Implementation of HED South Punjab initiatives at Government Graduate College for Women Burewala signifying the commitment to quality education and providing basic facilities to the students.
Government College For Women Burewala
According to the Higher Education Commission (HEC), the Govt.
College for women, Burewala , located in Punjab, is affiliated with the Bahauddin Zakariya University, Multan.
17/06/2026
🌟 Shape Your Future: Educational & Career Guidance Seminar! 🌟
Attention all graduating students and new applicants! Government Graduate College for Women Burewala is hosting an exclusive Introductory Seminar designed to pave the way for your academic and professional success. 🚀
Whether you are trying to figure out your next career move or looking to dive into cutting-edge skills, this seminar is for you!
✨ Key Features:
Career Counseling & Educational Guidance – Get expert advice on your next steps.
Curriculum Introduction & Skills Development – Learn what it takes to stand out.
AI Course Introduction – Get a head start on the future of technology! 🤖
📅 Event Details:
Date: Tomorrow (18 June, 2026)
Time: 9:00 AM Sharp ⏰
Venue: College Auditorium 🏛️
Target Audience: Graduating Students & New Applicants
Don't miss out on this incredible opportunity to unlock your potential. Tag your friends who need to see this! 👇
🌐 For more information and registration, visit: www.gcwburewala.edu.pk
The green sports ground of government Graduate College for Women Burewala Higher Education Department-HED Punjab
15/06/2026
Admissions open on first year result basis. Limited seats available.
لڑکیوں کے کالج میں ڈے آفیسر کی ذمہ داریاں بہت مشکل اور حساس نوعیت کی ہوتی ہیں، اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب بچیوں کے والدین ان پابندیوں پر اعتراض کرنے لگتے ہیں جو انہی کی بچیوں کی حفاظت کے لیے لگائی جاتی ہیں۔ تقریباً ہر سرکاری کالج میں کچھ موٹے موٹے اصول رائج ہیں:
بچی کو والدین یا سرپرست کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں بھیجا جائے گا۔
اگر والدین بھی بچی کو چھٹی سے قبل لینے کے لیے آئیں گے، تو اپنا اصل شناختی کارڈ اور اس کی فوٹو کاپی ساتھ لے کر آئیں گے۔
بچی یا والدین کی جانب سے ہاتھ سے لکھی درخواست میں جلدی لے جانے کی وجہ اور ضروری کوائف درج کیے جائیں گے۔ درخواست کے ساتھ شناختی کارڈ کی نقل لگائی جائے گی۔
اس دن کی ڈیوٹی آفیسر ٹیچر، اس درخواست پر اپنے دستخط کریں گی، اور گیٹ کیپر یہ درخواست گیٹ پر چیک کرے گا۔ ساری شرائط مکمل ہوئیں تو ہی بچی کالج گیٹ سے باہر جا سکتی ہے۔
لکھنے میں یہ آسان سی بات ہے، مگر عمل درآمد کے وقت اس میں خواہ مخواہ کی پیچیدگیاں پیدا کر دی جاتی ہیں۔ کبھی چھٹی سے پہلے بچی کو والدین لینے آ جائیں تو ان کے پاس اپنا شناختی کارڈ نہیں ہوتا، کارڈ ہو تو اس کی فوٹو کاپی نہیں ہوتی؛ کاپی کروا کر لانے کا کہہ دیں تو برا مانتے ہیں۔
گرلز کالجز میں معمول سے ہٹ کر اگر بھائی بھی طالبہ کو لینے آئے تو اس امر کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
"شادی پر جانا ہے، بھائی کا نام بطور سرپرست فارم میں درج ہے، جانے دیں!"
چلیں، ٹھیک ہے جانے دیتے ہیں، مگر ساتھ ہی دوسرا تقاضا آ جاتا ہے:
"دیگر دو اور طالبات جو کہ کزنز ہیں، ان کو بھی جانے دیں!"
"نہیں بھائی، ہم تو نہیں جانے دیں گے کزنز کے ساتھ۔"
کبھی خالہ آ کر کہتی ہیں:
"جی میں ماں ہوں، اسے جانے دیں۔"
شناختی کارڈ چیک کریں تو دونوں کی ولدیت اور زوجیت میں تضاد! ہم ان کی ڈھٹائی پر حیران اور وہ کہے جائیں:
"سگی خالہ ہوں، اس کی ماں نہیں آ سکتی، جانے دیں۔"
"نہیں جانے دیتے ہم بھائی!"
کبھی بچیاں پریکٹیکل کاپی چیک کرانے، رول نمبر سلپ لینے یونیفارم میں آ جائیں اور یہ چاہیں کہ اب آدھے پونے گھنٹے بعد کالج سے نکل جائیں؛ نہیں ہو سکتا ایسا بھی۔ اب اگر کالج یونیفارم پہن کر آئی ہو، تو چھٹی ٹائم، معمول کے مطابق ہی کالج گیٹ کھلے گا۔ بیٹھی رہو سکون سے!
اسی طرح موبائل فون ضبط ہوں گے، چیٹ ہسٹری چیک ہوگی، فون گیلری دیکھی جائے گی، کال ریکارڈ دیکھا جائے گا۔
"ناں ناں، ایسی گھمبیر صورت حال میں ہم ماؤں کو نہیں، بچیوں کے باپوں کو بلاتے ہیں۔"
مائیں تو خوف یا اعتماد کی کمی کے سبب بچیوں کے معاملات پر پردے ڈال کر معاملے کے زیادہ بگاڑ کا سبب بن جاتی ہیں۔
"جی جناب، ہم بہت سخت ہیں اپنے اصولوں میں!"
کالج گیٹ کے سامنے اتر کر آپ کسی اسٹیشنری کی دکان میں نہیں گھس سکتیں، جوس کا ڈبہ لینے سڑک پار نہیں جا سکتیں۔
"ناں ناں، جیل نہیں ہے، عقوبت خانہ نہیں ہے؛ جائے امن ہے، پناہ گاہ ہے، مرکزِ امانت ہے!"
فی زمانہ کسی دوسرے کی اولاد، خاص کر بیٹیوں کی حفاظت سے بڑی سخت ذمہ داری اور کوئی ہے؟
ماں باپ میں علیحدگی ہو جائے تو ہمارے لیے نئی مشکل؛ اب سرپرست ہی بدل گئے یا پھر یوں کہ اب کوئی سرپرست ہی نہیں۔ جس کا جی چاہے، جب سہولت ہو، آ جائے بچی کو چھٹی سے قبل لینے اور پھر جھگڑے:
"جی سگی پھپھو ہوں، ماموں ہوں، جانے دیں بچی کو۔"
"ارے بھائی، سرپرست نامزد تو ہو جاؤ والد یا والدہ کی طرف سے!"
جی، ہم کالج بیگ بھی چیک کرتے ہیں، کالج شناختی کارڈ بھی۔ میک اپ کا سامان، جیولری بھی ضبط کر لیتے ہیں؛ بیگ میں رکھی ادویات بھی، البم اور تحائف بھی، چاکلیٹس کی سجاوٹ والے کارڈز بھی۔
دوپٹے ٹھیک کرواتے ہیں، مناسب لباس پہننے کا کہتے ہیں، زیادہ بناؤ سنگھار سے روکتے ہیں، خالی کمروں میں اکیلا بیٹھنے نہیں دیتے، ایڈمن سائیڈ پر چکر لگانے نہیں دیتے۔ مشکوک حرکت پکڑ لیں تو پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ہیں ناں بہت دقیانوسی ہیں ہم ۔۔۔تنگ نظر اور تنگ ذہنیت ۔۔۔وہی اردو میڈیم مخلوق۔۔۔ہے ناں💔
کیا کریں؟ ہمارے پاس قیمتی، بہت قیمتی امانتیں ہیں۔ ہم ان کو محبت، خلوص اور پھر جہاں ضرورت پڑے سختی سے بھی سمجھاتے ہیں، روکتے ہیں، بتاتے ہیں۔ بری خبروں کے اسباب و نتائج پر بات کرتے ہیں؛ چاہے سائبر سیکیورٹی ہو یا عام زندگی میں حفاظت، سبھی پہلوؤں پر بات کرتے ہیں۔
پھر بھی، جب کوئی لڑکی گھر اور کالج کے راستے میں سے غائب ہو جائے، راہ بھٹک جائے، عبرت کی مثال بن جائے تو ہم ہاتھ ملتے ہیں، تڑپتے ہیں۔
بیٹیوں کے والدین،خاص طور پر لڑکوں کے ماں باپ ،لڑکوں کے اساتذہ، امام مساجد، محلے کی کمیٹیاں، خاندان کے بڑے، ہمسائے، لکھاری، میڈیا سے وابستہ لوگ، معاشرے کے دیگر افراد، قانون، حکومت، سرکار۔۔۔ خدارا! بچوں کی تربیت اور حفاظت اور شعور کی تعلیم کی ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے۔ یہ المیے، یہ روز روز کی تکلیف دہ خبریں ہم سے سہی نہیں جاتیں۔
Copied from
عمارہ مرتضی
11/06/2026
Media coverage of Appreciation ceremony by HED SOUTH PUNJAB under the leadership of respected director of education colleges Multan Division Prof. Tahir Sultan khan and Deputy Director Colleges Vehari Prof Aziz Ahmad Tahir Malana for KPI based best Colleges and teachers of Multan Division
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
THQ Hospital Road
Burewala
61010
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 16:00 |
| Tuesday | 08:00 - 16:00 |
| Wednesday | 08:00 - 16:00 |
| Thursday | 08:00 - 16:00 |
| Friday | 08:00 - 15:00 |
| Saturday | 08:00 - 16:00 |