13/05/2026
How would you define this cycling?!
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from English Language Teachers Only, Karachi.
Helping students speak English with confidence | TEFL Certified | Online & in-person classes
📘 English Teacher | 12+ years experience | Fun, practical lessons for real communication!
🌍 Learn English with a certified teacher | All levels
13/05/2026
How would you define this cycling?!
13/05/2026
کئی سالوں سے دھڑلے سے کو۔کین کا دھندہ کرنے والی انمول پنکی زیر عتاب کیوں آئی ؟ اندر کی بات ۔۔۔۔ آپ کو یاد ہو گا ، اربوں روپے ادھر سے ادھر کرنے والی ایان علی کا آج کہیں کوئی ذکر نہیں ۔ وہ بیرون ملک موجیں کررہی ہے ۔ چند ہفتے قبل منظر عام پر آنیوالی فضیلہ عباسی کی فائل بھی اچانک بند ہو گئی اسکے سارے کرتوتوں پر پردہ پڑ گیا لیکن اب انمول پنکی زیر عتاب ہے ۔۔ سسٹم جسکے اشاروں پر ناچتا تھا اور سب اسکو سیلوٹ ٹھوکتے تھے ۔۔ آپ کو بتائیں کہ سسٹم کی مدد سے کراچی سمیت پورے پاکستان میں کو۔کین۔ فروخت کرنے والی انمول پنکی کا سسٹم کو ہی چیلنج کرنا اسکا سب سے بڑا جرم ہے ۔۔ کو۔کین۔ یا شر۔اب بنانے یا فروخت کرنے سے کسی کو مسئلہ نہیں تھا لیکن سسٹم کو چیلنج کرنا اور روک سکو تو روک لو کہنا انمول پنکی کا اصل جرم ہے ۔۔دیکھتے ہیں اب اس واقعہ کا ڈراپ سین اور انمول پنکی کا مستقبل کیا لکھا جاتا ہے ، وہی شان و شوکت کی زندگی یا پھر جیل کی سلاخیں
13/05/2026
Pinky the Smuggler
Through dusty roads and midnight rain,
Pinky walked the outlaw lane.
A shadow wrapped in city light,
A whisper moving through the night.
Her pockets held forbidden gold,
Her story fierce, her spirit bold.
The border winds all knew her name,
A rebel dancing close to flame.
She smiled where danger filled the air,
With fearless eyes and restless stare.
No chain could hold, no wall could stay,
The path she carved along the way.
But every smuggler learns in time,
The cost concealed beneath the crime.
For silent nights and flashing power
Can fade away in just one hour.
Still legends rise where echoes linger,
And tales survive of Pinky Smuggler.
13/05/2026
ایم پی اے دادو پیر مجیب اور امداد ڏاوچ میری آواز بند کروانا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ جو بھی ظلم کے خلاف بولے، جو بھی مظلوموں کا ساتھ دے، اُسے جھوٹے مقدمات، دھمکیوں، اغوا اور آخرکار قتل کے ذریعے خاموش کر دیا جائے۔
میں واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں کوئی ذاتی جنگ نہیں لڑ رہا۔ میں اُن غریب، مظلوم اور مجبور لوگوں کے لیے آواز اٹھاتا ہوں جن کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ اسی “جرم” کی سزا کے طور پر مجیب اور امداد ڏاوچ نے میرے خلاف کراچی، حیدرآباد اور دادو میں متعدد جھوٹے مقدمات درج کروائے۔
چھ تاریخ کو جب میں دادو جا رہا تھا تو کچھ لوگ پولیس کی وردی میں اور کچھ ان کے نجی غنڈے میری گاڑی کے سامنے آ کر کھڑے ہوگئے۔ میں نے انہیں پولیس سمجھ کر ساتھ جانے پر رضامندی ظاہر کی، مگر اس کے بعد مجھے مسلسل کراچی کے سنسان علاقوں میں رکھا گیا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ آخر پیر مجیب کو ایسی کون سی طاقت حاصل ہے کہ جو بھی حق اور سچ کی بات کرے، اُس پر جھوٹے مقدمات بنوائے جائیں، اُسے اغوا کروایا جائے یا قتل کروانے کی سازشیں کی جائیں؟
میں کئی برسوں سے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوں۔ میں نے جھوٹے مقدمات، جیل، دھمکیوں اور ظلم کا مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ لیکن اگر آپ آج اس ظلم کے خلاف خاموش رہے تو یاد رکھیں، میرے قتل کے بعد آپ کو صرف افسوس اور پچھتاوا ہی نصیب ہوگا۔
شاید ہماری سندھ اُس وقت جاگے گی جب مجھے مار دیا جائے گا، لیکن اُس وقت شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
پیر مجیب آج دادو کی عوام کا دشمن بن چکا ہے۔ خاص طور پر چانڈیہ برادری کو آپس میں لڑا کر کمزور کیا جا رہا ہے، نوجوانوں پر جھوٹے مقدمات بنا کر انہیں بغاوت اور تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
اور آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اُس کے پیچھے صرف سیاسی انتقام نہیں بلکہ کرپشن، زمینوں پر قبضے، وسائل کی لوٹ مار اور ذاتی مفادات کی سیاست بھی شامل ہے۔ خاص طور پر امداد ڏاوچ پر متعدد افراد کی جانب سے یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ وہ طاقت اور سیاسی اثرورسوخ استعمال کرکے زمینوں پر قبضے کروا رہا ہے، سرکاری وسائل کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پبلک ہیلتھ کے محکمے کو وہ اور اُس کے بیٹے عدیل اور اویس اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہوئے اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہیں۔ اور جو بھی ان معاملات پر آواز اٹھاتا ہے، اُسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں نے ان معاملات پر خاموش رہنے سے انکار کیا۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے؛
آپ حق اور سچ کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا ایک ظالم کے خوف میں خاموش ہونگے
ضلع ملیر میں تعلیم کی تباہی
سردار شاہ صاحب کے دعوے دھرے رہ گئے
اسکول ولیداد سالار
یوسی گھگھر
ملیر کے بچے استاد کو ترس گئے
نیی بھرتی کئے گئے اساتذہ
پروبیشن پیریڈ کے دوران ٹرانسفر
دیگر اضلاع سے آنے والے اساتذہ
پیسے دیکر ھوم اسٹیشن کو روانہ
گوٹھوں کے بچے پھر سے
تعلیم کے زیور سے محروم
کون سنے گا دہایی
کون کریگا رھنمائی
کرپشن و ھیرا پھیری نے
ضلع ملیر میں تعلیم کا جنازہ نکال دیا۔
شاہان وقت سے معصومانہ سوال۔۔۔
✍🏻✍🏻🙏🏻🙏🏻Advocate Abdul Razaq Jokhie sb