فرحین رضوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔
اکثر والدین سے میں نے یہ شکایت سنی ہے کہ ان کا بچہ ذہین تو ہے لیکن جہاں ذہن کو استعمال نہیں کرناچاہیے اسے وہاں استعمال کرتا ہے۔جہاں دماغ کو کام میں لانا چاہیے وہاں اسے کام میں نہیں لاتا۔اس طرح کی شکایات عام ہیں۔ہمیں اس شکایت کی تہہ تک پہنچنے اور اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہ شکایت بالکل درست ہے اور جس بچے سے یہ شکایت ہے اس کا بھی اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔اکثر و بیشتر حالات میں مسئلہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔
شکایت کرنے والے والدین سے میں نے پوچھا ـ’’بچہ ذہین ہے‘‘ اس کا دماغ بھی اچھا ہے تو پھر بتائیے کہ اپنے دماغ کو یہ کہاں استعمال کرتا ہے؟
انھوں نے فرمایا’’آپ اسے اگر کوئی اشتہار پڑھ کر سنانے کو کہیں تویہ اسے فوراً یاد کرلیتا ہے۔ویڈیو گیمز کھیل نے میں اسے کوئی مات نہیں دے سکتا۔ہماری گلی کے بچوں میں کسی کے پاس بھی ویڈیو گیمز کھیل نے کی ایسی مہارت و صلاحیت نہیں ہے۔
ایک اور ماں نے مجھے بتایا’’میں روزانہ پریشان رہتی ہوں کیونکہ میرا بچہ اسکول میں آئے دن نت نئے مذاق (Pranks)کرتارہتاہے۔ہر دن مجھے ڈرلگارہتا ہے کہ اسکول سے آج کوئی شکایت نہ آجائے۔مزید کہتی ہیں’’مذاق و شرارت کے وقت بچہ اپنے دماغ کو کیسے استعمال کرئے گا اس کی پیش قیاسی ممکن نہیں ہے۔وہ مذاق اورشرارت کے وقت ایسے تخلیقی طریقے(Innovative Techdniques) استعمال کرتا ہے کہ سبھی دنگ رہ جاتے ہیں۔ ٹیچرس بھی اپنی نجی گفتگو میں اس کی تعریف کیے بغیر نہیں رہتے۔جب اسی تخلیقت کواسے پڑھائی میں بروئے کار لانے کو کہا جاتا ہے وہ اسے استعمال نہیں کرپاتا۔اس کی تخلیقی صلاحیتیں کہیں اور استعمال میں آئیں گی لیکن پڑھائی میں ہرگز نہیں۔
اس طرح کے سوالات کرنے والے والدین ہر گھر میںمل جائیں گے۔آئیے اس شکایت کی اصل وجہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1۔ہر بچے کے پاس ذہانت پائی جاتی ہے لیکن وہ ظاہر نہیں ہو پاتی۔
2۔کن حالات میں بچہ ذہانت کو استعمال میں لاتا ہے، اسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔
پہلاطریقہ
عقل ودانائی کا راست تعلق اعتماد سے ہے
بچوں میں ذہانت کو فروغ دینے یا پھر اسے درست راہ پر متعین کرنے سے پہلے ہمیںعلم ہونا چاہیے کہ بچوں میں ذہانت کے فروغ کا عمل کب انجام پاتا ہے اور کب نہیں۔ایک اچھا مالی پودوں کی بہتر نشوونما کے لیے نہ صرف زمین کو زرخیز بنانے کے جتن کرتا ہے بلکہ اس کی مناسب نگہداشت پر بھی توجہ دیتا ہے۔وہ کاشت کے دوران زمین کو ہر طرح کی کثافتوں اور دبائو سے محفوظ رکھتا ہے۔’’زمین کو مناسب مقدار میں پانی اور ہوا مل رہی ہے یا نہیں ،اس بات پر اس کی گہری نظر رہتی ہے۔بچوں کے بارے میں بھی ہمارا بالکل یہ ہی معاملہ ہوناچاہیے۔
ہر بچے میں ذہانت ہوتی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ فطری طورپر ہر بچہ ذہانت لے کر اس دنیا میں آتا ہے۔یعنی زمین پہلے ہی سے زرخیز ہے۔بس ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ بچے کی ذہانت میں کب اضافہ ہورہاہے اور کب نہیں ۔
ہر بچے میں آنکھ،کان ناک،زبان ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔تمام بچے اپنے ہاتھ اور پائوں ایک ہی طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔اسی طرح تمام بچوں کے دماغ بھی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔جب دماغ ترقی پاتا ہے تو ذہانت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔بچوں کے ذہن ترقی پاتے ہیں تو ان میں اعتماد پروان چڑھتا ہے۔اعتماد بچوں میں ذہانت کو تیزی سے پروان چڑھاتاہے۔پہل نہ کرنے والے،خوف زدہ،کم اعتماد والے بچے اپنی ذہانت کو استعمال کرنے سے کتراتے ہیں۔بچوں کا شرمیلاپن بھی انھیں اپنی ذہانت کے استعمال سے باز رکھتا ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں ’’جو چیز استعمال میں نہیں آتی وہ شئے ترقی بھی نہیں کرتی‘‘۔اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کی ذہانت میں اضافہ و فروغ کے لیے ان کے اعتماد کو پروان چڑھایا جائے۔ان کی ذہانت کو فروغ دینے کے وافر سامان مہیا کیے جائیں۔
ہمارے برتائو اور طرزعمل سے بچوں کے اعتماد میں اضافہ ہوتاہے۔ہم ان سے جیسا برتائو کریں گے اور جو افکار و خیالات ان کے ذہنوںمیں منتقل کریں گے ان میں اسی قسم کا اعتماد اور فکر پیدا ہوگی۔اعتماد باہر سے حاصل کرنے والی شئے نہیں ہے بلکہ یہ اعتماد ہمارے اندر ہوتا ہے۔اسے پیدا کرنے اورپروان چڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
حیدرآباد(دکن) میںاساتذہ (لکچررس اورپروفیسرس) کے ایک ورکشاپ کے دوران ایک خاتون پروفیسرنے مجھ سے پوچھا’’میری ایک چارسالہ لڑکی ہے ۔ ڈرپوک ہے اوراس میں اعتماد بھی کم ہے‘‘۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ورکشاپ میں موجود ہر شخص کا سوا ل تھا۔
میں نے خاتون پروفیسر سے پوچھا’’کیامیںکل صبح آپ کے گھر ناشتے کے لیے آسکتا ہوں‘‘۔ محترمہ نے کہا’’ہاں ،ہاں ،کیوں نہیں آپ بالکل آسکتے ہیں‘‘۔’’کل آپ میرے لیے کیا پکائیں گی؟‘‘
’’آپ بتائیے کیا پکائوں؟ لذیذ حیدرآبادی بریانی یا پھر چاول،کھٹی دال اور تلا ہوا گوشت؟‘‘میں نے کہا’’کیا آپ بریانی مجھے ایک عام سی پلیٹ میں پیش کریں گی یا پھر کسی خاص پلیٹ میںسرو(Serve) کریں گی ؟‘‘۔خاتون پروفیسر مسکرائی اور کہا’’مہمان کوکھانا تو خاص پلیٹس(برتن) میں ہی سرو(پیش ) کیاجاتا ہے۔خاص پلیٹس میں کھانا پیش کروں گی‘‘۔ میں فوراً پروفیسرصاحبہ سے پوچھ بیٹھا کہ اگر اس وقت آپ کی چار سالہ بیٹی خاص پلیٹ میں مجھے بریانی سرو(پیش ) کرنا چاہے تو کیا آپ اسے ایسا کرنے کی اجازت دیں گی؟‘‘۔خاتون کے چہرے کے تاثرات بدل گئے،انھوں نے کہا’’میںبھلا کانچ کی پلیٹس کس طرح اسے دوں گی۔وہ اسے توڑ دے گی اور خود کو بھی زخمی کرلے گی‘‘۔میں نے کہا’’اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی بیٹی سے کہہ رہی ہیں کہ تم کانچ کے برتن سنبھالنے کے لائق نہیں ہو‘‘۔پروفیسر صاحبہ کے ماتھے پر کئی سوال نمودارہوئے۔
اکثر والدین اپنے بچوں کو محسوس یا غیر محسوس ،دانستہ یا غیر دانستہ طورپر کہتے ہیں کہ تم یہ کام کرنے کے قابل نہیں ہو۔والدین بچوں سے جو بھی کہتے ہیں ان کے لیے وہ الفاظ پتھر کی لکیر بن جاتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں گھر کرجاتے ہیں۔
کانچ کی پلیٹ کی قیمت کیا ہوگی؟پچیس روپے،پچاس یا پھر سو روپے۔اگر اس موقع پر بچی میں اعتماد پیدا ہوجاتا ہے تو بتائیے کہ اس کی قیمت کیا ہوگی؟اگر کانچ کی پلیٹ ٹوٹتی ہے تو پچیس،پچاس یا سوروپے کا نقصان ہوگا۔ اگر لڑکی کا اعتماد مجروح ہوگیااوراس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ یہ کام نہیں کرسکتی ہے تو بتائیے کہ اس کا کتنا نقصان ہوگا؟اس نقصان کی پابجائی آپ کریں گی یا پھر عمر بھر آپ کی بیٹی کرے گی؟
ہال میں موجود سبھی تعلیم یافتہ بلکہ تعلیم دینے والوں نے برملا اعتراف کیاکہ ایسے کئی واقعات ان سے سرزد ہوئے ہیںاور انھوں نے غیر دانستہ طور پر بچوں کو اعتماد سے دورکردیاہے۔پھربتائیے کہ کیا کیا جائے، کانچ کی پلیٹ بھی نہ ٹوٹے اور کام(اعتمادبھی فروغ پائے)بھی ہوجائے۔
ہمیں کیاکرنا چاہیے
بچوں کو بتایا جائے کہ شیشے کیوں ٹوٹ جاتے ہیں۔ پلاسٹک کی اشیاء کیوں نہیں ٹوٹتی ۔کانچ کی پلیٹوں کو کیسے سنبھالا(ہینڈل کیاجائے) جائے کہ وہ ٹوٹنے سے بچے۔آپ بچوں کو جب یہ معلومات فراہم کریں گے تو نہ صرف ان کی معلومات میں اضافہ ہوگا بلکہ دووجہ سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
1۔ درست معلومات کی فراہمی سے اعتماد بڑھے گا۔
2۔دوسرا کام کی تکمیل سے حاصل ہونے والی خوشی جو ان کے چہروں پر دیکھی جاسکتی ہے اس سے بھی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
گھر میں آئے ہوئے مہمانوں کو ایک چھوٹی بچی کشتی(ٹرے) میں بڑے سلیقے سے انھیں جب کھانا پیش کرے گی۔یہ دیکھ کرتو سبھی مہمان اور گھر کے افراد خوش ہوجائیں گے اوراس کی تعریف کریں گے۔تمام لوگ برملا کہیں گے ایک چھوٹی سے لڑکی نے کس خوبی سے ٹرے کو سنبھالا اور کتنے سلیقے سے کام کو انجام دیاہے۔مہمانوں کا بے ساختہ ردعمل اور تعریف بچی کے ذہن پر نقش ہوجائے گی اور اس میں کبھی نہ تھکنے اور مرنے والا اعتماد پیداہوجائے گا۔
بچوں کی منفی ذہنیت اورناچاری کی وجہ والدین کا بے جا خوف و فکر مندی
غیر دانستہ طورپربچوں کے اعتماد کو کچل دینے اور پسپا کرنے والی مثالیں اکثر گھروں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ایک واقعہ جو میں نے گرمیوں کی چھٹیوں میں دیکھااس کایہاںذکربے محل نہ ہوگا۔اپنے بیٹے کو پیراکی سکھانے کی خاطر میں سوئمنگ پول لے گیا۔وہاںکوئی پیراکی کررہاتھاتو کوئی پیراکی کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک دس سال کے بچے کو اس کے والدین پیراکی (سوئمنگ) سکھانے لائے ہیں۔خوش گوار ماحول تھا لیکن بچے کی ماں کافی پریشان اور متفکر دکھائی دے رہی تھی۔اس نے کم از کم سو مرتبہ اپنے بچے سے کہا کہ اکیلے پانی میں مت جائو،گہرائی میں مت جائو۔یقینا وہ اپنے بچے کی حفاظت کے لیے فکرمند تھی۔اس کے چہرے، الفاظ اور باڈی لینگویج(جسمانی حرکات) سے اس کی پریشانی کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔بچے کو سوئمنگ کاسٹیوم پہنا کر جب اس کا باپ سوئمنگ پول کے قریب پہنچا ۔بچہ پانی میں(سوئمنگ پول) میں اترنے کو تیار نہیں تھا۔وہ زاروقطار رو رہاتھا۔باپ کی لاکھ کوششوں کے باوجودبھی وہ پانی میں نہیں اترا۔
اعتماد پیدا کرنے کا مثبت طریقہ
اسی وقت میرا بیٹا بھی چینج چنگ روم سے مسکراتا ہوا نکلا۔ سوئمنگ کاسٹیوم پہن کر خوشی ا ور جذبہ کے ساتھ پیراکی کے لیے مکمل تیار تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا، کیا میں پانی میں چھلانگ لگا سکتا ہوں ۔
میں مسکرایا اور اس کی کمر کے گرد سوئمنگ ٹیوب ڈالی،ہاتھوں میں ائیر بلونس پہنائے اور کہا بھاگو اور پانی میں کو د جائو۔بغیر کسی تاخیر کہ وہ بھاگتے ہوئے آیا اور پانی میں چھلانگ لگادی۔اگلے ہی لمحے وہ پانی کی سطح پر تیر رہاتھا۔میں اس کے بالکل قریب موجود رہا۔میرے قریب موجود لوگ مجھ سے پوچھنے لگے آپ کا بچہ کتنے دنوں سے پیراکی (سوئمنگ ) کررہا ہے۔میں نے کہا ’’یہ اس کا پہلا دن ہے‘‘۔لوگ حیران تھے کہ بچے نے کس طرح سے اتنی ہمت دکھائی اور پانی میں چھلانگ لگادی؟ وہ پانی سے کیوں نہیں ڈرا؟
میرے بیٹے کے پانی میں چھلانگ لگانے کی واحد وجہ جو تھی کہ میں نے یا میرے گھر میں کسی نے بھی اسے پانی میں کودنے سے منع نہیں کیا۔مجھے یقین تھا کہ حفاظتی اقدامات کے بعدوہ سب کچھ آسانی سے کرلے گا۔ میںحفظ ماتقدم کے تحت بالکل چوکنا تھا۔بچے پر اپنی فکر مندی اور تشویش کو میں نے بالکل بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔
اس کے برخلاف وہ بچہ والدین کے بارہا اصرار پر بھی پانی میں اترنے کو ہرگز تیار نہیں تھا۔ آخر کار کوچ نے اسے اپنے کندھوں پر بٹھالیا اور سیڑھیوں کے کنارے سے پانی میں داخل ہوا۔بچہ مسلسل روئے جارہاتھا اور چیخ رہاتھا۔وہ سوئمنگ ٹیوب پہن کر بھی پانی میں داخل ہونے کو تیار نہیں تھا۔ جہاں سوئمنگ پول کے کنارے وہ لڑکا پائپ پکڑے مسلسل روئے جارہا تھا وہیں میرا بیٹا اپنے ہاتھوں پر ہوا سے بھرے غبار(Air Baloon)لگائے پانی میں ہاتھ پیر مارے ادھر ادھر حرکت کررہاتھا اور پیراکی کا مکمل لطف لے رہاتھا۔میری طرح اس لڑکے والدین بھی چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ نہ روئے۔میرے بیٹے کے طرح ان کا بچہ بھی سوئمنگ کا مزاہ لے۔لیکن یہ سب ہماری روزمرہ کی گھریلو گفتگو،رویے ،ہمارے الفاظ اور ہمارے خیالات کا نتیجہ ہے۔ بچوں میں منفی رجحان پیدا ہوگا اگر ہم انہیں کہیں گے کہ یہ مت کرو ، وہ نہ کرو۔ان میںمثبت سوچ فروغ پائے گی اگر ہم کہیں گے کہ آپ یہ، اوروہ کرسکتے ہیں۔اس طرح بچوں میں اعتماد پیدا گا۔ایک مہینے تک لگاتار میں اپنے بیٹے کو سوئمنگ پول لے جاتا رہا۔میں نے دیکھا وہ بچہ ایک مہینے کے آخر تک بھی پیراکی نہیں سیکھ پایا۔میرا لڑکا جہاںچار پانچ دن میں بغیر کسی حفاظتی سامان کے تیررہاتھا وہیں ایک مہینے کے بعد بھی وہ لڑکا کم گہرائی والے پانی میں تیرنے کے بجائے اپنے پیروں پر چل رہا تھا۔
میں نے یہاں صرف ایک مثال پیش کی ہے ایسے واقعات ہمارے گھروں میں روزانہ ہوتے رہتے ہیں اور والدین بچوں کے ذہنوں میں غیر دانستہ طور پر منفی رجحانات انڈیلتے رہتے ہیں۔باشعور والدین ہر وقت اپنے بچوں میں اعتماد پیدا کرنے کے جتن کرتے ہیں۔والدین بچوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے وہ سب کچھ کریں جو کچھ وہ کرسکتے ہیں۔ ذہانت پھرخود بخود ترقی کرے گی۔اعتماد پروان چڑھے گا تو ذہانت اپنے آپ فروغ پائے گی.....بشکریہ ۔ فرحین رضوی
Dumfries High School of Excellence
The institution has been at the forefront of individual education services since 2009.
An excellent team is not only committed to new trends but also to positively shaping children's attitudes in an investigative manner.
18/06/2023
بچوں میں ذہانت کا فروغ کیوں اور کیسے - Avadhnama تازہ ترین خبروں اور اردو مضامین کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کر کے واٹس ایپ اور فیس بک پر ہمیں جوائن کریں https://chat.whatsapp.com/9h6eHrmXUAXBjMyW9zQS4B https://www.facebook.com/urduavadhnama?mibextid=ZbWKwL اپ....
14/06/2023
🎉Happy Eid ul Fitar 🌹
23/03/2023
رمضان المبارک اوقات ۔۔صبح 7:45 تا دوپہر 12 بجے
05/03/2023
PTM Final Term (DSE)
02/01/2023
Will be Open 9th Jan....Insha Allah
26/12/2022
Federal Directorate of Immunization, Pakistan – Federal Directorate of Immunization (FDI) Our new website makes information easier to find and understand. As we improve our information, we will add it to this website. Learn about our new website and how we are improving the way we deliver information to you.
یوم ولادت۔۔حضرت قائد اعظم محمد علی جناح
13/11/2022
You fought hard like the fighters. There is no sorrow. You have won. You have fought. It does not matter if you are not the winner of today. Great fight. Great effort
09/11/2022
فکر فردا نہ کروں ۔محو غم دوش رہوں۔۔۔ولادت حضرت اقبال ؒ مبارک
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
Lahore