Aakhri Paigham

Aakhri Paigham

Share

Passionate about preserving the legacy of Allama Iqbal through his poetry and philosophy.

16/06/2026

Kafla'ay Hijaz Mein Aik Hussain(A.S). Bhi Nahin
Garcha Hai Tabdaar Abhi Gaisu'ay Dajla-o-Furat







13/06/2026

(Bang-e-Dra-059) - Tere Ishq Ki Intiha Chahta Hun

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
معانی: ترےعشق: محبتِ الٰہی ۔ انتہا: اخیر،آخری حد، کمال۔ سادگی: بھولاپن
Tere Ishq Ki Intiha Chahta Hun
Meri Sadgi Dekh Kya Chahta Hun
Completion of your Love is what I desire
Look at my sincerity what little I desire

ستم ہو کہ ہو وعدۂ بےحجابی
کوئی بات صبرآزما چاہتا ہوں
معانی: ستم: مراد عشق کو بڑھانے والی کیفیت۔ وعدۂ بےحجابی: اللہ کے دیدار یا جلوہ دکھانے کا وعدہ۔ صبر آزما : صبر کا امتحان ، جس سے قوتِ برداشت پرکھی جائے۔
Sitam Ho Ke Ho Wada-e-Be-Hijabi
Koi Baat Sabr Azma Chahta Hun
It may be oppression or the promise of unveiling
Something testing my perseverance I desire

یہ جنّت مبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں
معانی: زاہد: عبادت گزار، دنیا سے کنارہ کش۔ سامنا: روبرو ہونا، ملاقات، دیدار۔
Ye Jannat Mubarik Rahe Zahidon Ko
Ke Mein Ap Ka Samna Chahta Hun
May the pious be happy with this Paradise
Only to see your Countenance I desire

ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سُنا چاہتا ہوں
معانی: دل: قلب، احساس کا مرکز۔ شوخ: تیز اور بےتاب مزاج۔ لَنْ تَرانِیْ : " تُو مجھے نہیں دیکھ سکتا "
حضرت موسیٰؑ کی درخواست پر اللہ کا جواب
Zara Sa To Dil Hun Magar Shaukh Itna
Wohi Lan-Tarani Suna Chahta Hun
Though I am but a tiny little heart I am so bold
To hear the same Lan tarani I desire

کوئی دَم کا مہماں ہوں اے اہلِ محفل
چراغِ سحَر ہوں، بُجھا چاہتا ہوں
کوئی دم کا مہماں : چند لمحوں کا مہمان ، مختصر زندگی کا مسافر۔ اہلِ محفل: مجلس کے شرکاء۔ چراغِ سحر: صبح سویرے کا چراغ جسے کسی وقت بجھایا جا

31/05/2026

Apni Millat Par Qiyas Aqwam-e-Maghrib Se Na Kar.
Khas Hai Tarkeeb Mein Qoum-e-Rusool-e-Hashmi

Do not compare your nation to the nations of the West.
The nation of the Hashimi Prophet (SAW) is special in its composition.

(Bang-e-Dra-152) Mazhab

اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی

معانی: قیاس کرنا: دو چیزوں کو ایک جیسا سمجھنا ۔ اقوامِ مغرب: یورپ کی قو میں ۔ خاص: خاصیت، الگ ہونا ۔ ترکیب: بناوٹ ۔ رسول ہاشمی: حضرت محمد ﷺ جو حضرت ہاشم کی اولاد سے تھے ۔

مطلب: اے مسلمان ! تو اپنی قوم کا موازنہ مغربی قوموں سے نہ کر جن کی بنیاد ہی مادہ پرستی ہے۔ تُو تو اُس رسولِ ہاشمی ﷺ کی امت سے ہے جو ترکیب اور وضح میں ساری دنیا سے الگ ہے۔ یعنی اسلام کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور قوم یا مذہب کی ضرورت نہیں۔ ہمارے لیے اسلام ہی کافی ہے۔

https://allamaiqbal.carrd.co/
https://www.youtube.com/
https://www.facebook.com/AakhriPaigham/
https://www.instagram.com/akhripaigham/
https://twitter.com/AakhriPaigham
https://www.tiktok.com/

23/05/2026

Aaj Bhi Jo Baraheem (A.S.) Ka Imaan Paida
Aag Kar Sakti Hai Andaz-e-Gulistan Paida

آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گُلستاں پیدا

But if the faith of Abraham there, once again, is born,
Where leaps this flame, flowers will bloom, and laugh its blaze to scorn.

براہیمؑ کا ایماں: حضرت ابراہیمؑ کی سی ایمانی قوت کہ وہ نمرود کی آگ میں جانے کے لیے تیار ہو گئے اور بحکم خدا آگ گلزار بن گئی۔ اندازِ گُلستاں: باغ جیسی ٹھنڈک، راحت اور خوشگواری۔

مطلب: اگر آج بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا کامل یقین، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور حق پر ڈٹ جانے والا ایمان پیدا ہو جائے، تو سخت سے سخت آگ بھی پھولوں کے باغ کی مانند راحت اور سلامتی میں بدل سکتی ہے۔
جب حضرت ابراہیمؑ کو نمرود کی جلائی ہوئی آگ میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا:
"اے آگ! ابراہیمؑ پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔"
چنانچہ وہی بھڑکتی ہوئی آگ حضرت ابراہیمؑ کے لیے گلزار بن گئی۔

(Bang-e-Dra-121) The Answer To The Complaint - - جوابِ شکوہ Jawab-e-Shikwa

~ Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.)

18/05/2026

Be-Khatar Kood Para Aatish-e-Namrood Mein Ishq
Aqal Hai Mehv-e-Tamasha-e-Lab-e-Baam Abhi

بےخطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

Love fearlessly jumped into the fire of Namrud
Intellect is absorbed in the spectacle from roof‐top still

معانی: آتشِ نمرود: وہ دہکتی ہوئی آگ جو نمرود نے حضرت ابراہیمؑ کو جلانے کے لیے۔ تیار کروائی۔ عشق: اللہ تعالیٰ سے سچی اور کامل محبت و ایمان۔ عقل:ظاہری حساب کتاب اور دنیاوی سوچ۔ محوِ تماشا:حیرت میں کھڑے ہو کر صرف دیکھتے رہ جانا۔ لبِ بام: چھت یا بلند جگہ کا کنارا؛ یہاں مراد دور کھڑے رہنا ہے۔

مطلب: عشق جب فیصلہ کرتا ہے تو وہ عقل سے بالا تر ہو کر کرتا ہےاس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عشق الہٰی کے طفیل انجام کی پرو اکیے بغیر نمرود کی آگ میں کود پڑے ۔ اس کے برعکس اگر یہ عمل عقل و دانش تک محدود ہوتا تو وہ پہلے تمام حالات کا احتیاط سے جائزہ لیتے اور فوری عمل سے گریز کرتے ۔

(Bang-e-Dra-166) O dejected nightingale your lament is immature still (نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی) - Nala Hai Bulbul-e-Shourida Tera Khaam Abhi

ً~ Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.)

16/05/2026

Ye Faizan-e-Nazar Tha Ya Ke Maktab Ki Karamat Thi
Sikhaye Kis Ne Ismaeel (A.S.) Ko Adaab-e-Farzandi

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی

Was it Father's Glance, or the miracle of Institute
Who taught Ismail (A.S.) the manners of being an obedient child?

معانی: فیضانِ نظر:نگاہ کا روحانی اثر یعنی حضرت ابراہیمؑ کی تربیت، اور نیک صحبت کا اثر۔ مکتب :تعلیمی ادارہ، مدرسہ۔آدابِ فرزندی:بیٹے ہونے کے طور طریقے، فرمانبرداری، اطاعت

مطلب: اقبالؒ اس شعر میں حضرت اسمٰعیلؑ کی غیرمعمولی اطاعت وفرمانبرداری کو حیرت سے دیکھتے ہیں۔ اقبالؒ سوال اٹھاتے ہیں: کیا یہ کسی مردِ کامل (یعنی حضرت ابراہیمؑ) کی نگاہِ تربیت کا فیضان تھا؟ یا کسی درسگاہ (مکتب) کی ظاہری تعلیم کا اثر؟ کہ اتنے کم عمر بچے نے قربانی، رضا اور توحید کا ایسا بلند مرتبہ سبق کہاں سے سیکھا؟ جب حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا، تو حضرت اسمٰعیلؑ نے نہ کوئی سوال کیا، نہ خوف دکھایا—بلکہ کامل اطمینان اور عاجزی کے ساتھ خود کو پیش کر دیا۔ یہ آدابِ فرزندی کسی رسمی مکتب کی تعلیم نہیں سکھا سکتی۔ یہ تو ابراہیمؑ جیسے باپ کی صحبت، سچائی، قربانی اور اخلاص کا وہ اثر ہے جو لفظوں سے نہیں، عمل سے دلوں میں اترتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی خود ایک جیتی جاگتی درسگاہ تھی جہاں بندگی، صدق اور قربانی اس درجے کی تھی کہ وہی وجود اولاد کو بھی اطاعت اور وفا سکھا گیا۔ اقبال یہاں یہی پیغام دیتے ہیں: سچی تربیت نہ مکتب می�

07/05/2026

(Bang-e-Dra-121) Jawab-e-Shikwa (The Answer To The Complaint) جوابِ شکوَہ

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

کی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں



🎞️ Background(s):
Zaid Amir - Feel the Mercy

05/05/2026

(Zarb-e-Kaleem-020) Azadi-e-Shamsheer Ke Alan Par - Written On The Occasion Of The British Governmentʹs Permission To Keep Sword - آزادیِ شمشیر کے اعلان پر

Socha Bhi Hai Ae Mard-e-Musalman Kabhi Tu Ne
Kya Cheez Hai Foulad Ki Shamsheer-e-Jigar Dar
O Muslim, did you ever think or feel
What is meant by piercing sword of steel?

Uss Bait Ka Ye Misra-e-Awwal Hai Ke Jis Mein
Poshida Chale Ate Hain Touheed Ke Asrar
It is the first hemistich of this verse
That Godʹs Oneness shows in form so terse.

Hai Fikr Mujhe Misra-e-Sani Ki Ziada
Allah Kare Tujh Ko Atta Faqr Ki Talwar
My anxiety for the second half is greater though,
May God the sword of faqr on you bestow

Qabze Mein Ye Talwar Aa Jaye To Momin
Ya Khalid Janbaz Hai Ya Haidar-e-Karar (R.A.)

If Muslim true can get this sword in hold
He is Ali (R.A.) the Lion of God, or Khalid (R.A.) bold

سوچا بھی ہے اے مردِ مسلماں کبھی تُو نے
کیا چیز ہے فولاد کی شمشیرِ جگردار
مطلب: کیا تو نے کبھی سوچا کہ جس تلوار کی تمہیں آزادی ملی ہے، وہ محض لوہے کی ایک تیز دھار چیز ہی ہے—اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟

اُس بیت کا یہ مصرعِ اوّل ہے کہ جس میں
پوشیدہ چلے آتے ہیں توحید کے اسرار
مطلب: اس شعر اور اگلے شعر میں “بیت، مصرعِ اول اور مصرعِ ثانی” کی اصطلاحات کے ذریعے شاعر اپنی بات کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ اس شعر کا پہلا مصرع ہے جس میں توحید کے راز پوشیدہ ہیں، یعنی اصل قوت عقیدۂ توحید میں ہے۔

ہے فکر مجھے مصرعِ ثانی کی زیادہ
اللہ کرے تجھ کو عطا فقر کی تلوار
مطلب: اقبالؒ فرماتے ہیں کہ انہیں زیادہ فکر دوسرے مصرع کی ہے، اور وہ دعا دیتے ہیں کہ اللہ تمہیں “فقر کی تلوار” عطا کرے۔ یعنی جس طرح شعر دو مصرعوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اسی طرح صرف ظاہری تلوار کافی نہیں—جب تک فقر (روحانی قوت، غیرتِ ایمانی) نہ ہو، یہ تلوار بے کار ہے۔

قبضے میں یہ تلوار بھی آ جائے تو مومن
یا خالدِؓ جانباز ہے یا حیدرؓ کرار
مطلب: اقبالؒ فرماتے ہیں کہ انہیں زیادہ فکر دوسرے مصرع کی ہے، اور وہ دعا دیتے ہیں کہ اللہ تمہیں “فقر کی تلوار” عطا کرے۔ یعنی جس طرح شعر دو مصرعوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اسی طرح صرف ظاہری تلوار کافی نہیں—جب تک فقر (روحانی قوت، غیرتِ ایمانی) نہ ہو، یہ تلوار بے کار ہے۔

~ Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.)

02/05/2026

(Bang-e-Dra-106) Shikwa شکوہ

Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.)

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Lahore
546000