15/06/2026
مزاج شخص جہاں تھا ترے مرض سے سست
ہوا سو فضل الٰہی سے تندرست و چست
خبر جو گرم ہے اب تیرے غسل صحت کی
دل شکستہ جہاں تھا وہ خودبخود ہے درست
رہے جہاں میں بہت توکہ تاجہاں بھی رہے
سلامت ہمہ آفاق در سلامت تست
میر تقی میر
15/06/2026
کھویا ہوا سا رہتا ہوں اکثر میں عشق میں
یا یوں کہو کہ ہوش میں آنے لگا ہوں میں
یہ ابتدائے شوق کی حالت نہ ہو کہیں
محفل میں اس سے آنکھ چرانے لگا ہوں میں
اب کیوں گلہ رہے گا مجھے ہجر یار کا
بے تابیوں سے لطف اٹھانے لگا ہوں میں
ہادی مچھلی شہر جونپوری
15/06/2026
زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے
فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے
نہیں ملتے تو اک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی
مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے
یہ مانا شیشۂ دل رونق بازار الفت ہے
مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے
نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداؤں کو
چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے
یہ مانا حسن کی فطرت بہت نازک ہے اے وامقؔ
مزاج عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے،
وامق جونپوری
13/06/2026
تو کسی راستے کا مسافر رہے
تیری ایک ایک ٹھوکر اٹھا لاؤں گی
اپنی بے چین پلکوں سے چن چن کے میں
تیرے رستے کے پتھر اٹھا لاؤں گی
میں ورق پیار کا موڑ سکتی نہیں
زندگی میں تجھے چھوڑ سکتی نہیں
تو اگر میرے گھر تک نہیں آئے گا
میں ترے پاس ہی گھر اٹھا لاؤں گی
آنسوؤں کا یہ موسم چلا جائے گا
میرے لب پر تبسم بھی آ جائے گا
مجھ کو دل کی زمیں سے تم آواز دو
آسماں اپنے سر پہ اٹھا لاؤں گی
میرے ہر خواب کی تو ہی تعبیر ہے
تو ہی میرے خیالوں کی تصویر ہے
تیری آنکھوں سے دیکھوں گی میں
زندگی تیری پلکوں سے منظر اٹھا لاؤں گی
یہ زمانہ ہے صحرا صفت ہم نشیں
چند قطرے بھی اس سے نہ مل پائیں گے
دیکھ تو مجھ سے کہہ کر کسی روز تو
تیری خاطر سمندر اٹھا لاؤں گی
تیرے ماتھے کی اک اک شکن کی قسم
میں عیادت کو رسماً نہیں آئی ہوں
میرے بیمار تیری دوا کے لئے
اپنا اک ایک زیور اٹھا لاؤں گی،
شبینہ ادیب
12/06/2026
لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا
تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا
سماعتوں میں یہ کیسی مٹھاس گھلتی رہی
تمام عمر رہا تلخ ذائقہ میرا
چٹخ گیا ہوں میں اپنے ہی ہاتھ سے گر کر
مرے ہی عکس نے توڑا ہے آئنہ میرا
کیا گیا تھا کبھی مجھ کو سنگسار جہاں
وہیں لگایا گیا ہے مجسمہ میرا
جبھی تو عمر سے اپنی زیادہ لگتا ہوں
بڑا ہے مجھ سے کئی سال تجربہ میرا
عداوتوں نے مجھے اعتماد بخشا ہے
محبتوں نے تو کاٹا ہے راستہ میرا
میں اپنے گھر میں ہوں گھر سے گئے ہوؤں کی طرح
مرے ہی سامنے ہوتا ہے تذکرہ میرا
میں لٹ گیا ہوں مظفرؔ حیات کے ہاتھوں
سنے گی کس کی عدالت مقدمہ میرا
12/06/2026
تھک گئے ہو تو تھکن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم مجھے واقعتاً چھوڑ کے جا سکتے ہو
ہم درختوں کو کہاں آتا ہے ہجرت کرنا
تم پرندے ہو وطن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم سے باتوں میں کچھ اس درجہ مگن ہوتا ہوں
مجھ کو باتوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو
جانے والے سے سوالات نہیں ہوتے میاں
تم یہاں اپنا بدن چھوڑ کے جا سکتے ہو
جانا چاہو تو کسی وقت بھی خود سے باہر
اپنے اندر کی گھٹن چھوڑ کے جا سکتے ہو
عمار اقبال
11/06/2026
اشکوں کو آرزوئے رہائی ہے روئیے
آنکھوں کی اب اسی میں بھلائی ہے روئیے
رونا علاج ظلمت دنیا نہیں تو کیا
کم از کم احتجاج خدائی ہے روئیے
تسلیم کر لیا ہے جو خود کو چراغ حق
دنیا قدم قدم پہ صبائی ہے روئیے
خوش ہیں تو پھر مسافر دنیا نہیں ہیں آپ
اس دشت میں بس آبلہ پائی ہے روئیے
ہم ہیں اسیر ضبط اجازت نہیں ہمیں
رو پا رہے ہیں آپ بدھائی ہے روئیے
عباس قمر
11/06/2026
بہترین تربیت اور پہلی درس گاہ
ماں کی گود کو بچے کی پہلی درس گاہ کہا جاتا ہے۔
ایک تعلیم یافتہ ماں ہی بچوں کی بہتر انداز میں پرورش اور اخلاقی تربیت کر سکتی ہے،
جو آگے چل کر معاشرے کے اچھے اور ذمہ دار شہری بنتے ہیں۔
08/06/2026
ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں
ادھر بھی اہل جنوں سر بدلتے رہتے ہیں
بدلتے رہتے ہیں پوشاک دشمن جانی
مگر جو دوست ہیں پیکر بدلتے رہتے ہیں
ہم ایک بار جو بدلے تو آپ روٹھ گئے
مگر جناب تو اکثر بدلتے رہتے ہیں
یہ دبدبہ یہ حکومت یہ نشۂ دولت
کرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
بیکل اتساہی
07/06/2026
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
منیر نیازی