05/05/2026
Learn Hand Gestures& Their Meaning
Educaton institution .Qaulity education in the area.Best High School.
05/05/2026
Learn Hand Gestures& Their Meaning
05/05/2026
سوال: KG کلاس کے بچوں کو English Alphabet (ABC) کیسے سکھایا جائے، کیا پہلے A for Apple جیسے pictures کے ذریعے سکھائیں یا سیدھا A B C D یاد کروائیں، اور پہلا قدم کیا ہونا چاہیے؟
جواب: KG کے بچوں کو ABC سکھانے کا درست اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ سیدھا A B C D زبانی رٹوانے کے بجائے “recognition + sound + picture” کے ساتھ آغاز کیا جائے، یعنی پہلا قدم ہمیشہ حروف کی پہچان (recognition) اور ان کی آواز (phonics) ہونا چاہیے، مثال کے طور پر صرف A نہ سکھائیں بلکہ “A says /a/ جیسے Apple” اس کے ساتھ تصویر دکھائیں، اس سے بچہ صرف حرف نہیں بلکہ اس کی آواز اور مطلب بھی سیکھتا ہے، اگر شروع میں صرف A B C رٹوا دیں گے تو بچے یاد تو کر لیں گے مگر پہچان اور پڑھنے میں مشکل رہے گی۔
عملی طور پر آپ ایک دن میں صرف 1 یا 2 حروف سکھائیں، پہلے بورڈ یا فلیش کارڈ پر حرف دکھائیں، پھر اس کی آواز بولیں، پھر تصویر کے ساتھ جوڑیں (A – Apple، B – Ball)، اس کے بعد بچوں سے بار بار repeat کروائیں اور کلاس میں چیزیں دکھا کر پوچھیں کہ “یہ کون سا لیٹر ہے؟”، اس سے ان کی understanding مضبوط ہوگی، ساتھ ہی alphabet song بھی استعمال کریں لیکن صرف گانا کافی نہیں ہونا چاہیے، اصل سیکھنا recognition اور sound سے ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ بچوں کو لکھوانے میں جلدی نہ کریں، پہلے انہیں ہوا میں انگلی سے، پھر بورڈ پر tracing اور آخر میں کاپی پر لکھنے کی طرف لائیں، اس سے وہ دباؤ کے بغیر سیکھیں گے، ساتھ ہی چھوٹی چھوٹی گیمز جیسے letter matching، picture matching یا letter hunt کروائیں تاکہ بچے دلچسپی کے ساتھ سیکھیں۔
مختصر طور پر پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ “A for Apple” کے ساتھ آواز اور پہچان سکھائیں، نہ کہ سیدھا ABC رٹوانا شروع کریں، اگر آپ یہ طریقہ مسلسل اپنائیں گے تو بچے نہ صرف ABC یاد کریں گے بلکہ صحیح طریقے سے پڑھنا بھی سیکھنا شروع ہو جائیں گے۔
(منصور اختر غوری)
Persona Educational Complex Shakardara Kohat
English Rules
1.
"دا The " اور " دی The"
انگریزی کے جو الفاظ واؤلز (vowels) سے شروع ہ وتے ہیں ان سے پہلے The ہو تو اس کا تلفظ " دی " ہوگا۔
مثلا ً The Earth کو دی ارتھ بولیں گے اور The East کو دی ایسٹ۔
2.
جو جوالفاظ consonents سے شروع ہوتے ہیں ان سے پہلے The ہو تو اس کا تلفظ "دا " ہوگا
مثلا ً The West کو دا ویسٹ بولیں گے اور The Sky کو دا سکاۓ بولیں گے۔
3.
انگریزی حروف تہجی A,E,I,O,U کو واؤلز Vowels کہا جاتا ہے۔ اس کا تلفظ واول wawal نہیں ہے جو ہم میں سے اکثر بولتے ہیں۔
4.
واؤلز کے علاوہ بقیہ تمام حروف consonant کہلاتے
ہیں
10 Golden Rules on Spelling Correction in English Grammar
Rule 1: When the suffix “full” is added to a word, one “ I” is removed.
Faith + full = faithful
Use + full= useful
Rule 2: If the word to which the suffix “full” is added ends in “ll”, one “I” is removed from the word also.
Skill +full = skilful
Will + full= wilful
Rule 3: Words of two or three syllables ending in single vowel + single consonant double the final consonant if the last syllable is stressed.
Eg:
Permit + ed = permitted
Occur + ing =occurring
Control + ed =controlled
Begin + ing = beginning
Rule 4: Consonant ‘L’ is doubled in the words ending in single vowel + “I” before a suffix beginning with a vowel eg.
Signal + ing = signalling
Repel + ent = repellent
Quarrel + ed = quarrelled
Travel + er = traveller
Rule 5 : Words ending in silent “e”, drop the “e” before a suffix beginning with a voweleg.
Hope + ing = hoping
Live + ed = lived
Drive + er = driver
Tire + ing= tiring
Rule 6: If the suffix begins with a consonant “e” is not dropped e.g
Hope + full = hopeful
Sincere + ly= sincerely
But,
True + ly = truly
Nine + th = ninth
Argue + ment = argument
Rule 7: A final “y” following a consonant changes to “i” before a suffix except “ing”. Eg.
Carry + ed = carried
Happy + ly = happily
Marry + age = marriage
Beauty + full = beautiful
But,
Marry + ing = marrying
Carry + ing = carrying
Rule 8: A final “y” following a vowel does not change before a suffix. Eg:
Obey + ed = obeyed
Play + er = player
Pray + ed= prayed
Rule 9:
When the suffix “ous” is added to a word ending in “ce”, “e” is changed to “i”.
Space + ous= spacious
Vice + ous= vicious
Malice + ous = malicious
Grace + ous= gracious
Rule 10:
When the suffix “ing” is added to a word ending in “ie”, “ie” is changed to “y”.
Lie + ing= lying
Die + ing = dying
Tie + ing= tying...
Math games
#تعلیم
19/04/2026
🎓 کامیاب طالبعلم کے 20 سنہری اصول
کامیابی کوئی اتفاق نہیں…
یہ روزمرہ کی عادات، نظم و ضبط اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔
ایک کامیاب طالبعلم اپنی زندگی کو اصولوں کے مطابق ڈھالتا ہے — یہی اصول اسے دوسروں سے ممتاز بناتے ہیں۔
---
✨ سنہری اصول
1️⃣ وقت کی پابندی اختیار کریں
2️⃣ روزانہ کا سبق اسی دن تیار کریں
3️⃣ کلاس میں مکمل توجہ دیں
4️⃣ سوال پوچھنے میں جھجھک نہ کریں
5️⃣ اساتذہ کا احترام کریں
6️⃣ اچھے دوستوں کا انتخاب کریں
7️⃣ موبائل اور فضول چیزوں سے دور رہیں
8️⃣ روزانہ کچھ نیا سیکھنے کی عادت ڈالیں
9️⃣ ہوم ورک وقت پر مکمل کریں
🔟 اپنی غلطیوں سے سیکھیں
1️⃣1️⃣ مثبت سوچ اپنائیں
1️⃣2️⃣ خود اعتمادی پیدا کریں
1️⃣3️⃣ صاف ستھرا اور منظم رہیں
1️⃣4️⃣ کھیل اور صحت کا خیال رکھیں
1️⃣5️⃣ کتابوں سے دوستی کریں
1️⃣6️⃣ اپنے اہداف (Goals) واضح رکھیں
1️⃣7️⃣ وقت کا صحیح استعمال کریں
1️⃣8️⃣ دوسروں کی مدد کریں
1️⃣9️⃣ مستقل مزاجی کو اپنائیں
2️⃣0️⃣ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور محنت جاری رکھیں
---
🚀 کامیابی کا راز
✔ چھوٹے چھوٹے اصول… بڑی کامیابی بناتے ہیں
✔ عادتیں ہی آپ کا مستقبل بناتی ہیں
✔ آج کی محنت… کل کی کامیابی ہے
یاد رکھیں!
جو طالبعلم خود کو بدل لیتا ہے…
وہ اپنی تقدیر بدل لیتا ہے 💫
---
Muhammad saad s/o Muhammad Asghar
Class 6th
Session 2016
استاد ' ہمارا معاشرہ اور مسائل
تحریر: عاصمہ حسن
استاد کا پیشہ نبیوں کا پیشہ ہے ـ ہمارے پیارے نبیؐ نے فرمایا " مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے ـ "
استاد کی اہمیت' عزت و احترام سے انکار نہیں کیا جا سکتا ـ ایک معلم صرف پڑھاتا نہیں ہے بلکہ مختلف شعبہ جات کے سی ای اوز' انجنئیرز' طبیب 'سیاستدان' سائنسدان اور دیگر کامیاب شخصیات تخلیق کرتا ہے ـ اپنا علم طلبا و طالبات میں بانٹ دیتا ہے ـ ان کی شخصیت کو بنانے اور سنوارنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے ـ استاد کا مرتبہ سب سے بلند ہے ـ
حضرت علی کا قول ہے کہ " جس نے مجھے ایک حرف سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیاـ "
استاد نور کی مانند ہے ' استاد ایک چراغ ہے جس سے علم کی روشنی پھوٹتی ہے ' جو اپنے اردگرد کے لوگوں کو خاص طور پر طلباء و طالبات کو منور کرتی ہے ـ استاد ایک گھنا سایہ دار درخت کی حیثیت رکھتا ہے جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر طالبِ علم اپنے علم کی پیاس بجھاتے ہیں ـ
ایک استاد ہی بہتر جاتا ہے کہ اس کے طلباء میں کون کونسی خصوصیات موجود ہیں یا وہ کس ذہنی قابلیت کے مالک ہیں مزید یہ کہ ان صلاحیتوں کو کیسے پرکھا جا سکتا ہے اور کیسے نکھارا جا سکتا ہے ـ ایک استاد ہی کوئلے کو ہیرا بنا دیتاہے ـ ایک عام پتھر کو تراش کر نگینہ بنا نے کا ہنر جانتا ہے ـ
معلم کے کہے الفاظ اور رویہ طلباء کی زندگی بنانے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ـ استاد کا اپنے طلباء پر اعتماد' دی گئی شاباش' ایک تھپکی حتٰی کہ بات کرنے کا انداز تک بہت اہمیت رکھتا ہے ـ استاد کا مسکرا کر دیکھ لینا ہی بچے میں اعتماد بھر دیتا ہے ـ ایک بچہ چاہے وہ عمر کے کسی بھی حصےمیں ہو اپنے استاد کو آئیڈیل مانتا ہے اور غیر ارادی طور پر اس کی پیروی کرتا ہے ـ اپنے استاد سے نصابی اور غیر نصابی بہت کچھ سیکھتا ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ایک استاد کا کردار اس کے شاگرد میں نظر آتا ہے ـ
والدین کے بعد ایک استاد ہی ہوتا ہے جو بہتر جانتا ہے کہ بچے میں کیا گُن ہیں اور وہ کن صلاحیتوں کا مالک ہے اور کیسے ان کو نکھارا جا سکتا ہے ـ اسی لیے استاد کو روحانی باپ کہا جاتا ہے ـ
جہاں ایک استاد کی اہمیت' کردار وشخصیت سازی اور علم کے سرچشمے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا وہیں کئی ایسے مسائل ہیں جن سے ہم منہ نہیں پھیر سکتے جس کی وجہ سے اس مقدس پیشے کو وہ عزت و احترام نہیں مل رہا جو اس کا حق ہے یا جو مقام اور مرتبہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں استاد کو حاصل ہے ـ
عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جب کسی اور شعبہ میں نوکری نہیں ملتی تو مجبوری میں استاد کا پیشہ اپنا لیا جاتا ہے اور خاص طور پر خواتین جو نوکری بھی کرنا چاہتی ہیں لیکن گھر اور بچوں کو بھی وقت دینا چاہتی ہیں وہ اسکول میں نوکری کر لیتی ہیں ـ اس مبالغہ آرائی سے استاد کی قدرومنزلت میں شدید کمی دیکھنے کو ملی ہے ـ
پھر سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں' خاص طور پر چھوٹے پیمانے پر گلی کوچوں میں کھلے ہوئے اسکولوں میں اساتذہ کو اجرت بہت کم یا برائے نام دی جاتی ہے ـ ایک محتاط اندازے کے مطابق پانچ ہزار سے سات ہزار تنخواہ دی جاتی ہے جو ایک مزدور کی طے کردہ اجرت 30 ہزار ماہانا ہے اس سے بھی کہیں کم ہے ـ اب اتنی کم اجرت پر کام کرنے کی مجبوری کوئی بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ تجربہ حاصل کرنا' جیب خرچ نکالنا یا اخراجات میں حصہ ڈالنا وغیرہ وغیرہ ـ
بڑے پرائیویٹ اسکولوں میں صورتِ حال بہتر اور مختلف دکھائی دیتی ہے جہاں اساتذہ کو مختلف ورکشاپ اور تربیتی پروگرام کروائے جاتے ہیں ' نئے دور کی ضروریات کے مطابق ان کو تربیت دی جاتی ہے اور سکھایا جاتا ہے کہ کیسے بچوں کی ذہنی نمائش اور ترقی میں اہم اور کلیدی کردار ادا کرنا ہے لیکن یاد رہے یہ سہولت ان اسکولوں میں میسر نہیں جو پسماندہ علاقوں میں ہیں جہاں بنیادی سہولتیں تک موجود نہیں تو درس و تدریس کا شعبہ تو بہت دور کی بات ہے اس کے علاوہ گلی کوچوں اور گھروں میں کھلے اسکولوں میں جدید تربیتی اسٹاف موجود نہیں ہوتا ـ ایسے اسکولوں میں استاد بھی وہی ہوتے ہیں جو اسی علاقے' محلے سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ اتنی کم تنخواہ میں کوئی دور سے آنے کو تیار نہیں ہوتا لہذا استاد کی قابلیت اور صلاحیتوں پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے ـ
استاد کا پیشہ اہم اور معزز پیشہ ہے جو معاشرے کی تعمیروترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن چونکہ ہمارے ملک میں اس پیشے کی قدر نہیں اور نہ ہی وہ عزت و مقام حاصل ہے جو ترقی یافتہ ممالک کا شیوہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی اور اخلاقیات میں ان ممالک سے بہت پیچھے ہیں ـ
امریکہ میں تین طرح کے لوگوں کو وی آئی پی کا درجہ دیا جاتا ہے جن میں معذور 'سائنسدان اور استاد شامل ہیں ـ
فرانس کی عدالت میں استاد کے سوا کسی کو کرسی پیش نہیں کی جاتی ـ
جاپان میں پولیس کو ایک استاد کو گرفتار کرنے سے پہلے عدالت سے خصوصی اجازت لینی پڑتی ہے ـ
جنوبی کوریا میں کوئی بھی استاد کارڈ دکھا کر ان تمام سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو ہمارے ملک میں بڑے سیاستدانوں کو ملتی ہیں ـ
اٹلی میں جب اشفاق احمد صاحب اپنی تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے تب ان کا ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر چالان ہو گیا جو وہ اپنی مصروفیت کی وجہ سے مقررہ وقت پر نہ بھر سکے جب انھیں عدالت میں پیش کیا گیا اور آپ نے تاخیر کی وجہ بتائی کہ میں ایک استاد ہوں اور اپنی تدریسی سرگرمیوں کی وجہ سے چالان بروقت ادا نہیں کر سکا تو جج یہ سنتے ہی احترامً کھڑا ہو گیا اور حیرت و استجاب سے کہنے لگا کہ ایک استاد عدالت میں موجود ہے ـ
اشفاق احمد صاحب کو بہت زیادہ حیرت ہوئی کہ ان کو ایک استاد کی حیثیت سے اس قدر اہمیت دی گئی جس کا انہیں اندازہ تک نہیں تھا اور ہمارے پاکستان میں استاد کی کوئی خاطر خواہ عزت نہیں ' کوئی وقار نہیں اور شاید یہی ہمارے زوال کی ایک بڑئی وجہ ہےـ
ہارون رشید کے دربار میں جب کوئی علما کرام تشریف لاتے تو وہ ان کے استقبال میں کھڑے ہو جاتے جس پر ان کے درباریوں نے کہا کہ اس طرح سلطنت کا رعب و دبدبہ ختم ہو جائے گا جس کے جواب میں ہارون رشید نے کہا کہ بے شک ہو جائے ـ
اسکندراعظم نے کہا کہ اس کے والدین اسے آسمان سے زمین پر لائے جب کہ استاد نے اس کو زمین سے آسمان تک پہنچایا ہے ـ
بطلیماس استاد کی شان میں کہتا ہے کہ " استاد سے ایک گھنٹہ گفتگو دس برس کے مطالعے سے بہتر ہے ـ"
آج ایک استاد کو وہ عزت نہیں دی جاتی اس میں سسٹم کی بھی غلطیاں ہیں اور والدین کی بھی کوتاہیاں شامل ہیں ـ اب وہ ادب و احترام' رکھ رکھاؤ' تہذیب' تکریم نہیں رہی جو ہمارے آباؤ اجداد کا خاصہ تھا ـ اس میں اساتذہ میں بھی کمی نظر آتی ہے کہ وہ اپنے پیشے سے مخلص نہیں رہے ' ان میں جذبہ ایمان داری نہیں رہا ـ شخصیت کو بنانے اور نکھارنے والے جو اوصاف ایک استاد میں ہونے چاہئیے وہ اب ان میں موجود نہیں ظاہر ہے تمام اساتذہ ایک جیسے نہیں ان میں سے کچھ گنتی کے استاد آج بھی ایسے موجود ہیں جو بے لوث محنت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے طالبات زندگی کی ہر دوڑ میں محنت کریں اور کامیابی حاصل کریں اور ان کا نام روشن کریں ـ ایسے استاد اپنے منصب کا مقصد اور خوائص بخوبی جانتے ہیں ـ
جب بات ذمہ داریوں کی ہوتی ہے تو ہم سب کو اپنی اپنی جگہ ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئیے اور ان کو بخوبی نبھانا بھی چاہئیے کیونکہ ہمارا ایک صحیح قدم کئی زندگیوں کو بدل سکتا ہے ـ
حکومت اور دیگر اداروں کو بھی چاہئیے کہ اساتذہ کی تربیت پر کام کریں اور ایسے مواقع مہیا کریں کہ ایک استاد خود بھی سیکھے اور جدید علوم حاصل کرے جو کہ بہت ضروری ہے جب ایک استاد علم کا سمندر ہو گا تبھی ایک طالبَ علم اس میں غوطہ لگا سکے گا ـ مزید یہ کہ صرف انھی اسکولوں کو لائسنس مہیا کیا جائے جو اساتذہ کو معقول اجرت کے ساتھ بہتر تعلیم دے سکیں ـ تاکہ اس پیشے کا معیار بہتر بنایا جا سکے کیونکہ استاد چاہے وہ کسی بھی سطح پر ہو طالبات کے لیے ایک مثال ہوتا ہے ـ ایک مضبوط کردار کا استاد ہی مضبوط معاشرہ تخلیق کر سکتا ہے ـ
Presentation skills are crucial in many areas of life, including:
- *Career advancement*: Effective presentations can help you stand out, communicate ideas, and achieve goals.
- *Education*: Presentations help students develop critical thinking, research, and communication skills.
- *Business*: Presentations are key for pitching ideas, selling products, and building relationships.
- *Personal growth*: Presentations can boost confidence, improve public speaking, and enhance overall communication.
Some key benefits of strong presentation skills include:
- Engaging audiences
- Conveying complex ideas clearly
- Building credibility
- Achieving goals and influencing others
Do you want tips on improving presentation skills? 😊
کتابی علم کے ساتھ میدان کی دھول بھی ضروری ہے! 🏆
پرسونہ ماڈل اسکول اینڈ کالج شکردرہ میں ہم بچوں کی ذہنی نشونما کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی صحت اور شخصیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ ہمارا پرکشش ماحول اور کھیلوں کی سرگرمیاں بچوں کو تخلیقی اور متحرک بناتی ہیں۔
✅ بہترین تعلیمی ماحول
✅ کھیل اور ہم نصابی سرگرمیاں
✅ مثالی تربیت
اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے آج ہی رابطہ کریں