16/06/2026
https://youtu.be/kPeng6-GcSI?si=dAwkCtvcNYUysFgK
ماہ محرم : احکام وبدعات اور میدان کربلا اور شہادت نواسۂ رسول کا مجرم کون ؟؟
Mahe Muharram: Ehkam,Bid,Aat & Karbala aur Niwasae Rasool ka Mujrim kon?? Khitabe Aam Mustafabad Delhi 14.06.2026/ 27.12.1447
Muharram: Ehkam,Bid,Aat & Karbala aur Hussain RA ka Mujrim kon ? By Shk Mohammad Rahmani 14.06.2026
ماہ محرم : احکام وبدعات اور میدان کربلا اور شہادت نواسۂ رسول کا مجر...
13/06/2026
https://youtu.be/6DPtJQQXv9U?si=XVqnkCatHUG8EqDc
مساجد اور مدارس پر بلڈوزر ، ہم کیا کریں ؟؟
Masajid aur Madaris par Bulldozer, hum kya karen ??
12.06.2026/ 25.12.1447
13/06/2026
مساجد اور مدارس کا انہدام تشویش ناک لیکن اس کے خود مسلمان بھی ذمہ دار ہیں: مولانا محمدرحمانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔
غیر قانونی تعمیرات ہوتے وقت سرکاری کارندے اپنی ذمہ داری کیوں نہیں نبھاتے کہ نوبت انہدام تک پہونچ جاتی ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئی دہلی 12جون 2026(پریس ریلیز)اس وقت ملک کے مختلف گوشوں اوربالخصوص اترپردیش اوربعض دیگر صوبوں سے مساجد اورمدارس کے انہدام کی خبریں آرہی ہیں جویقینا تشویش ناک ہیں لیکن اس طرح کی تشویش ناک خبروں کے باجود کیا مسلمان اپنے معاملات کوبہتر کررہے ہیں ؟ اور کیا قانونی چارہ جوئی اور قانون کی پاسداری کا خیال کیا جارہا ہے ؟ یہ اس سے بھی اہم سوال ہے ۔ ایک جانب غیر قانونی طریقہ سے سرکاری یا دیگر جائیدادوں پر قبضہ کرکے مسجد یا مدرسہ تعمیر کرنا یقینا جرم بھی اورشرعا حرام بھی ہے لیکن وہیں دوسری جانب یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ یہ ناجائز تعمیرات جب انجام دی جاتی ہیں اس وقت سرکاری نمائندوں کا عملہ رشوتیں لے کر ان امور کو انجام دلاتا ہے لہٰذا ایسے سرکاری کارندوں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جانا چاہیے اوریہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام مسلمانوں کوقانون کی پاسداری کا حکم دیتا ہے اورمسلمان جہاں بھی رہے وہاں کے نظام اور قوانین کا مکلف ہے ۔ اگر کوئی نظام اسلامی بنیادوں اور اساسیات سے نہیں ٹکراتا تو مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اسے اختیار کرکے تسلیم کرے اور اس کی پاسداری کرے ۔ یہ تمام مسلمانوں کے لیے اسلامی حکم ہے ۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاداسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی کے صدر مولانا محمدرحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ، جوگابائی ، نئی دہلی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا ۔ مولانا عہد وپیمان کی اہمیت، قانون کی پاسداری اورعہد وپیمان توڑنے کی قباحت پر گفتگو فرمارہے تھے ۔ مولانا نے فرمایا کہ آج مدارس ومساجد کونشانہ بنائے جانے کی ذمہ داری خود ہم پر بھی عائد ہوتی ہے ، عموماً ہماری مسجدیں ویران پڑی ہیں ، بڑی بڑی مسلم آبادیوں میں بھی مسلمان نماز ادا نہیں کرتے ۔ ہم نے اپنی غفلت اورمساجد کے حقوق ادا نہ کرنے کے نتیجہ میں بابری مسجد کا سانحہ دیکھا اورآج تک پورے ملک میں اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں لیکن ہم نہ مساجد کو آباد کرنا چاہتے ہیں اور نہ اللہ اور اس کے رسول کے عہد وپیمان کے ساتھ وفا کرنا چاہتے ہیں اورنہ ہی دین کی طرف رجوع کرنا چاہتے ہیں۔
خطیب محترم نے مزید فرمایا کہ ہمارے سامنے سنن ابن ماجہ کی ایک حدیث ہونی چاہیے جو پورے مسلم معاشرہ کی مکمل عکاسی اور ہماری ناکامیوں اور ذلت وخواری کی مکمل داستان بیان کردیتی ہے ۔ اس عظیم حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ ایسی خصلتوں کا تذکرہ کیا جوہماری تباہی کا سامان ہیں اور ساتھ ہی ان پانچ خصلتوں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ بھی مانگی وہ پانچ خصلتیں ذکر کرتے ہوئے مولانا رحمانی حفظہ اللہ نے درج ذیل باتوں کا تذکرہ کیا۔
(۱) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی خصلت اوراس کا عقاب ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ جب بھی کسی قوم میں فحاشی اور بے حیائی عام ہوتی ہے اوروہ اسے اعلانیہ انجام دیتے ہیں تو ان کے درمیان طاعون اوروبائیں پھیل جاتی ہیں اورایسی وبائیں اور بیماریاں پھیلتی ہیں جوان سے پہلے کی قوموں میں نہیں پھیلیں ۔ آج مسلم معاشرہ میں بے حیائی ، بے پردگی اورننگے پن کے ساتھ ساتھ دیوسیت بھی بڑھتی جارہی ہے ، ماں باپ کے سامنے بچیاں بے حیائی کرتی ہیں لیکن ان کی غیرت بیدار نہیں ہوتی ۔ لہٰذا ہمیں اس سے بچنا چاہیے۔
(۲) دوسری خصلت کا تذکرہ کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی ناپ تول میں کمی کرنے لگتا ہے تو اسے قحط سالی اور سخت تنگی اورحاکم کے مظالم کے عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے ۔ خطیب محترم نے فرمایا کہ ناپ تول میں کمی اورلین دین میں خیانت کی بے شمار شکلیں اس وقت مسلم معاشرہ میں پھیلتی چلی جارہی ہیں، مساجد ومدارس کی تعمیر کے نام پر فرضی واڑہ بڑھ گیا ہے ، پانی کی ٹنکی ، کنویں اور بورنگ کے نام پر مشروعات لے لے کر خیانت کرنا عام ہوگیا ہے ۔ خود بہت سے علماءاس جرم کے مرتکب ہیں ۔ اسی طرح دین کے نام پر دنیاداری ،وعظ وتقریر کے لیے مال کی شرط کرنااور ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی کا بے جا استعمال اوردین کوکوڑیوں کے بھاؤ بیچنے اور سوشل میڈیا کے لیے ریل اور کھاتے پیتے وقت کی تصاویر، گاڑپوں سے اترتے اورچڑھتے وقت کے شارٹس بنا کرسوشل میڈیا پر ریا کاری کے امکانات پیدا کرنا وغیرہ ایسے امور ہیں جس نے حرام خوری کے راستے کھول دیے ہیں اور شاید اسی وجہ سے ہم پر ظالم حکمرانوں کومسلط کردیا گیا ہے۔
(۳) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری خصلت کا ذکر فرمایا کہ جب بھی لوگ مال کی زکات روک لیں گے تو اللہ انہیں بارش سے محروم کردے گا اور اگر چوپائے نہ ہوتے تو بارش بالکل ہی روک دی جاتی ۔
(۴) اللہ اور اس کے رسول کے عہد وپیمان کوتوڑنے والوں سے متعلق جس عذاب کا اللہ کے رسول نے تذکرہ فرمایا وہ آج پوری طرح ظاہر ہوچکا ہے ۔ اللہ کا عہد وپیمان یہ ہے کہ اس کی توحید اورعبودیت کا حق ادا کیاجائے جبکہ مسلمان اللہ کے حقوق کو بھی ادا نہیں کرتا اور نہ اس کے عہد وپیمان کوپورا کرتا ہے ۔ مزاروں اورقبروں پر انجام دیا جانے والا شرک اس کی کھلی دلیل ہے جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد وپیمان آپ کی اتباع واطاعت اورآپ کے حقوق کی ادائیگی اورمحبت کے تقاضوں کی تکمیل ہے لیکن عموما مسلمان اس میں بھی ناکام ہیں اورتقلید نیز رسول اکرم کے حکم کی تاویل وتوجیہ کرکے اس کی مخالفت کے عادی بن چکے ہیں ۔ اللہ کے رسول نے فرمایا جواللہ اور اس کے رسول کے عہد وپیمان کوتوڑتا ہے اللہ اس پر باہری دشمن کومسلط کردیتا ہے اور وہ دشمن ان کے ہاتھ اورقبضہ کی چیزوں میں سے کچھ چھین کرانہیں نقصان پہونچاتے ہیں۔ آج مدارس ومساجد کا انہدام اسی خصلت میں مبتلا ہونے کا نتیجہ ہے نیزغیرقانونی طور پر مساجد ومدارس کی تعمیر بھی حرام ہے اور اس کے سبب بھی یہ حالات پیدا ہورہے ہیں ۔ دوسری اقوام اگرغلط کرتی ہیں تو بھی مسلمانوں کے لیے غیر قانونی اقدامات کرنا جائز نہیں اورنہ ہی غیر دستوری کاموں کو رشوتیں دے کر دستوری بنانے کی اجازت ہے یہ صورت حال ہم نے خود اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اختیار کرلی ہے۔
(۵) پانچویں خصلت یہ ہے کہ جب مسلمانوں کے قائدین اور علماءوائمہ قرآن وسنت کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں اورغیر شرعی امور کو اختیار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان آپس میں لڑائی ڈال دیتا ہے اوروہ ایک دوسرے کو نقصان پہونچانے لگتے ہیں ۔ آج ہم اس صورت حال سے بھی جوجھ رہے ہیں۔
مولانا نے کبیرہ گناہوں میں مسلمانوں کے ملوث ہونے اوربڑے بڑے گناہوں کا ٹھیکہ لینے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ، معاملات کی خرابی ، جھوٹ، سود خوری ، زنا کاری ، شراب نوشی ، جوا اور دیگر بہت سے جرائم ہیں جو مسلم معاشرہ میں عام ہوتے جارہے ہیں ۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ دنیا ہماری خواہشات سے نہیں چلتی بلکہ اللہ کی مرضی سے چلتی ہے لہٰذا ہمیں اللہ کی مرضی کے تابع ہونا چاہیے اورملک میں پیدا ہونے والی تشویش ناک صورت حال پر بات چیت کا راستہ اورقانونی چارہ جوئی کا طریقہ اپنانا چاہیے اور خود کو قانون کے دائرہ میں رکھ کرآگے بڑھنا چاہیے اور اسکے لئے تمام مسلم ملی تنظیموں کو حکومت سے بات کرنے، میمورنڈم پیش کرنے اور بوقت ضرورت قانونی چارہ جوئی اختیار کرنے کی حکمت عملی اپنانی چاہئے ۔
اخیر میں دعائیہ کلمات اور دین کی طرف رجوع کی اپیل پر خطبہ ختم ہوا ۔
(آفس سکریٹری)
Masajid aur Madaris par Bulldozer, hum kya karen ?? Khutbae Juma by Shk Mohammad Rahmani 12.06.2026
مساجد اور مدارس پر بلڈوزر ، ہم کیا کریں ؟؟ Masajid aur Madaris pa...
08/06/2026
https://youtu.be/eeTOsNL9IWc?si=MQA6-sD4aisg_Hh_
قرآن مجید کی عظمت اور بعض مسلمانوں کی بے وفائی ، خطاب عام مدھوپور جھارکھنڈ
Quran Majeed ki Azmat aur baz Musalmano ki bewafai ,Khitabe Aam Madhupur Jharkhand 07.06.2026
Quran Majeed ki Azmat aur baz Musalmano ki bewafai by Shk Mohammad Rahmani 07.06.2026
قرآن مجید کی عظمت اور بعض مسلمانوں کی بے وفائی ، خطاب عام مدھوپور ج...
06/06/2026
https://youtu.be/vNi1K43Eq7U?si=jYwQgTw4YFcGKfIA
اسلامی شناخت کا تحفظ اورموجودہ نازک احوال، ہم کیا کریں ؟؟
Islami Shanakht ka Tahaffuz aur Moujoodah Nazuk Ahwal, Hum kya karen ?? 05.06.2026 / 18.12.1447