18/01/2025
" غالب " نظر کے سامنے حسن و جمال تھا
" محسن " وہ بشر خود میں سراپا کمال تھا
ہم نے " فراز " ایسا کوئی دیکھا نہیں تھا
ایسا لگا " وصی " کہ وہ گڈری میں لعل تھا
اب " میر " کیا بیان کریں اس کی نزاکت
ہم " فیض " اسے چھو نہ سکے یہ ملال تھا
اس کو " قمر " جو دیکھا تو حیران رہ گئے
اے " داغ " تیری غزل تھا وہ بیمثال تھا
" اقبال " تیری شاعری ہے جیسے باکمال
وہ بھی " جگر " کے لفظوں کا پر کیف جال تھا
بلکل تمہارے گیتوں کے جیسا تھا وہ " قتیل "
یعنی " " یہ سچ ہے کہ وہ لازوال تھا۔۔ـ!!
07/12/2022
بلاشبہ محبت وہ ہے جو ہمیں خود سے پیار کرنا سکھا دے جو گرا دے ہمیں بھلا دے کہ ہم زندہ ہیں یا مر چکے وہ محبت نہیں بلکہ سزا ہے جو ہم خود کو دیتے ہیں بے قدروں کے لیے تو ان سے محبت کیجیے جو آپ کو خود سے پیار کرنا سکھا دیں جو آپ کی خامیوں کو یوں سراہیں کہ وہ خوبیاں بن جائیں تو چلیں ڈھونڈیں ایسے لوگوں کو جو ہمارے آس پاس ہیں مگر ہمیں نظر نہیں آتے ۔۔۔
06/12/2022
❣️یہ اہلِ ہجر، یہ راتوں کو جاگنے والے،یہ خود سے دُور کہیں زندگی گزارتے ہیں---✨🖤
06/12/2022
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Wada hai Hamari ye Mohabbat ki Dastan Khaas Rahegi,
,
Aapki Surat Hamesha Dil k Paas Rahegi,
,
Nahi Bhulenge Hum Aapko or Aapke Piyar ko,
,
Jab tak Dil me Dhadkan aur ye Saans Rahegi.!!
صبح بخیر حمین جانان ۔۔۔
حمین نہانے گیا ہوا تھا جب عدن کا میسج دیکھ کر معارج کا صبح صبح پارہ چڑھ گیا ، یہ چڑیل جان نہیں چھوڑے گی اس کا کچھ کرنا پڑنا، معارج کا دل کیا جا کر اس کا سر پھاڑ دے، مگر پھر باقیوں کو کیا کہتی کس وجہ سے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے اففف۔
اسے بلاک کر دپتی ہوں مگر حمین نے دیکھا تو شک مجھ پہ ہی جائے گا ،
معارج نے واشروم کی طرف دیکھا حمین ابھی تک اندر ہی تھا،
چلو چھوڑو مجھے کیا، حمین تو میرے پاس ہی ہے نا ہنہ۔ معارج نے منہ بسورا۔
عدن ناشتہ کر چکی تھی ، اور صحن میں بیٹھی ماما سے باتیں کر رہی تھی ، عالیہ کا فون آگیا، ایک منٹ ماما میں بات کر کے آئی اٹلی سے فون ہے۔
ہیلو عالیہ کیا حال ہیں ؟
ہائے سویٹی میرا مطلب میڈم میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ، آپ تو جا کر بھول ہی گئی ہیں ۔
نہیں نہیں مجھے یاد ہو تم ، میرے ذہن میں ہو ہاہاہا
ملنے ہی آجاؤ میڈم ۔۔۔۔۔
اچھا اگلے مہینے چکر لگاتی ہوں ،
وعدہ ؟
ہاں عالیہ وعدہ ۔
عدن کچھ دیر باتیں کر کے واپس آئی تو ماما صحن میں نہیں تھیں ،
اپنے کمرے میں جانے سے پہلے اس معارج کو کچن سے نکلتے دیکھا جو اوپر جا رہی تھی ،
عدن نے کچن میں جا کر دیکھا تو اس نے آملیٹ میں بس لال ، کالی مرچ ڈالی تھی، نمک اسے یاد نہیں رہا،
عدن نے چٹکی بھر نمک ڈالا اور چلی گئی ، سیڑھیوں سے اترتے ہوئے معارج نے عدن کو کچن سے نکلتے دیکھ لیا ، اور خود کلامی کی اب کیا شیطانی کی ہو گی اس نے ۔۔۔۔۔
معارج نے جا کر چائے بنائی اور حمین کے لیے ناشتہ لے کر اوپر آ گئی ، اسے بعد میں یاد آیا کہ اس نے نمک نہیں ملایا تھا،
مگر حمین نے پہلا نوالہ لینے کے بعد کہا واہ معارج آج تو مسالے کا بڑا حساب رکھا ہے ، نمک مرچ برابر ہے،
معارج کو لگا شاید حمین بات لگا رہا ہے مگر اس نے ایک نوالہ کھایا تو اس کے ذہن میں عدن آگئی ۔
پہلی دفعہ معارج نے سوچا کہ یار وہ اتنی بری بھی نہیں ہے جتنا میں سمجھتی ہوں ۔ خیر بعد میں شکریہ کہہ دوں گی ۔
یہ دونوں ناشتہ کر رہے تھے جب ماما ان کے کمرے میں آئیں اور کہا حمین ہمیں کسی کام کے لیے پاکستان جانا پڑ گیا ہے ، ساتھ آنا ہے یا ادھر ہی رہو گے ؟
حمین نے پوچھا کیا کام پڑ گیا اچانک ؟
بیٹا وہ تمہارے پاپا ہر سال اجتماعی شادیوں کا بندوبست کرتے ہیں تو اس دفعہ بھی سوچ رہے تھے جا کر یہ کام بھی ختم کر دیں ویسے بھی آج کل ادھر زیادہ کام نہیں ہے ۔
اوکے ماما آپ چلے جائیں میں فی الحال ادھر ہی رہنا چاہتا ۔
معارج بیٹا تم بھی جانا چاہو گی یا رہنا ہے ؟
معارج نے سوچا جانے کا دل تو ہے بابا سے بھی مل لوں گی مگر حمین اس چڑیل کے لیے ادھر رک رہا ہے اسے بھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ، وہ پہلے ہی سب کچھ اپنی مٹھی میں کر رہی ہے ۔
معارج ؟؟؟
حمین نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلایا کیا سوچ رہی ہو ؟
جی ماما میں بھی جاؤں گی ، میں نہیں جاؤں گی ۔۔۔ اوہو
حمین کی ہنسی نکل گئی ، کدھر گم ہو ؟
ماما میں بھی جاؤں گی اگر حمین گیا تو۔
کیوں پہلے میرے ساتھ گئی تھی کیا ہاہاہا
اچھا کوئی بات نہیں میں اکیلی بھی جا سکتی ہوں مجھے کسی کا ڈر نہیں ہے،
ماما نے آ کر حمین کو ایک لگائی تم کیوں ہر وقت اسے ستاتے رہتے ہو ۔
معارج نے کہا چھوڑیں ماما میں آپ کے ساتھ جاؤں گی اور کچھ دن بابا پاس بھی رہ لوں گی۔
اچھا ٹھیک ہے رہ لینا، حمین نے مذاقاً شکر کہا۔
ماما نے جاتی دفعہ اسے چھیڑنے کے لیے کہہ دیا ٹھیک ہے بیٹا اکیلے رہ لینا عدن بھی پاکستان جا رہی ہے ،
حمین کے پیٹ میں گرہیں پڑ گئیں ، کیا وہ بھی جا رہی ہے ،
معارج نے کہا پھر میں نہیں جا رہی۔
ماما حا چکی تھیں ، معارج کا بھی موڈ بدل گیا،
یار اب تم نے ماما کو اوکے کہہ دیا ہے ، اب انکار کرنا اچھا نہیں لگتا۔
معارج چپ کر کے ناشتہ کرنے لگ گئی۔
حمین ناشتہ کر کے نیچے چلا گیا اور سیدھا عدن کے کمرے میں پہنچا،
عدن اسے دیکھ کر کھل اٹھی،
عدن کو بازؤوں میں بھرتے ہوئے حمین نے پوچھا تم پاکستان جا رہی ہو؟
نہیں تو، آپ کو کس نے کہا؟
اچھا مجھے لگا ماما ساتھ جا رہی ہو ،
نہیں میں ابھی پچھلے دنوں میں ہی تو آئی ہوں آپ کہتے ہیں تو چلی جاتی ہوں ۔
حمین نے اس کے بال کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے کہا میں تمہارے لیے رکا ہوا ہوں ،
عدن نے کہا تو آپ چلے جائیں ویسے بھی آپ کے پاس میرے لیے فرصت کہاں ہے ۔
حمین نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا سارا وقت تمہارا ہی ہے جاناں۔
عدن اس کے بازؤوں میں کسمسا گئی ۔
حمین نے باری باری اس کی دونوں آنکھیں چومیں ۔
کسی نے دروازے پہ دستک دی تو حمین پیچھے ہو گیا ،
عدن نے اسے چھیڑا یہ لو تمہاری کچھ لگتی آگئی ہاہاہا
دروازہ کھولا تو سامنے ماما تھیں ، حمین کو اندر دیکھ کر ماما نے کہا تمہیں کہیں چین نہیں ہے پہلے اوپر تھے اب نیچے پہنچ گئے ہاہاہا
ماما کیا کروں ڈبل جاب ہے ہاہاہا
بدتمیز ہی رہنا تم۔۔۔۔۔ عدن کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔
ماما آپ معارج کو ساتھ لے جائیں ،
کیوں ؟ میں عدن کو ساتھ لینے آئی ہوں ۔
جی ماما ٹھیک ہے میں آپ کے ساتھ چلوں گی،
حمین نے اسے آنکھیں بڑی کر کے دیکھا ،
ماما کہہ رہی ہیں میں انکار نہیں کر سکتی،
ماما نے کہا عدن بیٹا معارج ساتھ جا رہی ہے تم ادھر ہی رہ لو اس شیطان کا کوئی پتا نہیں ادھر نیا چاند نا چڑھا دے، ہمارے آتے آتے میری کوئی تیسری بہو نا ہمارا استقبال کر رہی ہو ہاہاہا
عدن نے کہا ماما خیر ہے اسے بھی پتا لگے ذمے داری پڑے گی تیسری اس کا خون چوسے گی پھر سکون سے رہے گا ہاہا
ماما آپ اجازت دیں چار چار کی لائن لگا دوں ،
ماما نے اسے گور کر دیکھا ، بس اب جتنا ہو گیا ہے کافی ہے اب ہمیں بھی کوئی خوشخبری دو ہم نے بس تمہارے ولیمے نہیں کھانے ۔
تینوں ہنستے رہے پھر حمین نے کہا ماما آپ اجازت دیں تو اسے ترکی گھما لاؤں بیچاری کا بچپن کا خواب تھا اور یہ کبھی پاکستان سے باہر بھی نہیں گئی،
حمینننننن کیا میں پاکستان سے باہر نہیں گئی، توبہ۔
ماما نے کہا اچھا تم دونوں چلے جانا مگر ایک ہفتے تک واپس بھی آجانا، ہم نے بھی پاکستان بس ایک ہفتے کے لیے ہی جانا ہے ۔
حمین نے عدن کو دیکھا جو اسے گور رہی تھی ، حمین ۔۔ اس نے کشن اٹھا کر مارا،
حمین نے کہا اچھا میں کچھ دیر میں آتا ہوں ،
کیوں کسی کی یاد آ رہی ہے یا اوپر والی کا ڈر ہے ہاہاہا
حمین ہنستے ہوئے باہر نکل گیا،
اوپر گیا تو معارج پیکنگ کر رہی تھی ، تم واقعی جا رہی ہو ؟
ہاں حمین جا رہی ہوں ، آپ آرام سے اس کے ساتھ رہنا،
اچھا یار منہ تو نا بناؤ نا،
نہیں میں اپنے دل سے کہہ رہی ہوں ، شاید میری وجہ سے آپ اسے وقت نہیں دیتے،
حمین نے اس کی بات کاٹی ، ایسا نہیں ہے گڑیا ، بس میں دونوں میں توازن رکھنا چاہتا ہوں ،
معارج چپ کر کے سنتی رہی،
دن ڈھل گیا، اگلے دن ان کی فلائیٹ تھی، حمین انہیں چھوڑنے ایئرپورٹ گیا مگر فلائٹ کو ذرا تاخیر ہو گئی اچانک معارج کی طبیعت بگڑنے لگ گئی،
ماما بھی پریشان ہو گئیں ، اس کے بابا نے کہا چلو گھر چلتے ہیں ہم بھی بعد میں پاکستان چلے جائیں گے ، معارج کا ٹمپریچر اچانک بڑھ کر پھر کم ہو گیا ، اسے الٹیاں آ رہی تھی ،
ماما آپ چلے جائیں میں بعد میں آجاؤں گی، اس نے زبردستی انہیں جانے کا کہہ دیا ،
حمین اسے لے کر ہسپتال گیا، اس کے ٹیسٹ وغیرہ ہوئے تو ڈاکٹر نے کہا اسے ٹائیفائڈ ہے، احتیاطی تدابیر اور ادویات لکھ کر اسے مکمل طور پر ریسٹ کرنے کا کہا،
حمین کی گاڑی باہر رکی تو عدن بھاگ کر دروازے تک آئی یہ تب سے بے چینی سے حمین کا انتظار کر رہی تھی ،
حمین نے معارج کو سہارا دیا اور اندر لایا،
کیا ہوا اسے؟ عدن بھی پریشان ہو گئی ،
کچھ نہیں بس ٹائیفائڈ کی علامات ہیں ، عدن نے بھی اسے سہارا دیا اور اپنے کمرے تک لے آئی،
معارج کو اپنی ہوش نہیں تھی، مگر اسے پتا لگ رہا تھا عدن نے اسے سہارا دیا ہے اور اپنے کمرے میں لے آئی ہے ،
حمین اور عدن باہر کھڑے باتیں کر رہے تھے جب معارج نے سنا عدن کہہ رہی تھی حمین اپنی کل کی فلائٹ کینسل کر دیں ہم ترکی پھر کبھی چلے جائیں گے فی الحال معارج کے پاس رہنا چاہیے ۔
معارج کے ذہن میں ایک لمحہ خیال آیا یہ حمین کی خوشنودی کے لیے ایسا کر رہی ہو گی مگر آنے والے دنوں میں اس کا یہ یہ خیال ختم ہونے والا تھا ۔
عدن نے جاگ جاگ کر دن رات اس کی تیمارداری کی،
معارج کو کچھ پتا نہیں لگتا تھا وہ کب سو جاتی کب جاگتی مگر عدن نے اس کی دوائیوں اور علاج کا پورا خیال رکھا، ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق اسے ہر طرح کی چیزیں بنا کر دیں ،
دو تین دن ایسے ہی گزر گئے ، معارج بہت کمزور ہو چکی تھی ، ماما کی بھی بار بار کالز آتیں ،
معارج اب کچھ بہتر ہو رہی تھی ، مگر اب اس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی یہ کس مٹی کی بنی ہوئی ہے ؟ میرے بار بار باتیں سنانے کے بعد بھی اس نے مجھے کبھی کچھ نہیں کہا، اور اب ایک بہن ایک ماں کی طرح اتنے دنوں سے میرا خیال رکھ رہی ہے،
عدن زیادہ تر اس کے پاس ہی بیٹھی رہتی اکثر راتوں کو بیٹھے بیٹھے اسے نیند آجاتی تو وہ کرسی کے ساتھ ہی ٹیک لگا کر سوجاتی مگر معارج کی ہلکی سی آواز سے بھی اٹھ کر اسے پوچھتی کچھ چاہیے ؟ عدن نے پانچ چھ دن ایسے ہی گزار دیے، اسے کھانا کھلانے ، دواؤں کے علاوہ باقی سارے کام، واشروم تک عدن خود لے کر جاتی رہی،
حمین بھی ساتھ ہی تھا مگر بابا کے پاکستان جانے کے بعد یہ سٹور پہ بھی چلا جاتا ادھر کا کام دیکھتا اور دن میں کئی مرتبہ کال کر کے معارج کا پوچھتا،
ساتویں دن معارج کی طبیعت کچھ مزید بہتر ہوئی اور وہ خود اٹھ کر چلنے پھرنے میں آسانی محسوس کر رہی تھی مگر کمزوری کی وجہ سے ابھی بھی اسے ریسٹ کرنا تھا،
عدن نے اسے سہارا دے کر اٹھایا ، معارج کونسے کپڑے نکالوں آج ؟
معارج اسے تکتی رہ گئی ، اور اس کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں ۔
آئی ایم سوری عدن میں نے ہمیشہ تمہارے ساتھ ناروا سلوک کیا،
عدن کے گلے لگ کر معارج رونے لگ گئی،
اوہو کیا ہو گیا معارج ، تم مجھے ہمیشہ سے بہت عزیز رہی ہو بس غلط فہمی ہو تو ہم کسی کے لیے کچھ بھی کریں اسے احساس نہیں ہوتا،
عدن نے ٹشو پیپر سے اس کا منہ صاف کیا،
معارج اس کے گلے لگی رہی، میں تمہارا ساری زندگی شکریہ ادا نہیں کر سکتی ، پہلے تم نے حمین کے لیے اتنا کچھ کیا اور اب میرے لیے، معارج کی آنکھوں سے آنسو نکل گئے ،
یہ میرا فرض ہے معارج ، تم چاہے کچھ بھی سمجھو مگر تم دونوں کا خیال رکھنا میری ذمے داری ہے،
وپسے تمہیں حمین کے بارے میں کیسے پتا لگا ؟
معارج نے ساری بات بتائی کیسے وہ حمین کے لیپ ٹاپ کی ہسٹری سے دواؤں کے بارے میں سرچ دیکھتی رہی اور پھر کچھ نساء کے ای میلز تھے، پھر پاکستان جا کر ساری بات پتا لگی،
ان دونوں کو خبر ہی نہیں تھی حمین کب آیا اور دروازے پہ کھڑا ہو کر ان کی باتیں سن رہا تھا ، اس نے بھی شکر ادا کیا کہ اب دونوں نارمل رہ سکیں گی ۔
حمین نے دروازے پہ دستک دی، اگر میری بد خوئیاں ختم ہو گئی ہیں تو میں اندر آجاؤں ،
دونوں چونک گئیں ، عدن نے اسے بیڈ پہ بٹھایا اور کہا آئیں اب آپ کی خبر لیتی ہوں ، معارج کی ہنسی نکل گئی، کتنے دن بعد اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی ، ہاتھ سے آنکھیں رگڑنے کے بعد معارج نے کہا اب میری طبیعت بہتر ہے آپ دونوں ترکی گھوم آؤ، ویسے بھی کل پرسوں ماما نے آجانا ہے،
عدن نے کہا نہیں ہم تمہیں ایسے چھوڑ کر نہیں جا سکتے، ترکی پھر کبھی چلے جائیں گے ۔
معارج آج خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی ، شاید اس کے زہن سے یہ بوجھ اتر چکا تھا جو وہ خود خیالی میں عدن کے بارے میں رکھتی تھی ۔
تینوں باہر صحن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ، عدن اسے دوائی کھلا رہی تھی ،
معارج نے کہا عدن میں تمہیں ایک بات کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گی، عدن کا ماتھا ٹھنکا ، اب کیا ہوا ؟
تم نے مجھے اپنی شادی پہ نہیں بلایا ،
تینوں ہنسنے لگ گئے ، معارج اب ہر گزرتے منٹ کے ساتھ بہتر ہو رہی تھی ،
حمین نے کہا آج شام پھر ڈاکٹر پاس جائیں گے ،
عدن اٹھی اور کمرے سے بریف کیس لے آئی جس میں وہ معارج کے لیے تحفے لے کر آئی تھی ،
باری باری کر کے اس نے ساری چیزیں نکالی، معارج کو گولڈ بریسلیٹ بہت پسند آیا، اس پہ معارج ہادی لکھا ہوا تھا ،
عدن بہت شکریہ یار۔۔۔۔۔
عدن نے اس کی بات کاٹ دی، شکریہ کی بات نہیں ہے ۔
تینوں نے ڈھیر ساری باتیں کی اور شام کے وقت ڈاکٹر پاس گئے ، چیک اپ کروایا ، رپورٹ نارمل تھی مگر ڈاکٹر نے اسے ابھی بھی احتیاط کرنے کا کہا،
باہر سے کھانا کھا کر تینوں گھر آئے تو معارج عدن کے کمرے میں چلی گئی اور جا کر بیڈ پہ بیٹھ گئی،
حمین کو اندر آتا دیکھ کر معارج نے کہا جناب آپ کا بیڈ روم اوپر ہے، عدن ہنسنے لگ گئی،
حمین نے کہا واہ تم دونوں کی بن گئی ہے تو اب میں سائیڈ پہ ۔۔۔۔
عدن نے کہا آپ دونوں ادھر سو جاؤ میں صوفے پہ سو جاؤں گی ، اتنا کہہ کر عدن صوفے پہ بیٹھ گئی اور وہ دونوں بھی آ کر صوفے پہ بیٹھ گئے ،
پھر عدن کے کمرے میں لگا ٹی وی آن کر کے وہ مووی دیکھنے لگ گئے ،
معارج نجانے کب حمین کے کندھے پہ سر رکھے سو چکی تھی ، عدن نے اسے سوتا دیکھ کر ٹی وی بند کیا اور کہا حمین آپ اس کے ساتھ سو جاؤ میں اوپر سو جاتی ہوں ،
عدن اٹھ کر چلی گئی ، حمین نے اسے اٹھا کر بیڈ پہ لٹایا اور اس کے چہرے سے بال پیچھے کر کے ماتھا چوما،
کچھ لمحے بعد معارج کی آنکھ کھلی ، حمین۔
جی گڑیا ؟
عدن کہاں ہے ؟
وہ تو اوپر کمرے میں جا کر سو چکی ہے ۔
اچھا میں بھی سونے لگی ہوں آپ جا کر اس کے ساتھ سو جائیں ۔
حمین نے مسکرا کر اسے دیکھا اور گڈ نائٹ کہہ کر اوپر چلا گیا ۔
کمرے کا دروازہ کھولا تو عدن جاگ رہی تھی ، تم سوئی نہیں ابھی ؟
نہیں بس نیند نہیں آرہی ، عدن اٹھ کر اس کے گلے لگ گئی۔
حمین ،
جی؟
عدن نے کہا کچھ نہیں ، اور اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی،
حمین نے اس کی گردن پہ بوسہ دیا، تو اس نے حمین کے گرد اپنے بازو مزید سخت کر دیے،
آج دونوں بہت پرسکون لگ رہے تھے ۔
صبح تینوں دیر سے جاگے،
حمین نیچے آیا تو معارج ناشتہ بنا رہی تھی ، اس نے جا کر معارج کو سلام کیا،
عدن اٹھ گئی؟
ہاں اٹھ گئی ہے اور ابھی نہا رہی ہے تم ناشتہ نا بناتی وہ خود بنا لیتی۔
کوئی بات نہیں حمین، اس کو اب آرام کرنے دو،
عدن نیچے آئی تو ناشتہ تیار تھا، معارج اسے گلے لگ کر بڑی گرمجوشی سے ملی،
تینوں ناشتے سے فارغ ہوئے تو حمین سٹور پہ چلا گیا ،
یہ دونوں بیٹھ کر چائے پی رہی تھیں جب دروازے پہ گھنٹی بجی،
عدن باہر گئی تو ماما پاپا آچکے تھے،
ماما نے اندر آ کر دیکھا تو معارج بھی نیچے ہی تھی، اس سے مل کر ماما کو ذرا سکون ملا میری بیٹی اب ٹھیک ہے ؟
جی ماما ،
زیادہ مسئلہ تو نہیں ہوا ؟
نہیں ماما عدن نے بہت خیال رکھا ہے ، عدن بھی اندر آچکی تھی،
ماشاءاللہ میری دونوں بیٹیاں چائے پی رہی ہیں ، پھر دونوں سے کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد ماما بھی سونے کے لیے کمرے میں چلی گئیں ۔
حمین گھر آیا تو ماما پاپا سے ملنے ان کے کمرے میں چلا گیا،
پاپا نے اسے گلے لگایا اور کہا آخرکار کامیاب ہو ہی گئے ۔
حمین نے کچھ نا سمجھتے ہوئے ماما کی طرف دیکھا، ماما نے کہا یہ جو باہر دونوں کو اکٹھا کر دیا ہے ہاہاہا
پھر کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد ماما نے کہا عدن کو اب ترکی گھما لاؤ،
تینوں صحن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ، حمین آپ دونوں نے ترکی کب جانا ہے ؟معارج نے پوچھا ۔
کیوں تم نے بھی ساتھ جانا ہے ؟
نہیں آپ ترکی جاؤ گے تو میں پاکستان چلی جاؤں گی نا۔
عدن نے کہا معارج تم بھی ساتھ آجاؤ،
نہیں یار تم دونوں کا پلان ہے میں اگلی دفعہ جاؤں گی ،
دو دن بعد یہ تینوں ایئرپورٹ پہ پہنچے ، معارج کی فلائٹ پاکستان کی تھی اور یہ دونوں ترکی کے لیے روانہ ہو رہے تھے ، عدن نے اسے ایک بار پھر کہا معارج تین چار دن پاکستان رہ کر تم بھی ترکی آجانا،
اچھا میرا دل کیا تو بتا دوں گی،
معارج انہیں اکیلے وقت گزارنے کے لیے سپیس دے رہی تھی ،
آخری دفعہ تینوں ملے اور اپنی اپنی منزل کی طرف چلے گئے ۔
معارج بابا کے گھر رہی اور اکثر عدن کو فون کرتی رہی ، عدن اور حمین ترکی ایک ہفتہ گزارنے کے بعد اٹلی چلے گئے ،
عالیہ اور فاطمہ نے بہت اچھا استقبال کیا،
فاطمہ کی ڈگری پوری ہو چکی تھی اور اس نے عدن سے اجازت لی میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں اور ادھر اپنا کلینک بناؤں گی،
عدن نے عالیہ سے کہا اس کے جانے کا بندوبست کر دینا اور کلینک فارمیسی کے لیے جتنے پیسے چاہیے اس کے اکاؤنٹ میں رکھوا دینا، فاطمہ کو تو جیسے دنیا جہان مل گیا ، اس نے عدن کے گلے لگ کر شکریہ کہا،
شکریہ تو ہمیں ادا کرنا چاہیے تمہارا فاطمہ۔
کچھ دن بعد معارج بھی واپس سعودی عرب آچکی تھی مگر وہ دونوں اٹلی گھوم رہے تھے ،
عدن جب واپس آئی تو امیدسے تھی،
ان کے گھر بہت خوشیوں کا سماں تھا، معارج ہر وقت اس کے آگے پیچھے گھومتی اور اس کی ہر چیز کا خیال رکھتی،
کبھی اس کی پسند کی چیز اور کبھی صحت بخش کھانے،
اففف یار تم نے مجھے موٹا کر دینا ہے ، معارج ،
معارج نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا موٹی آپ خود ہو رہی ہو ، عدن شرما گئی ۔
بالآخر وہ دن آہی گیا جس کا سب کو انتظار تھا،
ہر طرف سے مبارکباد کی آوازیں آرہی تھیں ، حمین نے معارج کے ہاتھوں سے اپنا بیٹا اٹھایا اور اس کی کانوں میں اذان دی، اسے گھٹی دینے کے بعد اس کا نام محمد سکندر حمین رکھا،
سکندر اسے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ، دو دن بعد عدن بھی ہسپتال سے گھر شفٹ ہو گئی،
رات کے وقت معارج اس کے کمرے سے مل کر گئی تو دروازے پہ ایک لمحہ رکی، عدن کو اپنا اٹلی والا خواب یاد آگیا، بالکل ہوبہو کمرہ ، سامنے حمین تھا اور اس کا بیٹا مگر اسے بس ایک بات کبھی نہیں بھولی کہ کمرے کے دروازے پہ کون تھی، معارج اسے دیکھ کر مسکرا کر چلی گئی ، حمین نے سکندر کی طرف دیکھا جو کھڑکی سے باہر چاند کو دیکھ رہا تھا اور اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں ،
عدن اور حمین دونوں سکندر کے پاس کھڑے ہو گئے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر کہا نہیں نہیں نہیں ، اور عدن نے کھڑکی بند کر دی، مگر سکندر کی آنکھوں سے ابھی بھی لالی نہیں گئی اور اس نے مسکرا کر دونوں ماں باپ کو دیکھا، حمین نے اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھا اور عدن بھی سوچ میں پڑ گئی اب دوبارہ اس کے لیے بھیڑیا مکاؤ فارمولا بنانا پڑے گا۔
ختم شد۔
کیسا لگا پھر ؟ آپ بتاؤ اس کا دوسرا پارٹ لکھنا چاہیے یا نہیں ؟
حمین سالار۔
05/12/2022
"ﯾﮧ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ۔۔۔۔ﺍﯾﺴﺎ ﭘﺘﺎ ﮨﮯﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔؟"
ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﮩﺮ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﮕﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔
"ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﻕ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ۔۔۔ﻧﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺟﻼﻝ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﮮ ﺻﺪﻕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯽ۔۔۔ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ، ﻭﻇﯿﻔﮯ، ﻣﻨﺘﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﮌﺍ۔۔۔ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ۔۔۔۔"
ﻭﮦ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔ﺳﺎﻻﺭ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﻧﺮﻡ ﮔﺮﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﭩﻨﮯ ﭘﺮ ﺩﮬﺮﺍ ﺗﮭﺎ۔۔۔
"ﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﮞ۔۔۔؟ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺻﺪﻕ ﺗﮭﺎ۔۔۔"
ﺳﺎﻻﺭ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔۔۔ﺍﺱ ﮐﯽ ﭨﮭﻮﮌﯼ ﺳﮯ ﭨﭙﮑﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﮔﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔۔۔ﺳﺎﻻﺭ ﻧﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﻣﺎﻣﮧ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔۔۔
"ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺳﻮﻧﭙﻨﮯ ﭘﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺎﻗﺪﺭﯼ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔ﻣﺠﮭﮯ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﺟﻼﻝ۔۔۔ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮩﯽ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﺪﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔ﻧﻮ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﺮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﺘﺎ ﺩﯼ۔۔۔ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﻻﺭ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﮐﻮ ﺳﻮﻧﭙﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮨﻮ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﻕ ﮨﮯ۔۔۔ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ
ﯾﮩﺎﮞ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺗﺎ۔۔۔ﺗﻢ ﻧﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔"
پیرِ کاملؐ
04/12/2022
کیا غضب کے الفاظ کہے اس نے جدائی کے وقت
ہم تم سے نفرت بھی نہیں کرتے پیار تو دور کی بات ہے
04/12/2022
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عدن صبح اٹھتے ہی ماما سے ملی اور کچن میں چلی گئی ، ماما صحن میں بیٹھی قرآن پاک پڑھ رہی تھیں ۔
عدن بیٹا، ماما کی آواز سے عدن پلٹی ۔
جی ماما،
بیٹا بھوک لگی ہے ؟
نہیں مجھے تو ابھی نہیں لگی پر باقی سب کے لیے تو ناشتہ بنانا ہے نا۔
بیٹا یہ جلدی نہیں اٹھتے ، اگر تمہیں بھوک لگی ہوئی ہے تو رکو میں ناشتہ بنا دیتی ہوں ، ویسے بھی تمہارے بھائی نے بھی آج دیر سے اٹھنا ہے ، حمین کا پتا نہیں اور باقی بھی اپنی مرضی سے ہی اٹھتے ہیں ،
اور بابا کہاں ہیں ؟
بابا جلدی ہی اٹھتے ہیں اور ناشتہ کر کے سٹور پہ چلے جاتے ہیں ، عدن ماما کے پاس ہی بیٹھ گئی۔ اور قرآن پاک کی تلاوت سننے لگ گئی۔
بیٹا تم اٹلی کتنے مہینے رہی ہو ؟
میں ادھر پانچ سات ماہ رہی ہوں ، عدن بمشکل مسکرائی ۔
ماما نے اس سے مزید نا پوچھا اور باتیں شروع کر لیں ، تمہیں حمین پہلے سے پسند تھا؟
جی ماما، یونیورسٹی سے ہی۔
اچھا اب تمہیں عجیب نہیں لگتا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور پھر بھی تم نے ہاں کر دی۔
ماما کوئی بات نہیں ، مجھے اگر یہ پچاس سال کی عمر میں بھی ملتا تو میں ہاں کر دیتی،
ماما نے اس کے چہرے پہ اطمینان بھری مسکراہٹ دیکھی،
ویسے آپ کو ایک بات بتاؤں ،
ہاں بیٹا بولو،
مجھے غلط نا سمجھیے گا کبھی ،
نہیں بیٹا کیسی باتیں کر رہی ہو ، تم میری بیٹی ہو اور اپنے بچوں کو کون غلط سمجھتا،
عدن نے اپنا سر ان کے کندھے پہ ٹکا دیا،
چلو اٹھو تمہیں ناشتہ بنا کر دوں، قرآن پاک ماما نے پہلے ہی بند کر دیا تھا اور باتیں کرتے کرتے انہیں بھی محسوس ہوا اسے بھوک لگی ہوئی ہے اور یہ صبح جلدی اٹھنے کی عادی ہے۔
کچن میں جا کر عدن چائے بنانے لگ گئی اور ماما نے اس کے لیے پراٹھا بنایا، آملیٹ کھاؤ گی ؟
ہاں جی ماما ساتھ اچار بھی ،
ماما کو پراٹھا بناتے دیکھ کر عدن نے پھر بات شروع کی، ماما مجھے معارج سے کوئی مسئلہ نہیں ہے پر پتا نہیں کیوں وہ مجھے بہت غلط سمجھتی ہے ،
کوئی بات نہیں بیٹا یہ فطرتی بات ہے کوئی بھی لڑکی یہ نہیں برداشت کر سکتی کہ اس کا شوہر کسی اور کو دیکھے بھی ۔
ماما ویسے اس کے سارے دوستوں نے بھی ہمیشہ کہا کہ عدن ٹھیک ہے ، عدن زیادہ اچھے سے ساتھ رہ سکتی، عدن ذرا شرمائی،
ہاہاہا بیٹا دوست بھی ایسے ہی کہتے ہیں کہ ان کے دوست کا دل نا ٹوٹے ویسے اب مجھے بھی یہی محسوس ہوا ہے کہ تم حمین کو زیادہ سمجھتی ہو،
عدن نے پلیٹ میں اچار نکالا اور پراٹھا آملیٹ رکھا،
اور کچھ لو گی بیٹا؟
نہیں ماما میں بس اتنا ہی کھاتی ہوں ،
میز پر بیٹھ کر ناشتہ کرتے ہوئے ماما نے عدن کو بغور دیکھا ، اتنی سادگی اور سعادت مندی اور صبر شاید ہی کسی اور میں دیکھا ہو مگر عدن میں یہ ساری چیزیں شامل تھیں ،
ماما نے باتوں میں اس سے پوچھا حمین خوش تو رکھتا ہے نا؟
جی ماما وہ بہت اچھا ہے کبھی کبھی تنگ کرتا ہے بس، باقی بہت اچھا ہے ۔
ہاہا ہاں بیٹا اس کی فطرت ایسی ہے مگر بہت خیال رکھنے والا ہے ۔
عدن نے ماما کی طرف دیکھا تو وہ اسے غور سے دیکھ رہی تھیں ،
ماما کوئی بات ہے ؟
نہیں بیٹا، بس تمہارے اچھے نصیب کی دعا کر رہی ہوں ،
عدن مسکرائی۔
عدن بیٹا۔۔۔۔
جی ماما؟
عدن نے نوالہ منہ میں ڈال کر ان کی طرف دیکھا ،
بیٹا تمہیں معلوم ہو گا کہ والدین کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کی اولاد کو بھی اپنے ہاتھوں میں کھیلتا اور پھلتا پھولتا دیکھیں ۔
جی ماما مجھے علم ہے ، ظاہر ہے اپنے بچوں کی اولاد زیادہ عزیز ہوتی ہے ۔
عدن ان کی بات سمجھ چکی تھی جو ان کا مطلب تھا،
کچھ لمحے خاموشی کے بعد عدن نے کہا ماما،
جی عدن بیٹا، کچھ اور چاہیے ؟
نہیں ماما بس، اور آپ بس دعا کریں آپ کی خواہش جلدی پوری ہو جائے ۔
کونسی خواہش بیٹا؟
عدن نے شرما کر سر نیچے کر لیا،
ماما نے پوچھا واقعی ؟
جی ماما ، عدن نے سر اٹھائے بغیر جواب دیا ، ماما نے آگے ہو کر اس کا سر چوما، تو کسی کے سیڑھیاں چڑھنے کی آواز آئی،
نیچے سے کوئی اوپر نہیں گیا تھا ہو سکتا ہے حمین اٹھا ہو، ماما نے کہا۔
مگر ان کا اندازہ غلط تھا،
معارج اٹھی ہوئی تھی اور اس نے انہیں ساتھ بیٹھا دیکھ کر سیڑھیوں سے ہی واپسی کی راہ لی،
اندر آ کر آگ بگولہ ہوتی معارج سیدھا جا کر بیڈ پہ لیٹ گئی،
حمین نے کروٹ بدلی اور اسے غصے میں دیکھ کر پوچھا کیا ہوا اب؟
کیا دیکھ لیا ہے صبح صبح ؟
ہمم وہی دیکھا ہے جو آپ نے لا کر میرے سر پہ مسلط کر دیا ہے حمین۔
حمین کو سمجھ آگئی یہ عدن کی بات کر رہی ہے ۔ مگر چپ رہا،
نیچے جا کر دیکھیں کیسے ماما کے ساتھ چپک کر بیٹھی ہے مہارانی اور ان سے پیار بٹور رہی ہے ۔
اوہو گڑیا تم ایسے کیوں سوچتی ہو؟
حمین آپ کو بس میں غلط لگتی ہوں ، پہلے آپ کو چھینا اس کے کلیجے میں ٹھنڈ نہیں پڑی اور اب مجھ سے ماما کو چھین رہی ہے ۔
گڑیا ایسی بات نہیں ہے اب ایک گھر میں ہی رہنا ہے تو ظاہر ہے اس نے سب سے ملنا ہے،
معارج کا ناک غصے سے لال ہو گیا ، حمین نے اس کے گرد بازو رکھ کر اسے پاس کرنا چاہا تو اس نے بازو جھٹک دیا،
حمین مجھے لگتا ہے یہ کسی کالے جادو کا سہارا لے رہی ہو ، ماما پہلے مجھے ناشتہ بنا کر دیتی تھیں اور اب وہ چڑیل نے ماما پہ بھی قبضہ جما لیا ہے ،
اوہو گڑیا اس کی عادت ایسی نہیں ہے ،
حمین آپ نے اس سے کرنا ہی تھا تو اسے اٹلی چھوڑ کر آتے یا پاکستان کم از کم اسے ادھر میرے گھر نا لاتے،
گڑیا یہ گھر اس کا بھی ہے نا جاناں،
آپ جائیں اس کے پاس ہی، میں اکیلی رہ لوں گی۔
اگر میں تمہارے ساتھ رہنا چاہوں تو؟
تو پھر اسے کہیں اور چھوڑ آئیں ۔ معارج نے تنفر سے کہا۔
اچھا چھوڑ آؤں گا ، تم فی الحال پہلے غصہ چھوڑو۔
وعدہ کریں حمین۔
حمین کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنی جلدی سیریس ہو جائے گی ، یہ بس اس کا دل بہلا رہا تھا ،
حمین نے اپنا سر اس کی گود میں رکھا، اور خاموش رہا،
آپ نہیں چھوڑ سکتے نا، ویسے بھی پاس رکھنے کے لیے اسے لائے ہیں کیسے کہیں اور رکھیں گے ۔
حمین نے اس کی طرف دیکھا تو وہ زخمی ناگن کی طرح پھنکار رہی تھی ۔
گڑیا اچھا اسے علیحدہ گھر لے دیتا ہوں بس۔
حمین آپ اسے اٹلی چھوڑ آئیں میں برداشت نہیں کر سکتی۔
اچھا تم نارمل رہو، اس کا میں کچھ کرتا ہوں گڑیا ۔
آپ نے جو کرنا تھا آپ کر چکے ہیں حمین، اب میں کروں گی۔
حمین کو اس کے بارے میں خدشات لاحق ہوئے، کہیں اسے یا اس کے بچے کو کبھی نقصان نا پہنچائے ، اس کا بھی اصلی امتحان اب شروع ہوا تھا ،
دوسری شادی کرنا بہت آسان ہے مگر معاملات میں توازن برقرار رکھنا بہت مشکل ہے اور کبھی کبھی ناممکنات میں سے ایک ہو جاتا ہے ، حمین بھی اسی مرحلے سے گزر رہا تھا ، مگر کسی اور سے اس بارے میں بات بہت نہیں کر سکتا تھا ویسے بھی سب نے پہلے سے ہی کہہ دیا تھا تمہاری خوشی اسی میں ہے ہم نہیں روکیں گے مگر بعد کے معاملات تم نے خود دیکھنے ہیں ۔
معارج ۔۔۔
جی حمین۔؟؟
تم جو کہو گی میں کروں گا مگر دوبارہ تمہارے منہ سے عدن کے لیے ایسے الفاظ نا نکلیں ، نا میں دوبارہ سنوں گا اور نا ہی اسے نقصان پہنچانے کا سوچنا ، وہ میری بیوی ہے اور مجھے عزیز ہے۔
معارج نے اس کے درشتی سے سنے یہ الفاظ اپنے اندر تک محسوس کیے بہت کچھ کہنا چاہنے کے باوجود بھی وہ خاموش رہی اسے پتا تھا اب کچھ بھی کہنا حمین کو ناراض کر سکتا ہے اور اس کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
حمین اٹھا اور نہانے چلا گیا ، معارج بھی اسے ایسا جاتے ہوئے دیکھتی رہی، خفگی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
نہا کر باہر نکلا تو معارج کپڑے نکال چکی تھی ، حمین کو۔کپڑے دے کر وہ خود نہانے چلی گئی ، حمین نے جب دیکھا کہ اب چلی گئی ہے تو جلدی سے نیچے آیا، صحن میں کوئی نہیں تھا، ماما اپنے کمرے میں تھیں ، بابا بھی سٹور پہ تھے ، بھائی بھابی ابھی سوئے نہیں اٹھے،
اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح یہ عدن کے کمرے تک آیا،
ویسے حمین تمہیں کس کا ڈر ہے ؟؟؟ خود سے سوچتا ہوا اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو عدن نے نظر اٹھائی ، اور چہکتی ہوئی آگے آ کر اس کے گلے لگ گئی ، حمین آپ اٹھ گئے ۔
ہاں جی عدن، کیسی ہو؟ حمین نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا ۔
میں بالکل ٹھیک آپ سنائیں ؟ اور میڈم کیسی ہے؟
میں تو ٹھیک ہوں پر میڈم زرا غصے میں ہے ہاہاہا
اففف میڈم نے شاید مجھے ماما کے ساتھ ناشتہ کرتے دیکھ لیا ہے ،
ہاں بتا رہی تھی ،
اوہ تو خبر پہنچ بھی گئی ،
ہاہاہا یار تم اس کی فکر نا کرنا کچھ دن لگیں گے پھر ٹھیک ہو جائے گی ۔
عدن نے اپنے بازؤں کا حصار مزید تنگ کیا،
حمین نے اس کا ماتھا چوما آج اس کا چہرہ کچھ زیادہ ہی چمک رہا تھا ،
پھر حمین کی نظر بیڈ پر پڑی تو اس کی شرٹ پہ عدن کچھ لگا کر رکھ رہی تھی ، یہ شرٹ ادھر ؟
جی میں صبح اوپر گئی تھی تو باہر یہ شرٹ لٹکی ہوئی دیکھی،
ہاں یار چائے گر گئی تھی ،
کوئی بات نہیں میں نے نمک اور لیموں لگایا ہے چائے کا داغ کچھ کم ہو گیا ہے باقی بھی ختم ہو جائے گا ۔
عدن نے پیچھے ہٹتے ہوئے اس سے پوچھا آپ کے لیے ناشتہ بناؤں ؟
ابھی نہیں اب میڈم ناشتہ بناتی ہے اگر تم نے بنایا تو سارا دن میرا سر کھائے گی۔
ہاہاہا کوئی بات نہیں حمین۔
حمین نے کہا اچھا میں اس کا پتا کر آؤں،
رکیں دو منٹ بیٹھیں ادھر،
کیوں کیا ہوا ؟
کچھ نہیں حمین آپ بیٹھیں ذرا، حمین بیٹھا تو عدن نے اس کے گیلے بالوں میں ایک دفعہ پھر تولیہ مارا اور ہیئر ڈریسز نکال کر بال خشک کیے،
حمین اب ٹھیک ہے ، اس نے پیچھے سے حمین کے گرد بازو حائل کیے اور سر پہ چوما،
شکریہ عدن ۔
شکریہ کیوں یہ میرا فرض ہے ۔
عدن کے پیچھے ہٹنے کے بعد حمین اوپر گیا تو معارج ابھی تک باہر نہیں نکلی تھی۔
حمین بیڈ پہ بیٹھا موبائل چلا رہا تھا ، معارج نے باہر نکلتے ہی ایک لمحے میں محسوس کر لیا کہ یہ نیچے گیا تھا ،
حمین آپ کے بال اتنی جلدی کیسے خشک ہو گئے ؟
ہیئر ڈرائیر سے گڑیا ۔
مگر آپ نے تو چلایا ہی نہیں ، ورنہ آواز آجاتی۔
گڑیا تم اندر جا کر بھی کان باہر رکھتی ہو ، توبہ ۔
حمین اب بنیں مت، مل آئیں اسے۔
افف ہاں مل آیا ہوں اور کچھ ؟
معارج خاموش ہو گئی اور اپنے بال خشک کر کے ناشتہ بنانے چلی گئی ۔
حمین بھی اٹھ کر نیچے آگیا، اور دیکھا عدن کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور وہ صفائی کر رہی تھی ،
معارج اسے نظر انداز کرتے ہوئے کچن میں چلی گئی ،
حمین صحن میں بیٹھا دونوں کے موڈ دیکھتا رہا، یا اللہ اگر میں پوری چار کر لوں تو کیا ہو گا؟ اس نے خود کلامی کی ،
بھائی کو کمرے سے نکلتا دیکھ کر حمین نے بھائی سے سلام لی،
بھابھی بھی کچن میں چلی گئی ،
ہاں جی کیا سوچ رہے ہو ؟
کچھ نہیں بھائی ۔
چار کا نا سوچنا فی الحال دو کو سنبھالو ہاہاہا
بھائی آپ بھی دوسرا کر لو، حمین نے بھی جواباً بھائی کو چھیڑا ۔
ہاہاہا نا نا دو تمہیں ہی مبارک ، میں ایک کو سنبھال رہا ہوں کافی ہے ۔
بھابی نے دونوں کو باتیں کرتا دیکھا تو کچن سے آواز لگائی ، حمین بڑے بھائی کو کوئی الٹا مشورہ نا دینا،
یہ دونوں ہنسنے لگ گئے ۔
ناشتہ لے کر معارج میز تک آئی تو عدن بھی باہر نکل رہی تھی ، معارج نے اسے دیکھ کر ناک بھوں چڑھائی اور ناشتہ کرنے لگ گئی ،
عدن نے اپنا کام کیا اور بھابھی سے مل کر پھر کمرے میں چلی گئی ،
بھائی کو ناشتہ دے کر بھابی عدن کے کمرے میں گئی اور کہا عدن میرے ساتھ مارکیٹ جاؤ گی ؟ مجھے کچھ سامان چاہیے ، عدن نے ہاں میں سر ہلا دیا،
اوکے عدن شام ٹائم جائیں گے ۔
باہر نکلی تو معارج کی ایک نظر ادھر ہی تھی ، بھابی نے نظر انداز کیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
بھائی کے جانے کے بعد معارج نے پھر سے اپنا پنڈورا کھولا، حمین دیکھا وہ سوغات کیسے بھابھی کو بھی اپنی مٹھی میں کر رہی ہے ،
اوہ خدایا، معارج تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟
معارج چپ کر کے ناشتہ کر کے اوپر چلی گئی ۔
بھابھی باہر آئی اور برتن اٹھائے ،
حمین شام کو کیا کھانا ہے اپنی پسند بتا دو۔
بھابھی میں مٹر قیمہ کھاؤں گا۔
اچھا جی فرمائشیں ہاہاہا
ہاں جی آپ نے پوچھا تو میں نے بتا دیا ہاہاہا
عدن باہر نکلی اور بھابھی سے باتیں کرنے لگ گئی،
عدن نے فریزر سے مٹر نکالے اور ٹوکری لا کر میز پہ رکھی،
حمین ساتھ ہی مٹر نکال رہا تھا جب معارج اوپر سے آئی اور اسے مٹر چھیلتے دیکھ کر کہا، حمین صاحب اگر رن مریدی سے فرصت ملے تو مجھے مارکیٹ لے جائیں ورنہ خود چلی جاتی ہوں ،
حمین اور بھابھی نے زبردستی ہنسی روکی، معارج کے باہر جانے کے بعد یہ دونوں بہت ہنسے،
حمین اٹھنے لگا تو عدن نے سرگوشی کی ویسے حمین صاحب یہ گھر کا کام تھا شوہر کرتے ہیں ساتھ اصل رن مریدی پارلر میں بھی لے کر جانا ہے ، تینوں نے قہقہہ لگایا،
حمین نے شکر کیا کہ یہ بات معارج نے نہیں سنی ورنہ ہنگامہ کھڑا کر دیتی۔
بھابھی اب آ کر عدن کے ساتھ بیٹھ گئی اور مٹر چھیلنے لگی،
جاؤ حمین ورنہ میڈم پھر آجائے گی ہاہاہا
عدن نے بھی لقمہ دیا، ہاں جی بھابھی حمین صاحب میڈم سے ڈرتے ہیں ہاہاہا
حمین نے کہا کونسا ڈر یار؟
اچھا نہیں ڈرتے تو دس منٹ ادھر ہی رکے رہو،
حمین نے کہا بس بس کیوں بھری جوانی میں میرا مقبرہ بنوانا ہے ہاہاہا اتنا کہہ کر حمین باہر چلا گیا ،
تین منٹ ، حمین تین منٹ بعد آپ آئے ہیں ، کیا تھا اندر ؟
کچھ نہیں یار بھابھی سے بات کر رہا تھا ،
میں سب سمجھتی ہوں حمین ، بھابھی سے جو بات کی ہو گی مجھے پتا ہے، اسی سے اجازت لے رہے ہو گے نا۔
اوہو اجازت کیسی یار میں کونسا اس کا پاپند ہوں ،
اچھا پھر دو دن آپ مجھے نیچے نظر نا آئیں ۔
حمین نے آسمان کی طرف دیکھا ، پھر معارج کی طرف دیکھا ،
کیا ہوا ؟ ڈر گئے نا، آپ نے سارا دن نیچے ہی رہنا ہے کیسے ملازموں کی طرح اس کے ساتھ کام کروا رہے تھے ہنہ
یار گھر کا کام ہے ،
اچھا بس بس مزید اس کی وکالت نا کریں ،
دونوں چلے گئے ، عدن انہیں جاتا دیکھ کر اپنے کمرے میں آگئی،
اور اپنی ڈائری میں ایک تحریر لکھی۔
وہ کافی پہ مرتا تھا
اور میں چائے پیتی تھی
اسے شور اور کلب پسند تھے
مجھے لائبریریاں اور پرسکون سڑکیں
خاموش لوگ مرے ہوئے لگتے تھے اسے
مجھے خاموش لوگ پسند تھے
وہ مستنصرحسین تارڑ کو پڑھتا تھا
میں اشفاق احمد کو
اسے وارث شاہ کی شاعری پسند تھی
اور مجھے خواجہ فرید ؒ کی
وہ استنبول دیکھنا چاہتا تھا ،
میں جلال آباد جانا چاہتی تھی
اسے روای کے کنارے چاند اچھا لگتا تھا
میں ستلج کے کنارے بیٹھ کر ڈوبتا سورج دیکھنا چاہتی تھی
اس کی باتوں میں مہنگے شہر تھے
اور میری باتوں میں سمرقند, بغداد , دمشق, قاہرہ
نہ میں نے اسے بدلنا چاہا نہ اس نے مجھے
ایک عرصہ ہوا دونوں کو جدا ہوئے
کچھ دن پہلے پتہ چلا ،
وہ اب پرسکون رہنے لگا ہے،
ستلج بھی دیکھ آیا یے
اشفاق احمد کو پڑھنے لگا ہے
آدھی رات کو اچانک سے اس کا دل اب چائے پینے کو کرتا ہے!
اور میں....
میں بھی اب اکثر کافی پی لیتی ہوں
مستنصرحسین تارڑ کو پڑھنے لگی ہوں
استنبول بھی اچھا لگنے لگا ہے۔
حمین نے دو دن پہلے ہی اسے ترکی گھمانے کا وعدہ کیا تھا ، اسے دنیا میں زیادہ چیزیں اپنی طرف نہیں کھینچتی جیسے عام لوگوں کو کشش پڑتی ہے ، اب حمین واقعی بدل چکا تھا اور پہلے سے پرسکون تھا۔
عدن نے اس کے لیے دائمی سکون کی دعا کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر بھائیو کس کس کا دل ہے دوسری شادی کا؟ اور لڑکیاں بھی بتا دو اپنے ان کو اجازت دے دو گی؟
حمین سالار۔