جدید فقہی مسائل اور ان کا حل

جدید فقہی مسائل اور ان کا حل

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from جدید فقہی مسائل اور ان کا حل, Lahore.

14/12/2022

اللّٰہ اکبر

13/12/2022

گرتومی خواہی مسلمان زیستن
نیست ممکن جزو بہ قرآن زیستن

22/09/2022

شرعی و فقہی اصطلاحات
شریعت میں ہر قسم کے اچھے اور برے کاموں کے لئے قوانین مقرر کئے گئے ہیں اور ان کاموں کی اصطلاحات مقرر کی گئی ہیں ۔ تاکہ اس کام کی اہمیت ظاہر ہو ۔ ذیل میں ہم شرعی اصطلاحات کی تفصیل پیش کرتے ہیں ۔ جس طرح کوئی اچھا کام زیادہ اچھا ہوتاہے اسی طرح کوئی برا کام بھی زیادہ برا ہوتا ہے ۔ ہر اچھے کام کے مقابلہ میں براکام مقرر کیاگیا ہے ۔مثلاً

وہ اچھے کام جن کا کرنا ضروری ہے یا ان کے کرنے کو شریعت میں پسند کیا گیا ہے اور اس کے کرنے پر اجر و ثواب ملتا ہے ۔

مقابل

ہر اچھے کام کے مقابلہ میں جو براکام ہوتاہے اس کو اس کے سامنے درج کردیا گیا ہے

وہ برے کام جن سے بچنا ضروری ہے یا ان کے کرنے کو شریعت میں پسند نہیں کیا گیا اور ان کے کرنے پر عتاب و عذاب ہوگا۔

۱ فرض مقابل ۷ حرام

۲ واجب مقابل ۸ مکروہ تحریمی

۳ سنت مؤکدہ مقابل ۹ اساء ت

۴ سنت غیر مؤکدہ مقابل ۱۰ مکروہ تنزیہی

۵ مستحب مقابل ۱۱ خلاف اولی

۶ مباح مقابل نہیں

مندرجہ بالا گیارہ اصطلاحی باتوں کی بالترتیب تفصیل ، اس کی اہمیت ،اس کا حکم ، اس کے کرنے اور نہ کرنے پر ثواب و عذاب ، اس کے کرنے والے اور نہ کرنے والے کے لئے کیا حکم ہے وہ ہم ذیل میں پیش کررہے ہیں :-
۱۔ فرض

٭ اس کا کرنا نہایت نہایت ضروری ہے ۔

٭ جو دلائل شرعیہ قطعیہ سے ثابت ہو۔

٭اس کے فرض ہونے کا انکار کرنے والا کافر ہے ۔

٭بلاعذر شرعی اس کو ترک کرنے والا فاسق ، مرتکب گناہ کبیرہ اور مستحق عذاب جہنم ہے ۔

٭جو ایک وقت کی بھی فرض نماز قصداً بلا عذر شرعی دیدہ و دانستہ قضا کرے وہ فاسق و مرتکب کبیرہ و مستحق جہنم ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۱۹۴)

۲۔ واجب

٭اس کا کرنا نہایت ضروری ہے ۔

٭جو دلائل ظنی شرعیہ سے ثابت ہو ۔

٭اس کا انکار کرنے والا گمراہ اور بدمذہب ہے ۔

٭بغیر کسی شرعی عذر اس کو چھوڑنے والا فاسق اور عذاب جہنم کا مستحق ہے ۔

٭کسی واجب کو قصداً ایک مرتبہ چھوڑنا گناہ صغیرہ ہے اور چند بار ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے ۔

۳۔ سنت مؤکدہ

(اس سنت کو سنن الہدیٰ بھی کہتے ہیں)

٭جس کا کرنا ضروری ہے ۔ اس کے ادا کرنے میں بہت بڑا ثواب ہے ۔

٭جس کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ہمیشہ کیا ہو البتہ کبھی ترک بھی کیا ہو ۔

٭اتفاقیہ طور پر کبھی کبھی چھوڑ دینے پر بھی اللہ و رسول کا عتاب ہوگا ۔ اور اس کو ہمیشہ ترک کرنے کی عادت ڈالنے والا مستحق عذاب جہنم ہوگا ۔

٭سنت مؤکدہ حکم میں قریب واجب ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۷۹)

۴۔ سنتغیر مؤکدہ

(اس سنت کو سنن الزوائد بھی کہتے ہیں )

٭جس کو کرنے والا ثواب پائے گا ۔

٭جس کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے کیا ہو اور بغیر کسی عذر کے کبھی کبھی اس کو چھوڑ بھی دیا ہو ۔

٭یہ سنت نظر شرع میں ایسی مطلوب ہے کہ اس کے ترک کو ناپسند کیا گیا ہے لیکن اس کے نہ کرنے پر کسی قسم کا عتاب یا عذاب نہیں ۔

۵۔ مستحب

٭ہر وہ کام جو شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہو اور اس کے ترک پر کسی قسم کی ناپسندیدگی بھی نہ ہو۔

٭خواہ اس کام کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے کیا ہو یا اس کی ترغیب دی ہو یا اکابر علماء امت اسلامیہ نے اسے پسند فرمایا ہو۔اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا ہو۔

٭اس کاکرنا ثواب ہے اور نہ کرنے پر عتاب و عذاب مطلقاً کچھ بھی نہیں ۔

۶۔ مباح

٭وہ کام جس کاکرنا اور چھوڑنا دونوں یکساں ہو یعنی جس کے کرنے میں نہ کوئی ثواب ہو اور چھوڑنے میںنہ کوئی عتاب و عذاب ہو۔

۷۔ حرام

٭جس کا چھوڑنا اور جس سے بچنا نہایت نہایت ضروری ہے ۔

٭جس کے حرام ہونے کا ثبوت قطعی شرعی دلائل سے ثابت ہو۔

٭جس کے حرام ہونے کا انکار کرنے والا کافر ہے۔

٭جس کا ایک مرتبہ بھی قصداً کرنے والا فاسق ، مرتکب گناہ کبیرہ و مستحق عذاب جہنم ہے۔

٭جس کا چھوڑنا باعث ثواب ہے ۔

٭فعل حرام مقابل ہوتاہے فعل فرض کا ۔

۸۔ مکروہ تحریمی

٭جس کا چھوڑنا اور جس سے بچنا نہایت ضروری ہے ۔

٭جس کا خلاف شریعت ہونا دلائل ظنیہ شرعیہ سے ثابت ہو ۔

٭جس کا ارتکاب گناہ کبیرہ و حرام سے کم ہے لیکن چند مرتبہ کرنے اور اس پر مداومت کرنے سے یہ فعل بھی گناہ کبیرہ میں شمار ہوگا ۔

٭اس کاکرنے والا فاسق اور مستحق عذاب ہے ۔ اس سے بچنا ثواب ہے ۔

٭فعل مکروہ تحریمی مقابل ہوتا ہے فعل واجب کا ۔

۹۔ اساء ت

٭جس کا چھوڑنا اور جس سے بچنا ضروری ہے ۔

٭جس کاکرنا برا اور جس سے بچنا ثواب ہے ۔

٭کبھی کبھار کرنے والا بھی لائق عتاب اور ہمیشہ کرنے کی عادت والا مستحق عذاب ہے ۔

٭فعل اساء ت مقابل ہوتا ہے فعل سنت مؤکدہ کا ۔

۱۰۔ مکروہ تنزیہی

٭جس کا کرنا شریعت میں پسندیدہ نہیں۔

٭جس کے کرنے پر عذاب بھی نہیں لیکن اس کی عادت ڈالنا برا ہے ۔

٭اس فعل سے بچنے میں بھی اجر و ثواب ہے ۔

٭فعل مکروہ تنزیہی مقابل ہوتا ہے فعل سنت غیر مؤکدہ کا۔

۱۱۔خلاف اولیٰ

٭اس فعل کو کہتے ہیں جس کا چھوڑنااور اس سے بچنا بہتر تھا لیکن اگر کرلیا تو مضائقہ بھی نہیں ۔

٭فعل خلاف اولیٰ مقابل ہوتا ہے فعل مستحب کا ۔

قارئین کرام سے التماس ہے کہ مندرجہ بالا اصطلاحات کو اچھی طرح ذہن نشین فرمالیں تاکہ آئندہ پیغامات میں نماز کے متعلق احکام و مسائل کو سمجھنے میں سہولت ہو ۔ علاوہ ازیں کون سا کام کرنا ضروری ہے اور کس کام سے بچنا لازمی ہے اس کی معلومات بھی حاصل ہوگی ۔

٭ سنت ہدی سنت مؤکدہ کا نام ہے اور سنت زائدہ سنت غیرمؤکدہ کا نام ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ، ص ۱۷۴ اور درمختار )

22/09/2022

ٹرانسجینڈر ایکٹ (Transgender Act) کو لیکر اس وقت سوشل میڈیا پر کافی مارا ماری دیکھنے کو مل رہی ہے تاہم اکثر حضرات اس زہریلے پھل سے تو تنفر کا شکار ہیں لیکن اس درخت کی طرف کوئی خاص توجہ کرنے کو تیار نہیں جس کی شاخوں پر یہ پھل لگ رہا ہے۔ امت مسلمہ کو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں سے ایک اساسی مسئلہ اپنی نوجوان نسل کی اسلامی بنیادوں پر ذہن سازی ہے۔ تمام نہ سہی لیکن مسلم نوجوانوں کی اکثریت اس وقت مغربی افکار کی لپیٹ میں بری طرح جکڑی ہوئی ہے۔ ان کے لیے صحیح و غلط کی تمیز اسلامی تعلیمات سے نہیں بلکہ مغرب کے بنائے گئے انسانی حقوق سے متعین ہوتی ہے۔ جہاں میرا جسم میری مرضی، زندگی نہ ملے گی دوبارہ اورمساوات مرد و زن جیسے دلفریب نعرے ان کے مطمح نظربنا دئیے گئے ہیں اور اس میں بہت کچھ بلکہ سارا کچھ ہاتھ میڈیا پر مغربی بالادستی کا ہے۔ یہ نسل جو میلینئل جنریشن (Millennials Generation) کہلاتی ہے یعنی اکیسویں صدی کی نسل، اس کی اٹھان و تربیت ایک ایسی چیز کے ذریعے کی جارہی ہے جس پر اس نسل کوجنم دینے والے والدین کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا اور نہ ہوسکتا ہے۔ آج گھر گھر نیٹ فلیکس (Netflix) ، او ایس این (OSN) ، زوم (Zoom)، امیزون پرائم (Amazon Prime) اور ڈزنی پلس (Disney Plus) جیسے اسٹریمنگ چینل پہنچ چکے ہیں جو چند سو یا محض ہزار روپے ماہانہ پر مل جاتے ہیں۔ ان چینلز کو دیکھنے کو اب بچوں کو ٹی وی کی ضرورت نہیں رہی جس پر والدین ابھی بھی کسی طرح اجارہ داری دکھا کر اس کو کنٹرول کرسکتے ہیں بلکہ یہ سہولت اسمارٹ موبائل اور لیپ ٹاپ پر زیادہ آسانی سے مہیا ہوجاتی ہے جو آج کل نہ صرف ہر بچے کے پاس موجود ہوتا ہے بلکہ اس کو اس کی انتہائی ذاتی ملکیت تصور کیا جاتا ہے۔

ہمارے طائرِخیال و فکر کے پَر جل جائیں گے لیکن ہم اس نہج پر پہنچ بھی نہیں سکتے کہ ان اسٹریمنگ چینلز پر ہمارے بچوں کی ذہن سازی کے لیے کیا کچھ پروگرام موجود ہوتے ہیں۔ ایسے پروگرامز جو انتہائی دلفریب پیرائے میں ہماری نوجوان نسل کو یہ باور کرواتے ہیں اسلام ایک دقیانوسی مذہب بن چکا ہے اور انسانی زندگی کی اصل ، حریتِ فکر و عمل ہے۔ انسان اپنی زندگی کے ہر فیصلے میں خود مختار ہے اور آسمانوں پر بیٹھی کوئی خیالی مخلوق اس کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا اختیار نہیں رکھتی۔ زندگی کی ترجیحات اور طرز عمل کوئی خدائی قانون نہیں بلکہ عقلِ انسانی خود طے کرے گی اور ایسے میں ہم کو مذہبی رسوما ت ادا کرنے کو یا تو صرف وہ مذہبی احبار و رہبان درکار ہوں گے جو خدائی قانون سے بغاوت کو سپورٹ کرنے کو راضی ہوں یا پھر ہم مذہبی رسومات کو معاشرتی رسومات قرار دے کر ان کواپنے مقرر کردہ پیمانوں کے تحت انجام دیں گے جس میں ان کی اصل روح کا کوئی جز یا مقصد محفوظ نہ رہے گا بلکہ وہ صرف کھیل تماشے کے لیے محدود ہو کر رہ جائیں گی۔

پچھلے سال نیٹ فلیکس پر تین اقساط پر مشتمل ایک رئیلٹی شو (Reality Show) بنام "دی بِگ ڈے" آن ائیر کیا گیا۔ اس شو کا موضوع نئے دور کے ہندوستان میں ہونے والی شادیوں کو پیش کرنا ہے۔ تینوں اقساط میں مشترکہ چیز شادی ہے تاہم ہر شادی کی کہانی الگ ہے۔ پہلی قسط میں دو جوڑوں کی اصل زندگی کو دکھایا گیا ہے جو ہندوستان کے نہایت امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ شادی کا دن انسان کی زندگی میں خاص اہمیت رکھتا ہے، پس اس پر جتنا پیسہ خرچ کیا جائے وہ کم ہے۔ چنانچہ دونوں شادی شدہ جوڑے اپنی شادی کی تقریبات پر کڑوڑوں روپے خرچ کرتے دکھائے گیے ہیں جہاں وہ شادی سے متعلق ایک ایک چیز کی تفصیلات پر غور کرکے ان پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ تاہم ان چھوٹی چھوٹی بیکار کی چیزوں پر لاکھوں روپے خرچ کرنا کسی ناظر کو اسراف محسوس نہ ہو، اس لیے کمالِ ہشیاری سے بیچ قسط میں ایک جوڑے کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا جاتا ہے کہ ہم اس شادی جو کہ ایک ڈیسٹینیش ویڈنگ (Destination Wedding) ہوتی ہے، کے ذریعے سینکڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کررہے ہیں اور ساتھ کوشش ہے کہ ہر چیز ری سائیکل (Recycle) ہو تاکہ دوبارہ استعمال میں لائی جاسکے۔ یہ پیغام اس خوبصورتی سے دیا جاتا ہے کہ کڑوڑوں روپے خرچ کرنے کی قباحت تک انسان کو محسوس نہیں ہوتی اور وہ ان جوڑوں کے جذبۂ خدمتِ خلق سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا۔

دوسری قسط میں بھی دو جوڑے دکھائے گیے ہیں، تاہم ان جوڑوں میں جو دلہنیں دکھائی گئی ہیں وہ اس زمانے کی مکمل انڈیپنڈنٹ یعنی خودمختار خواتین ہیں۔ وہ اس قدر خود مختار خواتین ہیں کہ اپنی شادی کے انتظامات کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز وہ خود ہینڈل کرتی ہیں۔ شادی کے کپڑوں سے لیکر اس کا منڈپ لگوانے تک، ہر چیز کیسی ہوگی، کس نوعیت کی ہوگی، دلہنیں خود فیصل کرتی ہیں۔ خواتین کی اس مرضی و خود مختاری کو نہایت خوبصورتی سے اور جاذب پیرائے میں دکھاتے ہوئے آخر میں وہ چیز پیش کی جاتی ہے جس کے لیے یہ ساری محنت کی جارہی تھی یعنی مذہبی اقدار سے بغاوت۔ پہلے جوڑے کی دلہن صاحبہ اپنے ویڈنگ پلانر کو مساواتِ مرد و زن کے تصور کے تحت ایسے پنڈت کا انتظام کرنے کا عندیہ دیتی ہیں جو مردوعورت میں فرق نہ کرتا ہو، انگریزی بول سکتا ہو اور مروجہ مذہبی اقدار کی دقیانوسیت کا کسی قدر قائل ہو۔ تاہم کافی ڈھونڈنے ڈھانڈنے کے بعد دلہن کی سوچ اس فکر پر منتج ہوتی ہے مرد پنڈت ہی کیوں؟ وہ اپنی شادی کے لیے خاتون پنڈت کی خدمات حاصل کریں گی جو انہیں کی طرح کی پروگریسیو (Progressive) یعنی ترقی یافتہ سوچ رکھتی ہو۔ پس معاشرے کی مذہبی رسومات سے بغاوت کی اس سے بہترین صورت کیا ہوسکتی تھی۔ اب جہاں تک بات رہی دوسری دلہن صاحبہ کی تو ان کو خود کو ترقی یافتہ، مذہب بیزار اور آزاد فکر ثابت کرنے کے لیے یہ بات سوجھی کہ کیوں نہ پنڈت اور شادی کے پھیروں جیسی چیز کا ہی رد کردیا جائے۔ شادی تو دو انسانوں، دو روحوں کا ملاپ ہے۔ کسی پنڈت کے جنتر منتر اور پھیروں سے اس کا کیا لینا دینا۔ اگنی (آگ) کو ساکشی (گواہ) مان کر اس کے سامنے پھیرے لیتے ہوئے ایک دوسرے کو قبول کرکے وفاداری کا اقرار تو محض ایک مذہبی ڈھکوسلہ ہے، اگر انسان اندر سے ہی اس چیز کے لیے راضی نہ ہو یا اس کی نیت نہ رکھے۔ پس پنڈت، پروہت، اگنی اور پھیرے یہ سب محض دکھاوا ہیں، ہماری شادی ہوگی، سب کے سامنے ہوگی، رشتہ داروں کے آشیر باد کے ساتھ ہوگی، کڑوڑوں روپے خرچ کرکے ہوگی لیکن بغیر کسی مذہبی رسم کی ادائیگی کے ہوگی کیونکہ معاشرتی و عائلی معاملات میں خدا نہیں انسان خود حاکم و شریک ہوتا ہے۔ پس اس کے لیے گواہ اگنی یا کوئی خدا نہیں بلکہ زوجین کے دل ہیں۔ لیجئے جناب، انتہائی دلکش پیرائے میں آپ کی نئی نسل کو کتنا "خوبصورت" پیغام دے دیا گیا ہے کہ مذہب وذہب بس سب ڈھکوسلہ ہے، اصل تو انسان کا دل ہے۔ بعینہٖ جیسے پردہ آنکھ کا نہیں دل کا ہونا چاہیئے۔

چلیں جی رئیلٹی شو کی دو اقساط گزر گئیں اور اب تیسری اور آخری قسط دیکھی جارہی ہے جس کا عنوان ہے "آل یو نیڈ از لو (All you need is LOVE) " یعنی آپ کو بس پیار چاہیئے۔ یہاں بھی اصل زندگی کےدو جوڑوں کی کہانی دکھائی گئی ہے۔ ایک جوڑا نہایت امیر ہے، لڑکا سندھی ہے اور لڑکی ہائی پروفیشنل خاتون ہیں جو ایک ہندو باپ اور مسلم ماں کے ہاں پیدا ہوئی ہیں، تاہم جب وہ چھوٹی تھیں تو ان کی ترقی پسند ماں نے ان کو یہ باور کروادیا تھا کہ ان کو مکمل آزادی ہے کہ وہ ہندو مذہب اختیار کریں یا مسلمان بن جائیں یا پھر چاہیں تو سرے سے کوئی مذہب ہی اختیار نہ کریں کیونکہ مذہب انسان کی زندگی کا نہایت نجی معاملہ ہے۔ خیر اس ضمن میں خاتون کس مذہب کی پیروکار ہیں، ایسا کچھ نہیں دکھایا جاتا۔ تاہم ان کی بھی کڑوڑوں روپے خرچ کرکے ایک انتہائی عالیشان شادی ہوتی ہے جو ہندو رسومات کے تحت ادا کی جاتی ہے۔ یہ تو تھا پہلا جوڑا۔ گویا ڈھائی اقساط میں اب تو جو دکھایا گیا وہ سب کچھ نہ صرف بہت" بے ضرر" ہے بلکہ بہت خوبصورت اور زندگی گزارنے کا "اصل" طریقہ ہے۔ اب ناظر پوری طرح پروگرام کے سحر میں گرفتار ہوچکا ہے، اس کی ذہن سازی بھی کسی حد تک مکمل ہوچکی ہے۔ جوان ہوتی ہوئی عمر میں جب کہ ابھی نوجوان نسل کا ذہن کچھ خاص پختہ نہیں اس کو یہ چکا چوند شادیاں اور یہ خدا بیزار تہذیب جو انسانی حقوق اور حریتِ فکر کے دلفریب اور نہایت خوش نما نعروں میں لپیٹ کردکھائی گئی ہے، اپنی زندگی گزارنے کا ڈھنگ و منھج معلوم ہونے لگتی ہے۔ پس اب صحیح وقت ہے کہ حریتِ فکر و عمل کے نام پر تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی جائے اور یوں تین اقساط میں دکھائے جانے والے چھ جوڑوں میں سے آخری جوڑا سب سے آخری قسط میں رونما ہوتاہے اور وہ ہے ہندوستان گووا میں بسنے والا ایک ہم جنس پرست جوڑا۔ یعنی دو مرد جنہوں نے شادی کررکھی ہے۔ یہ شادی صرف مذہب سے ہی نہیں بلکہ معاشرے سے بھی بغاوت تھی۔ لیکن کیا دو انسانوں کو اپنے طور پر جینے کا حق نہیں ہے؟ کیا اکیسویں صدی میں بھی انسان یہ خیال کرکے اپنے زندگی گزارے گا کہ دوسرے کیا سوچیں گے یا پھر وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا حق دار ہوگا؟ نہیں! اب وقت آگے نکل چکا ہے، اب انسان بیدار ہوگیا ہے۔ وہ مذہب اور معاشرے کی فرسودہ رسومات سے آزاد ہے۔ ساتھ رہنے کے لیے اصل وجہ صرف اور صرف پیار ہے جو اس بات سے ماوراء و بالاتر ہوتا ہے کہ دو انسان جو ساتھ رہنا چاہتے ہیں وہ مرد و عورت ہیں یا مردو مرد یا عورت و عورت۔ اصل چیز بس پیار ہے۔ مرد و عورت اور حرمت کے رشتے وغیرہ یہ سب خدا کے نام پر بنائے ہوئے قدیم انسانوں کے دقیانوسی خیالات ہیں جن کو اب ترک کرکے آگے بڑھنا ہی انسانیت کی معراج اور تکمیلِ آدمیت کا تقاضہ ہے۔

یہ ہم جنس پرست جوڑا اپنی پوری کہانی بیان کرتا ہے کہ کیسے ایک بار میں وہ دونوں مرد ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہی ان کو ایک دوسرے سے لو ایٹ فرسٹ سائٹ (Love at First Sight) یعنی پہلی نظر کی محبت ہوجاتی ہے۔ پہلا مرد ہندوستانی ہے جبکہ دوسرا جرمنی نژاد جو ہندوستان گووا میں نوکری کرتا ہے اور پچھلے دس سالوں سے ہندوستان میں ہی مقیم ہے۔ ابتداً دونوں کے گھر والے ان کے ہم جنس پرست ہونے پر پریشانی کا شکار ہوتے ہیں اور اس کو کوئی بیماری سمجھتے ہیں تاہم مابعد وہ یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ "قدرت" نے ان کے بچوں کو ایسا ہی پیدا کیا ہے، وہ دوسروں سے الگ ضرور ہیں لیکن غلط نہیں اور ان کو بھی ان کی زندگی پوری آزادی سے گزارنے کا حق ہے۔ پس یہ جوڑا شادی کا ارادہ کرتا ہے جس کے لیے وہ جرمنی کے کیتھولک چرچ سے رابطہ کرتا ہے اور تھوڑی بہت مخالفت کے بعد ان کو چرچ شادی کی اجازت دے دیتا ہے اور بڑی دھوم دھام سے چرچ میں ان کی شادی ہوجاتی ہے۔ اب چونکہ شادی جرمنی میں ہوئی ہوتی ہے جس میں ایک فریق کے رشتہ دار شرکت نہیں کرپاتے چنانچہ شادی کی یہ تقریب ہندوستانی انداز میں دوبارہ گووا میں منعقد کی جاتی ہے جہاں مہندی مایوں سے لیکر بارات تک تمام تقریبات ہوتی ہیں، بس فرق یہ ہوتا ہے کہ مہندی دونوں کو لگتی ہے، بارات بھی مشترک ہوتی ہے۔ اور یہ سب اس قدر مسحور کن پیرائے میں دکھایا جاتا ہے کہ ناپختہ ذہن کی آنکھیں یہ سب دیکھ کر فرطِ جذبات سے نمناک ہوئے بغیر نہ رہ سکے کہ پیار جیسے خوبصورت جذبے کو بھگوان کے نام پر انسان نے مرد و عورت کے مابین مخصوص کرکے کس قدر "ظلم" کیا ہے۔ یہ جذبات مزید شدت اختیار کرجاتے ہوں گے جب یہ دکھایا جاتا ہے کہ ایک مرد کے ہندوستانی رشتہ دار بغیر کسی اعتراض کے نہایت خوشدلی سے ہندوستان میں منعقد ہونے والی شادی کی اس تقریب میں شرکت کرتے ہیں اور یوں دقیانوسی مذہب و معاشرہ ہار جاتا ہے اور پیار جیت جاتا ہے۔

ایسا ایک نہیں ہر دوسرا پروگرام ان اسٹریمنگ چینلز پر پڑا ہوا ہے جو آپ کے بچے آپ کے علم میں لائے بغیر دیکھتے ہیں اور غیر محسوس طریقے سے اپنی ذہن سازی کررہے ہوتے ہیں۔ بعینہٖ یہی صورتحال بیسیویں صدی میں مغرب نے پرنٹ میڈیا کے ذریعے برپا کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت سید مودوی جیسا متکلم پیدا کردیا تھا جس نے روایتی اسلام کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ مغرب کے پیش کردہ ہر فرسودہ فلسفۂ زندگی کا نہ صرف منہ توڑ جواب دے کر اس کی قباحت کو آشکارہ کیا تھابلکہ مغرب کی طرف سے اسلام پر کیے گیے رکیک حملوں کی رکاکت کو بھی طشت از بام کرکے رکھ چھوڑا تھا۔ اب بات پرنٹ میڈیا سے نکل کر الیکٹرانک میڈیا تک آگئی ہے۔ بہت ضرورت ہے کہ آج بھی کوئی مردِ مجاھد اٹھ کر سید مودودی کی طرح ان بکواسات کا منہ توڑ جوب دے اور میڈیا کی طاقت کو صرف اسلام کے دفاع میں نہیں بلکہ مغرب کے افکارِ باطلہ کی حقیقت واضح کرنے کو بھی استعمال کرے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب مسلمان گھر وں میں بھی ہم جنس پرست شادیاں ہونگی اور ہر دوسرا مسلمان گھرانہ مسلم ممالک میں رہتے ہوئے کرسمس اور ہیلوئن (Halloween) منارہا ہوگا۔ میڈیا کی طاقت سے انکار یا پھر دشمن کے ہتھیار سے دشمن کا گلا نہ کاٹنے کی پالیسی مسلمانوں کے لیے سخت مضر رساں ثابت ہورہی ہے۔

تحریر: محمد فھد حارث

29/08/2022

مصیبت کے وقت یہ پڑھیں
{إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ} اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا" صحیح مسلم میں موجود ہے، مکمل عبارت ذیل میں ذکر کی جاتی ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا يحيى بن أيوب، وقتيبة، وابن حجر، جميعا عن إسماعيل بن جعفر، قال ابن أيوب: حدثنا إسماعيل، أخبرني سعد بن سعيد، عن عمر بن كثير بن أفلح، عن ابن سفينة، عن أم سلمة، أنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " ما من مسلم تصيبه مصيبة، فيقول ما أمره الله: {إنا لله وإنا إليه راجعون} [البقرة: 156] ، اللهم أجرني في مصيبتي، وأخلف لي خيرا منها، إلا أخلف الله له خيرا منها "، قالت: فلما مات أبو سلمة، قلت: أي المسلمين خير من أبي سلمة؟ أول بيت هاجر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم إني قلتها، فأخلف الله لي رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت: أرسل إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم حاطب بن أبي بلتعة يخطبني له، فقلت: إن لي بنتا وأنا غيور، فقال: «أما ابنتها فندعو الله أن يغنيها عنها، وأدعو الله أن يذهب بالغيرة»."

(صحیح مسلم، كتاب الجنائز، باب ما يقال عند المصيبة، ج: 2، صفحہ: 331، رقم الحدیث: 918، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

29/08/2022
29/08/2022

دنیا میں ہر امیر غریب، نیک و بد کو اللہ تعالی کے قانون قدرت کے تحت دکھوں، غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے، کیونکہ یہ دنیا مصیبتوں، پریشانیوں اور غموں کا گھر ہے، لیکن یہ پریشانیاں دو قسم کی ہوتی ہے:
ایک پریشانی وہ ہوتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کا عذاب ہوتا ہے، جو گویا اخروی عذاب کی ایک جھلک ہوتی ہے اور یہ اس لیے آتی ہے، تاکہ انسان نافرمانی سے باز آجائے، جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْن“․(السجدة:۲۱)

ترجمہ:
”اور ہم ضرور ان کو قریب کا چھوٹا عذاب چکھائیں گے بڑے عذاب سے پہلے، تاکہ وہ لوٹ آئیں ۔“

پریشانی کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں ہوتی؛ بلکہ اس کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے، جو درجات کی بلندی یا گناہوں کے مٹنے کا ذریعہ بنتی ہے اور یہ پریشانی اور تکلیف درحقیقت اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہوتی ہے کہ اس چھوٹی سی تکلیف کے سبب اللہ تعالیٰ اپنے کمزور بندے کو آخرت کے بڑے عذاب سے بچالیتے ہیں یا رفع درجات کی صورت میں آخرت کی بڑی نعمت عطا فرمادیتے ہیں۔

ایک حدیث میں ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر زیادہ آزمائشیں آئیں اور پھر جس کا جس قدر اُن سے زیادہ تعلق ہوگا، زیادہ قرب ہوگا، زیادہ اتباع ہوگی، اس پر بھی آزمائشیں زیادہ آئیں گی؛ مگر خدانخواستہ انبیاء علیہم السلام پر آنے والی یہ تکالیف اور آزمائشیں کوئی سزا نہیں تھیں؛ بلکہ ان کے درجات کو مزید بلند کرنا مقصد تھا۔
اس لیے پریشانیاں، مصبتیں آنے پر انسان کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر کہاں اللہ تعالی کے احکامات میں کوتاہی ہورہی ہے، اگر کوئی کوتاہی نہیں ہے تو ان پریشانیوں اور مصبتوں پر صبر کرنا چاہیے اور اگر کہیں کوتاہی ہے تو اس پر نادم ہوکر اللہ تعالی سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگنی چاہیے اور گناہ چھوڑ کر اپنے اعمال کی اصلاح کرنا چاہیے

08/07/2022

فلسفہ قربانی
اللہ تعالیٰ قرآن مجید سورة الحج میں ارشاد فرماتے ہیں:۔

”اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کر دی ہے تاکہ وہ اللہ کا نام لیں ، ان جانوروں پر جو ہم نے ان کو عطا کئے ہیں“

قرآن مجید میں قربانی کیلئے تین لفظ آئے ہیں۔ ایک نسک اور دوسرا نحر تیسرا قربان ۔

نسک: یہ لفظ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے کہیں عبادت، کہیں اطاعت اور کہیں قربانی کے لئے جیسے سورہ حج کی آیت 34 میں فرمایا:۔

”اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کر دی ہے“

عمران خان کا لاہور کے علاقے دھرمپورہ میں جلسے سے خطاب
یہاں یہ لفظ جانور کی قربانی کے لئے ہی آ رہا ہے کیونکہ اس کے فوراً بعد من بھیمتہ الانعام کا لفظ ہے یعنی ان چوپایوں پر اللہ کا نام لے کر قربانی کریں جو اللہ نے ان کو عطاءکئے۔ دوسرا لفظ قربانی کے لئے قران مجید میں نحر کا آیا ہے جو سورة الکوثر میں ہے:۔

”یعنی اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں“

اور قربانی کا لفظ قرآن مجید میں سورہ مائدہ کی 27ویں آیت میں آیا ہے جہاں حضرت آدمؑ کے دونوں بیٹوں ہابیل اور قابیل کے واقعہ کا ذکر ہے۔

”یعنی آپ ان لوگوں کو آدم کے دو بیٹوں کا سچا واقعہ سنائیے کہ جب دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی“

ہم اردو میں لفظ قربانی ہی عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں قربانی کا ایک خاص مفہوم ہے جس کا تذکرہ امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا ہے کہ:۔

”یعنی قربانی ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کیا جائے، چاہے وہ جانور ذبح کرکے ہو یا صدقہ و خیرات کرکے۔ چنانچہ عرف عام میں قربانی کا لفظ جانور کی قربانی کے لئے بولا جاتا ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق کسی حلال جانور کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی نیت سے ذبح کرنا آدمؑ ہی کے زمانے شروع ہوا۔ قرآن مجید کے مطابق پہلے انبیاءکے دور میں قربانی کے قبول ہونے یا نہ ہونے کی پہچان یہ تھی کہ جس قربانی کو اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے تو ایک آگ آسمان سے آتی اور اس کو جلا دیتی۔ جب رسول اللہ نے مدینہ طیبہ میں مقیم یہودیوں کو ایمان لانے کی دعوت دی تو سورہ آل عمران کی آیت 183میں بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا:۔

”یعنی اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ طے کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ کھا لے“
حالانکہ یہ یہودکی انتہائی غلط بیانی تھی لیکن امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص انعام ہے کہ قربانی کا گوشت ان کے لئے حلال کر دیا گیا لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت فرما دی کہ قربانی کا مقصد اور اس کا فلسفہ گوشت کھانا نہیں بلکہ ایک حکم شرعی کی تعمیل اور سنت ابراہیمی ؑ پر عمل کرتے ہوئے ایک جان کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے۔ چنانچہ واضح الفاظ میں فرمایا:۔
”یعنی اللہ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ خون پہنچتا ہے بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے“

یعنی قربانی کا گوشت کھانا کوئی مقصد نہیں بلکہ سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے خالص اللہ کے لئے جان قربان کرنا اصل مقصد ہے قرآن حکیم میں ارشاد ہوا:

”یعنی جب ابراہیمؑ کا بیٹا اسماعیل ؑاس قابل ہو گیا کہ باپ کے ساتھ چل کر ان کے کاموں میں مدد گار بن سکے تو حضرت ابراہیمؑ نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، بتاﺅ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ سعادت مند بیٹا بھی تو خلیل اللہ کا بیٹا تھا۔ کہنے لگے: ابا جان آپ وہ کام کر گزریں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ آپ انشاءاللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

”جب باپ بیٹا قربانی کے لئے تیار ہو گئے اور باپ نے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے چہرہ کے بل کروٹ پر لٹا دیا“ تو ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔

”اے ابراہیم آپ نے خواب کو سچا کر دکھایا، اس کے ساتھ ہی ایک دنبہ حضرت اسماعیلؑ کے بجائے قربانی کے لئے نازل کر دیا“

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر ابراہیم خلیل اللہ کے اس عمل کو پسند فرما کر قیامت تک ان کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے قربانی ہر صاحب استطاعت پر واجب کر دی، ابراہیم خلیل اللہ کے کارناموں میں سے جو چیزیں کسی خاص مقام کے ساتھ مخصوص ہیں وہ صرف ان مقامات پر حاجی حضرات کے لئے خاص کر دی گئیں، جس میں جمرات ( کنکریاں مارنا) اور صفا و مروہ کے درمیان چکر لگانا اور قربانی کرنا تمام امت مسلمہ کے استطاعت رکھنے والے افراد کے لئے واجب فرمایا۔

چنانچہ خود رسول اکرم اور تمام صحابہؓ اور پوری امت کے مسلمان ہر خطے اور ملک میں اس پر عمل کرتے رہے اور قربانی کو شعائر اسلام میں شمار کیا گیا۔ سورة حج کی آیت 36 میں فرمایا:۔

”یعنی قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے شعائر اللہ یعنی اللہ کی عظمت کا نشان بنایا ہے اس میں تمہارے لئے خیر ہے“

اس لئے قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق قربانی کا فلسفہ اور اس کی حقیقت یہ معلوم ہوئی کہ انسان قربانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے لئے جان قربان کرتا ہے، اس میں گوشت کھانا مقصود نہیں اور نہ اس میں ریا کاری دکھاوا آئے اور نہ کوئی اور وسوسہ آنے پائے، یہ خاص اللہ کے لئے جان اور مال کو قربان کرنا ہے۔ اور رسول اللہ کو یہ حکم دیا گیا جو امت کے ایمان کا حصہ ہے کہ:

”آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہی ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے“

اللہ رب العزت ہمیں اس اخلاص اور اس جذبہ سے قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

16/04/2022

مسلمانوں کے معاشرتی مسائل اور ان کا حل
ایک زمانہ تھا جب اہل یورپ ظلمت بھرے معاشروں میں حیران و سرگرداں تھے اور مسلمانوں کو لالچ بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ مسلمانوں کی کتابوں کا ترجمہ کرتے تھے جو ان کی درسگاہوں کی زینت بنتی تھیں۔اس سے بھی نہ بن پڑا تو مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کو زبردستی حاصل کرنے کے لئے اندلس (اسپین )پر لشکر کشی کی جس کی تاریخ سے ہر کوئی واقف ہے۔اس وقت اسپین کے ہر مسلمان کے گھر میں چالیس پچاس ہزارکتابیں ہونا معمولی بات تھی گویا ہر گھر لائبریری تھی۔اہل یورپ ان کی قیمتی سائنس، طب اور ٹکنا لوجی کی کتابوں کو لوٹ کر لے گئے اور باقی ماندہ کوجلا کر بحر قلزم میں دریا برد کر دیاجس کا پانی لال رنگ سے سیاہ ہو گیا تھا۔ اسی پر علامہ اقبال نے کہا تھا :

وہ علم کی موتی کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آج مسلمانوں کا درخشاں دور ختم ہو گیا ہے۔کل یورپ کے تاریکی میں ڈوبے ہوئے ماحول میں علم و حکمت کے چراغ روشن کرنے والے آج اپنے گھروں سے تاریکی دور کرنے کے لئے چراغ کے محتاج ہیں۔کل جنہوں نے اپنے کرشماتی ذہنوں کو بروئے کار لاکر مغربی ممالک کو نور کی کرنوں سے نہلا دیا تھا،آج وہی اپنے سماج کی تاریکیی کو ختم کرنے کے لئے انہی ممالک کے محتاج نظر آرہے ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ہمیں جینے کا سلیقہ سکھانے کی بھی بات کرتے ہیں اور ہم بھی ان کے سر میں سر ملاتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا؟اس کا علاج کیسے ممکن ہے ؟۔جو ہو گیا سو ہو گیا اس کیا کیا وجہ ہو سکتی ہیں یہ الگ بات ہے لیکن اب اس کا علاج کیا ہے ؟

مسلمانوں کے موجودہ مسائل

مسلمانوں کے موجودہ مسائل میں تعلیمی پس ماندگی اور جہالت سر فہرست ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کی کلیدی حیثیت ہے۔اور جس قوم نے تعلیمی میدان میں قدم آگے بڑھایا اس نے اپنی تعلیم کی روشنی میں ترقی کی منزلوں کو یکے بعد یگرے طے کیا ہے اور جو قوم جہالت کا شکار رہی ہے وہ ہمیشہ پس ماندہ رہی ہے۔تعلیم کی کس قدر اہمیت ہے اور تعلیم قوموں کے لئے کون سا سرمایا حیات ہے اس کو سب جانتے ہیں۔

تعلیمی پسماندگی اور جہالت کے علاوہ دوسرا مسلمانوں کا سب اہم مسئلہ فقر و ناداری ہے۔یہ ایک ایسا مرض ہے جو دھیرے دھیرے پورے مسلم معاشرہ کے بدن میں سرایت کر رہا ہے اور اگر جلد اس کا علاج نہیں کیا گیا تو اس کے نتائج بہت ہی سنگین ہونگے اس لئے کہ علم اقتصادیات کے ماہرین کا قول ہے کہ جس معاشرہ کی اکثریت غربت کا شکار ہو وہ معاشرہ کبھی ترقی کے زمرے میں شامل نہیں ہو سکتا ہے۔ غربت و افلاس کا سبب جہالت بھی ہے اور محنت سے بھاگنا بھی۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ حلال رزق کے لیے بھرپور جدوجہد کرے اپنی زندگی کو تبدیل کرنے کی فکر کرے۔

تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کا آپسی اختلاف ہے۔جب کہ کسی بھی قوم کی بر بادی کیلئے اس سے زیادہ عذاب اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو وہ جہالت اور غربت و افلاس سے جوجھ رہی ہو اور دوسری طرف آپس میں اختلاف و افتراق کا شکار ہو۔ جب کہ مسلمان ہی وہ گروہ تھا جو اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے والا ہوتا۔لیکن آج دنیا میں عجب ماحول پر وان چڑھ رہا ہے۔ہر چہار جانب سے اختلاف کی فضا ہموار کی جا رہی ہے۔ملکی ،مسلکی ،تہذیبی ،گروہی گویا کہ اختلاف کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے۔حالات یہ ہے کہ اختلاف کا فائدہ دنیا حاصل کر رہی ہے اور ہمیں دکھا دکھا کر وہ ہمارے اختلاف سے خوب فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہیں۔ اپنی انانیت اور اختلاف کی سے ذار برابر بھی ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔آج دنیا کے نقشے پر بطور خاص اہل عرب کس حالات سے دوچار ہیں وہ سب جانتے ہیں یہ سب آپسی اختلاف کی وجہ کر ہو رہا ہے۔

چوتھی بڑی وجہ مسلم معاشرہ میں بدعت ہے جس کو ہم نے اپنے پورے سماج میں یوں رچا بسا لیا ہے گویا ھمارے لئے کوئی ایسی کتاب نازل ہی نہیں ہوئی جو ہمارے لئے مشعل راہ ہو ۔ ہم دین سے بے خبر بنا سوچے سمجھے بدعتوں کو شریعت کا جز بنا کر انجام دے رہے ہیں۔

یہ چند وہ بنیادہ مسائل تھے جن کو پیش کیا گیا لیکن اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کے مسائل اس سے کہیں زیادہ ہیں جنھیں بیان کیا جاسکے لیکن اگر مسلمانوں کے تمام مسائل کی اصل وجہ ڈھونڈی جائے تو شاید جستجو اور تحقیق کے بعد یہی وجہ کھل کر سامنے آئے کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کی اصل وجہ اسلام ،قرآن اور سنت رسول سے دوری ہے اسی لئے کسی اور کے پاس جانے کے بجائے ہم اپنے تمام مسائل کا حل اس ذات کی زندگی کے اندر تلاش کریں جس کی نمونہ عمل زندگی بخش ہے۔

اب تک جن مسائل کا تذکرہ کیا گیا وہ ایسے بنیادی مسائل تھے جن کا تدارک سیرت النبی کی روشنی میں خود باآسانی کیا جاسکتا ہے لیکن چند ایسے مسائل بھی ہیں جن کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ ہم صفوں کو آمادہ کریں،ظالم اور دوست کی پہچان کو یقینی بنائیں اور باطل کی چالوں میں نہ آئیں بلکہ دعوت دین اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کیلئے کوشش کریں تاکہ اسلام کی نعمت سے ایک بار پھر دنیامالامال ہو اور اس کی حقانیت کھل کر عوام الناس میں واضح ہو جائے۔

14/04/2022

قال رسول اللہ ﷺ
من کذب علی متعمدا فالیتبوا مقعدہ من النار
صحیح بخاری حدیث نمبر ١٠٩
نبی ﷺ کا فرمان ھے
جس نے میری اوپر جھوٹ باندی تو وہ اپنے لیے جھنم میں ٹھکانا تلاش کریں ۔

05/04/2022

بٹ کوئن کی شرعی حیثیت

دنیا کا تسلیم شدہ اصول ہے کہ ابتدائی، حقیقی اور اصل زَر (Money/ Currency) سونا و چاندی ہیں۔ زر کی دوسری شکل کاغذی زَر (Paper Currency) ہے جو بذاتِ خود مال نہیں ہے بلکہ اس میں جو مالیت پائی جاتی ہے وہ ملک کی اقتصادیات ہے۔ کیونکہ ملکی اقتصادی ترقی و تنزلی کا اثر فوری طور پر کرنسی کی قدر (Value) پر پڑتا ہے۔ اس کرنسی کی قدر کی ضمانت ملک کا مرکزی یا کرنسی جاری کرنے والا بینک دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ملک اپنی کوئی کرنسی بند کرتا ہے تو کرنسی محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتی ہے۔ زَر کی ایک تیسری صورت جو عصرِ حاضر میں سامنے آئی ہے وہ ڈیجیٹل کرنسی (Digital Currency) ہے۔ یہ کرنسی کسی خاص مرکز (حکومت یا سٹیٹ) کے تابع یا ملکیت نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک آزادانہ اور خودمختار زر کی ہے جو براہ راست عوام کی ملکیت ہے۔ یہ سکے یا کاغذی نوٹ کی بجائے کمپیوٹر سرور پر محفوظ ہے جس کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا عمل انٹرنیٹ یا کسی ڈیجیٹل ڈیوائس کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے اسے مجازی یا غیرمادی زر (Cryptocurrency/ Virtual Currency) کہا جاتا ہے۔ اس ڈیجیٹل کرنسی کی ایک شکل بٹ کوئن (Bitcoin) ہے۔

دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کی طرح بٹ کوئن کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی جسمانی وجود نہیں۔ اس کی تخلیق (Mining) اور لین دین (transaction) بلاک چین ٹیکنالوجی (Block-Chain Technology) سے ہوتا ہے۔ اسے تاحال عام کرنسی کی طرح‌ کا قبولِ عام اور قانونی حیثیت بھی حاصل نہیں‌ اس کا استعمال بہت سارے خدشات کو جنم دیتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی منظم ادارہ یا حکومت نہیں ہے‘ اس کی مارکیٹ میں طلب و رسد کا درست اور بروقت اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی حقیقی مالیت بھی صحیح طریقے سے معلوم نہیں ہوسکتی۔ کچھ ممالک میں بٹ کوئن سمیت دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ جن ممالک میں ڈیجیٹل کرنسی کے لین دین اور اس کے ذریعے معاملات طے کرنا قانوناً تسلیم شدہ ہے وہاں اس کے استعمال میں شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ جہاں یہ قانوناً ممنوع یا غیرتسلیم شدہ ہے وہاں اس کے لین دین اور اس کے ذریعے ٹریڈنگ سے احتراز کرنا بہتر ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Lahore