Balance with Dr. Adnan

Balance with Dr. Adnan

Share

Education & Business Consultant with Life Coaching Stay high! With the dynamism of WISDOM

14/06/2026

کون کہتا ہے کہ " دین اسلام پر عمل کرنا مشکل ہے ؟؟؟ " --- نہیں ایسا بالکل نہیں --- بلکہ جو دین فطرت حبیب کریم حضور اکرم سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم لیکر آئے اس پر عمل کرنا تو نہ صرف نہایت آسان ہے بلکہ عین فطرت کے مطابق ہے۔۔۔

Watch this brief video۔۔۔✔️

Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x

13/06/2026

The human eye contains no mechanism for detecting color. Photoreceptor cells detect electromagnetic wavelengths and convert them into electrical signals. The visual cortex then constructs the experience of color from those colorless frequency inputs. Every color perceived by any human being in history was built inside the brain. The external world contains no color. Only wavelength.

Hubel, D.H. & Wiesel, T.N. Nobel Prize in Physiology or Medicine. 1981.

انسانی آنکھ میں رنگ کو براہِ راست شناخت کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہوتا۔ فوٹو ریسیپٹر خلیات (Photoreceptor Cells) صرف برقی مقناطیسی لہروں (Electromagnetic Wavelengths) کو محسوس کرتے ہیں اور انہیں برقی سگنلز میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد دماغ کا بصری حصہ (Visual Cortex) ان بے رنگ فریکوئنسی سگنلز کی بنیاد پر رنگ کا تجربہ تخلیق کرتا ہے۔
تاریخِ انسانی میں کسی بھی انسان نے جو بھی رنگ دیکھا ہے، وہ دراصل اس کے دماغ کے اندر تشکیل پایا ہے۔ بیرونی دنیا میں رنگ نام کی کوئی چیز موجود نہیں؛ وہاں صرف مختلف طولِ موج (Wavelengths) موجود ہوتے ہیں۔

Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x

12/06/2026

زبان کو شکوہ شکایت کے کانٹوں سے بھرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے رب العزت کے دامن رحمت کو تار تار کرنا۔۔۔ ہر حال میں اس مالک کل جہاں سے راضی رہیں، ہر حال میں اسکا شکر ادا کرتے رہیں، کیونکہ مخلوق کے پاس اپنے خالق سے راضی ہونے کے سوا اور کوئی راستہ بھی تو نہیں۔۔۔❣️

11/06/2026

بقول کسی پرانے تجربہ کار پاکستانی کے، جس نے اس ملک میں ایسے بوگس ڈرامے ہوتے بہت دیکھے ہیں کہ،👇

" ‏میری انڈین ایجنسی RAW سے دست بستہ گزارش ہے کہ اوٸے بےغیرتو پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کو انڈین کرنسی مت دیا کرو۔۔۔ ایک تو وہ یہاں چلتی نہیں، کوٸی اسکی ماچس تک نہیں دیتا، بیکار میں گھر پڑی رہتی ہے۔۔۔ دوسرا جب کبھی گھر پر چھاپہ پڑے تو تمھارا ایجنٹ پکڑے جانے سے پہلے تمھاری کرنسی پکڑی جاتی ہے۔🐵

حرامزادو تم کب جاسوسی کے اس بنیادی اصول کو فولو کرنا شروع کرو گے؟ تم کب بڑے ہوگے ؟ "👻

سبق: واقعی یہ انڈین ایجنسی RAW بھی نا کوئی بڑی پینڈو قسم کی ایجنسی ہے۔۔۔ جبکہ پتہ بھی ہے کہ پاکستانی ڈالروں میں کتنی جلدی بک جاتے ہیں پھر بھی نہ جانے انہیں ڈالر دینے میں کیا موت آتی ہے۔۔۔👽

》عقلمند کے لئے اشارہ کافی 《

Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x

10/06/2026

میں یہ بات محض پاکستان کے تناظر ہی میں نہیں کہہ رہا بلکہ یہ کلیہ مجھے پورے برصغیر پاک و ہند پر لاگو ہوتا دکھائی دے رہا۔۔۔ کیونکہ دنوں ممالک کی گوکہ سرحدیں الگ ہیں لیکن اندرون خانہ دونوں ممالک ایک ہی طرح کے سیاسی و سماجی حالات سے گزر رہے ہیں۔

سوال: وہ کیسے؟
جواب: ● دونوں ممالک میں جنگجوؤانہ نفرت انگیز تعصب برتنے والی قیادت ملک کی باگ ڈور چلا رہی ہے ● دونوں ممالک میں روایتی سیاسی جماعتوں سے عوام کی اکثریت کا اعتبار اٹھ چکا ہے ● دونوں ممالک میں سماجی ڈھانچہ اندر سے دن بہ دن کھوکھلا ہوتا چلا جا رہا ہے ● دونوں ممالک میں مڈل کلاس نوجوان اپنے ملک و سماج کو الگ نظر سے دیکھ رہے ہیں، جو ریت روایت، رسم و رواج سے اکتاہٹ کی عکاسی کر رہے ہیں ● دونوں ممالک کے عوام سیاسی و مذہبی آشرافیہ کے کھیل کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں ● دونوں ممالک کے عوام اندر سے ایکدوسرے سے ایسی نفرت نہیں رکھتے کہ جیسی وہاں کے میڈیا میں سیاسی پنڈتوں کے اشاروں پر دکھائی جاتی ہے۔

اور بہت کچھ ہے، جو احقر برصغیر پاک و ہند کے نقشہ پر ہوتا دیکھ رہا ہے، مگر بہت زیادہ تفصیل میں جانے سے مجھے اس وقت کے معروضی حالات روک رہے ہیں اور بعض مصلحتیں بھی پیش نظر ہیں۔
🎯⏱️

Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x

09/06/2026

علامہ اقبال ان دونوں اداروں یعنی: مدرسہ (تعلیمی ادارہ – School/Academy) اور خانقاہ (صوفی سلسلہ – Monastery/Sufi Lodge) سے مایوس ہو کر غمناک ہو جاتے ہیں۔

حقیقت #1:
اقبال کے نزدیک مدرسے کا نظام علم کو محض معلومات تک محدود کر دیتا ہے۔ اس میں نہ زندگی کی حرارت ہے، نہ عملی بصیرت، نہ فکر کی گہرائی۔

حقیقت #2:
اقبال کی نظر میں صوفی خانقاہوں میں بھی رسم و رواج، جمود اور عمل سے کنارہ کشی غالب آ چکی ہے۔ روحانیت محض الفاظ اور مجربات کا کھیل بن گئی ہے، نہ کہ حرکت، محبت، اور قربِ الٰہی کی جدوجہد۔

● اقبال ان دونوں اداروں سے فکری اور روحانی پیاس بجھنے کے بجائے مزید پیاسا ہو کر نکلتے ہیں۔ انہیں وہاں زندگی (حرکت، جوش، عمل)، محبت (الٰہی عشق، انسانی تعلق)، معرفت (حقیقی عرفانِ الٰہی) اور نگاہ (باطنی بصیرت، روحانی شعور) کی کوئی روشنی نظر نہیں آتی۔

● علامہ اقبال ایک زندہ، باعمل، اور بیدار مسلمان کی تلاش میں ہیں، جس کی تعلیم اور روحانیت دونوں قرآن کی انقلابی فکر سے جڑی ہوں۔

کتاب: بالِ جبریل
انتخاب: ڈاکٹر سید عدنان خورشید

نوٹ: کیا یہ بات باعث حیرت نہیں کہ جو کچھ بھی احقر نے فی زمانہ خانقاہوں/مدارس/مذہبی طبقات کے بارے میں اظہار خیال کیا، من و عن ان ہی جذبات کا اظہار علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کئی سال پہلے کرچکے ہیں۔۔۔ اسکا مطلب جو زنگ دین کے ان مراکز کو انکے زمانہ میں لگ چکا تھا، آج وہ بجائے بہتری کے مزید ابتری کا شکار ہوچکا ہوگا۔۔۔

Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x

07/06/2026

Reverse Concept Of Kafir & Ghaddar In Pakistan 🇵🇰:
اس ملک کی تاریخ گواہ ہے اور حالات اب یہ رخ واضح طور پر اختیار کرچکے ہیں کہ جس مسلمان کو بھی اس ملک کے جذباتی و ریاستی "ملا" تعصب کی بنیاد پر "کافر" قرار دے، سمجھ لو وہ ہی پکا مسلمان ہے۔ اور اسی طرح جس پاکستانی کو بھی ہماری "فوج" --- "غدار" قرار دے، تو سمجھ لو وہ ہی اصل میں محب الوطن پاکستانی ہے۔

✒️ ڈاکٹر سید عدنان خورشید

Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x

07/06/2026

میں بتا چکا ہوں کہ " محض آزاد کشمیر ہی نہیں بلکہ پورا پاکستانی معاشرہ ایک ایسے آتش فشاں کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جہاں سے کبھی بھی لاوا پھٹ سکتا ہے۔۔۔ بلوچستان، خیبر پختون خواہ، گلگت بلتستان، شہر کراچی۔۔۔ سیاسی و سماجی محرومیاں، عوام میں پائی جانے والی مایوسیاں، طاقت و دھونس کے بل بوتے پر آوازوں کو دبا دینا، جھکنے والوں کو اپنا اور اٹھنے والوں کو پرایا( غدار) بنا دینا۔۔۔ لسانی تقسیم، مذہب و فرقے کی تقسیم اور لسانی و مذہبی منجن کا استعمال کرکے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھنا۔۔۔"

مگر اب بہت تیزی سے اس ملک کے اصل "ولن" کے چہرے سے ماسک اتر رہا ہے، اور جگہ جگہ سے لاوا ابلنے کو ہے۔۔۔ اگر آج طاقت کے استعمال سے دبا لو گے تو کل کہیں اور سے پھٹ پڑے گا۔۔۔ مگر یہ ہوکر رہے گا۔۔۔

✒️ڈاکٹر سید عدنان خورشید

Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x

05/06/2026

یعنی انسان نہ صرف اپنی پرانی بری عادتوں کے خ*ل کو توڑ کر باہر آسکتا ہے بلکہ اپنے خوف پر بھی قابو پاسکتا ہے۔ چونکہ انسانی دماغ Hard Wired نہیں بلکہ Soft Wired ہے، لہٰذا یہ تصور غلط ہے کہ جو آج Maths میں کمزور ہے تو وہ پوری زندگی ایسا ہی رہے گا۔

دماغ کی تشبیہ ایک پلاسٹک سے دی جاتی ہے، اسی لئے Neuro Sciences میں دماغ کے لئے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے "Neuroplasticity" ، 👇
دماغ کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ نئے تجربات، سیکھنے، مشق، چوٹ یا ماحول میں تبدیلی کے جواب میں اپنے اعصابی روابط (neural connections) کو تبدیل، مضبوط یا دوبارہ منظم کر سکتا ہے۔
مثال کے طور پر:
نئی زبان سیکھنا
کوئی نئی مہارت حاصل کرنا
فالج (Stroke) کے بعد بحالی
عادات میں تبدیلی
یہ سب نیوروپلاسٹیسیٹی کی مثالیں ہیں۔

تو یاد رکھیں کہ،
> انسان کوئی فکسڈ مشین نہیں کہ جسے آپ نے آج نکما، نااہل، بداخلاق، ناکارہ و ناکام سمجھ کر چھوڑ دیا تھا، کل کو ہوسکتا ہے وہی سب سے زیادہ ذہین، اہل، بااخلاق اور کامیاب انسان بن چکا ہو۔

"پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اللہ ان کی برائیاں ان سے دور کردے گا اور انکے حال کو سنوار دے گا"

(القرآن، سورہ محمد، 47:2)

Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x

04/06/2026

یعنی ہم سب اپنے اپنے تجربات کے قیدی ہیں، اور دنیا کو اتنا ہی سمجھ پاتے ہیں جتنا ہمارا تجربہ ہوتا ہے۔۔۔ اس سے زیادہ نہ ہم دیکھ سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔۔۔ اور یہ ہی وہ جڑ ہے جہاں سے " ہر انسانی خطا کی ابتداء ہوتی ہے۔۔۔"

یوں ایک بات واضح ہے کہ ہم انسانوں کے قبیلے میں "کامیاب بھی وہ ہی ہوتا ہے، جسکا تجربہ و مشاہدہ جتنا زیادہ ہوتا ہے۔۔۔"

لیکن ہم انسان کچھ بھی کر لیں، مگر اس محدود دنیاوی زندگی میں " اپنے تجربہ و مشاہدہ کو اس نہج تک نہیں پہنچا سکتے کہ جہاں سے حضرت انسان کو ساری دنیا کی حقیقت سمجھ آجائے، لہٰذا ہم سے خطائیں مسلسل سرزد ہوتی رہیں گی اور یوں اس دنیا کی کوئی بھی کامیابی حتمی ( absolute success ) کہلائے جانے کی حقدار نہ ہوگی۔۔۔"

اب اس حدیث مبارکہ کو پڑھیں،

قالَ النبی ﷺ:
الله کی قسم! دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی یہ انگلی سمندر میں ڈالے (راوی یحییٰ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا)، پھر دیکھے کہ وہ انگلی کتنا پانی ساتھ لے کر واپس آتی ہے.

مسلم 7197
(ترمذی 2323؛ ماجہ 4108؛ مسند احمد 18175، 18171؛ حاكم 6510؛ حبان 6159؛ مشکوٰۃ 5156)

آئی کچھ سمجھ۔۔!!!

Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


43-5/A, Block 6 PECHS
Karachi
75400