13/05/2026
🌟 تصوف و روحانیت کی دنیا میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں لفظوں کے پیمانے میں سمونا ممکن نہیں ہوتا۔ حضرت علی کرم اللّٰـــــــــــہ وجہہ الکریم اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے درمیان تعلق محض دو قد آور شخصیات کا رشتہ نہیں، بلکہ یہ ولایت اور شجرہِ نسب کا وہ حسین سنگم ہے جس پر تصوف کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مولائے کائنات حضرت علی کرم اللّٰـــــــــــہ وجہہ الکریم ولایت کے اس شجرِ سایہ دار کی جڑ ہیں، جس کی سب سے توانا، خوشبودار اور پھلدار شاخ غوثِ اعظمؒ ہیں۔
صوفیائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ولایت کے جتنے بھی چشمے پھوٹے، وہ سب دہلیزِ مرتضویؓ سے نکلے۔ غوثِ اعظمؒ کا کمال یہ ہے کہ آپ نے نہ صرف نسبی طور پر اس پاکیزہ خون کی خوشبو کو محفوظ رکھا، بلکہ اپنی تعلیمات اور "حیدری فقر" کے ذریعے اسے رہتی دنیا تک عام کر دیا۔ آپ کی زندگی اس بات کی عملی تفسیر ہے کہ ولایت کا منصب بغیر نسبتِ علیؓ کے مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔
سیدنا غوثِ اعظمؒ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ آپ "نجیب الطرفین" سید ہیں۔ یعنی آپ کے وجودِ مسعود میں حسنی حلم اور حسینی شجاعت یکجا ہوگئی تھی۔ آپ کا شجرہِ نسب والدِ گرامی کی جانب سے امام حسن مجتبیٰؓ سے اور والدہ ماجدہ سیدہ ام الخیر فاطمہ کی جانب سے امام حسینؓ سے ہوتا ہوا مولا علیؑ تک پہنچتا ہے۔
شجرہِ مبارکہ (پدرانہ سلسلہ)
سیدنا غوثِ اعظم عبدالقادر جیلانیؒ بن سید ابوصالح موسیٰ جنگی دوست بن سید عبداللہ جیلی بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد مورث بن سید داؤد بن سید موسیٰ ثانی بن سید عبداللہ ثانی بن سید موسیٰ الجون بن سید عبداللہ المحض بن سید حسن المثنیٰ بن سیدنا امام حسن مجتبیٰؓ بن سیدنا علی ابن ابی طالبؓ۔
شجرہِ مبارکہ (مادرانہ سلسلہ)
سیدہ ام الخیر فاطمہ بنت سید عبداللہ صومعی بن سید ابو جمال الدین محمد بن سید محمود بن سید ابوالعطاء عبداللہ بن سید کمال الدین عیسیٰ بن سید ابوعلاء الدین بن سید علی رضا بن سیدنا امام موسیٰ کاظمؒ بن سیدنا امام جعفر صادقؒ بن سیدنا امام محمد باقرؒ بن سیدنا امام زین العابدینؒ بن سید الشہداء امام حسینؓ بن سیدنا علی ابن ابی طالبؓ۔
شیخِ اکبر ابنِ عربیؒ فرماتے ہیں کہ غوثِ اعظمؒ اس برزخی مقام پر فائز ہیں جہاں وہ ایک طرف مولا علیؓ سے براہِ راست فیض لیتے ہیں اور دوسری طرف کائنات کے تمام اولیاء کی گردنوں پر اپنا قدمِ مبارک رکھ کر اس فیض کی تقسیم کو منظم کرتے ہیں۔ یہ تعلق عقیدت سے بڑھ کر حقیقت کا ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ فیضِ مصطفیٰ ﷺ تک پہنچنے کے لیے علیؓ کا وسیلہ اور غوثِ اعظم کا دامن لازمی ہے۔
"جو غوثِ اعظمؓ کا ہوا، وہ دراصل علیؓ کا ہوا، اور جو علیؓ کا ہوا وہ مصطفیٰ ﷺ کا ہو گیا۔" یا ربِ ذوالجلال! ہمیں سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو اس حبِ علیؓ سے منور کر دے جو ولایت کی بنیاد اور ایمان کی روح ہے۔ مولا! ہمیں ان ہستیوں کی نسبت کا پاس رکھنے والا بنا جن کی رگوں میں تیرے محبوب ﷺ کا خون اور جن کے سینوں میں تیری معرفت کے سمندر موجزن ہیں۔ اٰمِیْن بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ﷺ۔
🌹 سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌹
طالبِ فیض و دُعا
🌹محمد آصف مسرؔور قادری🌹
🌟
06/05/2026
🌟 نبوت کا آفتاب اپنی تمام تر تشریعی ضیا پاشیوں کے ساتھ سید المرسلین ﷺ کی ذاتِ اقدس پر مکمل ہو چکا، مگر اس آفتابِ نبوت کی کرنیں ولایت کے لبادے میں آج بھی عالمِ ہست کو منور کر رہی ہیں۔ ولایت محض ایک منصب نہیں، بلکہ ایک ایسا فیض ہے جو تاقیامت جاری ہے، اور جس طرح آسمانِ نبوت کا ایک مرکز ہے، اسی طرح اقلیمِ ولایت کا بھی ایک مرکزِ اتم ہے جسے "خاتمِ ولایت" کہا جاتا ہے۔
جس طرح ہر رسول نبی ہوتا ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں اسی طرح تصوف کے مراتب میں ہر "غوث" قطبِ مدار تو ہوتا ہے، لیکن ہر "قطب" غوث نہیں ہوتا، کیونکہ غوثیت وہ بلند ترین مقامِ تصرف ہے جہاں قطبِ مدار مخلوق کی فریاد رسی اور دستگیری کے لیے مامور کر دیا جاتا ہے۔
حضور غوثِ اعظم، شیخ عبدالقادر جیلانیؒ وہ "امامِ زمانہ" ہیں جنہوں نے ولایت کے بند دروازوں کو تاقیامت اہل صفا کے لیے وا کر دیا۔ آپؒ کی ذاتِ اقدس میں قطبیت اور غوثیت اس کمال کے ساتھ مجتمع ہوئی کہ آپؒ کو "غوثِ اعظم" کے لقبِ خاص سے سرفراز فرمایا گیا، جو اس امر کی دلیل ہے کہ آپؒ نہ صرف کائنات کے روحانی نظام کا محور ہیں بلکہ ہر پکارنے والے کی پکار پر پہنچنے والے عظیم فریاد رس بھی ہیں۔
آپؒ کی ذات میں شریعت کا استقلال اور حقیقت کا مشاہدہ اس طرح باہم پیوست ہیں کہ گویا ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہوں۔ آپؒ کا علم کتابوں کی گرد کا مرہونِ منت نہیں بلکہ "القائے ربانی" کا ثمر ہے، اور کائنات کا روحانی نظام آپؒ کے قلبِ انور کے گرد طواف کرتا ہے۔ آپؒ کا فرمانِ عالیشان کہ "میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے"، دراصل اسی خاتمِ ولایتِ محمدی کے ظہورِ اتم کا اعلان ہے جس نے آپؒ کو تمام اقطاب اور اولیاء کا مرجع بنا دیا۔ پیارے بھائیو تصوف محض خانقاہی اذکار کی تسبیح کا نام نہیں، بلکہ حضور غوث الاعظمؓ کی محبت کا حصول ہے جو انسان کو خاک کی پستیوں سے اٹھا کر عرشِ بریں کے انوار کا مشاہدہ کرا دے۔
حضور شیخ غوثِ پاکؒ کی زندگی وہ سرچشمہ ہے جہاں سے ہر پیاسا اپنی تشنہ لبی کا علاج پاسکتا ہے اور آپؒ کا فیضِ باطنی آج بھی قلوب کو وہ تڑپ عطا فرمانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو بندے کو مولیٰ کریم سے واصل فرما دے تو صاحبو دعا فرمائیں کہ یا الٰہی بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ﷺ۔! ہمارے قلوب کو حضور غوث الاعظم محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ کی سچی محبت نصیب فرما اور ان کے فیضِ باطنی سے سر تا پا سیراب فرما جن کے تذکرے سے عارفین کی روحیں وجد میں آتی ہیں۔ آمین ثم آمین
🌟سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌟
طالبِ فیض و دُعا
🌟محمد آصف مسرؔور قادری🌟
"اس تحریر کی تیاری میں شیخِ اکبر ابنِ عربیؒ کی 'فتوحاتِ مکیہ' اور 'فصوص الحکم' میں بیان کردہ نظریاتِ ولایت، اور سیدنا غوثِ اعظمؒ کے مقاماتِ معرفت کے لیے 'فتوح الغیب' و 'تفریح الخاطر' سے استفادہ کیا گیا ہے۔"
🌟
27/04/2026
🌹 حضور غوثِ الثقلین شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی شہرہ آفاق تصنیف "فتوح الغیب" محض ایک کتاب نہیں بلکہ روحانی سفر کا وہ نقشہ ہے جو بھٹکے ہوئے مسافروں کو منزلِ مقصود کا پتہ دیتا ہے۔ اس کتاب کے انیسویں مقالے میں آپؒ نے ایمان کی کمزوری، یقین کی پختگی اور ارادوں کی فنا پر جو گفتگو فرمائی ہے، وہ آج کے مادی دور میں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔
آپؒ فرماتے ہیں کہ ہماری دعاؤں میں وہ اثر اور زندگی میں وہ سکون اس لیے نہیں ہے کیونکہ ہمارا ایمان اور یقین "ضعیف" ہے۔ ہم خدا کے وعدوں پر اس طرح بھروسہ نہیں کرتے جیسا کہ کرنے کا حق ہے۔ اگر یقین کامل ہو جائے تو یہ ناممکن ہے کہ اللّٰـــــــــــہ کا وعدہ پورا نہ ہو۔ جب ایک بندہ شک کی وادیوں سے نکل کر یقین کے کوہِ گراں پر قدم رکھتا ہے، تو اسے بارگاہِ الٰہی سے "امانت دار" ہونے کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ اللّٰـــــــــــہ کے خاص بندوں کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے اور اسے قربِ الٰہی کی دعوت بار بار دی جاتی ہے۔
روحانیت کا ایک کٹھن مگر خوبصورت مرحلہ وہ ہے جہاں انسانی دل اپنی ذاتی خواہشات، غرض اور مطلب سے اس طرح خالی ہو جاتا ہے جیسے کسی سوراخ دار برتن میں پانی نہیں ٹھہرتا۔ جب دل اللّٰـــــــــــہ کے سوا ہر شے سے پاک ہو جاتا ہے، تو وہاں صرف رضائے الٰہی کا بسیرا ہوتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر انسان کو اللّٰـــــــــــہ کے ہر فیصلے اور ہر فعل میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے۔ جوں جوں بندہ اپنی مرضی کو خدا کی مرضی میں گم کرتا ہے، اس پر معرفت کے وہ دروازے کھلتے ہیں جہاں امور کی اصلیت اور کائنات کے پوشیدہ اسرار اس پر واضح کر دیے جاتے ہیں۔
شیخؒ ایک نہایت گہری بات یہ سمجھاتے ہیں کہ جب انسان اللّٰـــــــــــہ کا محبوب بن جاتا ہے، تو کائنات کی ہر مخلوق اس سے محبت کرنے لگتی ہے۔ یہ محبت دراصل اس خالق سے محبت کا اظہار ہوتی ہے جس کا وہ بندہ عکس بن چکا ہوتا ہے۔ اسی طرح ایسے صاحبِ حال بندے کی دشمنی اللّٰـــــــــــہ سے دشمنی قرار پاتی ہے۔ روحانیت کی انتہا یہ ہے کہ بندے کا اپنا کوئی ارادہ باقی نہ رہے، بلکہ اس کی زبان وہی بولے جو خدا چاہے اور اس کا دل وہی چاہے جو خدا کا حکم ہو۔
کبھی کبھی اللّٰـــــــــــہ اپنے بندے کی آزمائش یا اسے مزید بلندی دینے کے لیے اس کے دل میں خود ایک ارادہ پیدا کرتا ہے، لیکن پھر اسے دنیا میں پورا نہیں فرماتا۔ اس کا مقصد بندے کو دنیاوی وابستگی سے بچانا اور اس کے لیے آخرت میں ایسے عظیم الشان انعامات جمع کرنا ہوتا ہے جو جنت الفردوس میں اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں۔ تاہم، اللّٰـــــــــــہ اپنے ان بندوں کو جو مکمل طور پر اس کی ذات پر توکل کر کے بیٹھے ہوں، کبھی مایوس نہیں کرتا اور ان کی دل شکنی سے بچنے کے لیے دنیا میں بھی انہیں ان کی طلب کے برابر یا اس سے بہتر عطا فرما دیتا ہے۔
فتوح الغیب کا یہ درس ہمیں مادی سہارا تلاش کرنے کے بجائے اپنے خالق و مالک کو مقصودِ حقیقی بنانے کی دعوت دیتا ہے۔ جس دن ہمارا یقین کامل ہو گیا اور ہم نے اپنے ارادوں کو مشیتِ ایزدی کے سپرد کر دیا، اسی دن سے ہماری زندگی میں وہ سکون اور وہ نور پیدا ہو جائے گا جس کی جستجو میں انسان صدیوں سے سرگرداں ہے۔
🌹 سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌹
طالبِ فیض و دُعا
🌹محمد آصف مسرؔور قادری🌹
مآخذ...(فتوح الغیب، ص 40-41, مترجم راجہ رشید محمود ایم اے اردو، فاضل درسِ نظامی، ناشر: فرید بک سٹال اردو بازار لاہور)...
🌹
23/04/2026
🌟 منزلِ محبوبیت کی راہ صبر و توکل ہے.
کتاب: فتوح الغیب، مقاله ٣٠
مؤلف: محی الدین شیخ عبدالقادر جِیلَانِیؓ
حضور غوثِ اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ نے فرمایا :
تمھارا یہ سوچنا کہ کون سا عمل اور کون سی تدبیر کروں ، باعثِ حیرت ہے۔ تمہارے لیے مناسب طریق یہ ہے کہ تم جس حالت میں ہو، اسی میں اس وقت تک ٹھہرو جب تک تمھیں خدا تعالیٰ کی جانب سے کشادگی نصیب نہ ہو جائے خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ "صبر کرو اور صبر پر غالب رہو ، رابطہ قائم رکھتے ہوئے"۔ اللّٰـــــــــــہ سے ڈرو جس نے تمہیں صبر و ربط اور محافظت پر ثابت قدم رہنے کا حکم دیا اور انھیں چھوڑ دینے پر وعید دی اور اس رابطے کے کٹنے پر خدا سے ڈرایا۔
صبر کا دامن نہ چھوڑنے ہی میں بہتری اور سلامتی ہے۔ رسول پاک صلی اللّٰـــــــــــہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "جس طرح جسم کے لئے سر ہے، اسی طرح ایمان کیلئے صبر ہے" ۔ نیز فرمایا : کہ "ہر چیز کا ثواب اس کی مقدار و اندازہ پر ہے لیکن صبر کا اجر بےحدو حساب ہے"۔ خداوند تعالیٰ جل شانہ نے بھی فرمایا : "صبر کرنے والوں کو اس کا بے حساب اجر دیا جائے گا"۔ اس لیے ضروری ہے کہ خدا سے ڈرتے ہوئے صبر پر قائم رہا جائے اور خدا کی قائم کردہ حدود کی حفاظت کی جائے۔ اسی طرح خدا تعالٰی کی کتاب میں کیے گئے وعدے کے مطابق کامل اجر عطا کیا جائیگا۔ اللّٰـــــــــــہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : "اللّٰـــــــــــہ سے ڈرنے والوں کے لیے خدا کی راہیں کھول دی جاتی ہیں اور خدا جہاں سے چاہے ، انھیں رزق دیگر کشائش کی راہیں پیدا کر دیتا ہے"۔ چنانچہ اگر تم کشائش نصیب ہونے تک صبر کرتے رہے تو تمھارا شمار متوکلین میں ہوگا اور خدا نے تمھارے لیے اپنے کافی ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔ کہا گیا ہے : "جو آدمی خدا پر بھروسہ کرے، اس کے لئے وہی کافی ہے۔"
جب صبر اور توکل کی دونوں صفتیں تم میں یکجا ہو گئیں تو تمھارا شمار احسان کرنے والوں میں ہو گا ۔ اور بے شک خدا نے محسنین کے لیے جزا کا وعدہ کر رکھا ہے اور کہا ہے : "ہم محسنوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں "۔ اس طرح تم خدا کی محبوبیت کے مقام کو پالو گے کیونکہ اس نے فرمایا ہے : "بے شک خدا محسنوں کو محبوب بنا لیتا ہے۔"
ثابت ہوا کہ دنیا و آخرت میں ہر بھلائی اور ہر سلامتی صبر ہی سے ہے اور مؤمن کو اسی کی وجہ سے ترقی دے کر رضا و موافقت کی منزل سے گزار کر افعالِ خداوندی میں فنا کر دیا جاتا ہے۔ نابود ہو جانے کی حالت اور ابدالیت کے مقام کو حاصل کرنا اسی طرح ممکن ہے۔ اس لیے صبر کو چھوڑ دینے کا تصور بھی نہ کرو کیونکہ اس طرح دنیا و عقبیٰ میں خیر و فلاح سے محرومی اور رسوائی اور شرمندگی حاصل ہوگی۔ خدا محفوظ رکھے۔
🌹 آمیـــــــــــــــــــن یارب العــــــــــــــــــــالمین 🌹
🌹 محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللّٰــــــــــہ عنہ 🌹
🌹 سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌹
طالبِ فیض و دُعا
🌹محمد آصف مسرؔور قادری🌹
🌹
18/04/2026
🌟 الوراثۃ الکاملہ اور مقامِ غوثِ اعظمؓ
یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ولایت کا کوئی بھی محل "بابِ مدینۃ العلم" سیدنا علی ابن ابی طالبؑ کی چوکھٹ کے بغیر تعمیر نہیں ہو سکتا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ولایت کے جس خزانے کی کنجی مولا علیؑ کو عطا فرمائی، سیدنا غوث الاعظم اسی فیضِ مرتضوی کے امین اور وارثِ اکمل ہیں۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ غوثِ پاک کو جو "الوراثۃ الکاملہ" نصیب ہوئی، اس کی جڑیں مولا علیؑ کی ولایت میں پیوست ہیں۔ آپؓ حسنی وحسینی سید ہونے کے ناطے نہ صرف نسبی طور پر بلکہ باطنی طور پر بھی ولایتِ علیؑ کے اس تسلسل کا عروج ہیں جس نے کائنات میں حق و صداقت کے پرچم کو سربلند کیا۔
ارشادِ نبوی ﷺ ہے کہ "علماء میری امت کے وارث ہیں"۔ جب کوئی ہستی علم اور حال، شریعت اور طریقت میں حضور سرورِ کائنات ﷺ کی مکمل پیروی کا حق ادا کر دے، تو اسے "وارثِ کامل" کہا جاتا ہے۔ غوثِ اعظمؓ کی انفرادیت یہ ہے کہ آپ کا ہر قدم نقشِ قدمِ مصطفیٰ ﷺ کا آئینہ دار تھا۔ شیخ شہاب الدین سہروردیؒ جیسے اکابرین معترف ہیں کہ جہاں دیگر اولیاء کرام مختلف انبیاء علیہم السلام کے مشرب (جیسے ولایتِ موسوی یا عیسوی) پر ہوتے ہیں، وہاں سیدنا عبدالقادر جیلانیؓ براہِ راست "ولایتِ محمدی" کے وارث اور "نائبِ رسول" ہیں۔
آپؓ کا یہ فرمان کہ "میرا قدم نبی ﷺ کے قدم پر ہے"، دراصل اسی کامل نیابت کا اعلان تھا کہ جس مقام سے نبی ﷺ نے اپنا باطنی قدم اٹھایا، وہاں غوثِ پاکؓ نے اپنا قدم رکھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نبوت کی شعاعیں ولایت کے آئینے میں منعکس ہوتی ہیں۔ آپ کی نیابت محض کرامات کا نام نہیں بلکہ انسانیت کو مولا علیؑ کے نقشِ قدم پر چلاتے ہوئے بارگاہِ مصطفوی ﷺ تک پہنچانے کا نام ہے۔
بلا شبہ، غوثِ اعظمؓ زمین پر رسول اللّٰـــــــــــہ ﷺ کے وہ نائب اور مولا علیؑ کے وہ لختِ جگر ہیں جن کا فیضِ ولایت تا قیامت تشنگانِ حق کو سیراب کرتا رہے گا۔
یا ربّ العالمین! بحقِ محمد و آلِ محمد ﷺ، ہمیں اولیاء کرام، خصوصاً سیدنا غوث الاعظمؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ ان نفوسِ قدسیہ کی سچی محبت ہمارے دلوں میں راسخ فرما اور ان کے فیضانِ نظر سے ہمارے ظاہر و باطن کو منور فرما دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ﷺ۔
🌹 سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌹
طالبِ فیض و دُعا
🌹محمد آصف مسرؔور قادری🌹
حوالہ جات:(تاریخ الخلفاء، الصواعق المحرقہ، فصوص الحکم،۔الفتوحات المکیہ، بہجۃ الاسرار، ہمعات، فیوض الحرمین)
🌹
13/04/2026
🌟 سیدنا غوثِ اعظم، پیرِاں پیر، محیُّ الدّین شَیۡخ عَبۡدُالۡقَادِر جِیۡلَانِی رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ نہایت ہی نفیس طبیعت کے حامل تھے، آپ کے لباس کا عالم یہ تھا کہ آپ روزانہ ایک نیا اور نفیس لباس زیبِ تن فرماتے تھے اور اتارا ہوا لباس مساکین اور محتاجوں کو دے دیا جاتا تھا، اس عمل کو "سخاوتِ غوثیہ" کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔
آپ کی پوشاک کے لئے دور دراز سے نفیس کپڑا آتا تھا۔ روایات میں درج ہے کہ آپ جو جبہ یا پوشاک زیبِ تن فرماتے تھے، اس کے ایک گز کپڑے کی قیمت ایک دینار سے لے کر دس دینار تک ہوتی تھی۔ بعض مخصوص روایات کے مطابق، آپ کا پورا لباس بعض اوقات سات سو دینار تک کی مالیت کا ہوتا تھا۔
صرف لباس ہی نہیں، بلکہ آپ کے جوتوں کے بارے میں بھی تذکرہ ملتا ہے کہ وہ نہایت اعلیٰ درجے کے ہوتے تھے۔ بعض کتب میں ذکر ہے کہ آپ کے جوتوں کی قیمت ایک دینار یا اس سے زائد ہوتی تھی، اور آپ ہر جمعہ کو نیا جوتا پہنتے اور پرانا کسی مستحق کو دے دیتے۔
آپ بہترین خوشبو کا بھی استعمال فرماتے، جب آپ مجلسِ وعظ کے لیے یا مدرسہ سے باہر تشریف لاتے تو آپ کے لباس اور وجودِ مسعود سے ایسی خوشبو آتی تھی جو پورے راستے کو مہکا دیتی تھی۔
حضور غوث الاعظم ؒ نہایت سادہ غذا استعمال کرتے تھے۔ روزانہ چار پانچ چپاتیاں مغرب کے وقت آپ کی خدمت میں پیش جاتی تھیں۔اول آپ روٹیوں کے ٹکڑے کر لیتے اور بعد میں کچھ غربا میں تقسیم کر دیتے تھوڑی سی اپنے لئے رکھ لیتے اکثر اوقات دن میں صرف ایک ہی مرتبہ کھانا کھاتے، گوشت، گھی اور دودھ کا استعمال کرتے تھے۔
حضور شیخ ؒ اعلی' اخلاق کا نمونہ تھے۔ خاموشی کو ذیادہ پسند فرماتے تھے۔ اپنے مدرسے سے صرف جمعہ کو باہر نکلتے تھے۔ اور اسی روز جامعہ مسجد اور مسافر خانہ کی طرف تشریف لے جاتے تھے۔ حق بات کہنے میں دریغ نہیں کرتے تھے چاہے وہ وقت کے بادشاہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ امرا, وزرا اور دنیا داروں کی تعظیم کے لئے کبھی نہیں کھڑے ہوتے تھے۔ بلکہ ایسے لوگ آتے تو سامنے سے ہٹ جاتے تھے۔
مالِ دنیا سے محبت نہیں تھی۔ مسکینوں اور غریبوں کا بہت خیال رکھتے اور ان پر ہمیشہ شفقت کا معاملہ فرماتے تھے۔ خلافِ شرع کام کرنے والے سے بیزاری کا اظہار فرماتے تھے۔ اپنے گھر کے لئے ضروری سامان بازار سے خود ہی لے آتے۔ سفر میں اپنے ہاتھ سے آٹا گوندھ کر روٹی پکاتے۔ اہلیہ بیمار ہوتی تو گھر کے کام کرتے۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ ذاتی معاملات میں کبھی کسی پر غصہ نہیں فرماتے تھے۔ عادات اور خصائل میں نبی اکرم ﷺ کی پوری اطاعت فرماتے تھے۔
حضور غوثِ اعظمؓ ہمیشہ باوضور رہتے۔ آپ کی راتیں اپنے خالقِ حقیقی کے ساتھ رازو نیاز میں گزرتیں۔ نفس کشی اور عبادت کا یہ عالم تھا کہ رات بھر میں سینکڑوں نوافل ادا فرماتے اور تلاوتِ قرآن میں مصروف رہتے۔ بڑھاپے کی کمزوری بھی کبھی آپ کے معمولاتِ بندگی میں حائل نہ ہو سکی۔
سترہ سال کی عمر میں وطن چھوڑنے سے لے کر نو سال تحصیلِ علم اور پھر چالیس سال تک مسندِ ارشاد پر جلوہ افروز رہنے تک، آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اعلائے کلمۃ اللّٰـــــــــــہ کے لیے وقف رہا۔ بالآخر اکانوے سال کی عمر میں ۱۱ ربیع الثانی ۵۶۱ ہجری کو آپ کا وصال ہوا اور بغداد میں آپ کا روضہِ مبارک آج بھی لاکھوں پیاسی روحوں کے لیے فیض کا سرچشمہ ہے۔
اللّٰـــــــــــہ تعالیٰ ہمیں حضور غوثِ اعظمؓ کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کی تعلیمات کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو تقویٰ اور خدمتِ خلق سے سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
🌹 سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌹
طالبِ فیض و دُعا
🌹محمد آصف مسرؔور قادری🌹
📚 حوالہ جات: (بہجة الاسرار و معدن الانوار (امام علی بن یوسف شطنوفی) (بنیادی ماخذ)، قلائد الجواہر فی مناقب الشیخ عبد القادر (علامہ محمد بن یحییٰ تدفی)، اخبار الاخیار (شیخ عبد الحق محدث دہلوی)، سیر اعلام النبلاء (امام ذہبی)
🌟
09/04/2026
🌹 "پیرِ کامل صورتِ ظلِ الٰہ"۔ بظاہر یہ چھ الفاظ کا ایک مجموعہ ہے، لیکن اگر اس کے بطن میں جھانک کر دیکھا جائے تو یہ پوری ایک کائنات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس تصور کی جیتی جاگتی تصویر، ولایت کے آسمان پر چمکنے والا وہ سورج ہے جسے دنیا سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے نام سے جانتی ہے۔
تاریخِ انسانی میں ایسے مصلحین کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے علمِ ظاہری اور ہیبتِ باطنی کو اس طرح یکجا کیا ہو کہ بادشاہوں کے محل لرز اٹھے اور فقیروں کی جھولیاں مرادوں سے بھر گئیں۔ جو تپتی دھوپ میں بھٹکتی انسانیت کو اپنی آغوشِ رحمت میں پناہ دیتے ہوں۔
کسی کو "اللّٰـــــــــــہ کا سایہ" کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس ہستی نے اپنی ذات کی نفی کر دی ہے اور اب اس کے وجود سے وہی ظاہر ہوتا ہے جو اللّٰـــــــــــہ کی منشا ہے۔ غوثِ اعظمؓ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی مجلس میں گناہ گار آتا تھا تو تائب ہو کر نکلتا، مردہ دل آتا تو زندگی پا کر نکلتا۔ یہ وہی صفتِ الٰہی ہے جو مردہ زمینوں کو بارش سے زندگی بخشتی ہے۔ آپ کے ہاتھ میں اللّٰـــــــــــہ نے وہ تصرف دیا تھا کہ آپ کی ایک نگاہِ کیمیا اثر نے رہزنوں کو قطبِ عالم بنا دیا۔
غوثِ اعظمؓ نے رہتی دنیا کو بتایا کہ اصل کرامت "استقامت" ہے۔ آپ نے "پیرِ کامل" کا معیار یہ سیٹ کیا کہ قدم شریعت کی لکیر سے باہر نہ نکلے۔ آپ کا سایہ دار شجر ان لوگوں کے لیے تھا جو علم کی پیاس رکھتے تھے۔ آپ نے جہاں خانقاہوں کو آباد کیا، وہیں مدرسوں میں قال اللّٰـــــــــــہ و قال الرسول اللّٰـــــــــــہ ﷺ کی صدائیں بھی بلند کیں۔ آپ کا "ظلِ الٰہی" ہونا اس بات میں پوشیدہ تھا کہ آپ نے مخلوق کو خالق سے جوڑنے کا فریضہ سرانجام دیا۔
آپ کا وہ مشہور اعلان کہ "میرا یہ قدم تمام اولیاء اللّٰـــــــــــہ کی گردن پر ہے"، کوئی تکبر کا جملہ نہ تھا بلکہ اس منصب کا اظہار تھا جو اللّٰـــــــــــہ نے آپ کو "ظلِ الٰہی" ہونے کے ناطے عطا فرمایا تھا۔ یہ اس اتھارٹی کا نام ہے جہاں سے ولایت کی سندیں تقسیم ہوتی ہیں۔ آپ کی شخصیت میں وہ مقناطیسیت تھی کہ شرق و غرب سے لوگ کھنچے چلے آتے اور آپ کے دربار سے ہدایت کا نور لے کر پلٹتے۔
الغرض، پیرِ کامل وہی ہے جو مرید کے ہاتھ کو خدا کے ہاتھ میں دے دے۔ غوثِ اعظم کی شخصیت صدیوں سے یہی فریضہ انجام دے رہی ہے۔ آپ کا فیض آج بھی ان کی کتب (جیسے فتوح الغیب اور غنیۃ الطالبین) کی صورت میں موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف آپ کے نام کا نعرہ نہ لگائیں، بلکہ ان کی تعلیمات کو مشعلِ راہ بنائیں، کیونکہ وہی راستہ ہمیں اللّٰـــــــــــہ کی پناہ اور قربت تک لے جا سکتا ہے۔
🌹 سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌹
طالبِ فیض و دُعا
🌹محمد آصف مسرؔور قادری🌹
🌹
07/04/2026
🌟 مقامِ ولایت اور اسرارِ بندگی
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ العزیز کے افکار کی روشنی میں ولایت کوئی محض خیالی تصور نہیں، بلکہ یہ انسانی روح کی وہ معراج ہے جہاں بندگی اپنے کمال کو پہنچ کر خدائی رنگ میں رنگ جاتی ہے۔ ولایت کا اصل جوہر اس وقت نمودار ہوتا ہے جب سالک اپنی انا، خودی اور ذاتی مراد کو رضائے الہیٰ کے بحرِ بے کنار میں غرق کر دیتا ہے۔ یہ فنا کی وہ کیفیت ہے جہاں انسان کی اپنی آواز خاموش ہو جاتی ہے اور اس کے وجود سے ربِ کریم کے احکامات اور اس کی مرضی کا ظہور ہونے لگتا ہے۔ حقانیتِ ولایت کا سب سے بڑا ثبوت ہی یہی ہے کہ ایک گوشت پوست کا انسان مادیت کے تمام تقاضوں سے ماورا ہو کر سراپا نور بن جاتا ہے اور اس کا ہر عمل خالق کی منشا کا آئینہ دار ٹھہرتا ہے۔
ولایت کا اثبات درحقیقت اس خلافتِ الہیہ کا تسلسل ہے جس کا وعدہ ربِ ذوالجلال نے انسانِ کامل سے کیا تھا۔ یہ نفوسِ قدسیہ زمین پر اللّٰـــــــــــہ کی حجت اور اس کی رحمت کے سفیر ہوتے ہیں، جن کا وجود انسانیت کے لیے سکون اور ہدایت کا باعث بنتا ہے۔ جب ایک بندہ اپنی خواہشات کو قربان کر کے خود کو مکمل طور پر اللّٰـــــــــــہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو قدرت اس کے ہاتھ، اس کی آنکھ اور اس کی زبان کو اپنی تائید کا مظہر بنا دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ولی کی خاموشی بھی کلام کرتی ہے اور اس کی نظر دلوں کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ ان کا وجود محض انفرادی پارسائی کا نام نہیں، بلکہ یہ کائنات کے اس روحانی نظام کا حصہ ہیں جس کے ذریعے خیر اور برکت کا فیضان خلقِ خدا تک پہنچتا ہے۔
حق کے ان مسافروں کی پہچان کسی ظاہری لبادے یا نام و نمود سے نہیں، بلکہ ان کی اس استقامت سے ہوتی ہے جو شریعت اور حقیقت کے حسین امتزاج سے جنم لیتی ہے۔ ایک صادق ولی وہی ہے جس کا ظاہر سنتِ نبوی ﷺ کے نور سے مزیّن ہو اور باطن خشیتِ الہیٰ سے لرزاں۔ ولایت کا اثبات ان کے تصرفات سے زیادہ ان کے اخلاق اور ان کی صحبت سے ہوتا ہے، جو مردہ دلوں میں زندگی کی رمق پیدا کر دیتی ہے۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جو مصائب کی آندھیوں میں بھی تسلیم و رضا کا کوہِ گراں بنی رہتی ہیں اور جن کی زندگی کا واحد مقصد صرف اور صرف قربِ الہیٰ کا حصول ہوتا ہے۔
انسانی تاریخ کے ہر دور میں ان اللّٰـــــــــــہ والوں کا ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ رب اور بندے کے درمیان تعلق کی راہیں کبھی مسدود نہیں ہوتیں۔ یہ وہ روحانی ستون ہیں جن کے دم سے حق کا پرچم بلند رہتا ہے اور جن کی برکت سے بارشیں برستی اور رزق کے دروازے کھلتے ہیں۔ ولایت کا انکار درحقیقت دین کی اس باطنی روح کا انکار ہے جو انسان کو مٹی کے ڈھیر سے اٹھا کر عرشِ الہیٰ کا ہمراز بنا دیتی ہے۔ پس، یہ برگزیدہ بندے خالق اور مخلوق کے درمیان وہ واسطہ ہیں جو بھٹکی ہوئی انسانیت کو اس کی اصل منزل کا پتا بتاتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ سچی بندگی ہی اصل بادشاہی ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ ولایت اللّٰـــــــــــہ کا وہ خاص فضل ہے جو صرف انھی کو نصیب ہوتا ہے جو اپنا سب کچھ اس کی راہ میں لٹا دیتے ہیں۔ جب بندہ دنیا اور اس کی رعنائیوں سے منہ موڑ کر صرف ذاتِ حق کا طالب ہوتا ہے، تو وہ مقامِ ولایت پر فائز کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ زندہ جاوید حقیقت ہے جو ہر دور میں اولیاء اللّٰـــــــــــہ کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے اور انسانیت کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ خدا کی محبت اور اس کا قرب آج بھی اسی طرح ممکن ہے جیسے پہلے زمانے میں تھا۔
🌹 سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌹
طالبِ فیض و دُعا
🌹محمد آصف مسرؔور قادری🌹
مستند مآخذ و مراجع: (فتوح الغیب: (بنیادی ماخذ)، شرح فتوح الغیب: حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلویؒ، غنیۃ الطالبین: شیخ عبد القادر جیلانیؒ، کشف المحجوب: حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ، رسالہ قشیریہ: امام ابوالقاسم قشیریؒ)
🌟
04/04/2026
🌟 منہجِ طریقتِ غوثِ الاعظم شَیۡخ عَبۡدُالۡقَادِر جِیۡلَانِیؓ
صوفیائے کرام نے تزکیہ نفس اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے جو گراں قدر خدمات سرانجام دیں، ان میں حضور غوثِ اعظم، شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی شخصیت نے تصوف کو اس کی اصل شکل یعنی 'احسان' سے روشناس کرایا۔ یہ تحریر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی طریقت کی اصل روح اور ان کے ہم عصر مشائخ کی نگاہ میں آپ کے مقامِ بلند کا مختصر احاطہ کرتی ہے۔
شیخ ابوالحسن علی بن الہیتیؒ کے بقول، غوثِ پاکؒ کے طریق کی اساس "حول و قوت سے بیزاری" پر ہے۔ آپ فرماتے ہیں "طَرِیْقُہُ التَّفْوِیْضُ وَالْمُوَافَقَۃُ مَعَ التَّبَرُّئِ مِنَ الْحَوْلِ وَالْقُوَّۃِ..."
آپ کا راستہ اپنی طاقت اور قوت کے بھروسے کو چھوڑ کر خود کو مکمل طور پر اللّٰـــــــــــہ کے سپرد کر دینے کا نام ہے۔ تصوف کی اصطلاح میں اس سے مراد اپنی تدبیر کو تقدیرِ الہیٰ کے سامنے ہیچ سمجھنا ہے۔ وہ مزید فرماتے ہیں کہ آپ کا مقام "تَجْرِیْدُ التَّوْحِیْدِ وَتَوْحِیْدُ التَّفْرِیْدِ" تھا، یعنی ایسی توحید جس میں اللّٰـــــــــــہ کے سوا کسی شے کا شائبہ تک نہ ہو۔ یعنی آپ کی بندگی اس قدر کامل تھی کہ آپ تفرقہ کی حالت سے نکل کر مقامِ جمع (خدا کے ساتھ ہمہ وقت حضوری) پر فائز تھے۔
شیخ بقا بن بطوؒ کی شہادت غوثِ اعظمؒ کے منہج کا سب سے اہم پہلو آشکار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ "طَرِیْقُہُ اِتِّحَادُ الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ، وَاتِّحَادُ النَّفْسِ وَالْقَلْبِ، وَمُعَانَقَۃُ الْاِخْلَاصِ وَالتَّسْلِیْمِ..."
ان کا طریقہ قول و فعل کا اتحاد، نفس و قلب کا اتحاد اور اخلاص و تسلیم کو گلے لگانا تھا۔ ان کے کلام میں سب سے اہم جملہ یہ ہے:
"التمسک بالکتاب والسنۃ فی کل خطوۃ"
شیخ کا طریق "کتاب و سنت میں ہر خطرہ، لحظہ اور نفس کی مضبوطی" کا نام ہے۔ آپ کے ہاں قول و فعل میں کوئی تضاد نہ تھا۔ تصوف میں اکثر 'شطحیات' (وجدی کلمات) کے باعث شریعت سے دوری کا خدشہ ہوتا ہے، مگر غوثِ پاکؒ نے ثابت کیا کہ حقیقی ولایت احکامِ شرعیہ کے لزوم ہی میں پنہاں ہے۔
شیخ عدی بن مسافرؒ، جو زہد و تقویٰ میں ممتاز مقام رکھتے ہیں، کے بقول، آپ کے طریق کی خاص بات "خُرُوْجٌ عَنْ صِفَاتِ النَّفْسِ... وَاتِّحَادُ الْبَاطِنِ وَالظَّاہِرِ"
نفس کی صفات سے نکل جانا اور ظاہر و باطن کا ایک ہو جانا ہے۔ یعنی جو نور باطن میں جلوہ گر ہو، وہی عمل بن کر ظاہر میں نظر آئے۔ حضرت شیخ نفع و نقصان اور قرب و بعد کے انسانی تصورات سے بلند ہو کر صرف رضائے الٰہی کے طالب تھے۔
جب حضرت ابو الفرح عبد الرحیم نے اپنے ماموں سید احمد رفاعیؒ (بانیِ سلسلہ رفاعیہ) سے حضور غوثِ پاک کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:
"یَا وَلَدِیْ! مَنْ مِثْلُ الشَّیْخِ عَبْدِ الْقَادِرِ؟"
اے میرے بیٹے! شیخ عبد القادر جیسا کون ہو سکتا ہے؟
سید احمد رفاعیؒ نے واضح کیا کہ جس روحانی قوت اور مقام پر شیخ عبدالقادر فائز ہیں، وہاں تک کسی دوسرے کی رسائی ناممکنات میں سے ہے۔ اسی طرح شیخ عارف ابوالحسن قرشیؒ نے آپ کی قوتِ طریق کو تمام اہلِ طریقت کی قوتوں سے فائق قرار دیا۔
حضرت شیخ برگزیدہ ابو سعید قیلوی رَحْمَۃُ اللّٰـــــــــــہ عَلَیْہِ فرماتے تھے کہ
" حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی قوت اللّٰـــــــــــہ سے محبت اور اللّٰـــــــــــہ کے ساتھ تھی۔ اس وقت ان کے سامنے بڑے بڑے سرداروں (مشائخ ) کی قوت ضعیف تھی۔ اپنے مضبوط طریق کی وجہ سے جس کو انقطاع نہ تھا۔ بہت سے معتقدین میں سے بڑھے ہوئے تھے۔ اللّٰـــــــــــہ تعالٰی نے ان کو بڑے مقام عزیز تک بوجہ ان کی وسیع نظر کے حقیقت میں بہت بلند فرمایا تھا۔
مذکورہ بالا آراء کی روشنی میں یہ نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں:
آپ کا طریق وصف و حکم و حال میں صرف اللّٰـــــــــــہ کی وحدانیت کا قائل تھا۔
آپ کی تحقیق ظاہر و باطن میں شریعتِ محمدی ﷺ کی پیروی ہے۔
آپ کا قلب اغیار کے شکوک و التفات سے مکمل طور پر فارغ تھا۔
خلاصہ کلام یہ کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے تصوف کو 'عقل' سے نکال کر 'عشق' اور 'اتباع' کے سانچے میں ڈھالا، جہاں بندہ ملکوتِ اکبر کو پیچھے چھوڑ کر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔ اللّٰـــــــــــہ کریم ہم سب پر اپنی عنایات فرمائے آمین
🌹 سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌹
طالبِ فیض و دُعا
🌹محمد آصف مسرؔور قادری🌹
مآخذ و مراجع
امام نور الدین شطنوفی، بہجۃ الاسرار و معدن الانوار، ص 241 تا 243۔ مولانا شاہ ابوالحسن زید فاروقی، تذکرہ اولیائے عرب و عجم، ص 307۔ سید عبدالقادر جیلانی، فتوح الغیب (برائے مطالعہ مزید)۔
02/04/2026
🌟 مظہرِ حقیقتِ محمدی ﷺ
انسانِ کامل محض ایک فرد نہیں، بلکہ ایک کائناتی حقیقت ہے۔ جس طرح انسانی جسم میں "دل" مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اسی طرح اس پوری کائنات کا دل "انسانِ کامل" ہے۔ اگر کائنات سے اس ہستی کا وجود منہا کر دیا جائے، تو یہ نظامِ ہستی بے روح ہو کر بکھر جائے۔
صوفیاء فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے اپنی پہچان کے لیے کائنات کو پیدا کیا، مگر کائنات تو ایک دھندلا آئینہ تھی؛ اس آئینے کو جلا بخشنے کے لیے 'انسانِ کامل' کو پیدا کیا گیا تاکہ خدا اپنی صفات کا کامل مشاہدہ اس کے وجود میں کر سکے۔
انسانِ کامل وہ نکتہ ہے جہاں 'ناسوتی' پستی اور 'لاہوتی' رفعت کا ملاپ ہوتا ہے۔ وہ ایک ہاتھ سے شریعت کی رسی تھامے ہوتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے حقیقت کے جام پیتا ہے۔ اس کا وجود اللّٰـــــــــــہ کے جلال اور جمال کا سنگم ہے۔ جہاں وہ مخلوق کے لیے سراپا رحمت اور جمال ہے، وہیں باطل کے لیے اس کی ہیبت جلالِ الہیٰ کا پرتُو ہوتی ہے۔
سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اسی "انسانِ کامل" کی وہ درخشندہ مثال ہیں، جنہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ جب انسان اپنی "انا" کو فنا کر کے "حق" کی بقا پاتا ہے، تو پھر اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ تقدیر کا فیصلہ بن جاتے ہیں۔ ان کی زندگی زہد، تقویٰ اور علم کا وہ سمندر تھی جس نے صدیوں سے پیاسے دلوں کو سیراب کیا۔
انسان محض مٹی کا ڈھیر نہیں، بلکہ وہ آئینہ ہے جس میں ربِ کائنات اپنی تجلیات دیکھنا چاہتا ہے۔ انسانِ کامل کا مقام یہ ہے کہ وہ کائنات کے ذرے ذرے کے دکھ کو اپنے دل میں محسوس کرتا ہے اور اس کا روحانی فیض زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ہر سو گردش کرتا ہے۔
غوثِ زماں ہو یا قطبِ وقت، یہ سب اسی "حقیقتِ محمدیہ ﷺ" کے عکس ہیں جو کائنات کی اصل ہے۔ "المدد" کی پکار دراصل اسی کامل ہستی سے جڑنے کی تڑپ ہے جو ہمیں ہمارے اصل سے واقف کراتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر کے انسان کو بیدار کریں اور ان اولیاءِ کاملین کی تعلیمات کو مشعلِ راہ بنائیں، تاکہ ہم بھی اس "امانت" کے حقدار بن سکیں جو روزِ ازل ہمارے سپرد کی گئی تھی۔
🤲🏻 اللّٰـــــــــــہ آپ کو ان نعمتوں سے نوازے جن کی آپ کے دل میں خواہش ہے۔ آمین
🌟 سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌟
طالبِ فیض و دُعا
🌟محمد آصف مسرؔور قادری🌟
ماخذ و مراجع: (فصوص الحکم، الفتوحات المکیہ (ابنِ عربیؒ)، الانسان الکامل (عبدالکریم الجیلیؒ)، فتوح الغیب (غوثِ اعظمؒ)
🌟
31/03/2026
🌟 حقیقتِ مراقبہ اور فنائے نفس
(تعلیماتِ غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیؓ کی روشنی میں)
مراقبہ صوفیانہ روش میں محض خاموشی سے بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ روح کا وہ سفر ہے جو بندے کو "خلق" سے کاٹ کر "خالق" سے جوڑ دیتا ہے۔
"فتوح الغیب" کے دسویں مقالے میں حضور غوث الاعظمؓ نفس کی فنا پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب تک انسان اپنی خواہشات، تدبیروں اور اپنی "میں" کے حصار میں قید ہے، وہ اللّٰـــــــــــہ کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔
مراقبہ کا آغاز توبہ اور خاموشی سے کریں، حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ مراقبہ تب تک کارگر نہیں ہوتا جب تک انسان اپنے اعضاء کو گناہوں سے اور اپنی زبان کو فضول گوئی سے روک نہ لے۔
کتاب "سر الاسرار" میں آپ مراقبہ کو "روحانی بینائی" قرار دیتے ہیں۔ آپ کے نزدیک انسانی وجود میں دو قسم کے علوم ہیں: ایک علمِ ظاہر (شریعت) اور دوسرا علمِ باطن (حقیقت)۔ علمِ ظاہر کتابوں سے اور علمِ باطن اپنے اندر جھانکنے سے بیدار ہوتا ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ اللّٰـــــــــــہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو نہیں بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔ پس مراقبہ یہ ہے کہ انسان اپنے قلب کی صفائی کرے تاکہ وہ اللّٰـــــــــــہ کے نور کا آئینہ بن سکے۔
اگرچہ حضرت شیخ نے کوئی مخصوص "تکنیکی مشق" اس طرح بیان نہیں فرمائی جیسے آج کل کے یوگا مراکز میں ہوتی ہے، لیکن آپ کی بتائی ہوئی روحانی مشق درج ذیل ہے:
خلوت : کسی تنہا جگہ کا انتخاب کریں جہاں شور نہ ہو۔
ذکرِ قلبی: زبان کو تالو سے لگا کر دل کی دھڑکن کے ساتھ اللّٰـــــــــــہ کے نام کا ذکر کرنا۔
نفی و اثبات: اپنے دل سے دنیا کی محبت کو نکالنا (نفی) اور اللّٰـــــــــــہ کی محبت کو بٹھانا (اثبات)۔
احساسِ معیت: اس آیت کا تصور کرنا کہ: وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ (اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو)۔
حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ جو شخص صحیح معنوں میں مراقبہ کرتا ہے، اسے درج ذیل انعامات حاصل ہوتے ہیں:
انشراحِ صدر: سینہ نورِ الٰہی سے کھل جاتا ہے۔
استقامت: دنیاوی مصائب اسے پریشان نہیں کرتے۔
معرفت: اسے کائنات کے حقائق اور اپنی ذات کی پہچان حاصل ہو جاتی ہے۔
مراقبے کا مقصد ایک ایسی حالت کو حاصل کرنا ہے جہاں انسان کا جسم دنیا میں ہو لیکن اس کا دل عرشِ الٰہی کے نیچے سجدہ ریز ہو۔ جب بندہ اپنی ہستی کو مٹا دیتا ہے، تو اللّٰـــــــــــہ اسے اپنی بقا عطا فرماتا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ اے انسان! اگر تو چاہتا ہے کہ اللّٰـــــــــــہ تیرا ہو جائے، تو تُو اللّٰـــــــــــہ کا ہو جا۔ جب تُو اس کا ہو جائے گا، تو تیرا مراقبہ تجھے اس کے مشاہدے تک لے جائے گا۔ اور یہی تصوف کی معراج ہے۔
خلاصہ کلام:
حضور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانیؓ کے نزدیک مراقبہ صرف ایک مشق نہیں بلکہ خدا کے ساتھ ایک زندہ تعلق ہے۔ سالک کو ہر وقت یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ حقیقت میں اللّٰـــــــــــہ کو دیکھ رہا ہے یا اس قدر کہ اللّٰـــــــــــہ اسے دیکھ رہا ہے۔
🌹 سلامت رہیئے سلامتی چاہتے رہیئے 🌹
طالبِ فیض و دُعا
🌹محمد آصف مسرؔور قادری🌹
ماخذ و مراجع: فتوح الغیب، سرالاسرار، الفتح الربانی (شیخ عبد القادر جیلانیؓ)
🌟