18/06/2026
جامعہ کراچی کے ایڈمنسٹریٹو اسٹاف انور احمد خان انتقال کر گئے
کراچی: جامعہ کراچی کے ڈپٹی رجسٹرار اسٹبلشمنٹ آفس سے وابستہ ایڈمنسٹریٹو اسٹاف کے رکن انور احمد خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
مرحوم کچھ عرصے سے علیل تھے اور آج اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انور احمد خان نے جامعہ کراچی میں طویل عرصے تک انتظامی امور میں خدمات انجام دیں۔
جامعہ کے افسران، اساتذہ اور ملازمین نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔
16/06/2026
انجمن اساتذہ وفاقی اردو یونیورسٹی (عبدالحق و گلشن کیمپس)، نامزد کنندہ کمیٹی کے اراکین بروز بدھ، 17 جون 2026، شام 4:00 بجے کراچی پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے ۔
اس پریس کانفرنس میں انسانی حقوق و ٹریڈ یونین رہنما، وکلاء، ماہرین تعلیم ،شہر کراچی کے نمائندہ آوازوں اور سول سوسائٹی کے افراد بھی شریک ہونگے ۔
پریس کانفرنس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کو درپیش سنگین مالی، انتظامی اور تعلیمی بحران کے حوالے سے میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دی جائے گی ۔
15/06/2026
نیو کراچی: مدرسے سے لاپتہ طالب علم کی بازیابی کے لیے اہل خانہ سراپا احتجاج
کراچی : ضلع ساوتھ وزیرستان کے رہائشی 23 سالہ طالب علم زین العابدین 6 جون 2026 کی رات سے لاپتہ ہیں۔ اہل خانہ نے ان کی فوری بازیابی اور معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس ریکارڈ اور اہل خانہ کے مطابق زین العابدین ولد حافظ رفیع اللہ، شناختی کارڈ نمبر 21704-3045739-7، تاریخ پیدائش 29 نومبر 2002 ہے۔ ان کا مستقل پتہ ڈاک خانہ سراروغہ، ستارہ غلامہ، تحصیل سراروغہ، ضلع ساوتھ وزیرستان ہے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ زین العابدین رواں سال عیدالفطر سے 6 جون کی رات تک نیو کراچی سہراب گوٹھ میں واقع جامعہ اسلامیہ گلشن عمر میں مقیم تھے۔ ان کے مطابق 6 جون کی رات 3 سے 4 بجے کے درمیان سول کپڑوں میں ملبوس افراد انہیں مدرسے سے لے گئے جس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ زین العابدین کا کسی سیاسی جماعت یا تنظیم سے تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیمی زندگی کا بڑا حصہ جامعہ اسلامیہ دارالقرآن فیصل آباد اور جامعہ اسلامیہ انجرا پراچہ اٹک میں گزارا۔
اہل خانہ نے کراچی کی مذہبی شخصیات، مدرسہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ زین العابدین کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
یہ خبر اہل خانہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔ اغوا کے الزامات کی تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اس حوالے سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
14/06/2026
اسلامیہ کالج میں آج ایک بار پھر خودکشی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ اگر یہ واقعی چوتھا یا پانچواں واقعہ ہے تو یہ نہایت تشویش ناک بات ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
میری ذاتی رائے میں اس طرح کے واقعات کے پیچھے مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، اگرچہ کسی مخصوص واقعے کے بارے میں بغیر معلومات کے حتمی رائے دینا درست نہیں۔
ایک وجہ معاشی مسائل اور مہنگائی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات طلبہ کو مالی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور انہیں گھر والوں کی مکمل سپورٹ حاصل نہیں ہوتی، جس سے ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
دوسری وجہ تعلیمی مسائل ہو سکتے ہیں۔ کچھ طلبہ کلاسز باقاعدگی سے اٹینڈ نہیں کرتے، جس کی وجہ سے حاضری یا تعلیمی کارکردگی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات سمسٹر ڈراپ ہونے یا تعلیمی ناکامی کا خوف بھی شدید ذہنی دباؤ کا سبب بن جاتا ہے، خصوصاً جب والدین اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر نظر نہ رکھ رہے ہوں۔
تیسری ممکنہ وجہ ذاتی اور جذباتی مسائل ہو سکتے ہیں۔ یونیورسٹی زندگی میں بعض طلبہ جذباتی تعلقات یا دیگر ذاتی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں، جو ان کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
بہرحال، اصل وجہ کیا ہے اس بارے میں تحقیق اور حقائق کے بغیر کچھ کہنا مناسب نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی ادارے، والدین اور معاشرہ مل کر طلبہ کی ذہنی صحت، تعلیمی مسائل اور ذاتی مشکلات پر توجہ دیں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔
کاپی
14/06/2026
اس نایاب تصویر میں کون کون سی شخصیات موجود ہیں ۔
اپنی ذہانت اور یاداشت کو آزمائیں ۔
11/06/2026
انجمن اساتذہ وفاقی اردو یونیورسٹی عبدالحق کیمپس اور گلشن اقبال کیمپس کے زیر اہتمام امتحانات کا بائیکاٹ چوتھے روز بھی جاری رہا۔
اساتذہ اج صبح یونیورسٹی کے انتظامی بلاک کے سامنے بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور "وائس چانسلر حاضر ہو" کے نعرے لگائے اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
بائیکاٹ کے چوتھے روز منعقد ہونے والے احتجاجی جلسے میں کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر سید غفران عالم اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ذیشان اقبال صدیقی نے شرکت کرکے یکجہتی کا اظہار کیا اور اساتذہ کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔
اس موقع پر انجمن اساتذہ گلشن اقبال کیمپس کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر افتخار احمد طاہری، انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس کے صدر ڈاکٹر روشن علی سومرو، ںائب صدر ڈاکٹر اصغر علی دشتی، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اقبال حسین نقوی، جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر عرفان عزیز نے بھی خطاب کیا۔
اجلاس کے آخر مین منظور ہونے والی قرار داد میں دو ماہ کی تنخواہوں، 4 ماہ کی پیشن، بعد از ریٹائرمنٹ بقایاجات، 26 ماہ کی ہاوس سیلنگ، میڈیکل کی سہولیات کی بندش، سینیٹ کی منظوری کے بغیر یونیوستی کے اندر قرشی انڈسٹریز کے دواخانوں کا قیام اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکتر ضابطہ خان شنواری کی انتظامی دفاتر سے غیر حاضری کو قابل مذمت قرار دیا۔
اساتذہ نے وائس چانسلر کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وائس چانسلر کراچی میں تشریف لائیں اور اساتذہ کے مسائل حل کریں۔
09/06/2026
جامعہ کراچی: افسران، اساتذہ اور ملازمین کا 41 روزہ احتجاج موخر، مطالبات وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجنے کی یقین دہانی
کراچی: کراچی یونیورسٹی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے مالی مسائل اور جائز مطالبات کے حل کے لیے دی گئی تحریری یقین دہانی کے بعد 41 روز سے جاری احتجاج موخر کرنے کا اعلان کر دیا۔
کراچی یونیورسٹی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 09 جون 2026 کو سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کراچی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جامعہ کراچی کو درپیش مالی مسائل اور افسران، اساتذہ و ملازمین کے جائز مطالبات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں اساتذہ کی نمائندگی کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر سید غفران عالم، ملازمین کی نمائندگی ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر زاہد حسین بلوچ اور افسران کی نمائندگی کراچی یونیورسٹی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر سید فیصل ہاشمی نے کی۔
اجلاس میں وزیر جامعات و بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو، چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز محمد عباس بلوچ، ڈاکٹر سروش حشمت لودھی اور ڈاکٹر نعمان احسن بھی شریک ہوئے۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں Ex-Gratia اور ہاؤسنگ رینٹل سیلنگ سمیت دیگر مالی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حکومتی نمائندگان اور کمیٹی اراکین نے تحریری طور پر یقین دہانی کرائی کہ جامعہ کراچی کے افسران، اساتذہ اور ملازمین کے مطالبات کی منظوری کے لیے سفارشات پر مبنی سمری وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو بھیجی جائے گی۔
معاہدے کے تحت نمائندہ تنظیمیں باہمی مشاورت سے جاری احتجاج موخر کریں گی۔ اس تحریری یقین دہانی اور دیگر تنظیموں سے مشاورت کے بعد کراچی یونیورسٹی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے 41 روز سے جاری احتجاج فی الحال موخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر KUOWA سید فیصل ہاشمی نے جامعہ کراچی کے تمام افسران کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس جدوجہد میں اتحاد، نظم و ضبط اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور ہر مرحلے پر اپنی نمائندہ تنظیم کا بھرپور ساتھ دیا۔
08/06/2026
ٹیویوٹا انڈس موٹر کمپنی کی علیگڑھ انسٹیٹیوٹ میں اسسمنٹ ڈرائیو کا کامیاب انعقاد
کراچی : علیگڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (AIT) کراچی میں طلبہ کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور صنعت سے مؤثر روابط کو فروغ دینے کے مقصد سے ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی کے اشتراک اور علیگڑھ انسٹیٹیوٹ کے شعبہ ڈی آئی آئی ایل اور گائیڈنس سینٹر کی معاونت سے ایک کامیاب اسسمنٹ ڈرائیو کا انعقاد کیا گیا۔
ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیوں کی باضابطہ اسمبلر اور تقسیم کار ہے، جو 1989ء سے پورٹ قاسم، کراچی میں واقع اپنی جدید فیکٹری کے ذریعے معیاری اور قابلِ اعتماد گاڑیاں تیار کر رہی ہے۔ کمپنی پاکستان کی آٹوموبائل صنعت میں اپنی اعلیٰ کارکردگی، معیار اور پیشہ ورانہ خدمات کے باعث ممتاز مقام رکھتی ہے۔
اس اسسمنٹ ڈرائیو میں علیگڑھ انسٹیٹیوٹ کے ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئر الیکٹریکل اور الیکٹرانکس ٹیکنالوجی کے حالیہ فارغ التحصیل طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ مجموعی طور پر 25 امیدواروں نے اسسمنٹ ٹیسٹ میں حصہ لیا اور اپنی فنی مہارت، قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مؤثر مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی کے منیجر ہیومن ریسورسز، سعد قریشی نے امیدواروں کی تکنیکی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ رویّوں اور صنعتی تقاضوں سے مطابقت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے طلبہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ادارے کی تربیتی کاوشوں کی بھی تعریف کی۔
پرنسپل علیگڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، شاہد جمیل نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اولین ترجیح طلبہ کو معیاری فنی تعلیم کے ساتھ صنعتوں سے براہِ راست منسلک کرنا ہے۔ ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی کی یہ کاوش ہمارے طلبہ کے روشن مستقبل اور کامیاب پیشہ ورانہ زندگی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
کنوینر علیگڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، سید محمد محسن کاظم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اسسمنٹ ڈرائیوز طلبہ کو عملی دنیا کے تقاضوں سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں باوقار روزگار کے حصول کے لیے بہتر مواقع فراہم کرتی ہیں۔ ایسے پروگرامز صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اس کامیاب سرگرمی کے انعقاد میں شعبہ ڈی آئی آئی ایل اور گائیڈنس نے کلیدی کردار ادا کیا۔
پرنسپل علیگڑھ انسٹیٹیوٹ شاہد جمیل نے دونوں شعبوں نے طلبہ کی رجسٹریشن، رہنمائی، کیریئر کونسلنگ اور صنعتی اداروں کے ساتھ روابط کے فروغ میں بھرپور معاونت فراہم کرنے پر سراہا جس کے نتیجے میں یہ پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔
اسسمنٹ ڈرائیو میں شریک طلبا کے مطابق یہ اسسمنٹ ڈرائیو علیگڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اس عزم کی عکاس ہے کہ ادارہ اپنے طلبہ کو صنعت سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرتے ہوئے انہیں بہترین کیریئر مواقع اور روشن مستقبل کی جانب گامزن کرتا رہے گا۔