دوسری جنگِ عظیم میں جو جنگی جہاز واپس لوٹتے، اُن کے پروں اور دُم پر گولیوں کے سب سے زیادہ نشان ہوتے۔ فوج نے فیصلہ کیا: انہی حصوں پر زیادہ حفاظتی لوہا لگاؤ۔ منطقی لگتا ہے، نا؟ ایک ریاضی دان نے کہا: "بالکل غلط۔ لوہا وہاں لگاؤ جہاں ایک بھی نشان نہیں۔"
وہ ریاضی دان تھا ابراہام والڈ۔ اور اُس کی بات نے سوچنے کا ایک پورا انداز بدل دیا۔
والڈ نے ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا جو سب کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہ نشان صرف اُن جہازوں پر تھے جو واپس لوٹ آئے۔ یعنی پروں اور دُم پر گولی کھا کر بھی جہاز اُڑ سکتا تھا۔ مگر جو جہاز انجن یا کاک پٹ پر گولی کھاتے، وہ کبھی واپس ہی نہیں آتے — اِسی لیے اُن حصوں پر "کوئی نشان نہیں" دکھتا تھا۔ اصل کمزور جگہ وہی تھی جہاں ڈیٹا خاموش تھا۔
اِسے "سروائیورشپ بایس" کہتے ہیں — یعنی صرف کامیاب یا بچ جانے والوں کو دیکھ کر نتیجہ نکالنا، اور اُن سب کو بھول جانا جو ناکام ہو کر منظر سے غائب ہو چکے۔ ہماری سب سے بڑی غلطیاں اکثر اُس ڈیٹا میں چھپی ہوتی ہیں جو ہمیں نظر ہی نہیں آتا۔
یہ فریب ہماری روزمرہ سوچ میں گہرا دھنسا ہوا ہے۔ ہم کہتے ہیں "فلاں ارب پتی نے تو کالج چھوڑ دیا تھا، تو ڈگری بے کار ہے۔" مگر ہم اُن لاکھوں لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہوں نے کالج چھوڑا اور کہیں نہ پہنچے — کیونکہ اُن کی کوئی کہانی نہیں چھپتی۔ ہم صرف جیتنے والوں کی سرخیاں پڑھتے ہیں، اور ہارنے والوں کی خاموشی کو "ثبوت کی غیر موجودگی" سمجھ لیتے ہیں۔
یہی بایس ہمیں اپنی زندگی میں بھی دھوکا دیتا ہے۔ ہم کامیاب لوگوں کی عادتیں نقل کرتے ہیں — "وہ صبح 4 بجے اٹھتا تھا، اِس لیے میں بھی اٹھوں گا" — یہ بھولتے ہوئے کہ شاید ہزاروں ناکام لوگ بھی 4 بجے اٹھتے تھے۔ کامیابی کا اصل راز اکثر وہ ہوتا ہے جو کہانی میں نظر نہیں آتا: اتفاق، حالات، مدد، اور وہ بے شمار جو اُسی راستے پر چل کر بھی نہ پہنچ سکے۔
سوچنے کا سمجھدار طریقہ یہ ہے کہ ہر کامیابی کی کہانی کے پیچھے ایک سوال رکھیں: "جو لوگ یہی کر کے ناکام ہوئے، وہ کہاں ہیں — اور کیا میں اُنہیں دیکھ بھی پا رہا ہوں؟" سب سے اہم سچ اکثر وہاں چھپا ہوتا ہے جہاں ڈیٹا خاموش ہے۔
The Educationist
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Educationist, Educational Research Center, Karachi.
13/06/2026
غربت سے جان چھڑانے کے پندرہ سنہرے اصول
1. فیصلہ کریں کہ آپ کبھی دوبارہ غریب نہیں ہوں گے
سوچ کی تبدیلی، ترقی کی شروعات ہے۔
2. اپنی مالی حالت کا تجزیہ کریں
آمدن اور خرچ کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کریں۔
3. غیر ضروری اخراجات بند کریں
پیسے کے “گڑھوں” کو پہچانیں اور بند کریں۔
4. صرف آمدنی بڑھانے پر توجہ دیں
وقت سے ہٹ کر مہارت اور اسکیل پر کام کریں۔
5. اپنا کاروبار بنائیں (Incorporate)
نوکری چھوڑیں نہیں، مگر بزنس شروع کریں تاکہ آپ “مالک” بنیں۔
6. پہلے خود کو ادائیگی کریں
بلوں سے پہلے، اپنا مالی مستقبل محفوظ بنائیں۔
7. ایسا اثاثہ بنائیں جو سوتے میں کمائے
ریئل اسٹیٹ، ای-کامرس، یا کچھ بھی جو خودکار آمدن دے۔
8. نوکری کی آمدنی سے اثاثہ مضبوط کریں
موجودہ اثاثے کو مزید قوی بنائیں، نئے میں نہ بھٹکیں۔
9. بچت کو ایسے اثاثوں میں لگائیں جو بڑھیں بھی اور بیچے جا سکیں
Opportunity Fund بنائیں،نقدی نہیں، لیکن متحرک سرمایہ۔
10. اپنی ذات پر سرمایہ کاری کریں
علم، مہارت اور ذہنی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنائیں۔
11. خوشی کے لیے اثاثے کمائیں، محنت نہیں
محنت سے اثاثہ بنائیں، پھر اثاثے آپ کی خواہشات پوری کریں۔
12. ایسے مواقع چُنیں جو خود ہی اپنی قیمت نکال دیں
عقل مند سرمایہ کاری، جو فوری فائدہ دے۔
13. تمام منافع کو دوبارہ لگائیں
رفتار بڑھانے کا راز: منافع کو دوبارہ گھمائیں۔
14. آمدنی بڑھنے پر لائف اسٹائل نہ بڑھائیں
سادگی سے جئیں، دولت کو پھلنے دیں۔
15. تب تک دہراتے رہو جب تک اثاثے اخراجات سے 3 گنا زیادہ نہ ہو جائیں
اصل مالی آزادی وہ ہے جو دیرپا ہو۔
معلوماتی پوسٹوں کے لئے پیج کو فالو کریں
پاکستان میں غربت کیوں؟
آنکھیں کھول دینے والی تحقیق
15 خوفناک وجوہات
ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔
۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ
پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔
۲۔ دکھاوے کی شادیاں (امیروں کی نقل)
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔
۳۔ ڈگری زدہ جاہل
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔
۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں
مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔
۵۔ کمیٹی کلچر (مردہ پیسہ)
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔
۶۔ انا کا بت (میں یہ کام کروں گا؟)
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"
اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔
۷۔ صحت کی تباہی (خودکشی)
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔
۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش
ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔
۹۔ الزام تراشی (Victim Mentality)
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
۱۰۔ ادھار پر عیاشی
ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔
۱۱۔ سیکھنا بند (The Know-it-all)
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔
۱۳۔ رسک فوبیا (Risk Aversion)
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔
۱۴۔ حاسدانہ رویہ
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔
۱۵۔ وقت کا قتلِ عام
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔
اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔
17/04/2026
برصغیر کی سیاست میں غیر ملکی خون کی آمیزش
برطانوی راج میں مائیکل ادم نیڈو نامی ماہر تعمیرات بسلسلہ روزگار کروشیا سے پنجاب آیا اور پھر کشمیر کی سیاحت کے بعد اس نے زندگی ادھر ہی گزارنے اور ہوٹل کا کاروبار کرنے فیصلہ کر لیا اور سال 1880میں اواری ہوٹل والی جگہ پر نیڈو ہوٹل کے نام سے ایک لگڑری ہوٹل قایم کر لیا ۔1882میں گلمرگ کشمیر اور 1900میں سری نگر میں بھی نیڈو ہوٹل قایم کر لیے ۔
کشمیر میں ہی اس کے بیٹے مائیکل ہیری نیڈو کی ملاقات دودھ سپلائی کرنے والی گوالن دوشیزہ میر جان سے ہوی
کیسے سر چڑھ کے کسی اور کا جادو بولے
تاب گفتار ۔وہاں کس کو ۔۔جیاں تو بولے ۔
ہیری نیدو اس گوالن کے عشق میں ایسا گرفتار ہوا کے شادی کا پیغام بھیج دیا اور پھر اس شرط پر شادی ہوئی کہ ہیری مسلمان ہو جاے آور گوجروں کی طرح ہی زندگی گزارے ۔چناچہ ہینری مسلمان ہو گیا اور اس کا اسلامی نام شیخ احمد حسن رکھا گیا ۔۔اس جوڑے سے 12بچے پیدا ہوے جس میں سے ایک بیگم اکبر جہاں بھی تھی جس نے مری سے تعلیم حاصل کی آور ان کی شادی مشہور کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ سے ہوی اور ان کو مادر مہربان کہا جانے لگا ۔شیخ عبداللہ وزیراعلی کشمیر بنے وہ خود متعدد مرتبہ ممبر پارلیمنٹ بنی۔۔بیٹا فاروق عبداللہ وزیراعلی ہوتا عمر عبداللہ وزیراعلی اعلیٰ کشمیر بنے ۔۔۔
17/04/2026
لاہور سے ٹرین پر بہاولپور آیا تو ایک چوبیس پچیس سالہ پٹھان ہم سفر تھا. ایک بزرگ اسے رخصت کرنے آئے تھے. میرے ذمے لگایا کہ اس کا خیال رکھوں. اسے اردو نہیں آتی. روٹی پانی تو خیر مانگ لیتا ہے. ٹکٹ چیکر آئے تو آپ بات کرلیجئے گا. سوچا افغانستان یا پختونخوا کے کسی علاقے سے پہلی دفعہ نکلا ہوگا. بزرگ سے پوچھا تو پتہ چلا سوات کا ہے. دس سال سے کراچی میں ہے. اردو نہ آنے پر حیرت ظاہر کی تو انہوں نے بتایا کہ منگھو پیر کے علاقے میں جہاں رہتا ہے، ساری آبادی پٹھانوں کی ہے. کام بھی وہیں کرتا ہے. کہیں جانے یا کسی اور سے ملنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی. سو دس سال میں چند فقرے ہی سیکھے ہیں. بزرگ نے بتایا کہ وہ خود پانچ چھ زبانیں جانتے ہیں.
اس پر مجھے ناروے میں آباد ایک دوست کی بات یاد آئی. ناروے میں زیادہ تر پاکستانی گجرات، لالہ موسی'، کھاریاں وغیرہ کے ہیں. جو زیادہ پرانے ہیں، انہوں نے اپنے بزرگوں کو بھی بلالیا تھا، وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ گوروں نے بڑا زور لگایا، ہم نے ان کی بولی نہیں سیکھی. حالانکہ ناروے کی حکومت اس سلسلے میں بہت مہربان ہے. تارکین وطن کے بچوں کو سکولوں میں ان کی مادری یا قومی زبان پڑھانے کا انتظام کیا جاتا ہے. اس سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو اردو، پنجابی ٹیچر کی ملازمتیں مل گئیں.
ایسے ہی ایک عزیزہ نے برطانیہ کی یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی کی تھی، ان کا تھیسس پڑھنے کا موقع ملا تھا. برمنگھم، بریڈفورڈ کے پاکستانی تارکین وطن کے بارے میں سروے تھا کہ بچوں کے سکول ٹیچرز کے بلانے پر بہت کم ملنے جاتے ہیں، والد کام پر گئے ہوتے ہیں، ماں، دادا، دادی اس لئے نہیں جاتے کہ انگریزی نہیں آتی. اپنی الگ آبادیوں میں اپنے لوگوں کے درمیان رہتے ہیں، انگریزی سیکھے بغیر گزارہ ہورہا ہوتا ہے.
ان لسانی جزیروں کے ساتھ خیال آیا کہ کراچی بھی تو صوبے میں ایک لسانی جزیرہ نما ہی بن گیا. قیام پاکستان کے بعد کچھ بزرگ اپنا انتخابی حلقہ بنانے کے چکر میں اردو بولنے والوں کو وہاں آباد کرتے گئے. اتنا اجتماع ہوگیا کہ ملک کے دوسرے حصوں سے بھی اردو بولنے والے وہاں منتقل ہونے لگے. کسی کو سندھی وغیرہ سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی.1971 کے بعد پنجاب کے کچھ مقامات پر بہاری کالونیاں بنائی گئیں تو ان کے مکین جلد ہی کوارٹر بیچ باچ کر کراچی منتقل ہوگئے.
سندھ ہی کے دوسرے شہروں میں آباد ہونے والوں نے نہ صرف سندھی سیکھی بلکہ سندھیوں سے رشتے ناتے بھی ہوئے، بعض نے تو سندھی ادب اردو میں منتقل اور متعارف کرانے کیلئے بھی قابل قدر کام کیا. مثلاً پروفیسر آفاق صدیقی نے شاہ لطیف، سچل سرمست اور شیخ ایاز کی شاعری اردو میں منتقل کی. پروفیسر آفاق صدیقی کی 40 کتابوں میں سے 18 سندھی میں ہیں.
ایسے ہی بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں آباد بعض مہاجر مقامیوں سے اچھی سرائیکی بولتے ہیں.
مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی تھی کہ سرائیکی مزاحمتی شاعری کے ایک اہم نام اسلم جاوید کی مادری زبان سرائیکی نہیں، ان کے والدین ہجرت کرکے یہاں آئے تھے.
سید شہاب دہلوی کی اردو کے ساتھ ساتھ اپنے وطن ثانی بہاولپور کی تاریخ وثقافت محفوظ کرنے کیلئے بھی گراں قدر خدمات ہیں. انہوں نے کلام فرید کا منظوم اردو ترجمہ بھی کیا.
ایسے ہی مولانا محمد حسین آزاد سے سید وقار عظیم، عبادت بریلوی، انتظار حسین، سجاد باقر رضوی جیسے کئی لاہوریوں کے محبوب بنے.
Copied
06/04/2026
قوت خرید کے تقابلی جائزے کے لحاظ سے دنیا کی دس بڑی معیشتیں
Top 10 Biggest Economies in the World by Purchasing Power Parity (PPP), 2026 Projections.
بلھا کیہ جاناں میں کون
نہ میں مومن وچ مسیت آں
نہ میں وچ کفر دی ریت آں
نہ میں پاکاں وچ پلیت آں
نہ میں موسٰی، نہ فرعون
بلھا کیہ جاناں میں کون
نہ میں اندر وید کتاباں
نہ وچ بھنگاں، نہ شراباں
نہ وچ رِنداں مست خراباں
نہ وچ جاگن، نہ وِچ سون
بلھا کیہ جاناں میں کون
نہ وچ شادی نہ غمناکی
نہ میں وچ پلیتی پاکی
نہ میں آبی نہ میں خاکی
نہ میں آتش نہ میں پون
بلھا کیہ جاناں میں کون
نہ میں عربی نہ لاہوری
نہ میں ہندی شہر نگوری
نہ ہندو نہ ترک پشوری
نہ میں رہندا وچ ندون
بلھا کیہ جاناں میں کون
نہ میں بھیت مذہب دا پایا
نہ میں آدم حوّا جایا
نہ میں اپنا نام دھرایا
نہ وِچ بیٹھن، نہ وِچ بھَون
بلھا کیہ جاناں میں کون
اوّل آخر آپ نوں جاناں
نہ کوئی دوجا ہور پچھاناں
میتھوں ہور نہ کوئی سیانا
بلھا! اوہ کھڑا ہے کون
بلھا کیہ جاناں میں کون
(بلھے شاہ)
میکسیکو کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک بوڑھا جوتے بنانے والا رہتا تھا۔ اس کا نام مانوئل تھا۔
وہ دن رات اپنی چھوٹی سی دکان میں بیٹھا جوتے بناتا۔ اس کے ہاتھ بوڑھے ہو چکے تھے، آنکھیں کمزور تھیں، لیکن وہ پھر بھی کام کرتا رہتا۔
لوگ اس سے کہتے: "اب آرام کرو، مانوئل۔ تمہاری عمر ہو گئی ہے۔"
مانوئل کہتا: "جب تک ہاتھ چلتے ہیں، میں بناؤں گا۔"
لیکن ایک مسئلہ تھا۔ مانوئل کی آنکھیں اتنی کمزور ہو گئی تھیں کہ وہ شام ہوتے ہی کام نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے اپنی میز پر ایک چراغ رکھا ہوا تھا۔ وہ چراغ چھوٹا تھا، اس کی روشنی کم تھی، لیکن مانوئل اسی کی روشنی میں رات گئے تک جوتے بناتا۔
قصبے کے لوگ اسے سمجھاتے: "یہ چراغ بہت کمزور ہے۔ نئی بتی ڈالو، اور تیل ڈالو۔"
مانوئل کہتا: "اتنی روشنی کافی ہے۔ مجھے اتنی ہی چاہیے۔"
لوگ ہنستے اور کہتے: "یہ بوڑھا پاگل ہو گیا ہے۔ اندھیرے میں بیٹھا کام کرتا ہے۔"
ایک دن قصبے میں ایک امیر آدمی آیا۔ اس نے مانوئل کے جوتے دیکھے تو بہت پسند کیے۔ اس نے کہا: "بوڑھے! مجھے سو جوڑے جوتے چاہیے۔ مہینے بھر میں بنا دو گے؟"
مانوئل نے کہا: "بنا دوں گا۔"
امیر آدمی چلا گیا۔ مانوئل نے کام شروع کر دیا۔ وہ صبح سے شام تک بناتا، شام سے رات تک بناتا۔ لیکن اس کی روشنی کم تھی، اس لیے وہ آہستہ کام کرتا تھا۔
قصبے والوں نے کہا: "مانوئل! نئی بتی ڈال! تیل بھر! جلدی کام ختم کر!"
لیکن مانوئل نے نہ بتی ڈالی، نہ تیل بھرا۔ وہ اسی چھوٹے چراغ کی روشنی میں کام کرتا رہا۔
مہینہ بھر گزر گیا۔ امیر آدمی آیا۔ مانوئل نے اسے سارے جوتے تھما دیے۔ امیر آدمی نے دیکھے تو خوش ہو گیا۔ "بہت خوب! میں نے اتنی عمدہ جوتے کبھی نہیں دیکھے۔ بتاؤ، تم نے اتنی جلدی کیسے بنا لیے؟"
مانوئل مسکرایا۔ اس نے اپنے چراغ کی طرف اشارہ کیا۔ "یہ دیکھو۔ میرا چراغ چھوٹا ہے، اس کی روشنی کم ہے۔ لیکن اسی لیے مجھے ہر ٹانکے پر توجہ دینی پڑتی ہے۔ میں جلدی میں نہیں ہو سکتا۔ ہر ٹانکا سوچ سمجھ کر لگاتا ہوں۔ اگر میری روشنی تیز ہوتی تو میں جلدی کرتا، اور جوتے اتنے عمدہ نہ بنتے۔"
قصبے والوں نے یہ بات سنی تو سب خاموش ہو گئے۔ انہیں سمجھ آ گیا کہ مانوئل کی کمزور روشنی اس کی طاقت تھی۔ وہ کم روشنی میں کام کرتا تھا اس لیے اسے صبر آ گیا تھا، اسے سوچنا آ گیا تھا، اسے اپنے کام سے محبت آ گئی تھی۔
امیر آدمی نے کہا: "مانوئل، تم نے مجھے بڑا سبق دیا۔ زیادہ روشنی ہمیشہ اچھی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی کم روشنی میں زیادہ صاف نظر آتا ہے۔"
سبق:
بڑی روشنی ہمیشہ بہتر نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی کم روشنی ہمیں سست رفتاری، توجہ، اور معیار سکھاتی ہے۔ جو لوگ محدود وسائل میں بھی اپنے کام سے محبت کرتے ہیں، ان کا کام ہی ان کا چراغ ہوتا ہے۔
اخلاقی سبق: ہر کمزوری ایک طاقت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ہم اسے پہچاننا اور اس کے ساتھ جینا سیکھ لیں۔
حوالہ:
یہ کہانی میکسیکو کی لوک کہانیوں میں سے ہے، جسے اکثر "The Old Shoemaker's Lamp" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے کئی نسخے وسطی امریکہ میں ملتے ہیں۔ یہ کہانی سست رفتاری، صبر، اور حدود میں کام کرنے کی خوبی کو بیان کرتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
Karachi
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |