کار کے حق میں ہونے والی ساری تبدیلیوں کے باوجود معیار کا مسئلہ بدستور باقی ہے۔
لیجیے فری لانسر کا ویب پورٹل حاضر ہے - The Freelancer بدلاؤ کسی جبر کی وجہ سے ہو یا کسی عقیدے کے سبب، اس کے اثرات اسی قدر ظاہر ہوتے ہیں جس قدر اس جبر کا پریشر ہو یا اس عقیدے کا شعور و ادراک۔ سن دو ہزار ایک کی بات ہے۔ ایک مشہ...
04/04/2018
ذمہ داران مساجد کی خدمت میں چند گذارشات - The Freelancer اسلام میں مساجد کی حیثیت دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی طرح محض عبادت کی ادائیگی کےلیے مختص کی گئی ایک عمارت کی نہیں بلکہ مساجد اسلامی معاشرہ کی دینی ، سیاسی ، معاشرتی ،...
03/07/2016
قليل من كثير عن الشيخ عبد السلام الرحمانى رحمه الله
*الأستاذ محفوظ الرحمن
( أستاذ ضيف في قسم اللغةالعربية وآدابها، الجامعة الملية الإسلامية، نيودلهي، الهند)
دخل الأسلام الهند في زمن الخلفاء الراشدين وأنجبت الهند كوكبة من المؤلفين والعلماء الكبار الذين أثروا المكتبات العربية بكتبهم ومؤلفاتهم في التفسير والحديث والفقه وغيرها من العلوم الشرعية والعقلية،و كما أنجبت عددًا ملحوظًا من شعراء هذه اللغة، وكُتَّابها، الذين لهم كتب قيمة في النحو والصرف، والبلاغة، وعلم اللغة، والمعاجم. وما إلى ذلك، ونجد كثيرا من العلماء الذين خدموا الشريعة الأسلامية من مقالاتهم التي نشرت في بعض الصحف الأردية والصحف في اللغات الأخرى، وكان الشيخ عبدالسلام الرحماني الذي كتب كثيرا من المقالات التي تتعلق بالأمور الإسلامية حول .......
المزید..
http://www.aqlamalhind.com/?p=325
19/02/2013
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Balrampur