22/06/2026
پاکستان کا سب سے بڑا برین ڈرین
تحریر۔۔۔ ایس۔اے
قوموں کی تاریخ میں بعض نقصان ایسے ہوتے ہیں جن کی آواز نہیں ہوتی۔ نہ دھماکہ سنائی دیتا ہے، نہ دھواں اٹھتا ہے، نہ سرکاری عمارتیں گرتی ہیں، مگر اس کے باوجود ملک کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت ایسے ہی ایک خاموش بحران سے گزر رہا ہے۔ یہ بحران نہ بجلی کا ہے، نہ گیس کا، نہ زرمبادلہ کا۔ یہ بحران ذہنوں کے انخلا کا ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا برین ڈرین۔
کسی زمانے میں لوگ بہتر روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جاتے تھے۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ اب صرف مزدور نہیں جا رہے، بلکہ ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، محققین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی ملک چھوڑنے کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
یہ صرف ہجرت نہیں، قومی سرمایہ کاری کا اخراج ہے۔
ریاست ایک بچے کی تعلیم پر سالہا سال وسائل خرچ کرتی ہے۔ ایک ڈاکٹر کو تیار کرنے میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کے مساوی قومی وسائل صرف ہوتے ہیں۔ ایک انجینئر، ایک سائنس دان یا ایک ماہرِ تعلیم کی تیاری کے پیچھے پورا تعلیمی نظام کام کرتا ہے۔ لیکن جب یہی افراد اپنی صلاحیتوں کا ثمر کسی دوسرے ملک کو دینے لگیں تو نقصان صرف ایک فرد کے جانے کا نہیں ہوتا، پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔
آخر لوگ جا کیوں رہے ہیں؟
سرکاری بیانات اکثر معاشی مواقع کی کمی کو وجہ قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
پاکستان چھوڑنے والے اکثر نوجوان صرف زیادہ تنخواہ کی تلاش میں نہیں ہوتے۔ وہ پیشہ ورانہ احترام، میرٹ، ادارہ جاتی استحکام، تحقیق کے مواقع، قانونی تحفظ اور ایک قابلِ پیش گوئی مستقبل کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
ایک نوجوان انجینئر جب دیکھتا ہے کہ اس کی قابلیت سے زیادہ سفارش کی اہمیت ہے، ایک ڈاکٹر جب محسوس کرتا ہے کہ اس کی محنت کے باوجود بنیادی سہولتیں میسر نہیں، ایک محقق جب فنڈنگ اور تحقیقی ماحول سے محروم رہتا ہے، تو اس کے سامنے بیرون ملک کے دروازے زیادہ کشادہ دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں مسئلہ صرف تنخواہ کا نہیں، ماحول کا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے قدرتی وسائل سے زیادہ انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کی۔ جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور کئی یورپی ممالک کی اصل طاقت تیل، گیس یا سونا نہیں، بلکہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افرادی قوت ہے۔
پاکستان بدقسمتی سے الٹا سفر کر رہا ہے۔
ہم اپنے ذہین ترین افراد کو تیار کرتے ہیں اور پھر انہیں برقرار رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس ڈاکٹر کو پاکستان کے ہسپتالوں میں خدمات انجام دینی تھیں، وہ برطانیہ یا آسٹریلیا میں مریض دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جس انجینئر کو پاکستان کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا تھا، وہ خلیجی ممالک کے منصوبوں پر کام کر رہا ہوتا ہے۔ جس آئی ٹی ماہر کو ملکی معیشت میں جدت لانی تھی، وہ کسی غیر ملکی کمپنی کے لیے کوڈ لکھ رہا ہوتا ہے۔
اس کا ایک اور پہلو بھی ہے جس پر کم بات ہوتی ہے۔
برین ڈرین صرف ان لوگوں کا نہیں جو ملک سے چلے جاتے ہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ "اندرونی برین ڈرین" ہے۔
وہ نوجوان جو جسمانی طور پر پاکستان میں موجود ہیں مگر ذہنی طور پر اس ملک کے مستقبل سے مایوس ہو چکے ہیں۔
وہ کام تو یہاں کرتے ہیں، مگر ان کی تمام منصوبہ بندی، خواب اور امیدیں پاکستان سے باہر وابستہ ہوتی ہیں۔
یہ کیفیت کسی بھی قوم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔
کیونکہ قومیں صرف آبادی سے نہیں بنتیں، امید سے بنتی ہیں۔
اگر ایک ملک اپنے قابل ترین افراد کو یہ یقین نہ دلا سکے کہ ان کا مستقبل یہاں محفوظ ہے، تو پھر ہوائی اڈوں پر مسافروں کی قطاریں دراصل قومی ناکامی کی قطاریں بن جاتی ہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اکثر اس مسئلے کو صرف ترسیلاتِ زر کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اربوں ڈالر بھیج رہے ہیں۔ یقیناً یہ قومی معیشت کے لیے اہم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہی ذہن، یہی صلاحیتیں اور یہی توانائیاں پاکستان کے اندر استعمال ہوتیں تو ان کی مجموعی قدر کتنی زیادہ ہوتی؟
ایک قوم ہمیشہ اپنے بہترین دماغ برآمد کر کے ترقی نہیں کر سکتی۔
بالآخر اسے اپنے لیے بھی کچھ بچانا پڑتا ہے۔
پاکستان کے سامنے اصل چیلنج صرف نوجوانوں کو ملک میں روکنا نہیں، بلکہ انہیں یہ یقین دلانا ہے کہ ان کی محنت، قابلیت اور خوابوں کی یہاں قدر ہے۔ میرٹ، قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی استحکام، معیاری تعلیم، تحقیقی مواقع اور معاشی استحکام صرف پالیسی کے موضوعات نہیں، بلکہ برین ڈرین روکنے کے بنیادی ہتھیار ہیں۔
ورنہ ہم یونیورسٹیاں تو بناتے رہیں گے، ڈگریاں بھی بانٹتے رہیں گے، لیکن ان ڈگریوں کا فائدہ دوسرے ممالک اٹھاتے رہیں گے۔
اور شاید یہی پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
ہمیں خوف اس بات کا نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے لوگ جا رہے ہیں۔
ہمیں خوف اس بات کا ہونا چاہیے کہ جو جا رہے ہیں، ان میں ہمارے بہترین لوگ شامل ہیں۔
اور کوئی بھی قوم اپنے بہترین دماغوں کو مسلسل کھو کر عظیم نہیں بن سکتی۔
ایس۔ اے
20/06/2026
زندگی میں ہر کامیاب انسان نے غلطیاں کیں، رکاوٹوں کا سامنا کیا اور کئی بار ناکامی بھی دیکھی۔ لیکن وہ اس لیے کامیاب ہوا کیونکہ اس نے کوشش کرنا نہیں چھوڑا۔
کوشش کرنے والا انسان اگر آج کامیاب نہ بھی ہو تو وہ تجربہ، سیکھنے اور بہتر ہونے کا موقع ضرور حاصل کر لیتا ہے۔ اصل نقصان اس شخص کا ہوتا ہے جو خوف، سستی یا بہانوں کی وجہ سے قدم ہی نہیں اٹھاتا، کیونکہ وہ نہ کامیابی حاصل کرتا ہے اور نہ ہی کچھ سیکھ پاتا ہے۔
ایک ناکام کوشش آپ کو منزل کے قریب لے جاتی ہے، جبکہ کوشش نہ کرنا آپ کو وہیں کھڑا رکھتا ہے جہاں آپ آج ہیں۔
19/06/2026
سستا پیٹرول یا مہنگا دھوکہ؟
تحریر۔۔۔ ایس۔ اے
پاکستان میں ایک عجیب روایت ہے۔ حکومت پہلے عوام کی جیب سے سو روپے نکالتی ہے، پھر ان میں سے دس یا بیس روپے واپس کر کے خود کو عوام کا خیرخواہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات عوام بھی اسی معمولی رعایت پر خوش ہو جاتی ہے، گویا اس کے ساتھ کوئی بہت بڑا احسان کر دیا گیا ہو۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان ہوا۔ ٹی وی چینلوں نے خصوصی نشریات چلائیں، حکومتی ترجمانوں نے کامیابی کے ترانے گائے، اور سوشل میڈیا پر ایسے تاثرات سامنے آنے لگے جیسے ملک میں معاشی انقلاب آ گیا ہو۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟
کسی بھی معاملے کو سمجھنے کے لیے صرف آج کی قیمت نہیں دیکھی جاتی، پورا سفر دیکھا جاتا ہے۔
اگر ایک شخص آپ کی جیب سے ایک سو روپے نکال لے اور چند دن بعد تیس روپے واپس کر دے، تو کیا آپ اسے سخی انسان کہیں گے؟ کیا آپ اس کے حق میں قصیدے لکھیں گے؟ یا پھر یہ سوال پوچھیں گے کہ باقی ستر روپے کہاں گئے؟
معیشت میں بھی اصول یہی ہوتا ہے۔
اگر کسی حکومت کے دور میں پیٹرول کی قیمت مسلسل بڑھتی رہے، ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جائے، اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، بجلی اور گیس کے بل عام آدمی کی برداشت سے باہر ہو جائیں، اور پھر چند روپے کی کمی کو تاریخی کامیابی بنا کر پیش کیا جائے، تو عوام کو تالیاں بجانے کے بجائے حساب مانگنا چاہیے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ قیمت کتنی کم ہوئی۔
اصل سوال یہ ہے کہ قیمت پہلے کتنی بڑھائی گئی تھی؟
پاکستان میں پیٹرول صرف گاڑی چلانے کا ایندھن نہیں۔ یہ پورے معاشی نظام کا خون ہے۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی والے متاثر نہیں ہوتے۔ سبزی مہنگی ہوتی ہے، آٹا مہنگا ہوتا ہے، دوائی مہنگی ہوتی ہے، سکول کی فیس کا بوجھ بڑھتا ہے اور روزگار کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسی لیے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ چند روپے کی کمی سے وہ تمام نقصانات ختم نہیں ہو جاتے جو مسلسل اضافوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہوں۔
اس سارے معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔
جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو دنیا کے بہت سے ممالک میں اس کا فائدہ براہِ راست صارفین تک پہنچتا ہے۔ پاکستان میں اکثر عوام یہ سوال کرتی ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں نمایاں کمی آ رہی ہے تو اس کا مکمل اثر مقامی مارکیٹ میں کیوں نظر نہیں آتا؟
یہ ایک جائز سوال ہے۔
کیونکہ کسی بھی حکومت کا کام صرف قیمتوں کے اعلانات کرنا نہیں بلکہ عوام کو اعتماد کے ساتھ یہ بتانا بھی ہے کہ قیمتوں کا تعین کن بنیادوں پر کیا جا رہا ہے، کتنے ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں اور عالمی منڈی کی کمی کا کتنا فائدہ شہریوں تک منتقل ہو رہا ہے۔
شفافیت اعتماد پیدا کرتی ہے، جبکہ مبالغہ آرائی شکوک پیدا کرتی ہے۔
مسئلہ صرف پیٹرول کا نہیں، سوچ کا ہے۔
ہمارے ہاں حکومتیں اکثر اعداد و شمار سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر مہنگائی کی رفتار کم ہو جائے تو اسے مہنگائی کا خاتمہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر کسی شے کی قیمت میں معمولی کمی ہو جائے تو اسے عوامی ریلیف کا نام دے دیا جاتا ہے۔
حالانکہ عوام اپنی زندگی اعداد و شمار سے نہیں، بازار سے ناپتی ہے۔
ایک مزدور کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ پریس کانفرنس میں کیا کہا گیا۔ اسے یہ دیکھنا ہے کہ آج وہ اپنے بچوں کے لیے کتنا راشن خرید سکتا ہے۔ ایک تنخواہ دار طبقہ یہ نہیں دیکھتا کہ سرکاری بیان کیا ہے، وہ یہ دیکھتا ہے کہ مہینے کے آخر میں جیب میں کیا بچا ہے۔
اور یہی وہ پیمانہ ہے جس پر ہر معاشی دعوے کو پرکھا جانا چاہیے۔
حکومتیں تعریف کی مستحق اس وقت بنتی ہیں جب وہ لوگوں کی زندگی آسان بنائیں، نہ کہ اس وقت جب وہ پہلے مشکلات پیدا کریں اور پھر انہی مشکلات میں معمولی کمی کو کارنامہ قرار دیں۔
جمہوریت میں عوام کا کردار تالیاں بجانا نہیں، سوال کرنا ہوتا ہے۔
اس لیے جب بھی کوئی حکومت قیمتوں میں کمی کا اعلان کرے تو خوشی ضرور منائیں، لیکن ساتھ یہ سوال بھی پوچھیں کہ یہ کمی کس سفر کے بعد آئی ہے؟ عوام کو مجموعی طور پر کیا ملا ہے؟ اور کیا آج کا شہری واقعی کل سے بہتر حالت میں ہے؟
کیونکہ بعض اوقات مسئلہ مہنگا پیٹرول نہیں ہوتا، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ قوم کو قیمت کے بجائے رعایت کا جشن منانے کی عادت ڈال دی جاتی ہے۔
اور جو قومیں رعایت کو حق سمجھنے لگیں، وہ آہستہ آہستہ حساب مانگنا چھوڑ دیتی ہیں۔
ایس۔ اے
18/06/2026
پاکستان میں اختیار کا نشہ
تحریر۔۔۔۔ ایس۔ اے
دنیا میں نشے بہت ہیں۔ کوئی دولت کے نشے میں مبتلا ہوتا ہے، کوئی شہرت کے، کوئی اقتدار کے۔ لیکن ایک نشہ ایسا بھی ہے جو شراب کی بوتل میں نہیں ملتا، نہ کسی بازار میں فروخت ہوتا ہے، مگر اس کی تباہ کاریاں بعض اوقات ہر دوسرے نشے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ یہ نشہ ہے "اختیار کا نشہ"۔
پاکستان شاید ان ممالک میں شامل ہے جہاں اختیار کو ذمہ داری سے زیادہ برتری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یہ بیماری صرف ایوانوں تک محدود نہیں۔ اس کی جڑیں تھانے کے دروازے سے لے کر سرکاری دفتر کی کھڑکی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ایک معمولی اہلکار کو چند اختیارات مل جائیں تو اس کے لہجے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ ایک کلرک کے پاس فائل روکنے کی طاقت آ جائے تو وہ خود کو نظام کا محور سمجھنے لگتا ہے۔ ایک افسر کو سرکاری گاڑی مل جائے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ریاست نے اسے عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ عوام پر حکمرانی کے لیے منتخب کیا ہو۔
یہ رویہ محض انفرادی خرابی نہیں، ایک اجتماعی ذہنیت کا عکس ہے۔
ترقی یافتہ معاشروں میں سرکاری عہدہ خدمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ وہاں وزیر دفتر میں داخل ہو تو لوگ اسے عوام کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر سرکاری عہدہ ایک ایسی سماجی حیثیت بن جاتا ہے جس کا مقصد عوام سے فاصلہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ گاڑیوں کے قافلے، پروٹوکول، خصوصی راستے، خصوصی سہولتیں اور خصوصی مراعات گویا یہ پیغام دیتی ہیں کہ ریاست اور عوام دو الگ مخلوق ہیں۔
حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
جمہوری اصول کے مطابق ریاست کا ہر ملازم عوام کا خادم ہے۔ اس کی تنخواہ خزانے سے نہیں، عوام کی جیب سے ادا ہوتی ہے۔ اس کی گاڑی، دفتر، ایندھن اور سہولتوں کا خرچ انہی لوگوں کے ٹیکسوں سے پورا ہوتا ہے جو گرمی میں قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں، بجلی کے بل ادا کرتے ہیں اور مہنگائی کا بوجھ برداشت کرتے ہیں۔
مگر ہمارے ہاں ایک عجیب الٹ پھیر ہو چکی ہے۔
مالک صفائی پیش کرتا ہے اور ملازم باز پرس کرتا ہے۔
شہری درخواست گزار بن جاتا ہے اور سرکاری اہلکار منصف۔
یہی وہ ذہنیت ہے جو اختیار کو خدمت کے بجائے حاکمیت میں تبدیل کر دیتی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑی سلطنتیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی غرور سے زیادہ تباہ ہوئی ہیں۔ جب حکمران طبقے نے خود کو عوام سے بالاتر سمجھنا شروع کیا تو ریاستوں کی بنیادیں کمزور ہونے لگیں۔ روم سے لے کر سوویت یونین تک، ہر نظام نے کسی نہ کسی مرحلے پر یہی غلطی کی کہ اس نے طاقت کو احتساب سے آزاد سمجھ لیا۔
پاکستان کا مسئلہ بھی یہی ہے۔
ہمارے اداروں میں بہت سے قابل، دیانت دار اور فرض شناس لوگ موجود ہیں، لیکن نظام کا عمومی تاثر کچھ اور بن چکا ہے۔ عام آدمی جب کسی دفتر میں داخل ہوتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک میں کسی اجنبی طاقت کے سامنے کھڑا ہے۔ اسے حق نہیں مانگنا، منت کرنی ہے۔ اسے خدمت نہیں ملنی، احسان برداشت کرنا ہے۔
یہ احساس کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔
اختیار بذاتِ خود مسئلہ نہیں ہوتا۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختیار کے ساتھ جواب دہی ختم ہو جائے۔ جب فیصلہ کرنے والا خود کو سوال سے بالاتر سمجھنے لگے۔ جب عہدہ کردار سے بڑا ہو جائے۔ جب قانون دوسروں کے لیے ہو اور سہولتیں اپنے لیے۔
اسی لمحے اختیار خدمت سے نکل کر نشہ بن جاتا ہے۔
اور ہر نشے کی طرح اس کے اثرات بھی حقیقت کا ادراک ختم کر دیتے ہیں۔
اختیار کے نشے میں مبتلا شخص یہ بھول جاتا ہے کہ عہدے مستقل نہیں ہوتے۔ سرکاری مہریں، سرکاری گاڑیاں اور سرکاری دفاتر ہمیشہ کسی ایک فرد کے پاس نہیں رہتے۔ تاریخ کی الماری ایسے ناموں سے بھری پڑی ہے جو کبھی طاقت کے مرکز تھے اور آج صرف کتابوں کے چند صفحات میں باقی ہیں۔
لیکن عوام باقی رہتے ہیں۔
ریاست باقی رہتی ہے۔
ملک باقی رہتا ہے۔
اس لیے کسی بھی نظام کی کامیابی کا راز طاقت کے ارتکاز میں نہیں بلکہ طاقت کی جواب دہی میں ہوتا ہے۔
پاکستان کو شاید آج نئے نعروں سے زیادہ ایک نئے رویے کی ضرورت ہے۔ ایسا رویہ جس میں سرکاری عہدہ اعزاز نہیں، امانت سمجھا جائے۔ جس میں شہری کو رعایا نہیں، مالک تصور کیا جائے۔ جس میں دفتر عوام کے لیے کھلیں، عوام دفاتر کے رحم و کرم پر نہ ہوں۔
کیونکہ جس معاشرے میں اختیار خدمت کے بجائے برتری کی علامت بن جائے، وہاں فاصلے بڑھتے ہیں، ناراضگیاں جنم لیتی ہیں اور اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔
اور ریاستوں کی طاقت اسلحے، عمارتوں یا اختیارات میں نہیں ہوتی؛ ان کی اصل طاقت اس یقین میں ہوتی ہے کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھا شخص خود کو حاکم نہیں، خادم سمجھتا ہے۔
ایس۔ اے
16/06/2026
پاکستانی عوام انسان نہیں ہیں؟
تحریر۔۔۔۔ ایس۔ اے
ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے پلوں، سڑکوں یا بلند عمارتوں سے نہیں ہوتی۔ اس کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں انسانی جان کی قیمت کیا ہے۔
کیا ایک غریب آدمی کی جان اتنی ہی قیمتی ہے جتنی ایک امیر کی؟
کیا ایک عام شہری کا خون بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی بااثر شخص کا؟
کیا ریاست اپنے تمام شہریوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہے؟
یہ سوالات اس وقت اور زیادہ اہم ہو جاتے ہیں جب ہم اپنے اردگرد پیش آنے والے بعض واقعات کو دیکھتے ہیں۔
چند روز قبل ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں ایک آسٹریلوی شہریت رکھنے والے خاندان کو نشانہ بنایا گیا اور ایک معصوم بچی جان سے محروم ہو گئی۔ اس واقعے نے فطری طور پر شدید ردعمل پیدا کیا۔ میڈیا نے اسے نمایاں جگہ دی، حکام نے وضاحتیں پیش کیں، معذرت کی گئی، اور اعلیٰ سطح پر متاثرہ خاندان سے رابطہ بھی کیا گیا۔
یہ سب ہونا چاہیے تھا۔
ہر معصوم جان قیمتی ہے۔ ہر متاثرہ خاندان ہمدردی اور انصاف کا حق دار ہے۔
مگر اسی مقام پر ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔
اگر یہی احترام، یہی حساسیت اور یہی جواب دہی ہر پاکستانی شہری کے لیے بھی نظر آئے تو کیا ہمارا معاشرہ مختلف نہ ہو جائے؟
پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ماورائے عدالت ہلاکتوں، غلط شناخت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور متنازع کارروائیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض مقدمات عدالتوں تک بھی پہنچے، بعض میڈیا میں زیرِ بحث آئے اور بہت سے واقعات خاموشی کے اندھیرے میں گم ہو گئے۔
ہر الزام درست نہیں ہوتا، اور ہر کارروائی غیر قانونی نہیں ہوتی۔ دہشت گردی اور سنگین جرائم سے نمٹنے کے لیے ریاست کو طاقت استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن ایک جمہوری ریاست میں طاقت کے استعمال کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہوتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کسی کارروائی میں کون ملوث تھا۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی بے گناہ شہری کے ساتھ زیادتی ہو جائے تو کیا ریاست کا ردعمل ہر بار ایک جیسا ہوتا ہے؟
کیا کسی غریب پاکستانی ماں کے آنسو بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی کسی غیر ملکی شہریت رکھنے والے خاندان کے آنسو؟
کیا کسی مزدور، کسان یا طالب علم کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بااثر شخص کی؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ریاستی رویوں میں بھی یہ مساوات نظر آنی چاہیے۔
بدقسمتی سے پاکستان کا عام آدمی اکثر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی فریاد کم سنی جاتی ہے۔ اس کے زخم کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی موت جلد خبر سے اتر جاتی ہے۔ اس کے لیے نہ پریس کانفرنس ہوتی ہے، نہ اعلیٰ سطح کے دورے، نہ فوری وضاحتیں۔
یہ احساس درست ہو یا غلط، خود اس احساس کا پیدا ہونا ایک قومی مسئلہ ہے۔
ریاست کی طاقت صرف اسلحے، اختیارات یا قانون میں نہیں ہوتی۔ ریاست کی اصل طاقت عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ اور اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب شہری محسوس کرے کہ اس کی جان، اس کی عزت اور اس کے حقوق سب کے برابر اہم ہیں۔
ایک آسٹریلوی شہری کی جان قیمتی ہے، بالکل قیمتی ہے۔
لیکن ایک پاکستانی شہری کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہونی چاہیے۔
ایک معصوم بچی اگر آسٹریلوی پاسپورٹ رکھتی تھی تو اس کے لیے انصاف ضروری ہے۔ لیکن اگر کوئی معصوم بچہ ڈیرہ غازی خان، کوئٹہ، کراچی، پشاور یا لاہور کی کسی گلی میں مارا جائے تو اس کے لیے بھی وہی انصاف ضروری ہے۔
انصاف کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ وہ پاسپورٹ نہیں دیکھتا۔
قانون کی اصل عظمت یہی ہے کہ وہ شناخت نہیں دیکھتا۔
ریاست کی اصل ساکھ بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو برابر سمجھے۔
کیونکہ اگر کسی معاشرے میں یہ سوال پیدا ہو جائے کہ "کیا پاکستانی عوام انسان نہیں ہیں؟" تو یہ سوال صرف ایک ادارے سے نہیں، پورے نظام سے جواب مانگتا ہے۔
اور کسی بھی ریاست کے لیے اس سے بڑا المیہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے اپنے شہری اپنی انسانی حیثیت کے اعتراف کے لیے سوال اٹھانے پر مجبور ہو جائیں۔
ایس۔ اے